Loading...
Logo
Back to Novel
Aik Raat Ki Dulhan Meri
Episodes
Aik Raat Ki Dulhan Meri

ایک رات کی دولہن میری 1

From Aik Raat Ki Dulhan Meri - Episode 1

موویز کے لیے گھر والے جوش و خروش سے اس کے لیے دولہن کی تلاش میں لگے ہوئے تھے۔۔

موویز کی ماں ٹرے سے چاے کا کپ اٹھاتے ہوئے شوہر سے مخاطب ہو کر بولی، اتنی لڑکیاں دیکھیں مگر کوئی دل کو نہیں بھائی۔۔

شوہر نے ان کے ہاتھ سے چائے کا کپ پکڑتے ہوے جواب دیا ، بیگم مجھے تو بس شرافت چاہیے۔۔ آپ عورتیں تو لڑکی کا ناک نقشہ دیکھتی ہیں۔۔

اسی لیے تو میں نے شرافت صاحب کی بیٹی کو بغیر دیکھے پسند کر لیا ہے۔۔

شرافت میرا کلاس فیلو ہوا کرتا تھا اپنے نام کی طرح پورے کالج میں شریف مشہور تھا۔۔ اب ہماری بڑی بہو کو ہی دیکھ لو، اس کا رشتہ بھی میں نے اس کے گھر والوں کی نیک نامی کی وجہ سے کیا تھا۔۔ پورے خاندان بھر میں ان لوگوں کی نیک نامی کے تزکرے تھے۔۔ دیکھو اب بیٹا بھی خوش اور تم بھی خوش۔۔

ایک چھوٹے کی دولہن ڈھونڈنے کی زمہ داری آپ کو دی مگر آپ سے لوگوں کو پرکھا نہ گیا اور ابھی تک فیصلہ نہ ہو سکا۔۔

بیوی ایک لمبی آہ بھر کر بولی، اسی لیے تو میں بھی خاموش ہو گئی ہوں کہ آپ نے جو بھی فیصلہ کیا ہو گا ٹھیک ہی ہو گا۔۔

اتنے میں موویز نے آ کر سلام کیا۔۔

پیچھے اس کی بھابھی اس کا چائے کا کپ پکڑے آ گئ اور اسے پکڑا کر بولی، ابا حی

ہم کم از کم لڑکی کا فوٹو ہی دیکھ لیتے۔۔

وہ قدرے برہمی سے بولے، مجھے اس لڑکی کی اور اس کے گھر والوں کی یہی بات تو پسند آئی کہ لڑکی فوٹو نہیں کھنچواتی۔۔

اور اس کی ماں نے بھی فوٹو دینے سے معزرت کر لی۔۔

اسی لیے تو میں شادی کی تاریخ فکس کر آ گیا کہ تم لوگ تو بس انہیں باتوں میں پڑ کر شادی ڈیلے کرتے رہو گے۔۔

موویز نے باپ کی حمایت میں بولتے ہوئے کہا، بھابھی شکل وغیرہ کی میرے نزدیک اہمیت نہیں ہے بس سیرت و کردار معنی رکھتا ہے۔۔ ابا جی نے جو بھی فیصلہ کیا سوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا۔۔

بیوی بڑبڑاتے ہوئے بولی، ویسے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہو گا کہ لڑکی بغیر دیکھے پسند کر لی جائے۔۔

اب رہتے بھی اتنی دور لاہور میں ہیں اور ہم اسلام آباد میں۔۔

فاصلہ نزدیک ہوتا تو ہم جا کر دیکھ آتے۔۔ اب تو شادی پر بھی جانا مشکل لگتا ہے۔۔ گھٹنے کے درد کی وجہ سے میں اتنا لمبا سفر بھی نہیں کر سکتی۔۔

شوہر نے تسلی دیتے ہوئے کہا، کہ اسی لیے تو ہم صرف گھر والے ہی جائیں گے جہاز میں۔۔

موویز کے شوہر نے یاد دلاتے ہوئے کہا، کہ شرافت صاحب کے بھائی ادھر اسلام آباد میں رہتے ہیں ان کے ہاں کارڈ دے آنا۔۔ اور اپنے گھر مہندی پر بھی اور ولیمے پر بھی انواہیٹ کر دینا۔۔

پھر وہ موویز کی طرف رخ کر کے ہدایت دیتے ہوئے بولے، بیٹا کل آفس سے آ کر ان لوگوں کو ان کے گھر لے جانا یاد سے۔۔

شرافت صاحب نے مجھے لوکیشن بھیج دی ہے وہ میں تمہیں سینڈ کر دیتا ہوں۔۔

پھر وہ بیگم سے مخاطب ہو کر بولے، سنو بیگم بہو کو بھی ساتھ لے جانا۔۔

بہو خوش ہوتے پرجوش انداز میں بولی، چلو اچھا ہے ان کے گھر شاید دولہن کی کوئی فوٹو پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سسر نے گرجدار آواز میں کہا، کوئی فوٹو کی بات وہاں نہیں ہو گی۔۔ اگر میرے دوست نے بھروسہ کر کے مجھے اپنے جگر کا ٹکڑا سونپا ہے تو پھر اتنی بےصبری آپ لوگ کیوں دیکھا رہے ہیں۔۔ اب وہ جیسی بھی ہے۔۔ اس کے بارے میں اب میں کوئی اور جرح نہیں کرنا چاہتا۔۔ پھر اٹھتے ہوئے بولے، اور ان کے گھر مٹھائی اور پھل وغیرہ لے کر جانا۔۔

ہے تو نامناسب بات مگر فون پہنچنے سے پانچ منٹ پہلے کرنا تاکہ وہ لوگ کسی تکلفات میں نہ پڑ جائیں۔۔

موویز نے ادب سے اثبات میں گردن ہلا دی۔۔

موویز کے والد ریٹائرمنٹ کی زندگی بسر کر رہے تھے۔۔

ان کے دو بیٹے تھے۔۔ بڑا شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ تھا۔۔

دوسرا موویز تھا جو انجنیئر تھا اور اچھی جاب پر تھا۔۔ اس کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔۔

دونوں بیٹے والدین کے فرمانبردار تھے۔۔

باپ غصے کا تیز تھا۔۔ اس کا رعب سارے گھر پر تھا۔۔ گھر پر اسکا حکم چلتا تھا۔۔

خوشی اپنے گھر میں والدین کی لاڈلی تھی۔۔ اس سے بڑی ایک بہن تھی جس کا ایک بچہ اور ایک بچی تھی۔۔

خوشی کی بہن کے ساس سسر وفات پا چکے تھے۔۔ سارے بہن بھائی شادی شدہ تھے۔۔ خوشی کی بہن کا شوہر سب سے چھوٹا تھا۔۔ اسکا آفس سسرال کے قریب تھا۔۔ وہ گھر وہاں لینا چاہتا تھا تو ساس سسر نے اسے اپنے گھر میں رہنے پر مجبور کیا اور وہ مان گیا۔۔

گھر میں رونق ہو گئ۔۔ خوشی اپنے بھانجے اور بھانجی کے ساتھ لگی رہتی۔۔ بھانجے اور بھانجی کے اسکول میں فنکشن تھا۔۔

خوشی اپنی بھانجی کے ساتھ ان کے کپڑے لینے مارکیٹ چل پڑی۔۔ اکثر باہر کے کام خوشی کو ہی کرنے پڑتے۔۔

ماں بیمار رہتی۔۔ بہن نے گھر داری سنبھال لی تھی۔۔ باپ بھی بوڑھا تھا۔۔ بہنوئی سست تھا۔۔ ویسے بھی وہ شام کو گھر آتا۔۔

خوشی نے بھانجی کو ساتھ لیا جو پانچ سال کی تھی۔۔ اکثر وہ خالہ کو ماما ہی کہتی رہتی۔۔ خوشی اس کے ساتھ شاپنگ مال میں گھوم رہی تھی۔۔

موویز کی اچانک اس پر نظر پڑی تو وہ اس کے دل کو بھا گئی۔۔ مگر جب بچی نے اسے ماما پکارا تو موویز کے دل میں خیال آیا کہ وہ ایک بچی کی ماں ہے اس طرح کسی شادی شدہ کے بارے میں خیال لانا بری بات ہے۔۔

اچانک خوشی اپنے سامان اور موبائل پرس سمیت پھینک کر چلائی، میری بچی کدھر گئ۔۔ موویز نے اسکا سامان اٹھا کر بچی کو ساتھ ادھر ادھر تلاش کرنے لگا۔۔

اچانک موویز کو ایک کھلونوں کی شاپ پر کھڑی بچی نظر آ گئ اور وہ اسے اس طرف متوجہ کر کے بچی کی طرف تیزی سے گیا۔۔

خوشی روتی ہوئی تڑپ کر اسے چمٹا کر بولی، کدھر چلی گئی تھی۔۔

پھر موویز کے تسلی دینے پر اس کے ہوش بحال ہوئے۔۔ اور اپنا سامان اس کے ہاتھ میں دیکھ کر ممنون لہجے میں شکریہ ادا کر کے لینے آگے بڑھی تو موویز نے کہا، چلیں میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں باہر تک۔۔

وہ بچی کا ہاتھ پکڑے پریشان حال باہر آی تو مغرب ہونے والی تھی اسے وقت کا اندازہ ہی نہ ہو سکا۔۔

باہر گہرے بادل چھا گئے۔۔ سواری کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔۔

موبائل میں نیٹ پیکج بھی ختم ہو گیا تھا آج ہی۔۔ اس نے پریشان ہو کر ادھر ادھر آٹو کی تلاش شروع کی۔۔

موویز نے اس کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے کہا، کہ وہ اسے چھوڑ دے گا۔۔ بچی بھی سونے والی ہو رہی تھی۔۔

خوشی نے انکار کیا تو وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولا، دیکھیں موسم بھی خراب ہے۔۔ جس کے ساتھ بھی جائیں گی وہ بھی میری طرح اجنبی ہو گا۔۔ مجھ پر بھروسہ رکھیں۔۔ اگر گھر والوں سے بدنامی کا ڈر ہے تو میرا اوبر یا کریم والی گاڑی کا بتا دینا۔۔

جلدی کریں پلیز۔۔ مجھے بھی دیر ہو رہی ہے۔۔

خوشی کے لیے اس نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول دیا۔۔

خوشی مجبوراً بیٹھ گئی۔۔

بچی گود میں سو گئی۔۔

خوشی نے اس کے کہنے پر اس کے موبائل پر لوکیشن ڈال دی۔۔

جب وہ گھر کے قریب پہنچے تو اس کے ابو اور بہنوئی پیدل جارہے تھے۔۔

خوشی نے پریشانی سے موویز کو بتایا کہ اس کے گھر والے وہ جا رہے ہیں۔۔ آپ کو میں ان کے سامنے پیسے دوں گی تو رکھ لینا۔۔ اس نے پانچ سو کا ایک نوٹ پرس سے نکال کر اترتے ہوئے اسے پکڑایا۔۔

اتنے میں اس کے ابو اور بہنوئی قریب پہنچ گئے۔۔

اس نے ابو کو سلام کیا۔۔ قریب آ کر بہنوئی نے بچی اٹھا لی۔۔

باپ نے فکرمندی سے اسے کہا، بیٹا جلدی آتی دیر کر دی میں پریشان ہو گیا تھا۔۔ کال بھی پک نہیں کر رہی تھی تم۔۔

اس نے جھٹ موبائل پر دیکھا تو وہ ساہلنٹ پر لگا ہوا تھا۔۔ اس نے معزرت کرتے ہوئے کہا، سوری میں نے ساہلنٹ پر کیا تھا پھر یاد نہیں رہی۔۔

موویز نے انہیں سلام کیا اور پیسے پکڑ کر سامان اتار کر اسے دیا۔۔

اور جلدی سے گاڑی میں سوار ہو کر چل پڑا۔۔

اس نے وہ نوٹ جو بلکل نیا تھا اسے لاشعوری طور پر پرس میں چھپا کر ڈال دیا۔۔

ماں نے بھی اسے ڈانٹا کہ دیر کیوں کی۔۔ بچوں کے دو جوڑے ہی تو لینے تھے۔۔ لگ پڑی ہو گی ورائٹی دیکھنے۔۔

باپ نے فیور لیتے ہوئے کہا، چلو آ گئ ہے ناں۔۔ یہ ہماری بیٹی نہیں بیٹا ہے ماشاء اللہ۔۔

سارے باہر کے کام یہی تو کرتی ہے۔۔

ماں نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی باپ کی شہہ میں آ کر اپنے آپ کو لڑکا سمجھنے کی غلطی نہ کرنا۔۔

تم لڑکی ہو اور لڑکیوں کی عزت بہت نازک ہوتی ہے۔۔ اپنے آپ کو بچا کر چلنا۔۔ باہر انسان کی شکل میں بھیڑیے پھرتے ہیں۔۔ کسی پر بھروسہ نہ کرنا۔۔ بد سے بدنام برا ہوتا ہے۔۔ ایسا کچھ نہ کرنا کہ بدنامی کا منہ دیکھنا پڑے۔۔

باپ نے کوفت زدہ لہجے میں کہا، ارے میری بیٹی بہت سمجھدار ہے۔۔ اسے اپنی عزت کا لحاظ رکھنا آتا ہے۔۔ یہ میرا غرور ہے۔۔

اس نے اپنی تعلیم کوایجوکیشن میں پڑھ کر بھی اپنا دامن بچائے رکھا۔۔ اور ماشاء اللہ سے تعلیم سرخرو ہو کر مکمل کی۔۔ باپ کا سر جھکنے نہیں دیا۔۔

بڑی بیٹی کمرے میں داخل ہو کر بولی، میں نے بھی تو آپ کی پسند سے شادی کی۔۔

باپ بولا، میری دونوں بیٹیاں میرا غرور ہیں۔۔

اس کا شوہر جو اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہو رہا تھا مسکرا کر بیوی کو دیکھ کر بولا، اور آپ کو شریف شوہر بھی ملا ہے۔۔ خوش قسمتی ہے آپ کی۔۔

بیوی نے مسکرا کر اسے دیکھ کر اثبات میں گردن ہلا دی۔۔

باپ نے بیٹی سے مخاطب ہو کر کہا، بیٹی ویسے اوبر گاڑی والا کافی بھلے مانس انسان لگ رہا تھا۔۔

خوشی نے ہلکی سی گردن ہلا دی۔۔

بہنوئی چپ کر کے اسے دیکھنے لگا۔۔

موویز گھر والوں کے ساتھ جب خوشی کے گھر کے ایڈریس پر پہنچا تو گھر والوں کو ان کے آنے کی اطلاع مل چکی تھی اور وہ ان کی خاطرمدارت کے انتظام میں لگ گئے تھے۔۔ خوشی کے باپ نے ان کی خوب خاطرمدارت کرنے کا حکم دیا تھا۔۔

جب وہ لوگ گھر پہنچے تو خوشی موویز کو دیکھ کر پریشان ہو گئ۔۔

موویز کو بھی ایکدم خیال آ گیا کہ اگر گھر والوں کے سامنے ان لوگوں نے اوبر چلانے کا پوچھ لیا تو وہ کیا جواب دے گا۔۔ پھر اس نے سوچا کہہ دے گا۔۔ نوکری کے ساتھ کھبی کبھار وقت ملے تو وہ یہ کام بھی کر لیتا ہے۔۔

جب اس کے بہنوئی نے زرا اونچی آواز میں اس سے پوچھا آپ تو اوبر چلاتے ہیں ناں۔۔ میری سالی اور بیٹی کو آپ نے ڈراپ کیا تھا۔۔

موویز کی بھابھی نے اور ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔

موویز نے گلہ کھنکار کر خوشی کی طرف دیکھا جو حواس باختہ سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔

اس نے کہا، گھر والوں کو اس بارے میں کچھ علم نہیں ہے بس کھبی جب موقع ملے تو یہ کام کر لیتا ہوں۔۔

خوشی نے سکون کا سانس لیا۔۔

موویز پر عقدہ کھلا کہ خوشی کنواری ہے اور ابھی رشتہ بھی طے نہیں ہوا تو وہ پچھتانے لگاکہ کاش وہ ادھر رشتہ بھیج سکتا۔۔

کیونکہ گھر والے سارے راستے واپسی پر خوشی اور اس کے گھر والوں کی تعریفیں کرتے آئے۔۔ وہ افسوس کرتے ہوئے بولے، کاش ہم پہلے ادھر آتے تو خوشی کو بیاہ لاتے جو اپنے ہی شہر میں قریب ہی رہتی تھی۔۔ اب اتنی دور پانچ گھنٹے کا سفر کر کے لاہور جائیں گے توبہ۔۔

موویز بھی چپ چاپ گاڑی چلاتا رہا۔۔

بھابھی نے پوچھا، یہ اوبر والا کیا چکر ہے تو اس نے سب سچ بتا دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ اسے شادی شدہ سمجھا تھا۔۔

ماں نے افسوس کرتے ہوئے کہا، باقی تو سب اچھے ہیں پر ان کا داماد مجھے پسند نہیں آیا۔۔

موویز کی بھابھی بولی، سچ کہا، وہ تو سالی کی ٹوہ میں لگا ہوا تھا کہ کچھ بات ملے اور بتنگڑ بناۓ۔۔

گھر آ کر بھی موویز چپ چپ رہا۔۔

ماں اور بھابھی نے نوٹ کر لیا۔۔

پھر بہو کے اکسانے پر موویز کی ماں نے شوہر سے کہا کہ اسے زندگی میں پہلی بار کوئی لڑکی اور اس کے گھر والے بہت پسند آئے ہیں۔۔ کاش ہم ادھر رشتہ کر سکتے۔۔ ایک تو قریب ہیں اور دوسرا بہت اچھے لوگ ہیں۔۔

شوہر نے کہا، دیکھا مجھے یقین تھا جب ان کے رشتے دار اتنے اچھے لوگ ہیں تو شرافت صاحب اور ان کی فیملی کتنی اچھی ہو گی۔۔ میرا فیصلہ بلکل ٹھیک تھا۔۔

بیوی نے دبے لفظوں میں کہا، ضروری نہیں کہ رشتے دار اچھے ہوں تو وہ بھی اچھے ہوں۔۔

شوہر نے گرجتے ہوئے کہا، کیوں اچھے نہیں ہوں گے آخر آپ لوگ میری بات کو میرے فیصلے کو اہمیت کیوں نہیں دیتے۔۔ کیوں شک و شبہ رکھتے ہیں۔۔

بیوی نے بےبسی سے آہستگی سے کہا، آپ کے فیصلے کو ہی اہمیت دے کر ہی تو شادی کرنے جا رہے ہیں۔۔

شوہر نے گرج کر کہا، پھر اس میں قیاس آرائی کیوں کرتے ہیں۔۔ بس میرا فیصلہ اٹل ہے۔۔

بیوی نے خاموشی سے آہ بھر لی۔۔

خوشی ان لوگوں کے جانے کے بعد سخت ڈسٹرب تھی کیونکہ بہنوئی اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔

بہن اپنے میاں پر فدا تھی۔۔ وہی اس پر مر مٹی تھی۔۔ رشتے دار تھے۔۔

وہ بھی خوش تھا کہ اکلوتی ہے۔۔ دس مرلے کا گھر بھی دونوں بہنوں کے نام پر تھا۔۔ بھائی بھی کوئی نہ تھا۔۔

خوشی کو شروع سے ہی بہنوئی پسند نہ تھا۔۔ مگر بہن نہ مانتی تھی۔۔ اب بھی وہ اس کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتی تھی۔۔

بہنوئی ان کے جاتے ہی سب کو بار بار باور کراے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔۔

اچھے خاصے پیسے والے لوگ لگتے ہیں پھر اوبر چلانے کا کیا مقصد ہے وہ بھی گھر والوں سے چوری۔۔

بہن بےوقوف کہتی، ویسے یہ لوگ اور وہ لڑکا بھی مجھے بہت پسند آئے ہیں۔۔ کاش یہ لوگ میری بہن کا رشتہ مانگ لیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔۔ وہ لوگ بھی ہماری بہت تعریفیں کر رہے تھے کہہ رہے تھے کہ اگر ہم پہلے ملے ہوتے تو ادھر ہی آتے۔۔ اتنی دور نہ جاتے۔۔

بہنوئی کہتا۔۔ ملے تو تھے پہلے پر خوشی سے۔۔ گھر والے بھی اگر ساتھ ہوتے تو ہماری خوشی کے لیے اسکا ہاتھ مانگ لیتے۔۔

خوشی تپ کر کہتی، کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ لوگ۔۔ وہ میری بہن کا سہاگ ہے۔۔ اس کے لیے اچھی باتیں سوچیں۔۔

باپ بھی کہتا،میری بیٹی بہت سمجھدار ہے۔۔ سچ کہہ رہی ہے۔۔

خوشی نے باپ کو اس دن کا واقعہ سب سچ بتا دیا۔۔ اور کہا کہ وہ اسی بدنامی کے ڈر سے سچ نہ بتا سکی۔۔

وہ بڑبڑائی کہ بہنوئی صاحب خود اپنی زمہ داری پوری نہیں کرتے اور جو کر کے دے اس کے بارے میں باتیں بناتے ہیں۔۔

باپ نے کہا، بیٹا سچ کو آنچ نہیں، کوشش کیا کرو کہ ہر حال میں سچ بولو۔۔ اور دنیا میں اس قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جن سے ہم دامن نہیں چھڑوا سکتے اس لئے مجبوری ہے فیس کرنا چاہیے۔۔ صبر کرنا چاہیے۔۔ اس کا بہت اجر ہے۔۔

بہرحال تم ہماری پرانی ملازمہ کے ساتھ لاہور جانے کی تیاری کرو۔۔

ہم لوگ تو نہیں جا سکتے۔۔ تمہاری امی بیمار ہیں۔۔ میں بھی اتنا لمبا سفر نہیں کر سکتا۔۔

بڑی بیٹی بولی، ابو میں نے اس سے پوچھا تھا وہ بیمار ہے۔۔

کیا مسئلہ ہے یہ اسے ڈیو کے اڈے پر بٹھا دیں گے وہاں سے تایا کا بیٹا آ کر لے جائے گا۔۔ میں نے تایا سے فون پر بات کر لی ہے آپ فکر نہ کریں۔۔

ابو بولے، ٹھیک ہے بیٹی، کسی کو تو گھر سے جانا چاہیے۔۔

جاری ہے۔۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books