Aik Raat Ki Dulhan Meri
Episodes
بہنوئی باہر کھڑا سب سنکر مسکرایا۔۔
اس نے باتوں باتوں میں موویز سے فون نمبر بھی لے لیا۔۔ اور فون کر کے نئی تازی پوچھنے لگا۔۔ اسے پتا چلا کہ موویز باپ کے حکم پر لاہور جا رہا ہے۔۔ شریف صاحب سے ملاقات کرنے۔۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بار اسکا سسرال جانا بنتا ہے۔۔ بیوی بڑبڑائی کہ اس کو بھیج رہے ہیں اور ہم نہ دیکھیں لڑکی کو۔۔
شوہر نے گرج کر کہا، برخوردار لڑکی دیکھنے نہیں جا رہا۔۔ وہ اسے شادی پر ہی دیکھ سکے گا۔۔ شریف نے بتا دیا ہے اور میں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔
موویز بس میں جا رہا ہے کہتا ہے کہ خود گاڑی ڈرائیو کر کے تھکن ہو جاے گی۔۔
موویز کو اکثر خوشی کے بہنوئی کا فون آتا رہتا اور نئی تازی پوچھتا رہتا۔۔ اسے پتا چلا کہ موویز شادی سے ایک ہفتہ قبل سسرال جا رہا ہے۔۔ شریف صاحب نے اسے اپنی فیملی سے ملوانا تھا۔۔
خوشی نے دو دن بعد جانا تھا مگر اس کے بہنوئی نے بیوی کو سمجھا بجھا کر دو دن پہلے جانے پر راضی کر لیا۔۔
ادھر موویز کو بھی زکر کر دیا کہ خوشی بھی اسی دن اسی وقت لاہور جا رہی ہے اکیلی شادی میں شرکت کیلئے۔۔
موویز سے درخواست کی کہ وہ اپنی سالی کو اپنی بیٹی کی طرف سمجھتا ہے اور اکیلے بھیجنے پر فکرمند ہے مگر جانا بھی ضروری ہے۔۔ پہلی بار اکیلی سفر کر رہی ہے۔۔ پلیز اسکا خیال رکھنا۔۔
وہ کافی حیران ہوا اور کہا، میں تو خیال رکھوں گا مگر خوشی صاحبہ کو ناگوار گزرے گا۔۔
موویز کو اس نے تجویز پیش کی کہ تم اس کو ایسے ظاہر کرنا جیسے اتفاقی طور پر ملاقات ہوئی ہے۔۔
وہ تھوڑا حیران ہوا اور وجہ پوچھی تو بہنوئی نے کہا، میری سالی بہت شریف لڑکی ہے اور وہ اکیلی سفر کرے گی ہمیں فکر رہے گی۔۔ آپ ساتھ ہوں گے تو فکر نہیں ہو گی۔۔ مگر اس طرح وہ آپ کے ساتھ جانا پسند نہیں کرے گی۔۔
موویز نے جواب دیا، ہاں وہ بہت خوددار ہیں۔۔ پھر اس نے سب سچ بتا دیا کہ وہ مجبور تھی۔۔ وہ اوبر والا نہیں تھا۔۔
بہنوئی مکاری سے دل میں مسکرایا اور دل میں بولا، میں اپنی سالی کو جانتا ہوں مگر کسی طرح وہ بدنام ہو جائے اور باپ اس سے بدظن ہو جائے تو وہ اس بہانے پوری جائداد کا مالک بن سکے۔۔
خوشی نے جب موویز کو دیکھا تو اگنور کرنے لگی تو بہنوئی نے زبردستی بلا کر بڑی گرمجوشی سے کہا، لو گڑیا اپنے بندے مل گئے اب تم اکیلی نہیں جاو گی۔۔
خوشی نے سلام کیا اور بہنوئی سے بولی، بھائی مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔۔ بھری بس میں کیا ڈر ہے۔۔
بس سے اتروں گی تو تایا کے گھر سے کوئی لینے آیا ہو گا۔۔ آپ میری فکر نہ کریں۔۔
بہنوئی نے جھٹ سسر کو کال ملوا کر موویز کی بات کروا دی۔۔
وہ بہت خوش ہوئے اور بیٹی کا خیال رکھنے کا کہا۔۔
وہ تسلی دیتے ہوئے وعدہ کرتے ہوئے بولا، آپ فکر نہ کریں۔۔
خوشی کے باپ نے خوش ہوتے ہوئے خوشی سے کہا، چلو بیٹا مجھے بھی تسلی مل گئی اچھا لڑکا ہے اور اب تو اپنا ہے۔۔
خوشی نے ہلکہ سا جی کہا،
بہنوئی نے زبردستی خود ہی دو ٹکٹیں اکھٹی لے لیں۔۔
خوشی پریشان تھی کہ وہ اس کے ساتھ کیسے بیٹھے گی مگر اب مجبوری تھی۔۔ اسے دل میں بہنوئی پر سخت غصہ آ رہا تھا۔۔ اسے سب سمجھ آ چکی تھی کہ وہ اتنے عار سے اسے چھوڑنے اڈے پر کیوں آیا تھا اور ٹکٹیں بھی کیوں لی تھیں جا کر بہن سے وصول کر لے گا اور میری معصوم بہن اس کی باتوں میں جلد آ جاتی ہے۔۔
وہ چاہتا ہے کہ اسکا کسی نہ کسی کے ساتھ کوئی اسکینڈل بن جائے تو باپ نے جو وارننگ دی ہے کہ اگر تمہارا کوئی اسکینڈل بنا تو تم جائداد سے عاق کر دی جاو گی۔۔ اب وہ اسی کوشش میں تھا مگر ناکام رہتا تھا۔۔ وہ سوچنے لگی بھلا موویز کے ساتھ وہ کیوں کوشش کر رہا ہے اس کی تو میری کزن سے شادی ہونے والی ہے۔۔
وہ اسے چھوڑ کر گیا اور وہ دونوں اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔۔
موویز نے دیکھا وہ بہت پریشان سی سمٹ کر بیٹھی ہوئی ہے۔۔
اسے ترس آیا کہ اتنا لمبا سفر ہے اور وہ کیسے اس طرح un easy بیٹھی رہے گی۔۔
ساتھ والی سیٹ پر ایک کپل بیٹھا ہوا تھا موویز نے اس سے آہستہ سے درخواست کی کہ وہ اپنی مسز کو ادھر بھیج دے۔۔ مگر اس نے انکار کر دیا۔۔
خوشی اس بات سے موویز سے متاثر ہو گئی اور تھوڑی ایزی محسوس کرتے ہوئے بیٹھ گئ۔۔
موویز خود بھی سمٹ کر بیٹھ گیا۔۔
سارے راستے دونوں خاموش رہے۔۔
اپنے اپنے موبائل میں مگن رہے۔۔
درمیان میں بس رکی تو موویز نے اس کے لیے کھانے کے لیے برگر اور جوس لے آیا۔۔
خوشی نے تھوڑے تکلف کے بعد شکریہ ادا کیا وہ اٹھ کر جانے لگی تو موویز نے جلدی سے پوچھا کچھ چاہیے تو وہ بولی، جی چاے لینے جا رہی ہوں۔۔
وہ جلدی سے اٹھتے ہوئے بولا، آپ بیٹھیں میں لاتا ہوں۔۔
وہ دو کپ چائے لے آیا۔۔ اس دوران بھی دونوں نے کوئی بات چیت نہ کی۔۔
خوشی چاے کے بعد خاموشی سے اٹھ کر واش روم کی طرف چل پڑی۔۔
جب باہر آی تو موویز نظر نہ آیا ادھر بس نہ ہارن دینا شروع کر دیا۔۔
خوشی قدرے پریشان سی ہو کر بس کی طرف چل پڑی۔۔
جب بس میں پہنچی تو وہ بس میں موجود نہ تھا وہ پریشان ہو کر بس کی ہوسٹ لڑکی سے بولی، پلیز ابھی بس نہیں چلانا۔۔
اتنے میں تیزی سے وہ اندر داخل ہوا اور خوشی کو دیکھ کر بولا، میں آپ کو باہر ڈھونڈ رہا تھا۔۔
خوشی نے بس دیکھا اور جواب نہ دیا۔۔
اسے بہنوئی پر دل میں بہت غصہ آ رہا تھاکہ اگر وہ ایک ٹکٹ لیتی تو اسے کسی لیڈی کے ساتھ سیٹ ملتی۔۔
وہ اس کی نیچر سمجھتی تھی مگر اس کی سیاست کے آگے بےبس ہو جاتی تھی۔۔ اب بھی اس نے سیاست کی تھی۔۔ اسے باقاعدہ چھوڑنے آیا، ٹکٹ لے کر دیا۔۔
ورنہ وہ اتنا اچھا نہ تھا۔۔
وہ سارے راستے اپنی سیٹ پر سمٹ کر بیٹھی رہی۔۔
موویز بھی احتیاط سے بیٹھا رہا۔۔ وہ اس کی اس نیچر سے دل میں اس کی شرافت کی قائل ہو گئی اور اپنی کزن کی قسمت پر رشک کرتے ہوئے اس کے حق میں بہتری کی دعا کرنے لگی۔۔
اسی دوران اس کے باپ کا فون آ گیا کہ انہوں نے اس کے تایا شریف صاحب کو اس کے آنے کی اطلاع دے دی ہے اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ اتفاق سے موویز بھی اسی بس میں آ رہا ہے تو وہ اسی کے ساتھ گھر چلی جائے گی۔۔ کسی کو گھر سے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔
پھر انہوں نے موویز سے بات کرنے کا کہا۔۔
خوشی نے موویز کو فون دیا۔۔
اس نے بہت ادب اور اخلاق سے بات کر کے تسلی دی۔۔
انہوں نے اسے بہت دعائیں دیں۔۔
ماں اور خوشی کی بہن نے بھی بات کی اور اسے تسلی دی۔۔
جب وہ شادی والے گھر پہنچی تو سوائے چند قریبی گنے چنے رشتے داروں کے کوئی اور لوگ نہیں تھے۔۔
نہ ہی کوئی لائٹنگ نہ ڈھولک تھی۔۔
دولہن اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔
خوشی شدت جزبات سے اسے ملی مگر وہ سپاٹ سی ہی رہی۔۔
خوشی اس کے رویے سے حیران ہو رہی تھی۔۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ موویز کی تعریفوں کے پل باندھے گی مگر وہ فالتو بات ہی نہیں کر رہی تھی۔۔
شریف انکل اسے بہت پرجوش انداز میں ملے۔۔ باقی گھر والے دولہن کے بھائی، بھابیاں بھی نارمل رہیں۔۔
شام پڑ چکی تھی۔۔ کھانا سرو کیا گیا۔۔پھر چاے پی گئی۔۔
گھنٹے بعد کسی نے آ کر بتایا کہ دولہا واپس چلا گیا ہے۔۔
سب اس کی تعریفیں کر رہے تھے۔۔
خوشی سب کو دیکھ رہی تھی۔۔ کل مہندی کا فنکشن تھا۔۔
گھر میں ہی چھوٹی سی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔۔
اس سے اگلے دن بارات تھی۔۔
تائ نے بتایا کہ ہمارے گھر کا جوڑا ہی دولہن پہنے گی۔۔
تائ اور اس کی بہن آپس میں کھسر پھسر کرتی رہتی تھیں۔۔
تائ کچھ پریشان سی لگ رہی تھی۔۔
خوشی سب کے رویوں سے حیران ہو رہی تھی۔۔
بارات والے دن اس نے دولہن کے ساتھ جانے کی فرمائش کر دی۔۔
مگر تائ بولی، تم رہنے دو وہ اپنی خالہ کی بیٹی کے ساتھ جاے گی۔۔
بارات آ چکی تھی۔۔
خوشی تیار تھی۔۔
ہوٹل کی بکنگ نہ ہو سکی تھی اس لیے گھر میں ہی فنکشن رکھا گیا تھا۔۔
خوشی کے گھر والے اسے فون پر رابطے میں تھے۔۔
انہوں نے ولیمہ اٹینڈ کرنا تھا جو بارات کے بعد دو دن کے وقفے سے تھا۔۔
خوشی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔
اس نے بڑھ چڑھ کر بارات والوں کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا۔۔
وہ لوگ اس سے ملکر بہت خوش ہوئے۔۔
کھانا پہلے سرو کر دیا گیا۔۔
کہ کھانے کے بعد نکاح ہو گا۔۔
نکاح خواں کو کوئی کام آن پڑا ہے۔۔ وہ زرا لیٹ ہیں۔۔
پھر چاہے پی گئی۔۔
ابھی تک باراتیوں نے دولہن کو نہیں دیکھا تھا۔۔
وہ ابھی تک پارلر سے نہیں آئی تھی۔۔
خوشی باراتی عورتوں کے ساتھ تھی۔۔
بارات میں صرف دولہا، اسکا بڑا بھائی، بیوی اور ماں شامل تھے۔۔
باپ نہیں آیا تھا۔۔ کہ وہ بڑھاپے کی وجہ سے تھکنا نہیں چاہتا تھا۔۔
دولہن کی ماں ادھر ادھر پھر رہی تھی۔۔
دولہے کے باپ کا بار بار فون آ رہا تھا کہ نکاح کیوں لیٹ ہو رہا ہے۔۔ واپسی کی فلاہیٹ ہے۔۔ دیر نہ ہو جائے۔۔
آخر دولہے کی ماں نے بہو سے کہا کہ دولہن کی ماں سے بولو، جلدی نکاح کریں۔۔
موویز کے گھر والے ان لوگوں کو دیکھ کر کافی پریشان تھے انہوں وہ لوگ کسی طور پسند نہیں آئے تھے۔۔
بہت خشک مزاج سے لوگ تھے۔۔ کوئی خلوص نظر نہ آتا تھا۔۔
دولہن کی ماں چھوٹے قد کی اور تیز طرار سی عورت لگ رہی تھی۔۔
بھائی بھی کم تعلیم یافتہ اور گنوار سے لگ رہے تھے۔۔
شریف صاحب ہی ان میں قدرے بھلے مانس لگ رہے تھے۔۔
موویز کا بڑا بھائی کافی اداس اور پریشان لگ رہا تھا۔۔
دولہے اور اس کے گھر والوں کو اکھٹا ڈرائینگ روم میں بٹھا دیا گیا کہ ابھی نکاح ہونے لگا ہے۔۔
موویز کی بھابھی اکتائے ہوئے لہجے میں ساس سے بولی، آنٹی انکل کو سارے جہاں میں اپنے شہزادے بیٹے کے لیے کیا یہی گھرانہ ملا تھا۔۔
لڑکی بھی ان جیسی ہی ہو گی۔۔
میرا بس چلے تو میں ابھی یہاں سے سب کو لے کر چلی جاوں اور اپنے دیور کو بچا لوں۔۔
ساس نے ایک سرد آہ بھر کر کہا، موویز کچھ کرتا تو ہم بھی انکار کرتے۔۔
یہ پہلے دیکھنے بھی آیا تھا اس نے بھی کچھ نہیں بتایا۔۔
بڑے بھائی نے موویز سے کہا، یار تیری بھابھی ٹھیک کہتی ہے چل واپس چلتے ہیں۔۔
موویز نے انکار کر دیا۔۔
اس کے باپ کا فون آیا تو موویز بولا، بس اب تھوڑا وقت رہ گیا ہے فکر نہ کریں ہونے والا ہے نکاح۔۔
جوں ہی نکاح ہوا ہم روانہ ہو جائیں گے۔۔
بھابھی نے موویز اور اس کے بھائی سے کہا، اس پوری بارات میں ایک خوشی ہی سب سے اچھی اور سمجھدار ہے۔۔
اتنے میں دولہن کی ماں کے ساتھ خوشی پریشان سی اندر داخل ہوئی۔۔
جاری ہے۔۔

Reader Comments
very good
i loved it
Log in to leave a comment.