Aagy Barhnay Ki Lagan
شینا کو سرفراز کیانی نے پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر تھپکی دی تو وہ مسکرا دی۔ وہ ہر وقت خوش باش رہنے والی لڑکی تھی اور زیادہ دیر ٹینشن کو اپنے اوپر سوار نہ کرتی تھی۔ مومی اس کی اس بات سے بھی متاثر ہوا کرتی تھی۔
بہت کوشش اور اصرار کے بعد مومی کے رونے دھونے اور منانے کے بعد شادی کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔ امجد کے والدین اور امجد کو سرفراز کیانی نے شادی کا بتا دیا۔ وہ لوگ بہت خوش ہو ے۔ اور بولے زیادہ انتظار نہ کروانا۔
سرفراز کیانی نے جب اکرم سے بات کی تو اس نے نہایت معذرت کے ساتھ انکار کر دیا۔ کہ وہ اپنی بیوی کے علاوہ کبھی کسی کو اس کی جگہ نہیں دے سکتا۔ چاہے عرضی ہی سہی۔ سب کو حیرانگی بھی ہو ہی اور خو شی بھی کہ یہ بالکل درست رشتہ ہے جو آسانی سے چھوڑ بھی دے گا۔ شینا نے سنا تو ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملازم ہی میرے لیے دنیا میں رہ گیا تھا۔ مومی کو سن کر دکھ ہوا پھر سوچنے لگی کہ سچ ہی تو ہے میرے پاپا َاور شینا آنٹی کا کیا جوڑ۔ پھر دل میں دعائیں کرنے لگی کہ چلو عارضی طور پر ہی سہی اللہ تعالیٰ جوڑ ملا دیں۔
سرفراز کیانی نے امجد لوگوں کو صاف طور پر کہ دیا کہ اب جب تک شینا کی شادی نہیں ہو جاتی اپ کو نہ ہم کال کریں گے نہ ہی کال سنیں گے۔ آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ آپ ہمیں ڈسٹرب نہیں کر یں گے۔
سرفراز کیانی نے گھر والوں کو صاف طور پہ کہ دیا کہ وہ اپنی لاڈلی بہن کی شادی مہندی بارات اور ولیمہ دھوم دھام سے ہوٹل میں کرے گا اس کی شادی دھوم دھام سے نہ ہو سکی تھی اب وہ اس کے سارے خواب پورے کرے گا۔
حلالہ کا لفظ اچھا نہیں لگتا۔ شینا تڑپ کر بولی میں اس پینڈو انپڑھ کے ساتھ اتنا عرصہ کیسے رہوں گی بھائی نے سختی سے کہا تمہیں ہر حال میں رہنا ہوگا۔ وہ پہلی بار بھائی کا سخت روپ دیکھ کر ڈر گئ۔ اب تم نے اس کی عزت کرنی ہے۔ وہ حیران رہ گئی۔ نکاح جلدی کر دیا گیا شینا نے ساتھ بیٹھنے اور ساتھ تصویریں بنوانے سے انکار کر دیا۔ اس نے سامنے آ نے اور اسے دیکھنے سے بھی انکار کر دیا۔ اکرم سے کہا گیا کہ کوئی اچھا گھر چھ ماہ کے لیے رینٹ پر لے لے۔ کرایہ ہم ادا کر یں گے۔ اس نے وعدہ کر لیا۔
سب نے بہت منع کیا مگر وہ نہ مانا کہ وہ اسے جہیز بھی نہ دے سکے تھے۔ اکرم سے سرفراز کیانی نے کہا کہ تمام اخراجات کپڑے جو تے سمیت وہ اٹھاے گا۔ کسی کو یہ نہیں بتایا جائے گا کہ یہ شادی حلالہ کے لیے کی ے۔ اس نے اکرم کو کہا کہ چھ ماہ تک یہ شادی رکھنی ہے لازمی۔ اس کے بعد علیحدگی
نکاح چونکہ سادگی سے ہوا تھا اور گھر پر ہی چند قریبی رشتہ داروں کو بلایا گیا۔ نکاح کا حق مہر اکرم نے اپنی جیب سے ادا کیے۔ مٹھائی وغیرہ بھی خود لایا۔اپنے اور مومی کے کپڑے بھی خود ہی لایا۔
کچھ نے باتیں بنائیں کہ عریب ملازم ہے اتنا پروٹو کول ملےگا تو سر پر چڑھے گا مگر سرفراز کیانی نے گھر والوں کو اس کو عزت دینے کی سخت ہدایت کی۔ سرفراز کیانی خاندان کا کرتا دھر تا تھا اس لیے سب اس سے دبتے تھے اس کی بات مان لی گئی۔ اس نے یہ بھی درخواست کی کہ بیٹی کو چھ ماہ پاس رکھنا چاہتا ہے۔ مقدس شینا اور کچھ لوگوں کی باپ کے لئے انسلٹنگ باتیں سن سن کر ہرٹ ہوتی رہتی تھی مگر اسے خو شی تھی کہ وہ عارضی طور پر ہی سہی اپنے باپ کے ساتھ اپنے گھر میں ریے گی چاہے کرانے کا ہی سہی۔
سرفراز کیانی نے نے گھر والوں کو بتایا کہ اکرم کی کچھ ڈیمانڈ تھی جو میں نے قبول کر لی ہیں۔ گھر والے حیران ہوئے۔ ماں نے ڈانٹ کر کہا پہلے بھی تم نے نکاح میں اس سے کوئی شرائط نہیں لکھوائیں اگر اس نے چھ ماہ بعد نہ چھوڑا تو۔ سرفراز کیانی نے ماں کو تسلی دی کہ فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ سرفراز کیانی نے گھر والوں کو بتایا کہ اس نے کہا ہے کہ وہ ولیمہ خود کرے گا اور ولیمے کا دولہن کا جوڑا بھی خود لے گا۔ اس نے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ قیمتی سوٹ افورڈ نہیں کر سکتا۔ نہ ہی ولیمہ اچھے ہوٹل میں دے سکتا ہے نکاح کو میں ایک مقدس رشتہ سمجھتا ہوں اور جو فرائض میرے زمہ ہیں جتنا میں آسانی سے کر سکتا ہوں وہ تو کروں۔ شینا نے کہا میری مہندی اور بارات کے قیمتی سوٹ اور ولیمے کا تھرڈ کلاس۔ ماں جو پہلے ہی سرفراز کے بہن پر اتنا خرچہ کرنے پر نالاں تھی شکر کیا اور شینا کو ڈانٹ دیا۔
مقدس نے کہا پاپا آپ نے جو گھر لیا ہے اور شادی وغیرہ کی تیاریوں میں مجھے اپنے ساتھ رکھیں۔ میں ہمیشہ آپ کے پاس رہنا چاہتی ہوں وہ رونے لگی۔
اکرم نے اسے گلے لگا کر روتے ہوئے کہا کہ میں تمھارے لیے ہی تو سب کر رہا ہوں کہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں ان کے طفیل تم آج میڈیکل کالج کی سٹوڈنٹ ہو ودنہ میری اتنی اوقات کہاں تھی۔ مقدس تڑپ گیئ۔ آج سب بازار گئے تھے اور اکرم کسی کام سے آیا تھا سرفراز کیانی نے گھر پر انتظار کر نے کا بولا تھا۔ مقدس کا اصرار تھا کہ وہ اس کی تیاری میں مدد کر نے ساتھ جائے۔ مگر اکرم نے کہا تمھاری ادھر زیادہ ضرورت ہے۔ وہ آنسو صاف کر تے بولا میں تمھاری ماں کی جگہ کھبی کسی کو نہ دیتا۔ تمھاری ماں بہت خوبیوں کی مالک تھی سادی مخلص اور مہنتی تھی قناعت پسند تھی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی رہتی تھی۔ میں گھر سے بے فکرا تھا۔ میں اسے اپنوں سے دور لایا تو دل میں بہت قلق تھا۔ مگر مرنے سے کچھ عرصہ پہلے وہ مجھے زہنی طور پر پرسکون کر گئی۔ اس نے کہا کہ اکرم تم نے اچھا کیا جو شہر آ گئے۔ میری بیٹی کو پڑھانے کی کوشش کرنا۔ آ گے بڑھنے کی بھی کوشش کر نا۔ شاید میری لاڈو کو عزت کی زندگی مل سکے۔ مقدس تڑپ گیئ اور رو تے ہو ئے بولی۔ پاپا آ پ بہت گریٹ ہیں ورنہ اماں تو ہر وقت آپ سے لڑتی جھگڑتی رہتی تھی پھر بھی آپ ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں۔ وہ بو لا عورتیں شوہروں سے نہ لڑیں تو کس سے لڑیں۔ میں نے کھبی اس کے لڑنے کا برا نہیں منایا۔ غصہ قدرتی چیز ہے شیطان کا وار ہے لاحول ولا قوۃ الا باللہ حی العظیم۔ پڑھنے سے لڑائی ختم ہو جاتی ہے۔ تمھاری ماں نے کھبی کوئی فرمائش بھی نہیں کی تھی۔ روکھی سوکھی کھا کر سکون سے سو جاتی۔بیٹی مجھے معاف کر نا تمھاری ماں کی جگہ کسی کو لا رہا ہوں بے شک عارضی طور پر ہی سہی۔ میں نے اس کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد اس سے معافی مانگی ہے۔ مقدس بولی پاپا آ پ پریشان نہ ہوں شینا ماما میرا آہیڈہل ہیں اور ان کے ساتھ آپ کی شادی کے لیے میں نے بہت دعائیں بھی کی تھیں۔ اکرم نے مسکرا کر اسے پیار سے س پر ہاتھ رکھ کر کہا تم نے تو مجھے ریلکس کر دیا ہے۔
مقدس باپ کو محبت سے دیکھتے ہوئے بولی پاپا جب سے نکاح ہوا ہے آپ دن بدن ہینڈسم ہوتے جا رہے ہیں۔
نکاح کے دن بھی کچھ لوگ آپ کی تعریف کر رہے تھے۔ آپ جو مولویوں کی طرح سارے بال پیچھے کرتے ہیں نکاح کے اگلے روز جب آپ میرے کالج آنے تھے اسی طرح کے بالوں میں تو میری فرینڈ کے علاوہ بھی لڑکیاں کہ رہی تھیں واہ کیا گریس فل پر سنیلٹی ہے۔ سب بازار سے آ گئے تھے اور مومی کی باتوں کی آواز باہر تک آ رہی تھی۔ شینا نے تانی سے طنزیہ انداز میں کہا کہ جاو اسے بلاو چاے بنا ے آ کر سخت تھکن ہو رہی ہے۔ کب سے باپ کی تعریفیں کری جا رہی ہے۔ تانی بولی وہ سچ کہہ رہی ہے میری فرینڈز بھی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھیں جب میں نے انہیں بتایا کہ وہ میرے پھو پھا ہیں۔ شینا نے برا سا منہ بنا کر کہا سب اندھی ہیں یا ان کا ٹیسٹ خراب ہے۔ مومی اور اکرم کو بھی ان کی آوازیں آ ہی تو چاے کی بات سن کر اکرم نے مومی کی طرف دیکھا اور ٹھنڈی سانس بھری۔ مومی نے باپ کے جزبات محسوس کر لیے
۔ وہ جانتی تھی کہ رشتہ جڑ جانے سے بھی اسکی حیثیت میں فرق نہیں پڑا وہ باپ سے بولی لگتا ہے سرفراز انکل آچکے ہیں۔ اتنے میں سرفراز کیانی نے اندر آ کر بہت عزت سے ہاتھ ملایا اور مومی کو بڑے پیار سے مخاطب ہو کر کہا مومی بیٹا ہمیں اچھی سی چائے تو پلاو آپ جیسی کوئی نہیں بنا سکتا۔ اکرم نے محبت سے بیٹی کو دیکھا۔
مقدس کی خوشی کی انتہا نہ تھی کہ وہ اپنے باپ کے گھر جا رہی ہے۔ اس خبر پر سب حیران ہوے اور پریشان بھی۔ کیونکہ اس نے سب کو ریلیف دیا ہوا تھا۔ تانی جو کافی سست تھی اور مومی سے بہت پیار بھی کرتی تھی۔ احتجاج کرنے لگی۔ مگر سرفراز کیانی نے کسی کی نہ سنی اور اسے باپ کے ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ شینا کا بڑا زیشان عرف شانی نے بہت غصہ دیکھایا کے ہمیں اس کی ضرورت ہے اور وہ نواب کی بچی جا رہی ہے۔ وہ اکثر اس پر طنز کر تا رہتا تھا۔
سرفراز کیانی نے اکرم سے ولیمے کے انتظامات کے حوالے سے مشورہ وغیرہ کیا۔ گھر ک بارے میں پوچھا تو اس نے نہایت اطمینان سے جواب دیا کہ آپ کسی قسم کی فکر نہ کریں نوے فیصد تک کام مکمل ہے۔ ولیمے کے کپڑے کل ٹیلر سے لیکر میں دے جاوں گا۔ سرفراز کیانی نے کہا کہ مقدس کو لے جاو۔ اس نے انکار کر دیا کہ ادھر اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے ادھر اس کی زیادہ ضرورت ہے۔
مگر سرفراز کیانی نے کہا کہ اس نے ایجنسی سے کچھ ملازمین بلا لیے ہیں جو شادی تک رہیں گے۔ کل مقدس کو لازمی لے جانا۔ وہ بارات کے ساتھ آے گی۔ اکرم نے بتایا کہ بارات میں گاوں کے چند قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کچھ دوست احباب بھی شامل ہوں گے۔ آپ کہتے ہیں تو مومی کو میں کل آ کر لے جاوں گا۔ اور اگر آپ کی اجازت ہو تو چھ ماہ تک وہ میرے پاس رہے۔ میں اسے وہیں سے کالج چھوڑ دیا کروں گا۔ سرفراز کیانی نے کہا بھلا مجھے کیوں اعتراض ہو گا میں تو خود ہی اس بارے میں سوچ رہا تھا۔
مقدس اس گھر سے جاتے ہوئے کافی جزباتی ہو رہی تھی تانی تو اس سے لپیٹ کر رونے لگی تانی کا بھائی بھی بولا مقدس نہ جاو پلیز۔ مسز کیانی نے بھی ہلکا سا گلے لگا کر دعا دی خوش رہو۔ شینا کمرے سے باہر نہ آئی مقدس خود ہی ملنے گئی تو وہ ہیڈ-فون لگاے فون ہاتھ میں پکڑے ہوئے بیٹھی تھی ہاتھ آگے بڑھا کر سپاٹ انداز میں ہاتھ ملا کر پھر فون پر نظریں جما لیں۔ مقدس تڑپ گیئ مگر آنکھوں میں آنسو بھر کر باہر نکل آئی۔ سرفراز کیانی نے اسے گلے لگا کر روتے ہوئے کہا کہ تم نے ہماری بہت خدمت کی ہے جیسے ایک بیٹی کرتی ہے اور اب یہ ہمیشہ کے لیے تمھارا میکہ ہے۔ ایک مان سے اگر حق جتاو گی تو میں سمجھوں گا کہ واقعی تم ہمیں اپنا سمجھتی ہو اگر مروت دکھائی اور کوئی مسئلہ ہوا اور ہمیں نہ بتایا کسی اور کو بتایا تو میں بہت ہرٹ ہوں گا اور سمجھوں گا کہ تم نے ہمیں اپنا نہیں مانا۔ مقدس تڑپ گیئ اور روتے ہوئے بولی آ پ لوگوں کے علاوہ ہمارا ہے ہی کون۔ اکرم سرفراز کیانی کی باتوں سے متاثر ہوا۔ شینا اٹھ کر باہر آئی۔ اچانک اس کی نظر اکرم پر پڑی تو حیران سی رہ گئی کہ وہ پینٹ شرٹ میں ملبوس بال بھی سلجھے ہو ے وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا اکرم نے ہلکی سی سماہل سے ایک نظر دیکھا تو شینا کنفیوز سی ہو گئی اور ویسے ہی موبائل فون پر گم ہونے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔
تانی تو کافی دیر تک بعد میں بھی روتی رہی۔ سرفراز کیانی نے سمجھایا کہ اس کے باپ کی شادی ہے۔ اس کا بھی حق ہے خوش ہو نے کا۔ اس کا باپ اکیلا ہی سارے انتظامات کر رہا ہے۔ تب تانی چپ ہوئی۔ سارے گھر پر اداسی چھائی ہوئی تھی۔
شینا انکی تعریفوں سے خوشی محسوس کر رہی تھی۔
شینا ابھی تک اکرم کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ کہ وہ اتنا ہینڈسم کیسے ہو گیا ہے اس کے ذہن میں اس کا پہلے والا نقشہ گھوم گیا۔ وہ کھلا سا شلوار قمیض نیچے پلاسٹک کے سلیپر، بال تیل سے چپکے ہوئے پیچھے کیے ہوئے۔ اور اب وہ بلکل مختلف لگ رہا تھا فٹنگ والی شرٹ، جینز، جوگر، بالخصوص بال شیمپو کیے ہوئے اور سٹائل سے ایک طرف سے پف کیے ہوئے تھے۔ شینا کی فرینڈز فوٹو مانگ رہی تھیں مگر وہ شرم سے بھیج نہیں رہی تھی اس نے تو اکڑ میں نکاح کی پکچرز بھی نہیں دیکھی تھیں۔ اب وہ تانی سے موبائل فون مانگنے گیء کہ فرینڈز نکاح کی پکچرز مانگ رہی ہیں۔ اس سے لیکر جوں جوں دیکھتی جائے حیران ہوتی جائے۔ نیوی بلو سوٹ میں وہ کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ہے بھی گورا چٹا تھا نین نقوش بھی اچھے تھے وہ سوچنے لگی کہ بیٹی کس پر گئ ہے نارمل سے زرا چھوٹا قد قدرے سانولی اور عام لڑکیوں کی طرح زیادہ سلم بھی نہ تھی۔ شاید ماں پر گئی ہو گی۔ وہ یہ سن کر بھی غصہ کھا گئی تھی جب اس نے سنا کہ وہ نکاح کے کاغذ پر دستخط کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گیا تھا کہ اسے اپنی پہلی بیوی کی یاد آ گئی تھی مقدس بھی رو پڑی تھی تو شینا نے بہت انسلٹ محسوس کی تھی کہ وہ سمجھتی تھی کہ وہ اسے پا کر فخر محسوس کرے گا اس غصے میں اس نے فوٹو بھی نہ دیکھے تھے۔اس کو تو یہ بھی حیرانگی تھی کہ وہ شادی کے لئے مشکل سے مانا تھا۔ جوں جوں وہ تصاویر فرینڈز کو بھیجتی جا رہی تھی توں توں تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے۔
اپنے اوپر حیران ہو رہی تھی کہ وہ اسے اتنی اہمیت کیوں دے رہی ہے۔ کافی دیر اس کی تصویر وں میں کھوہی رہی۔
سرفراز کیانی نے بلا کر اسے سمجھایا کہ نکاح ایک مقدس رشتہ ہے اور اکرم اب تمھارا مجازی خدا ہے۔ اس کا احترام کر نا اور مقدس اب تمھاری بیٹی ہے تم اسے بیٹی سمجھو گی تو وہ بھی تمہارے بچوں کو باپ کا پیار دے گا اب میرے اس جوڑے ہو ے رشتے کی لاج رکھنا۔ یہ رشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم ہوا ہے۔ چھ ماہ بہت اچھی طرح سے گزارنا۔ اکرم بہت اچھا انسان ہے۔ میرا بس چلے تو پہلے ہی اس سے تمھاری شادی کرتا۔ شینا خاموشی سے سنتی رہی اور آنسو بہاتی رہی۔ سرفراز کیانی نے پریشان ہو کر پوچھا کیا بات ہے پہلے تو اس نے بہانے بناے پھر سب کچھ بتا دیا۔ سرفراز کیانی کافی حیران ہوا۔ اور اسے پیار سے کمر پر تھپکی دیتے ہوئے کہا کہ اب تم فکر نہ کرو میں دیکھ لوں گا۔ شینا خوش ہو گیء۔
سرفراز کیانی نے گھر والوں کو صاف طور پر یہ بتا دیا کہ
مقدس کے ساتھ اب ہمارا رشتہ جڑ چکا ہے اور دوبارہ وہ اس گھر میں شینا کی بیٹی کے رشتے سے ملنے آیا کرے گی۔ اب وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اپنے گھر رہیے گی۔ اس نے یم سب کی بہت خدمت کی اور سب کا دل جیت لیا۔ میں اب اس میں اور تانی میں کوئی فرق نہیں سمجھتا۔
مقدس باپ کے گھر آ کر بہت خوش تھی۔ اتنا پیارا اور بڑَا گھر وہ بھی اتنی اچھی سوسائٹی میں۔ اسے لگتا تھا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے کاش اس کی ماں بھی زندہ ہوتی۔ وہ جزباتی ہو کر رونے لگی اکرم بھی روتے ہوئے بولا کاش تیری ماں کو بھی یہ سب نصیب ہوتا۔ وہ دونوں رونے لگے۔ اتنے میں دو میاں بیوی آ کر مقدس کو پیار کرنے لگے۔ وہ حیران نظروں سے دیکھنے لگی۔ اکرم نے مسکرا کر تعارف کروایا کہ گاوں سے انھیں شادی کے لئے بلایا ہے۔ عورت جھٹ بولی نہ جی ہم تو پکے اب ارھر ہی رہیں گے اور اپنے صاحب بیٹے کی خدمت کریں گے اس نے تو ہمیں ایڈوانس تنخوا بھی دے دی ہے۔ اکرم نے سارے گھر کو سیٹ کیا ہوا تھا۔ ایک ایک کونے کو مقدس شوق اور حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ اکرم نے بتایا کہ آکشن سے سارا سامان خریدا اور پالش وغیرہ کر کے نیا کر دیا۔ مقدس نے بہت تعریف کی۔ ایک کمرہ خالی تھا اکرم نے قدرے شرماتے ہوئے بتایا کہ اس میں سرفراز صاحب نے کہا ہے کہ وہ بیڈروم کا کل سامان بھیجیں گے۔ مقدس مسکرا کر خوش دلی سے بولی اچھا جی۔ اکرم نے مسکرا کر ہلکی سی چپت اسے لگائی۔ مقدس اپنے کمرے میں اپنا سامان سیٹ کر نے لگی۔ اس کے پاپا نے اس کے کمرے میں ضرورت کی ہر چیز مہیا کی تھی۔ پیارا سا ڈبل بیڈ اس کا سٹڈی ٹیبل چھوٹا قالین وغیرہ۔ مقدس کو ڈر تھا کہ یہ کہیں خواب نہ ہو۔ اتنے عرصے کے بعد اسے اپنے پاپا کے ساتھ رہنے کا موقع ملا تھا اور وہ بھی اپنا گھر۔ اپنی مرضی۔ اپنا علیحدہ کمرہ۔ کوئی ٹائم بے ٹائم آواز نہیں۔ بلکہ ماسی ثریا اور اسکا میاں نواز کھانا کھلا کر شام کی چائے کمرے میں دے گئے تھے اکرم کام سے باہر چلا گیا تھا۔ اسے تانی کے کیء فون آ چکے تھے۔ وہ گھر کی مووی بنا کر بھیجنے کا کہہ رہی تھی مگر مومی ٹال رہی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں نظر نہ لگے۔
نے مومی کو بتایا کہ چھوٹی گاڑی اس نے شادی کی بات چیت سے پہلے لی تھی اور میں سب کچھ تمھارے لیے کر رہا ہوں۔ اب میں تمھیں اپنے پاس بلانے والا تھا
میری اچھی نوکری لگ گئی تھی مگر ابھی میں تمھاری ڈاکٹری کی تعلیم کا خرچہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ اچھا ہے تمھارا وظیفہ لگ گیا ہے اور کچھ سرفراز صاحب کی مہربانی ہے جو ساتھ دیتے ہیں اور بےلوث ہو کر۔ بہت نیک دل انسان ہیں۔ ایسے لوگوں سے ہی دنیا قائم ہے۔ اکرم نے پوچھا تمہیں اپنا کمرہ پسند آیا۔مقدس دلار سے بولی جس کے اتنے عقلمند پاپا ہوں اسے کیسے پسند نہ آئے گا۔ بس یہ شادی کا جھنجھٹ آ گیا ہے۔ مقدس خفگی سے بولی۔ پاپا آپ خوش کیوں نہیں ہو تے۔آپ کو کیا پتا میں کتنی خوش ہوں۔ اکرم مسکرا کر بولا تمھاری وجہ سے ہی تو مانا ہوں۔ تم جو شینا آنٹی شینا آنٹی کرتی رہتی ہو۔ پھر وہ جوش و خروش سے بتانے لگی کہ کالج میں اس کی فرینڈز نے بہت پسند کیا کہ شینا ماما بہت خوب صورت ہیں اور کہہ رہی تھیں کہ تمھارے پاپا بھی بہت ہینڈسم ہیں۔ دونوں کی جوڑی بہت پیاری ہے۔ اس نے دل میں دعا کی کہ ان کا ساتھ ہمیشہ قائم رہے۔ دل میں انشاء اللہ بولی۔ تانی کو مقدس نے کہا کہ تم بھی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو میں بھی تو بہتر ہے سرپراہز رکھیں۔ گھر اور سب کچھ بہت پیارا ہے اور میں بہت خوش ہوں۔ سرفراز کیانی نے تانی کو سمجھایا کہ مقدس کو باپ کی کمپنی انجوائے کرنے دو بار بار اسے فون کر کے ڈسٹرب نہ کرو۔ وہ روتے ہوئے بولی ڈیڈ میں اسے بہت مس کر رہی ہوں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.