Aagy Barhnay Ki Lagan
مقدس کو پہلی بار کئی سالوں کے بعد اس گھر میں سکون محسوس ہوا۔ وہ اس گھر میں بچوں کی دیکھ بھال کے لئے آئی تھی۔ بمشکل دس سال کی تھی۔ اور وہ نو سال اور چھ سال کے بچوں کے لیے آئی تھی۔ کیانی ہاوس میں ٹوٹل چار افراد تھے۔ میاں بیوی اور دو ان کے بچے۔ بڑا سا گھر بڑا سا لان۔ لان کے اندر جھو لے اور سوئمن پول بھی تھا۔ وہ لوگ ابھی حال ہی میں ادھر شفٹ ہو ے تھے: سرفراز کیانی شادی کے بعد بیوی کو لیکر یورپ چلے گئے وہاں اپنا بزنس شروع کیا۔ اس میں خوب ترقی کی : والدین جو اپنے دوسرے بیٹے کے ساتھ رہتے تھے۔ کیانی صاحب جب پاکستان آ ے تو والدین اصرار کرنے لگے کہ کب تک پردیس میں سارے خاندان سے دور اکیلے رہو گے۔ ان کا دل بھی اب وطن واپس آ نے کا کرتا تھا۔ ان کے بچے بھی پاکستان میں خوش رہتے۔ انہوں نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کر لیا۔ پاکستان آتے ہی والد کی وفات کا صدمہ برداشت کر نا پڑا۔گھر کی تلاش شروع کردی۔ جہاں بزنس شروع کیا اس کے قریب ایک اچھی سوسائٹی میں ڈیلر کی مدد سے بنا بنایا گھر بھی مل گیا۔ والدہ کو بھی ساتھ رکھنا چاہتے تھے مگر ان کا دل ادھر نہ لگا اور وہ معذرت کے ساتھ واپس چلی گئیں۔ اور کھبی کھبی ملنے آ جاتیں۔
سرفراز کیانی کے بچے بور ہونے لگے۔ آس پڑوس میں بھی خاص جان پہچان نہ تھی انہوں نے مقدس کو جب سے ملازمہ رکھا تھا ان کے بچے مقدس سے بہت خوش تھے۔مقدس قدرے سانولی اور عام شکل و صورت کی تھی لیکن آنکھوں میں چمک اور زہانت تھی۔
تحریم مقدس کی ہم عمر تھی جبکہ زیشان دو سال چھو ٹا تھا۔ دونوں بچے گورے چٹے اور خوبصورت تھے۔ کیانی صاحب اور مسز کیانی دونوں بہت خو ش تھے کہ آتے ہی مقدس نے نہ صرف ان کے بچوں کو خوش رکھا تھا بلکہ ان کی دیکھ بھال بھی بہت اچھی طرح سے کر تی تھی۔ مقدس کو پڑھائی کا بہت شوق تھا۔ اس گھر میں اسے ہر طرح کی آزادی ملی ہوئی تھی۔ اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے اور بچوں کے ساتھ مل کر لگن سے سبق سیکھتے ہوئے دیکھ کر اسے بھی بچوں کے ساتھ اسکول داخل کروا دیا۔ ایڈمش ٹیسٹ میں پاس نہ ہو سکی تو کیانی صاحب نے اثر ورسوخ سے داخلہ کروا لیا۔ وہ پر امید تھے کہ تھوڑی سی محنت اور توجہ سے وہ کامیاب ہو جائے گی۔ اس کے لیے انہیں بیوی سمیت خاندان بھر کی باتیں سننی پڑیں۔ اس کے لیے ان کی بیٹی کی منتیں بھی شامل تھیں۔ جو مقدس کی پکی دوست بن چکی تھی اب تحریم بہت خوش تھی کہ اب مقدس اسکول میں بھی ساتھ ہو گی کیونکہ ا بھی تک اس کی کوئی دوست نہیں بن سکی تھی۔
مسز کیانی کو اس کی فیس ادا کرنے کی فکر تھی۔ کہ اتنے مہنگے اسکول میں داخلہ کرانے کی کیا ضرورت ہے اگر ثواب ہی کمانہ ہے تو کسی سستے اسکول میں داخل کر وا دیتے۔
کیانی صاحب نے دھیرے سے سمجھا نے والے انداز میں کہا''بیگم صاحبہ میری بات دھیان سے سنو اور اس کو صرف اپنے تک ہی رکھنا۔ میرا ایک دوست این جی او
چلاتا ہے تو اس نے تمام خرچے کا زمہ اٹھایا ہے یہ بات کسی کو بھی پتا نہیں چلنی چاہیے اور سب میں عزت بنی رہے۔ ببوی مطمئن ہو گئ۔
؛ اکرم اور اس کی بیوی غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اکرم کو پڑھنے کا شوق تھا بڑی مشکل سے وہ میٹرک پاس کر سکا۔ سولہ سال کی عمر میں ہی والدین نے اس کی ہم عمر خالہ کی بیٹی سے شادی کر دی۔ سال بعد مقدس پیدا ہو گئی۔ غربت مزید بڑھ گئی۔ والدین جلد وفات پا گئے۔ اکرم کو شہر میں ایک پر اپرٹی کے آ فس میں چو کیداری کی نوکری مل گئی۔ وہ بیوی اور بیٹی کو ساتھ لیکر آگیا۔ شہر میں خرچے پورے کرنے مشکل ہو گئے۔ گاوں میں بھی وہ مزارے تھے۔ ادھر بھی بیوی کوٹھیوں میں کام کرتی تھی۔ بچی کو بچے سنبھالنے کے لیے اجرت پر بھیج دیتی۔ اکرم اپنی اس زندگی سے بہت ناخوش تھا۔ اس میں کچھ کرنے اور آگے بڑھنے کی لگن تھی۔ مگر ہزار کوشش کے باوجود بھی غربت سے نہ نکل سکا۔ وہ بیٹی کو پڑھانا چاہتا تھا مگر غربت کی وجہ سے نہ پڑھا سکتا تھا۔ جس کا اسے بہت غم رہتا۔ وہ اسے جب بھی موقع ملتا پڑھاتا۔ وہ بہت شوق ولگن سے پڑھتی۔ اس کی بیوی پڑھائی کے سخت خلاف رہتی۔
وہ اکرم سے نالاں ریتی اور اکثر طعنے دیتی رہتی کہ تیری اس منحوس پڑھائی کی وجہ سے ہم اپنوں سے دور رہنے پر مجبور ہو ے۔ اپنے گاؤں سے دور ہو ے۔ اکرم کو گاوں میں رہنا بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ ہر وقت شہر بھاگا رہتا۔ والدین اس کے شہر جانے سے تنگ پڑھتے۔ وہ والدین کو شہر میں شفٹ ہونے پر اصرار کرتا مگر وہ نہ مانتے۔ انہوں نے اس کی گاوں میں جلد شادی کر دی مگر وہ پھر بھی شہر میں نوکری کی ضد کرنے لگا۔ اور شہر میں ملازمت ڈھونڈ لی۔
اکرم کی اہلیہ کو یہ دکھ تھا کہ وہ بھی اکرم کی طرح اکلوتی تھی اس کے بھی والدین شہر آ نے کے بعد جلد وفات پا گئے تھے اور وہ انکے ساتھ زیادہ وقت نہیں بتا پاہی۔ اکرم نیک دل انسان تھا اسے بیوی کے کوسنے جائز لگتے۔ مگر وہ بھی مجبور تھا گاوں میں ان کی کوئی عزت نہیں تھی۔ اسے چڑ تھی کہ وہ کہیں جا رہا ہوتا تو چودھریوں کے گھر کا کوئی فرد راستے میں مل جاتا تو ہاتھ میں پکڑا سامان اسے پکڑا کر خود ساتھ خالی ہاتھ چلتے۔ حال احوال تو دور کی بات وہ لوگ تو ان لوگوں سے فالتو بات تک کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔
آخری وقت میں ایک دن اکرم کے باپ نے بیٹے کو شہر جانے کی اجازت دے دی تھی کہ تم اپنی مرضی سے زندگی گزارو۔ "وہ دکھ سے سمجھاتے ہو ے بولا کہ وہ لوگ سو کام فالتو کروا لیتے مگر پیسے وہی۔ اگر کسی بھاری کام کے پیسے دیتے بھی تو ایسے جیسے احسان کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یم صرف ان کی خدمت کے لئے پیدا ہو ے ہیں۔"
اکرم کی بیوی قناعت پسند تھی وہ سمجھتی تھی کہ سو کوشش کر لیں ہم امیر نہیں ہو سکتے۔
اکرم جو خواب دیکھا کر بیوی کو شہر لایا تھا وہ پورے نہ ہو سکے تھے۔ اسکی بیوی کو والدین کی وفات کے باوجود گاوں کو یاد کر تی۔ ہر عید وہاں گزارتی۔ بہت خوش ہوتی۔ اکرم بھی خوش ہوتا۔ گاوں میں اچھا وقت نہ گزارنے کے باوجود اسے گاوں سے انسیت تھی۔ جیسے تیسے کر کے اس نے والدین اور ساس سسر کی قبروں کو پکا کروایا تھا اور خاندان بھر میں خوب واہ واہ ہوئی تھی۔
وہ اکرم کو ہر وقت خاندان کے اَس واقع کی مثال دیتی رہتی کہ خاندان کا لڑکا اپنا گھر بیچ کر دبئی گیا اور اس کے ساتھ فراڈ ہو گیا اور وہ بے چارہ سب کچھ لٹا کر آ گیا اور مزید چودھریوں کے قرضے کے نیچے دب کر ان کے بے مول غلام بھی بن گئے اور طعنے الگ کہ چلے تھے ہمارا مقابلہ کرنے۔ اکرم اسے سمجھانے کی کوشش کر تا مگر وہ نہ سمجھتی۔ تنگ آ کر اس نے اسے سمجھانا چھوڑ دیا۔ وہ بیٹی کے کام پر لگوانے کے خلاف تھا کہ بیٹی کی زات ہے۔ تو وہ چیخ کر کہتی "میں وہاں رکھتی ہوں جہاں مجھے اعتبار ہوتا ہے" اتنے خرچے نکل آتے ہیں کہ وہ بھی بیٹی کو لگوانے پر مجبور تھا۔ بیٹی بھی سمجھدار تھی۔ وہ باپ کو تسلی دینے لگتی۔
اکرم کی بیوی کو ا چانک پتا چلا کہ اسے موزی مرض لاحق ہو گیا ہے۔ اور وہ آخری سٹیج پر ہے۔ اکرم نے اپنی طرف سے اچھا علاج کروانے کی کوشش کی۔ قرض بھی چڑھ گیا۔ اور وہ بچ بھی نہ سکی۔ وہ بیوی کے بغیر اکیلا پڑ گیا مقدس بھی دس سال کی تھی۔ پراپرٹی آفس کے مالک نے اس کو کہا کہ آفس میں ہی سو جایا کرو ادھر ہی شفٹ ہو جاو۔ اس نے بیٹی کے بارے میں بتایا کہ وہ اسے کدھر چھوڑ ے۔ اکرم نے مالک سے کہا کہ آفس میں اسے نہیں رکھ سکتا۔ ہاں اگر کوئی بھروسے والا گھر مل جائے تو اسے وہاں کام کاج کے لیے چھوڑ دوں گا۔ مالک کے توسط سے سرفراز صاحب کے پاس رکھوا دیا۔ اکرم شروع شروع میں روز اسے فون کر تا تھا پھر بیٹی کو خوش دیکھ کر اور اسکول ایڈمیشن کا سن کر بہت خوش ہوا اور ان کا شکریہ ادا کرنے چلا گیا۔
کیانی صاحب اس کی سلجھی گفتگو سے متاثر ہوئے اور اکثر اب اسے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے گھر بلانے لگے۔ وہ تو دل میں ان کا احسان مند تھا۔ بھاگ بھاگ کر پوری زمہ داری سے ان کے کام سرانجام دینے لگا۔ ایک طرح سے انکار فیملی ممبر بن گیا۔ بیٹی سے بھی ملاقات ھو جاتی۔ وہ بیٹی اور کیانی صاحب کے بچوں کو روز پڑ ھانے لگا۔ وہ اس سے خوشی سے پڑھتے اور سب اچھے نمبرز لینے لگے۔
سرفراز کیانی کی چھوٹی بہن شاہین عرف شینا اپنے دو بیٹوں کے ساتھ پاکستان آ تی تو زیادہ تر وقت اپنی ماں اور بڑے بھائی کے بجائے سرفراز کیانی کے گھر گزارتی۔ کیانی صاحب اکرم کی ڈیوٹی لگا دیتے۔ شینا کو جہاں پر جانا ہو تا اکرم لے جاتا۔ مقدس کو شینا آنٹی بہت پسند تھی۔ وہ اس کی آہیڈہل تھی۔ بہت خوبصورت ماڈرن اور اکڑو سی۔ وہ لوگ مقدس کے ہاتھ کے کھانے بہت شوق سے کھاتے۔ مقدس انکے آرام کا بھی خیال رکھتی۔ گھر کے تمام امور کی انجام دہی اور ملازموں کے کام کی نگرانی کرتی۔ تحریم اور مقدس میں دوستی ابھی تک تھی۔ دونوں ایک ہی کمرے میں سوتیں۔ اکٹھی گپ شپ لگاتیں۔ تحریم عرف تانی اپنی پھو پھو کے سنے سنائے قصے مقدس عرف مو می کو سناتی رہتی۔ شینا ویسے تو کسی ملازم سے سیدھے منہ بات نہ کرتی مگر سے نرم لہجے میں بات کر تی۔ باقی ملازموں پر غصہ کرتی رہتی۔
امجد کے والدین چاہتے تھے کہ ابھی وہ سادگی سے نکاح کریں گے تاکہ اس بلا نے میں آسانی اور جلدی ہو۔ بعد میں دھوم دھام سے شادی کر دیں گے۔ شینا بہت خوش تھی۔ کہ وہ یو کے چلی جائے گی۔ سب خاندان والے اس کی قسمت پر رشک کرنے لگے۔
شینا دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ دونوں بھائیوں سے چھوٹی تھی جب امجد کا رشتہ آیا تو گھر والوں کے لئے انکار کی گنجائش نہ تھی۔ امجد ان کے قریبی رشتے داروں میں سے تھا ان کا خاندان یو کے میں سیٹل تھا ان کی دولت سے سارا خاندان مرعوب تھا۔ شینا کی عمر صرف سولہ سال تھی۔ امجد عمر میں دس سال بڑا تھا۔ خاندان والے سب انہیں رشتہ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ امجد کے والدین اچھے کردار کے تھے۔
بچے ابھی ٹین ایج میں تھے کہ وہ روتی دھوتی طلاق لیکر پاکستان آ گئی۔ اس کے سسرال والے بار بار فون پر معذرت کرتے اور رو رو کر معافی مانگتے۔ انہوں نے بتایا ک وہ عمرے پر گئے ہوئے تھے بچے لڑے اور جزباتی ہو کر دونوں نے کورٹ میں پیش ہو کر طلاق لے لی۔ اگر ہم موجودہ ہوتے تو کھبی ایسا نہ ہونے دیتے۔ اب ہم ان کو دوبارہ جوڑنا چاہتے ہیں ہمارہ بیٹا بھی شرمندہ ہے اور پچھتا رہا ہے وہ بچوں کے لیے تڑپ رہا ہے۔ ہم بھی ان کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ شینا کے گھر والے سخت پریشان تھے۔ شینا کو خوب برابھلا کہہ رہے تھے۔ ماں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ خود بیٹوں کی محتاج ہے اسے اور اس کے بچوں کو نہیں پال سکتی۔ تیرے اور تیرے بچوں کے جو شاہی خرچے ہیں وہ کب تک بھائی اور بھابیاں اٹھا سکیں گے۔ آخر میں تجھے ان کی ملازمہ بن کر رہنا پڑے گا اور طعنے الگ سے سحنے پڑیں گے۔
شینا نکاح کے سامان کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ سب چیزیں مہنگی اور اعلیٰ تھیں۔ اس کے سسرال والے یہ کہہ کر رخصت ہو گئے کہ اب وہ دھوم دھام سے شادی کر یں گے۔ چھ ماہ تک وہ اسے کھلا خرچہ اور تحفے تحائف بھیجتے رہے۔ گھر والوں کے لیے بھی کچھ نہ کچھ ضرور بھیجتے۔ گھر والے ان سے مرعوب تھے۔ چھ ماہ بعد ان کا انتہائی معذرت کے ساتھ فون آ یا کہ شینا کے دستخط کی یہاں پر فوری طور پر ضرورت پڑ گئی ہے ہم اس کے نام جائداد وغیرہ کرنا چاہتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ ہماری مجبوری کو سمجھیں گے اور شینا کو امجد کے والد کے ساتھ بھیج دیں گے۔ بعد میں ہم آ کر ولیمہ دھوم دھام سے کر دیں گے۔ شینا نے سنا تو بہت خوشی ہوئی کہ وہ انگلینڈ جا رہی ہے۔ اس کا باہر جانے کا خواب پورا ہو رہا ہے۔ گھر والے کچھ پریشان ہو گئے کہ خاندان والوں کو کیا جواب دیں گے مگر بیٹی کو خوش دیکھ کر جو اپنی فرینڈز کو فخر سے جانے کا بتا رہی تھی۔ انہوں نے ہاں کر دی۔
شینا کے گھر والوں نے سوچا کہ سارہ قصور ہماری بیٹی کا ہے جو اتنے اچھے اور قدر کرنے والی سسرال کو چھوڑ آئی۔
سرفراز کیانی نے گھر والوں سے مشورہ کیا کہ شینا لاابالی ہے جو بقول اسکی ساس کے وہ ہم سے ہر وقت جھگڑ تی رہتی تھی اور ہم اپنے پوتوں کی وجہ سے برداشت کر تے رہتے تھے اور اب بھی کرنے کو تیار ہیں۔
کیونکہ وہ ہماری نسل ہیں۔ اور شینا ہمارے پوتوں کی ماں۔
شینا پہلے پاکستان آ تی تھی تو اسے بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ مگر جب سے وہ طلاق لیکر آئی خاندان بھر میں باتیں بنیں۔ وہ اکڑو اور منہ پھٹ مشہور تھی اور وہ خاندان والے جو اس کی شادی سے ناخوش تھے اور وہاں اپنی بیٹی کا رشتہ دینا چاہتے تھے ان کو باتیں بنانے کا خوب موقع ملا۔ وہ کہتے کہ ہم تو پہلے سے ہی جانتےتھے کہ یہ نباہ نہ کر سکے گی۔ شینا کے گھر والے سب کی باتیں سنتے تو شینا کو برا بھلا کہتے۔ شینا کی بڑی بھابی نے اس کا جینا حرام کردیا۔ سب اسے ہی قصور وار گردانتے۔
اس کا رویہ اور اس کے شاہی خرچے ساری عمر کوئی نہیں اٹھا سکتا۔ حلالہ کے باوجود اس کے سسرال والے اور خاوند اس سے دوبارہ قبول کرنے کو تیار ہیں امجد بھی بہت معافیاں مانگ چکا ہے اور دوبارہ وہ وعدہ کر رہا ہے کہ اس کی نادانیوں سمیت کھبی طلاق نہیں دے گا۔
شینا کے بچے پاکستان آ کر بہت خوش ہوتے۔وہ سرفراز کیانی کے گھر زیادہ خوش ہوتے۔ یہاں انہیں ہر طرح کی آزادی میسر تھی۔ مومی ان کا بہت خیال رکھتی۔ ان کی فرمائشیں پوری کرتی۔ مزیدار کھانے پکا کر کھلاتی۔ اسی لئے شینا مومی سے بہت خو ش تھی۔
سرفراز کیانی نے قدرے کم سنایا۔ اس کی بیوی نے اسے نہ اچھا کہا نہ برا اور اپنے گھر میں پہلے جیسی ہی روٹین رکھی۔ وہ اب بچوں کو لیکر سرفراز کیانی کے گھر پر آ گئی۔ یہاں پر وہ اسی طرح نوکروں پر حکم چلاتی۔ مقدس عرف مومی سے اپنی پسند کے کھانے پکواتی۔
مقدس شینا سے بہت متاثر تھی۔ ایک تو وہ بہت خو بصورت تھی۔ پھر اس کا اندازہ گفتگو اس کی شیریں آ واز۔ اس کے جدید فیشن۔ سب پر اسکا رعب و دبدبہ۔ اسکا پر اعتماد لہجہ۔ مومی اس سے کافی کچھ سیکھنے کی کوشش کر تی۔ اس کے آ نے پر خوش ہو تی۔ شینا کھبی کھبی مومی کو بھی کوئی گفٹ دیا کر تی۔ جس سے وہ خوش ہو کر اور متاثر ہو جاتی۔
آج شینا کی ماں اور اس کا بڑا بھائی سرفراز کیانی کے گھر شینا کے مسلے کے بارے میں مشورہ کر نے جمع تھے۔ ماں بار بار شینا کو کوس رہی تھی آخر سرفراز کیانی نے ماں کو چپ کرایا کہ جو ہو نا تھا ہو گیا اب اسے مزید پریشان نہ کریں ماں غصے سے چلا کر بولی یہ تمھیں پریشان دکھائی دیتی ہے۔ ہماری راتوں کی نیند حرام ہے اور یہ نوابزادی ایسی بے فکر ی سے رہ رہی ہے جیسے کچھ ہو ا ہی نہیں ہے
۔ ماں اسے طعنہ دیتے ہوئے بولی "تو اب پہلے کی طرح ٹھاٹھ سے ملنے نہیں آ ئی بلکہ ہمیشہ کے لئے آ گئی ہے اور اب تو دوسروں کی محتاج ہو گئی ہے۔ سرفراز کیانی نے ماں کو چپ کرایا ماں آنسو صاف کرنے لگی۔ اور روتے ہوئے بولی میں اس کی دشمن نہیں ہو ں مگر اسے نہ اپنے بچوں کی اور نہ ہی اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ جلدی سے اب کوئی ایسا بندہ مل جائے تو اس کا مسئلہ حل ہو۔ شینا روتے ہوئے ماں سے خفگی کے انداز میں بولی، اماں آپ تو مجھے دوسروں سے بھی زیادہ طعنے دیتی ہیں اسی لیے تو دوسروں کو بھی شہ ملتی ہے۔ ماں غصے سے بولی رسی جل گئی مگر بل نہ گیا۔ پھر سرفراز کے بڑے بھائی نے ماں َسے کہا کہ اماں چھوڑ یں۔ جس کام کے لیے آئے ہیں اُسے حل کر یں۔
شینا نے کہا کہ امجد اچھا نہیں ہے یہ سنتے ہی ماں نے بری طرح ڈانٹنا شروع کر دیا اور بولی تم سے کم سے کم اچھا ہی ہے۔ کان کھول کر سن لو۔ اب جو ہم کہیں گے تم اسی طرح کرو گی اور اس کے بعد اگر ایسی بےوقوفی کی تو میں اپنی جان دے دوں گی اور ہماری بات نہ مانی تو میں سچ کہتی ہوں میں واقعی اپنی جان دےگی۔ اور میری موت کی زمہ دار تم ہو گی۔ پھر اسے کوستے ہوئے کہنے لگی کہ تم نے ہماری ساری نیک نامی کو ڈبو دیا۔ اس عمر میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ شینا روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ مومی اس کے لیے کافی بنا کر لے گئ۔ اس وقت شینا کو مورل سپورٹ کی سخت ضرورت تھی۔ پھر گرما گرم کافی اور اس معصوم لڑکی کی تسلی کے دو بول کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں پھر جو ہو گا بہتر ہو گا۔ اس کے لفظوں نے مرہم کا کام کیا۔ شینا نے پیار سے اس کے گالوں کو چوما اور گلے لگایا۔
مقدس کو شینا کے اس طرح پیار کرنے سے لگا جیسے اسے دونوں جہانوں کی دولت مل گئی ہو۔ ماں پریشانی سے بولی اب حلالہ کے لیے ایسا شخص کہاں سے ڈھونڈیں جو اعتبار والا ہو۔ اس کو شادی کا شوق بھی نہ ہو اور ہماری مجبوری کو سمجھتا ہو اور اس مسئلے کے حل میں ہمارا ساتھ دے۔ مومی سب کے لیے چائے بنا کر لائی تھی سب کو چائے پکڑاتے ہوئے آہستہ سے بولی میرے پاپا کو شادی کا شوق نہیں ہے۔ سب اسے دیکھنے لگے۔ وہ شرمندہ سی ہو گئی اور بولی سوری میں تو ویسے ہی کہہ رہی تھی۔اور تیزی سے باہر نکل گئی۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا سرفراز کیانی نے گھر والوں سے مشورہ کیا کہ شینا لاابالی ہے اس کے لیے مقدس کے باپ سے بڑھ کر کوئی اور بہتر نہیں ہے سرفراز کیانی نے گھر والوں کو تسلی دی اور کہا کہ وہ اب خود اس سے بات کر کے اس مسئلے کو حل کر ے گا۔ مومی نے جب یہ سنا تو خوشی سے پاگل ہو گئی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.