Loading...
Logo
Back to Novel
Aik Raat Ki Dulhan Meri
Episodes
Aik Raat Ki Dulhan Meri

ایک رات کی دولہن میری 10

From Aik Raat Ki Dulhan Meri - Episode 10

موویز بہت پریشان رہتا تھا۔۔ والدین اسے دیکھ کر دکھی رہتے۔۔

ادھر اگر وہ اسے طلاق دینے کا بولتے تو وہ ٹال جاتا۔۔

موبائل پر بیٹے کی تصویر لگا رکھی تھی۔۔

اکثر اس کی وڈیو دیکھتا رہتا۔۔ جو وہاں اس نے جلدی سے بھری تھی۔۔

خوشی نے اس وقت تک اس سے فون پر بات کرنے سے منع کر دیا تھا جب تک وہ اس گھر میں چلی نہیں جاتی۔۔

نہ ہی وہ اس سے کھبی پہلے ملے گی۔۔

وہ اس کی بات مان کر والدین کو زور دیتا رہتا کہ خوشی کے باپ کو منائیں۔۔

سب حیران ہوتے کہ آخر وہ اسے طلاق کیوں نہیں دیتے۔۔

منیر صاحب کی پوری فیملی منیر کی بیوی کے مکمل صحتیاب ہونے پر عمرے پر جا رہے تھے۔۔ وہ اس کا سہرا خوشی کو دیتے تھے جس کی وجہ سے ان کی بیوی مکمل طور پر تندرست ہو گئ۔۔

اب تو ان کی بہو بھی نیٹ پر دیکھ دیکھ کر مزے دار کھانے بنانے لگی تھی۔۔ اس نے گھر کی ساری زمہ داری سیکھ لی تھی اور بہت اچھے طریقے سے چلا رہی تھی۔۔

اب تو وہ بچوں کو خود پڑھاتی تھی۔۔ اسے اب خود پڑھا کا تسلی ملتی۔۔

شوہر بھی اب بچوں کو کھبی پڑھانے میں مدد کرتا۔۔

حتکہ گھر کے کاموں میں بھی مدد کرتا۔۔

انہوں نے کہا، شکرالحمدوللہ ہماری ملازموں کی سے جان چھوٹی۔۔

اب منیر صاحب کی بیوی بھی چھوٹے موٹے کام کرنے لگی۔۔

منیر صاحب نے کہا، ہم بچپن سے ہی سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہیں۔۔

ہمارے بزرگوں نے شروع سے ہی ہم میں تکبر اور غرور بھرا۔۔

ہم غریبوں اور ملازموں سے فالتو بات کرنا توہین سمجھتے تھے۔۔

مگر خوشی کے ملنے کے بعد ہمیں اپنی برسوں پرانی روایات توڑنی پڑی۔۔

ملازموں سے گپ شپ کی تو احساس ہوا کہ ان لوگوں کی کمپنی میں بھی لطف مل سکتا ہے۔۔

بعض تو ایسے عقلمند ہوتے ہیں کہ ان کے مشورے بھی کارآمد ہوے۔۔

ان کی صلح و مشورہ بھی کھبی مفید ثابت ہوا۔۔

صرف غربت انہیں آگے بڑھنے نہیں دیتی۔۔ ان میں بھی کافی باصلاحیت اور ایماندار لوگ بھی موجود ہیں۔۔

کوئی چوری ہو تو ہم صرف ملازموں پر ہی شک کرتے ہیں۔۔ یہ نہیں ہے کہ سب چور ہوتے ہیں یا سب چور نہیں ہوتے۔۔ اسی طرح امیر بھی تو چوری کرتے ہیں گھپلے کرنا، ناجائز زریعے سے پیسہ کمانا بھی چوری ہے۔۔

پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔۔

اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔۔

اخلاق کا درجہ سب سے بلند ہوتا ہے۔۔ کسی کی طرف مسکرا کر دیکھنا بھی نیکی ہے۔۔

مگر غریب سلام کرے تو بمشکل ہونٹ ہلتے ہیں۔۔

وہی اگر مسکرا کر خوش دلی سے مل لیا جائے تو چند گھڑی غریب کو بھی مفت کی خوشی مل جاتی ہے۔۔

وہ امیروں کی عزت افزائی سے بہت دلی خوشی محسوس کرتا ہے۔۔

مگر جب اس کی ہتک اور زلت کی جاتی ہے تو وہ جو پہلے ہی غربت کی وجہ سے دکھی ہوتا ہے اسکا دکھ اور احساس محرومی اور بڑھ جاتا ہے۔۔

اگر کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے عزت دی جائے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ عزت دیتے ہیں جس کے وہ قابل بھی نہ تھا اور آخرت میں ثواب دگنا۔۔

خوشی اپنے باپ کو لے کر منیر صاحب کی اجازت سے اپنے گھر چلی گئی۔۔

اس کی بہن کے بچے اس سے اور اس کے بچے سے ملکر بہت خوش ہوئے۔۔

خوشی کی بہن شوہر کو دال چاول پکا کر دیتی اور وہ پک اپ میں رکھ کر بیچ آتا۔۔

آہستہ آہستہ اس نے کام بڑھا لیا اور ایک ہوٹل کھول لیا جو اچھا چلنے لگا۔۔

خوشی کا باپ بولا، اپنے گھر میں جو تسلی اور سکون ملتا ہے وہ کسی دوسرے کے محل نما گھر میں نہیں ملتا۔۔

بےشک وہاں ان کو بہت عزت دی جاتی مگر اب وہ اپنے گھر میں سکون سے رہیں گے۔۔

بس خوشی اپنے گھر چلی جائے۔۔

جب منیر صاحب نے خوشی کے باپ کا پیغام دیا کہ وہ اب ان کے گھر سے جب چاہیں آ کر خوشی کو لے جا سکتے ہیں۔۔

اس خبر سے موویز کے گھر والے بہت خوش ہوئے اور بولے، بیٹا کل اتوار کا دن ہے چھٹی ہے۔۔ ہم کل ہی جا کر خوشی کو لے کر آتے ہیں۔۔

مگر موویز نے انکار کر دیا۔۔

والدین نے سنتے ہی اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔۔

موویز کی بیوی دور کھڑی مسکراتی رہی۔۔

بڑی مشکل سے موویز نے بات پوری کی کہ وہ اس سنڈے نہیں، اگلے سنڈے کو لاے گا ابھی ایک ہفتہ وہ بزی ہے۔۔

باپ نے چلا کر غصے سے کہا، تم بزی ہو ہم تو نہیں۔۔

وہ بولا ،بس کہہ دیا نا کہ میں اگلے سنڈے خود ساتھ جا کر لاوں گا۔۔

یہ کہہ کر وہ چل پڑا۔۔

ماں نے دکھی لہجے میں کہا، اب میں اور ایک ہفتہ پوتے کے لیے تڑپتی رہوں۔۔

جب کہ وہ آنے پر بھی بغیر شرط کے راضی ہے۔۔

بیٹا گزرتے ہوئے بولا، آپ لوگ روز جا کر مل آیا کریں۔۔

ویسے بھی وہ اپنے گھر واپس چلی گئی ہے۔۔

میں خود آپ کو ادھر روز لے جایا کروں گا اور ہفتے بعد لانے کا انہیں بتا بھی دوں گا اور شکریہ بھی ادا کر دیں گے۔۔

موویز کا باپ بولا، منیر کا میں نے بہت شکریہ ادا کر دیا تھا۔۔ اس سب معاملے میں اس نے ہمارا بہت ساتھ دیا ہے۔۔

بیوی بولی، بےشک۔۔

دوسرے دن موویز والدین کے ساتھ خوشی کے گھر گیا۔۔

منیر صاحب نے میم کا نمبر دے دیا تھا یہ لوگ گھر سے نکل چکے تھے پھر میم کو فون کیا اس نے لوکیشن بھیج دی۔۔

میم بھی ان سے ملنے خوشی کے گھر پہنچ گئ۔۔

تین بچوں نے اودھم مچایا ہوا تھا۔۔

خوشی اور اس کی آپا جلدی جلدی گھر کا کھلارا سمیٹنے لگیں۔۔

ابو کو انہوں نے چاے کے لیے دودھ اور سموسے وغیرہ لینے بھیج دیا۔۔

وہ منیر صاحب کے گھر جا کر کافی بہتر ہو گئے تھے اور گھر کا سودا سلف قریب کی دوکانوں سے لے آتے تھے۔۔

موویز لوگ پھل فروٹس اور کیک لے کر آئے۔۔

بچہ پہلے تھوڑی دیر ان کے منہ کی طرف دیکھتا رہا پھر گود میں آ گیا۔۔

چاے پی گئی۔۔ سب بہت خوش تھے۔۔

موویز کے والدین نے کہا، بیٹا اگلے اتوار تیار رہنا۔۔ ہم لینے آئیں گے۔۔

ہنسی خوشی رخصت ہوئے۔۔

میم نے ان کے جانے کے بعد کہا، ویسے سب بہت اچھے ہیں۔۔ موویز بھی کافی سلجھا ہوا ہے۔۔

آپی کا شوہر بھی آ گیا تھا اس نے موویز سے بہت معافی مانگی اور شرمسار ہوا۔۔

موویز کے والدین روز وڈیو کال کر کے پوتے سے بات چیت کرتے۔۔

اتوار والے دن صبح سے ہی دادی دادا تیار بیٹھے ہوئے تھے۔۔

ادھر خوشی سامان باندھے شدت سے انتظار کر رہی تھی۔۔

موویز نے کہا، آپ لوگ اپنے ضرورت کے کپڑے پیک کر لیں۔۔

خوشی کو میں فلیٹ میں رکھوں گا اور آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ رہیں گے۔۔

باپ نے گرج کر کہا، کیا بکواس کر رہے ہو۔۔

خوشی اس گھر میں رہے گی فلیٹ میں کیوں رہے۔۔

رکھنا ہے تو اپنی اس لاڈلی کو رکھو، جسے تم طلاق دے کر ہماری جان خلاصی نہیں کرنا چاہتے۔۔

آخر اس میں خوبی کون سی ہے۔۔ دو بار یہ بچہ ضائع کروا چکی ہے۔۔ اگر ڈاکٹر تمہاری ماں کی واقف نہ ہوتی تو یہ تو کھبی تمہاری نسل آگے بڑھنے نہ دیتی۔۔

اور تم نے فلیٹ خریدا ہے کیا۔۔

وہ سر جھکا کر بولا، نہیں ابھی رینٹ کا ہے۔۔ فرنیش فلیٹ ہے۔۔

بعد میں جلد خرید لوں گا ابھی جلدی میں نہیں خرید سکا۔۔

ہے تو قدرے چھوٹا مگر ہم سب کا گزارا فلحال ہو جائے گا۔۔

ماں نے تڑخ سے کہا، ہم اپنا محل جیسا گھر چھوڑ کر چھوٹے سے فلیٹ میں اتنے لوگ کیوں جا کر رہیں۔۔

تمہارے بھائی بھابھی بھی مستقل آنے والے ہیں۔۔

اگر فلیٹ میں رکھنا ہے تو اس بدبخت کو رکھو، تاکہ ہماری اس منحوس سے جان چھوٹے۔۔

وہ طنزیہ ہنستے ہوئے بولی، میرے مرنے کے بعد ہی آپ لوگوں کی جان چھوٹ سکتی ہے اس سے پہلے نہیں۔۔

ساس غصے سے بولی، پھر مر کیوں نہیں جاتی۔۔

وہ ہنستے ہوئے بولی، ویسے قسم سے آپ لوگوں کو تنگ کر کے میرے دل کو بڑا سکون ملتا ہے۔۔

میں تو پل پل اپنی توہین کا انتقام لے رہی ہوں۔۔ کیسے آپ لوگوں نے میرے والدین کو میرا رشتہ ٹھکرایا تھا۔۔

پھر خاندان میں جو باتیں کی تھیں ہمارے خلاف، کہ ہم بہت برے لوگ ہیں۔۔ ہم سے تو آپ پناہ مانگتے ہیں۔۔

پھر کیسے قسمت نے آپ لوگوں کو آپ کی ہی مرضی سے ہمارے ہی پلے باندھ دیا۔۔

ساس غصب ناک ہو کر بومی، تو کیا جھوٹ تھا۔۔

تم لوگ ہو ہی ایسے، کیا خوبی ہے تم میں۔۔ بعد میں اگر تم سدھر جاتی اور بچے پیدا کر کے ہمارے ارمان پورے کرتی تو ہم خوشی کے لیے اس طرح نہ تڑپ رہے ہوتے۔۔

موویز بولا، چلیں جلدی کریں، جا کر فلیٹ کی چابی بھی لینی ہے۔۔

اسکا فون آ چکا ہے۔۔ ایڈوانس بھی نکلوا کر دینا ہے۔۔

باپ نے کہا کہ پہلے تم یہ بتاو، کہ تم اسے طلاق کیوں نہیں دیتے۔۔

کوئی ایک وجہ بتا دو۔۔ تاکہ ہمیں بھی تسلی ہو جائے۔۔

وہ بولا، پلیز سب کچھ بتا دوں گا مگر فلیٹ میں جا کر۔۔ ادھر نہیں بتا سکتا۔۔

موویز کی بیوی بولی، سنو، میں والدین کے گھر جا رہی ہوں۔۔

جلد یہ گھر خالی ہو جانا چاہیے۔۔

وہ یہ کہہ کر باہر نکل گئی۔۔

باپ اکڑ کر بیٹھ گیا کہ وہ کیوں فلیٹ میں جاے۔۔

بیوی نے بھی ہاں میں ہاں ملائ۔۔

وہ پریشان ہو کر منتیں کرنے لگا۔۔

اتنے میں میم کا فون آیا کہ آپ لوگوں نے کب آنا ہے۔۔

آنا بھی ہے یا نہیں۔۔ کیا مسلہ ہے۔۔ پھر اس نے کہا کہ اپنی والدہ سے بات کراو۔۔

اس نے ماں کو فون پکڑا دیا۔۔

میم قدرے رکھای سے بولی، آخر آ کیوں نہیں رہے۔۔

کب سے وہ بےچاری تیار ہو کر سامان باندھے انتظار کر رہی ہے۔۔

بیوی نے شوہر کی طرف دیکھا۔۔

شوہر نے بیوی سے کہا، سب سچ بتا دو۔۔

ہم کس ازیت میں پڑے ہوئے ہیں۔۔

جب بیوی نے سب کچھ بتایا تو میم جس نے اسپیکر آن کیا ہوا تھا سنکر حیران رہ گئ۔۔

سب حیران نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔

اتنے میں موویز کو ہاسپٹل سے فون آیا کہ آپ کی بیوی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔ جلدی پہنچیں۔۔

اس نے والدین کو بتایا۔۔

میم ابھی فون پر موجود تھی اس نے بھی سب سن لیا۔۔

موویز کی والدہ ایکدم بولی، یا اللہ خیر۔۔

میم نے ہاسپٹل کا پوچھا۔۔

موویز والدین کو لے کر جلدی سے ہاسپٹل پہنچا۔۔

ادھر میم خوشی اور اس کے والد کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ہاسپٹل پہنچ گئی۔۔

موویز نے ساس سسر کو بھی فون کر دیا۔۔

وہ لوگ روتے دھوتے آ گئے۔۔

خون کی ضرورت تھی۔۔ آپریشن ہونا تھا۔۔

موویز نے اپنا خون دیا جو اتفاق سے میچ کر گیا تھا۔۔

موویز پریشان پھر رہا تھا۔۔

ساتھ ساتھ ساس سسر کو تسلیاں دے رہا تھا۔۔

خوشی بچے کو آپا کے پاس چھوڑ کر آئی تھی۔۔

خوشی اس کے والدین کو تسلی دے رہی تھی۔۔ آپریشن ہو چکا۔۔

وہ ہوش میں آ چکی تھی۔۔

سب کو اس سے ملنے باری باری جانے دیا جا رہا تھا۔۔

جب موویز گیا تو اس نے نقاہت سے بھری آواز میں اپنے رویے کی معافی مانگی۔۔

ساس سسر سے معافی مانگی۔۔

سب باہر آ گئے تو نرس دوڑتی آئ اور بتایا کہ وہ مریضہ فوت ہو گئ ہے۔۔

اس کی ماں دھاڑیں مار کر رونے لگی۔۔

سب رونے اور اس کے والدین کو سنبھالنے لگے۔۔

یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ کسی کو سمجھ نہ آئی۔۔

خوشی کو ساس گھر لے آئی تھی۔۔

اس کی ڈیڈ باڈی اس کی والدین کی خواہش پر ان کے گاوں لے گئے۔۔

موویز نے سب انتظام کیا۔۔

قل کے بعد اس نے ساس سسر سے کہا کہ آپ لوگ چلیں۔۔ میرے ساتھ رہیں گے۔۔

وہ روتے ہوئے بولے، ہمیں معاف کر دینا۔۔

ہم بیٹی کی خواہش پر شہر میں شفٹ ہوے۔۔

بیٹے اور پوتے پوتی کو چھوڑ کر آ گئے۔۔

اب ہم اپنے بیٹے کے پاس گاوں میں رہیں گے۔۔

موویز جب گھر واپس آیا تو چہرہ مطمئن اور کھلا ہوا تھا۔۔

اپنے بیٹے کو گود میں لے کر جزباتی انداز میں بولا، اب ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکے گا انشاءاللہ۔۔

دادی پیار سے بولی، آمین ثم آمین۔۔

خوشی کی طرف دیکھ کر پیار سے مسکرایا۔۔

وہ شرما گئی۔۔

ساس نے تجسس سے پوچھا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے، کیا وہ تجھے بہت اچھی لگتی تھی نہ تو اسے طلاق دیتا تھا۔۔

نہ اسے گھر سے نکالتا تھا۔۔

ہمیں فلیٹ میں بھیج رہا تھا مگر اس لاڈلی کو گھر سے نہیں بھیج رہا تھا۔۔

اس نے وقت دیکھا اور بولا، بھائی بھابھی کی فلاہیٹ آنے کا وقت ہو گیا ہے۔۔

ان سب باتوں کا جواب میں کل خوشی کے گھر والوں کو بھی دعوت پر بلاوں گا اور سب سوالوں کے جواب دوں گا۔۔

موویز کے گھر والوں کے آنے سے خوب چہل پہل ہو گئی۔۔

دوسرے دن موویز نے باہر سے کھانا آرڈر کر دیا کہ لیڈیز آرام کریں۔۔

خوشی کے گھر والے بھی آئے۔۔ کھانے کے بعد سب چاے پینے کے لئے لان میں آ گئے۔۔

بچے جھولا کھولنے اور کھیلنے کودنے لگے۔۔

تب موویز نے بتانا شروع کیا کہ میں نے خون بیوی کو انسانی ہمدردی کے تحت دیا۔۔

دوسری بات یہ ہے کہ کہ میں اسے بمشکل برداشت کر رہا تھا۔۔

وہ مجھے ایک لمحے کے لیے بھی پسند نہ تھی۔۔

تیسری بات یہ تھی کہ نکاح کے وقت ان لوگوں نے بھاری حق مہر لکھوایا تھا۔۔ جو مجھے اسے طلاق دینے کی صورت میں دینا پڑتا۔۔

وہ سب بھی میں کر لیتا مگر نکاح کے وقت وکیل نے ان کے لالچ دلانے پر مکان طلاق دینے کی صورت میں اس کے نام کرنا پڑتا۔۔

اس لیے میں مجبور تھا۔۔ مجھے گھر کا بعد میں پتا چلا۔۔ وہ وکیل نے دھوکے سے ساہن کروا لیے تھے۔۔

میں آپ لوگوں کو یہ بتا کر دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔

اس نے کسی کی باتوں میں آ کر خلع کا کیس دائر کروایا، پھر اس کی حقیقت جان کر کیس واپس لے لیا۔۔

پھر وہ مجھے گھر کی دھمکیاں دیتی تھی۔۔

میں نے سوچا، آپ لوگوں کا اس کے ساتھ مزید سکون برباد نہ ہو۔۔ وہ تو نہیں گھر چھوڑتی۔۔ بہتر ہے ہم ہی چلے جاتے ہیں کم سےکم سکون تو ہو گا۔۔

یہ وجہ تھی۔۔

سب ایکدوسرے کی طرف دیکھ کر خوشی سے مسکرانے لگے۔۔

خوشی نے دیکھا، موویز اسے غور سے مسکرا کر دیکھ رہا تھا

وہ شرما کر برتن اٹھا کر چل پڑی۔۔

 The End ختم شد۔۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books