Aik Raat Ki Dulhan Meri
Episodes
دولہن کی ماں اور دولہم کی خالہ اور دولہن کے بھائی کمرے میں نکاح خواں کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔۔
نکاح خواں دولہن کا خالو تھا۔۔
دولہن کی ماں نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔۔ اتنے میں دولہن کی خالہ بولی،
آپا میں بات کرتی ہوں۔۔
وہ موویز کی ماں سے مخاطب ہو کر بولی، بہن جی معاف کرنا۔۔ دراصل میرا بیٹا اور دولہن کی ماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی، ان کی بیٹی دونوں ایک دوسرے سے بچپن سے پیار کرتے تھے۔۔ وہ شادی کرنا چاہتے تھے جبکہ شریف بھائی نے ادھر ہاں کر دی اور بچوں کی بات کو اہمیت نہ دی۔۔
اب بچوں نے خفیہ نکاح کر لیا اور ہمیں اب پتا چلا ہے۔۔
موویز کی ماں نے بہو کو دیکھا۔۔ موویز اور اس کے بھائی نے بھی حیرت سے دیکھا۔۔
دولہن کی خالہ نے تجویز پیش کی کہ اب ہم دولہن کے بدلے، خوشی کی طرف اشارہ کر کے بولی، اس سے نکاح کروا دیتے ہیں۔۔
خوشی سر جھکائے اپنے ہاتھوں کو بےچینی سے مروڑ رہی تھی۔۔
موویز کی بھابھی جوش سے اٹھی اور بولی، ہمیں منظور ہے۔۔
موویز نے ماں اور بھائی کو دیکھا۔۔
ماں نے کہا، آپ کے شوہر شریف صاحب کدھر ہیں۔۔ اور میرے شوہر کو میں کیا جواب دوں گی۔۔
خالہ بولی، ہماری بیٹی ان کے گھر بیاہی ہے اور ہم نے ان کی بیٹی کا نکاح ان کی خوشی سے باہمی رضا مندی سے کر دیا۔۔
صرف شریف صاحب کو علم نہ تھا۔۔ ہم نے وٹہ سٹہ کر لیا ہے۔۔
ان کو نیند کی دوا دے کر سلا دیا ہے۔۔ نکاح کے بعد ہم ان کو سنبھال لیں گے۔۔ آپ لوگ جلدی فیصلہ کریں، ورنہ آپ لوگ لیٹ ہو جائیں گے۔۔
موویز کا بھائی بولا، امی جان ان کی بات مان لیتے ہیں۔۔ کیوں موویز، ؟
موویز نے گھر والوں کی طرف دیکھا اور ان کی رضامندی نظر آئی تو خوشی کی طرف دیکھ کر بولا، اگر انہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو۔۔
دولہن کی ماں نے خوشی کا ہاتھ پکڑ کر کہا، یہ راضی ہے۔۔ میں نے اس سے بات کر لی ہے۔۔
خوشی نے لڑکھڑاتی زبان سے کہا، مگر میرے گھر والے اجازت دیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔
دولہن کی ماں تیزی سے بولی، بیٹی کیا تجھے مجھ پر بھروسہ نہیں ہے کیا۔۔
میں نے اجازت لے لی ہے۔۔ باہر کسی کو پتا نہ چلے۔۔ تجھے نکاح کے ساتھ چادر اوڑھا کر فوراً رخصت کر دیں گے۔۔ کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا۔۔
ہماری عزت بھی رہ جائے گی اور ان لوگوں کی بھی۔۔ اب سب کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔
اس نے اس روتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑ لیے اور دوپٹہ اتار کر اس کے پاوں میں رکھ دیا کہ دیر نہ کر جلدی مان جا۔۔
تیرے تایا اٹھ گئے تو قیامت آ جائے گی۔۔
وہ بولی، پلیز تائ ایسے نہ کریں مجھے شرمندہ نہ کریں۔۔ اس نے دوپٹہ اسے اڑا کر کہا، میں گھر والوں سے پہلے فون پر بات کر لوں۔۔
تائ نے جھٹ اس کے ہاتھ سے موبائل چھین کر بہن کو پکڑا کر کہا، بھروسہ رکھ ہم، نے پوچھ لیا ہے اب دیر ہو رہی ہے پہلے نکاح ہو جائے پھر بات کر لینا۔۔
اور جلدی سے نکاح ہونے لگا۔۔
خوشی نے نکاح سے پہلے تائ سے کہا، پلیز میرا فون تو دے دیں۔۔
تائ جھٹ بولی، دیتی ہوں نکاح ہو جاے پہلے۔۔ اور مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا۔۔
جب نکاح ہو گیا تو تائ خاشی کو گلے لگا کر بولی، بیٹی تو نے آج میری عزت بچا لی تیرا بہت شکریہ۔۔
وہ بولی، پلیز میرا موبائل اب دے دیں میں گھر والوں سے بات کروں۔۔
تب تائ نے کسی لڑکی کو آواز دی کہ اسکا سامان بھی لے آو اور موبائل بھی۔۔
پھر اسے بڑی سی چادر اوڑھا کر بولی، سب کو یہی بتانا ہے کہ دولہن ہے چہرہ نہیں دکھانا اور جلدی سے اسے گاڑی میں بٹھا کر نکل جائیں۔۔ ہم کہیں گے ان کی فلاہیٹ لیٹ ہو رہی ہے۔۔
جہاز میں سوار ہوتے ہوئے بھابھی نے کہا، خوشی یہ اتنی بڑی چادر اتار دو۔۔ گھر کے قریب اوڑھ لینا۔۔
خوشی نے دیکھا، اس کے موبائل فون کی بیٹری ختم تھی۔۔
وہ پریشان حال ہی رہی۔۔
موویز کو اس کے پاس بٹھا دیا گیا اور وہ حیران تھی کہ دولہن کا نام تائ نے خوشی ہی بتایا تھا۔۔ اور اسی کے نام سے بکنگ بھی تھی۔۔
تایا کو کچھ خبر نہ تھی ان باتوں کی۔۔
سب خوشی کی دلجوئی کر رہے تھے مگر وہ خاموش اور کھوئی سی اداس تھی۔۔
موویز سمیت سب بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے کہ خوشی سے نکاح ہوا۔۔
موویز کی ماں نے سب کو بتایا کہ ولیمے کے بعد آرام سے تمہارے باپ کو بتا دیں گے۔۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی بدمزگی کھڑی کر دیں۔۔
تائ کی بہن نے کہا، آپا اب شوہر کو سب بتا دو۔۔ ان کی بیٹی پارلر سے واپس آ چکی تھی اور وہ اسے اب رخصت کر کے گھر لے گئی تھی۔۔
شریف صاحب نے سمجھا کہ ان کی آنکھ لگ گئی اور بیٹی رخصت ہو گئی۔۔
ان کی بیوی بولی، جب تک چھپ سکتا ہے چھپا لو۔۔ مجھ میں حوصلہ نہیں ہے بتانے کا۔۔
میری بہن نے مجھے بلیک میل کر کے نکاح پڑھوا دیا۔۔ میرے بیٹوں کو بھی بلیک میل کیا کہ اگر رشتہ نہیں دو گے تو میں اپنی دونوں بیٹیوں کو تم لوگوں سے طلاق دلوا دوں گی۔۔
دونوں بیٹے اپنی فیملی کے لئے مجبور ہو گئے۔۔ بہن نے بھی ادھر ہی رشتہ کرنے کی حامی بھری۔۔
اب سب کو باپ کی بات بھی رکھنی تھی۔۔ یہ طے پایا کہ باراتی چند لوگ ہی ہیں۔۔ اور خوشی شادی اٹینڈ کرنے آ رہی ہے اسے عین موقع پر اموشنل بلیک میل کر کے منا لیں گے اور شریف صاحب کو اس وقت نیند کی دوا دے کر سلا دیں گے۔۔
سارا کچھ پلان کے مطابق ہوا۔۔
سارے ان کے ہی حمایتی رشتے دار تھے۔۔ اور بہت کم لوگوں کو بلایا تھا جو ان کے پلان کے حصے دار تھے۔۔
شفیق صاحب اٹھے تو ایسا چکر آیا کہ لڑکھڑا کر گرے اور ہاسپٹل پہنچتے ہی راستے میں دم توڑ گئے۔۔
خوشی لوگ کافی لیٹ گھر پہنچے۔۔
باپ سو چکا تھا۔۔
گھر میں کچھ قریبی رشتے دار موجود تھے انہوں نے دولہن کا ساوگت کیا۔۔
اس کے اتنا سادہ میک اپ اور سادہ سوٹ پر حیران ہوئے تو بھابھی نے بات بنائی کہ راستے میں سفر میں اتنا ہیوی سوٹ اور میک اپ سے سب کا فوکس دولہن پر ہوتا۔۔
دولہے نے بھی شیروانی اتار دی تھی اور نیچے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔
موویز اور گھر والے خوشی کو بہت تسلیاں دے رہے تھے اور بہت خوش تھے۔۔
خوشی نے سب سے پہلے موبائل چارجنگ پر لگا دیا۔۔ وہ بہت شرمندگی محسوس کر رہی تھی اور ڈر رہی تھی۔۔ اسے کچھ اندازہ ہو رہا تھا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔۔ اسے شک تھا کہ تائ نے یقیناً گھر والوں کو نہیں بتایا ہو گا۔۔
رات لیٹ نائٹ ہی اس نے سب گھر والوں کو سب کچھ بتا کر میسج فاروڈ کر دیا۔۔ اسے میسج کر کے قدرے سکون ملا۔۔
بھابھی کا فوراً جواب آ گیا کہ یہ تو بہت بڑی خوش خبری ہے بہت مبارک ہو۔۔
اسے بھابھی کے جواب سے دل کو آسرا ملا۔۔
موویز نے اسے سمجھایا کہ ہمارا ساتھ قسمت میں لکھا ہوا تھا۔۔
خوشی اس کی سنگت میں اپنے آپ کو دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی سمجھ رہی تھی۔۔
موویز اسکا بہت خیال رکھ رہا تھا۔۔
اگلے دن خوشی نے سب مہمانوں کے اپنے اچھے اخلاق سے دل جیت لیے۔۔
سب اس کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے۔۔
سسر سب کو فخر سے بتاتا کہ یہ میرا انتخاب ہے۔۔ میں نا کہتا تھا کہ بھروسہ رکھو۔۔
شریف میرا پرانا کلاس فیلو تھا۔۔ اور پوری کلاس میں سب سے شریف مشہور تھا۔۔ پھر اس کی بیٹی کیوں نا اچھی ہو گی۔۔
ولیمہ اگلے دن تھا۔۔ گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔۔ شہر کے اچھے مہنگے ہوٹل میں شاندار ولیمے کا بندوبست کیا گیا تھا۔۔
خوشی کو ساس نے کہا تھا کہ گھر والوں کو ولیمے والے دن ہی ادھر بلانا۔۔ ورنہ کوئی بات ولیمے سے پہلے لیک نہ ہو جائے کیونکہ انہیں اس کے بہنوئی سے خطرہ تھا۔۔
خوشی نے والدین اور بہن سے بات کر لی تھی اور سب سچ بتا دیا تھا کہ وہ مجبور تھی۔۔ پھر تائ نے جھوٹ بولا تھا کہ اس نے میرے گھر والوں سے نکاح کی اجازت لے لی ہے۔۔
اور موبائل بھی چھپا دیا تھا۔۔
موویز کے باپ نے شریف کا نمبر ڈائل کیا تو وہ بند ملا۔۔
انہوں نے خوشی کو بلا کر پوچھا کہ تمہارے باپ کا نمبر بند مل رہا ہے۔۔
ساتھ کھڑی ساس نے جھٹ جواب دیا، وہ ادھر میرے سامنے گرا اور خراب ہو گیا تھا۔۔
اور اس کے گھر والوں نے کہا تھا کہ ہمارے ہاں رواج ہے کہ شادی کے بعد ولیمے تک کوئی کال نہیں کرتا۔۔ اس لئے آپ تسلی رکھیں۔۔اسے بھی پریشان نہ کریں۔۔
وہ بولے، گڈ میں بہت امپریس ہوا کہ وہ دولہن کا دل ادھر لگوانا چاہتے ہیں۔۔
ولیمے والے دن خوشی اور موویز کی جوڑی کو لوگ بہت پسند کر رہے تھے اور چاند سورج کی جوڑی سے تشبیہ دے رہے تھے۔۔
خوشی پر بہت روپ آیا تھا۔۔
خوشی والدین اور بہن سے کافی مرتبہ فون پر معافی مانگ چکی تھی۔۔
اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ ابھی سسر کو سچ نہیں بتایا گیا کہ وہ غصے والے ہیں اور ولیمے کی بدمزگی نہ ہو جائے۔۔
ولیمے کے بعد وہ سچ بتا دیں گے۔۔
خوشی کا بہنوئی کچھ دنوں کے لیے اپنے کسی کام سے دوسرے شہر گیا ہوا تھا۔۔
بیوی نے اسے فون پر سب کچھ بتا دیا تھا اور اس نے جواب میں کوئی خاص رسپانس نہیں دیا تھا۔۔
اس کی بیوی اس کے خلاف نہ جاتی تھی نہ اس کے خلاف سنتی تھی۔۔
وہ ولیمے پر لیٹ پہنچا۔۔
سیدھا کھانے کی ٹیبل پر گیا اور ڈٹ کر کھایا۔۔
پھر آ کر موویز سے ملا۔۔
موویز نے اسکا تعارف کروایا کہ یہ خوشی کے بہنوئی ہیں۔۔
وہ سنکر کچھ حیران ہوئے۔۔
تو خوشی کے بہنوئی نے ساری سچائی جھٹ سے بتا دی اور یہ بھی بتایا کہ وہ اس سلسلے میں لاہور شریف صاحب کے گھر بھی گیا تھا جب میری بیوی نے مجھے بتایا۔۔
وہاں جا کر پتا چلا کہ شریف صاحب کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔۔
باپ نے سنتے ہی گرجناں برسنا شروع کر دیا کہ تم لوگوں کی جرات کیسے ہوئی اس خاندان سے لڑکی بیاہ کر لانے کی۔۔
موویز کے گھر والے سب مہمانوں کے سامنے شرمندہ ہونے لگے۔۔
ادھر خوشی کے والدین بھی حیرت سے ان کی باتیں سننے لگے۔۔
انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ لوگ اپنی صفائی میں کیا کہیں۔۔
موویز انہیں کول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
مگر وہ گھر والوں کو کہہ رہے تھے کہ جس خاندان کی لڑکی شادی والے دن کسی کے ساتھ بھاگ گئ تو اسی خاندان کی لڑکی شریف کیسے ہو سکتی ہے۔۔
صرف اس خاندان میں شریف ہی غیرت مند اور شریف تھا جو غیرت سے مر گیا۔۔
خوشی کے باپ نے صفائی دیتے ہوئے لڑکھڑاتی زبان میں کہا، شریف ان کا دور پار کا رشتے دار تھا۔۔ سگا بھائی نہ تھا۔۔ وہ خود ان سے گہرا میل ملاپ رکھنا چاہتا تھا اس وجہ سے وہ بھی اسے عزت افزائی دیتے ہوئے بھائی کا درجہ دیتے تھے۔۔
موویز کے باپ نے چلا کر کہا، میں اپنی فیملی کو کھبی معاف نہیں کروں گا جنہوں نے اتنا بڑا قدم میری مرضی کے خلاف اٹھایا۔۔
وہ سخت غصے میں تھے۔۔
سب رشتے دار ان کو دیکھ کر پریشان تھے۔۔ کچھ آپس میں کہہ رہے تھے کہ لڑکی تو بہت اچھی لگ رہی ہے اس کے والدین بھی شریف لگ رہے ہیں اب انہیں قبول کر لینا چاہیے۔۔
بیوی اور بیٹے گڑگڑا کر معافی مانگتے ہوئے انہیں چپ کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔
موویز کو انہوں نے حکم دیا کہ اسے ابھی طلاق دو۔۔
موویز نے کہا، آپ مجھے جو سزا دینا چاہتے ہیں دے دیں مگر میں طلاق نہیں دوں گا۔۔
موویز کے باپ نے کہا، کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔۔
وہ فیصلہ کن لہجے میں بولا، جی۔۔
وہ بولے، ٹھیک ہے پھر سزا کے لیے تیار ہو جاو۔۔
وہ اپنے کزن کو بلا لاے اور اس سے پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کا نکاح ابھی میرے بیٹے سے کرو گے۔۔
وہ جو پہلے ہی رشتہ دینا چاہتا تھا وہ بیوی کی طرف حیرت بھرے انداز میں سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوی نے اس کے بولنے سے پہلے ہی کہہ دیا جی بھائی صاحب ضرور۔۔
ہم آپ کے ہی خاندان کے شریف لوگ ہیں۔۔
شوہر نے بھی جلدی سے کہا، آپ اس وقت مشکل میں ہوں اور ہم ساتھ نہ دیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔
ہم آپ کے ہر فیصلے کے ساتھ ہیں۔۔
موویز اور سب لوگ حیرت سے دیکھنے لگے۔۔
خوشی کی آنکھوں میں برسات اتر آی۔۔
وہ ماں کو پکڑ کر غم سے نڈھال کھڑی ہو گئی۔۔
ماں نے اسے روتے ہوئے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔
موویز کی ماں بھی روتے ہوئے منت کرنے لگی کہ بچوں کی زندگی برباد نہ کریں۔۔
یہ بہت اچھے لوگ ہیں۔۔ جب سے آی تھی آپ بہو کی تعریفیں کر رہے تھے۔۔
شوہر نے گرج کر اپنے کزن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، اسے کہتے ہیں خاندانی لوگ۔۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ موویز بیوی کو طلاق نہیں دے رہا پھر بھی بیٹی دینے پر راضی ہیں۔۔ اب میں اپنے فیصلے سے کسی طور نہیں ٹلوں گا۔۔
کزن کی بیوی بولی، بھائی صاحب ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا بس آپ نکاح کریں۔۔
موویز نے احتجاج کیا تو باپ نے دھمکی دی کہ میں گھر میں قدم نہیں رکھوں گا اور سب سے ہمیشہ کا ناطہ توڑ کر اپنے آپ کو مار لوں گا۔۔ اب اگر باپ کا ساتھ اور اس کی زندگی چاہتے ہو تو ابھی نکاح کرنا ہو گا۔۔
موویز نے بےبسی سے خوشی اور ماں کو دیکھا۔۔
ماں روتے ہوئے بیٹے کے پاس آ کر بولی، بیٹا تمہارے ابو بہت ضدی شخص ہیں۔۔ وہ جو کہہ رہے ہیں وہ کر گزریں گے۔۔
بڑے بھائی نے بھی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔۔
خوشی نے غم سے نڈھال ہو کر موویز سے کہا، کہ آپ ان کی بات مان لیں۔۔
میں ساری زندگی آپ کے نام کے سہارے گزار لوں گی طلاق نہیں لوں گی۔۔
شکر الحمد کہ وہ مجھے طلاق نہ دینے پر اتفاق کر رہے ہیں۔۔
آپ کوئی گناہ نہیں کریں گے۔۔ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے۔۔
آپ صاحب استطاعت بھی ہیں۔۔ دونوں کو بخوبی پال سکتے ہیں۔۔
موویز کے باپ نے اپنے جاننے والے نکاح خواں کو بلا لیا۔۔
اور موویز کا نکاح پڑھوا کر دم لیا۔۔
موویز دکھی دل کے ساتھ اپنے وجود کو زبردستی گھسیٹ رہا تھا۔۔
باپ نے حکم دیا کہ اب گھر چلو۔۔
اسی وقت خوشی کے بہنوئی نے شرط رکھ دی کہ وہ خوشی کو الگ گھر میں رکھے۔۔
موویز کے باپ نے کہا، شکرالحمدوللہ پڑھو کہ میں اسے ساتھ لے جانے کی اجازت دے رہا ہوں۔۔ یہ وہاں سب کی خدمت پر مامور ہو گی۔۔ اس کی یہی سزا ہے۔۔
خوشی نے کہا، مجھے منظور ہے۔۔
خوشی کے والد نے کہا، بیٹی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا اور ہمت نہ ہارنا۔۔ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہو گا انشاءاللہ۔۔
وہ روتے ہوئے بولی، جی میں ایسا ہی کروں گی آپ پریشان نہ ہوں۔۔
مگر بہنوئی نے کہا، خوشی ہمارے ساتھ جائے گی اور جب تک موویز اس کو الگ گھر نہیں لے کر دیتا وہ ہمارے ساتھ رہے گی۔۔
خوشی نے جانے سے انکار کر دیا۔۔
اس کے بہنوئی نے سپاٹ لہجے میں ڈھٹائی سے کہا، دیکھ لو خوشی اگر تم ساتھ نہ گئی تو تم تو طلاق سے بچ گئی ہو مگر تمہاری بہن کو ادھر ہی میں تین طلاقیں دے دوں گا۔۔ اور یہ صرف دھمکی نہیں ہے۔۔
اگر کہو تو میں ثبوت کے طور پر دو طلاقیں ابھی دے دیتا ہوں۔۔
بہن تڑپ کر اگے بڑھی اور بہن کو ڈانٹتے ہوئے روتے ہوئے بولی، کیا تم میرا گھر اجاڑنا چاہتی ہو۔۔
چلو فوراً ہمارے ساتھ۔۔
وہ اسے پکڑ کر کھینچنے لگی۔۔
بہن نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا، کہ اس نے باپ کی خوشی کے لیے تمہارے اوپر سوکن لانی گوارا کر لی۔۔ اور ایک تم ہو کہ بہنوئی کو عزت نہیں دلوا رہی ہو۔۔ مجھے برباد کرنا چاہتی ہو۔۔
ابھی چلی چلو بعد میں دیکھا جائے گا۔۔
ویسے بھی تمہارا شوہر اب تمہارے ساتھ نہیں ہو گا اپنی نئ دولہن کے ساتھ ہو گا اور تم وہاں صرف ان کی آیا بن کر رہو گی۔۔
جاری ہے۔۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.