Aik Raat Ki Dulhan Meri
Episodes
سب شادی ہال میں موجود لوگ خوشی کی قسمت پر افسوس کر رہے تھے کہ وہ اور موویز اپنوں کے ہاتھوں کیسے بےبس اور مجبور ہو کر رہ گئے ہیں۔۔
رشتے دار آپس میں چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔۔ کچھ نے موویز کے باپ کو نکاح کے اس اقدام سے روکنے کی کوشش بھی کی مگر انہوں نے رکھائ سے سب کو چپ کروا دیا کہ یہ ان کا زاتی معاملہ ہے کوئی اس میں دخل اندازی نہ کرے۔۔
سب اپنی عزت کے پیچھے چپ ہو گئے۔۔ کچھ تو ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے مگر کچھ تماش بین بنے ہوئے انجوائے کر رہے تھے۔۔
موویز کی نئی دولہن بہت خوش ہو رہی تھی اور تکبرانہ اور فاتحانہ نظروں سے خوشی کو دیکھ رہی تھی۔۔
ان لوگوں کی شدید خواہش اور کوشش تھی ان لوگوں میں رشتہ جوڑنے کی۔۔ مگر پورا خاندان ان کی ہوس اور لالچی عادات کی وجہ سے ان کو ناپسند کرتا تھا۔۔
اسی وجہ سے موویز کے گھر والوں نے ادھر رشتہ کرنے میں دلچسپی نہ دکھائی، حالانکہ ان لوگوں نے ان کو خود بھی پیغام بھیجا تھا مگر ان لوگوں نے بہانے سے ٹال دیا تھا۔۔
اب اس موقع پر موویز کا باپ جانتا تھا کہ ان کی اناء اور ضد کے آگے کوئی اپنی بیٹی دینے پر تیار نہ ہو گا سوائے اس فیملی کے۔۔
موویز کے باپ سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ ان کے گھر والے ان کے ہر چھوٹے سے چھوٹے فیصلے کے آگے تسلیم خم کرتے تھے۔۔ مگر اتنا بڑا فیصلہ کرتے وقت ان کی فیملی نے ان کو ہوا تک نہ لگنے دی اور ولیمے تک اس بات کو ان سے چھپائے رکھا۔۔
انہوں نے گھر والوں کو سبق سکھانے کے لیے ایسا اقدام کر دیا کہ بیٹے کے مستقبل کا بھی نہ سوچا۔۔
سب لوگ باتیں بنا رہے تھے کہ یہ شخص بہت کھڑوس اور اناء پرست ہے۔۔
ایک نے کہا، اچھا تھا مر جاتا گھر والے سکھی ہو جاتے۔۔
کتنے گھر والے خوش تھے۔۔ اچھی بہو مل گئی تھی۔۔
اب کیسے وہ اس نئی بہو کے ساتھ ازیت بھری زندگی بسر کریں گے۔۔
یہ لالچی لوگ انہیں سکون کا سانس نہیں لینے دیں گے۔۔ بےچارہ موویز پھنس گیا۔۔
ادھر خوشی کا بہنوئی بھی اپنی اناء دکھا رہا تھا۔۔
وہ بیوی سے گلہ کرتے ہوئے بولا، میں سمجھتا تھا کہ مجھے اس گھر میں فیملی کی حیثیت حاصل ہے۔۔ مگر مجھ سے کسی نے مشورہ تک نہ کیا۔۔
میں خوشی کو بہن نہیں بیٹی کا درجہ دیتا تھا۔۔ اسی فکر میں تو میں اسے لاہور جانے کے لیے خود اڈے پر گیا حتکہ موویز کا ٹکٹ بھی میں نے لیا۔۔
مگر مجھے یہ صلہ مل رہا ہے کہ خوشی ان لوگوں کے آگے مجھے زلیل کروا کر نیچا دکھانا چاہ رہی ہے۔۔
میری عزت سے زیادہ اسے ان لوگوں کی عزت زیادہ پیاری ہے جو اس کے صرف دشمن ہیں۔۔ موویز نے اس پر ظلم کیا ہے۔۔ جو باپ کی دھمکی سے ڈر گیا بزدل کہیں کا۔۔
میں خوشی کو عزت کی زندگی دلانا چاہتا ہوں۔۔ اگر وہ آج سسرال چلی گئی تھی ہمیشہ کے لیے ان کی نوکرانی بن جائے گی۔۔
اگر ہمارے ساتھ چلی گئی تو وہ عزت کی زندگی گزارے گی۔۔ تم بہن کو سمجھاو۔۔
موویز خوشی کے بہنوئی کو وارننگ دے رہا تھا کہ وہ اس کی بیوی کو نہیں لے کر جا سکتا۔۔ وہ ان لوگوں کو فضول دھمکیاں دے کر تنگ نہ کرے۔۔ اس کی بیوی کھبی اسے چھوڑ کر اس کے ساتھ نہیں جائے گی۔۔
خوشی کے بہنوئی نے بھی جواب دیا کہ دیکھنا وہ اسے لے جا کر دیکھاے گا۔۔
اب وہ خوشی کے گھر والوں کو خاص طور پر بیوی کو ایسی پٹیاں پڑھا رہا تھا کہ وہ لوگ رام ہو جائیں۔۔
آخر بیوی نے خوشی پر زور دینا شروع کیا کہ وہ اس کے ساتھ چلے ورنہ مجھے طلاق تمہاری وجہ سے ہو گی اور میں تمہیں کھبی معاف نہیں کروں گی۔۔
خوشی کے والدین دونوں بیٹیوں کے مسئلے میں مجبوری کا مجسمہ بنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ تھوڑی دیر پہلے وہ بیٹی اور داماد کو خوش دیکھ کر اس کی طرف سے مطمئن اور خوش ہو رہے تھے مگر تھوڑی دیر کے بعد کایا ہی پلٹ چکی تھی۔۔ بیٹی کی خوش قسمتی بدقسمتی میں بدل چکی تھی۔۔
موویز کا باپ جو خوشی کی خوبیوں کا اندر سے دل سے معترف تھا وہ جانتا تھا کہ بیٹا خوشی کے ساتھ بہت خوش ہے اور وہ اس کے اور گھر والوں کے لیے رحمت بن کر آئی تھی وہ اسے کھونا بھی نہیں چاہتے تھے۔۔
ان لوگوں کے بارے میں بھی جانتے تھے کہ وہ لوگ لالچی ہیں۔۔ مگر اس وقت اناء کی تسکین کا سبب وہی لوگ بن سکتے تھے۔۔
ان سے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ آخر ان کے گھر والوں نے ان کے پوچھے بغیر اتنے بڑے فیصلے کی جرات کیسے کر لی۔۔
پھر سارے خاندان کے سامنے خوشی کے بہنوئی نے ساری حقیقت کھول کر رکھ دی۔۔ جس سے ان کو خاندان والوں کے سامنے سبکی محسوس ہوئی اور یہ شرمندگی ہوئی کہ خاندان والے کیا سوچ رہے ہوں گے کہ گھر میں ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے جو گھر والے ان کے علم میں لائے بغیر خود ہی نکاح کر کے لے آئے۔۔
اب انہیں خاندان والوں پر یہ باور کرانا تھا کہ گھر والے ان کے فیصلے کے محتاج ہیں اور گھر میں صرف ان کا حکم چلتا ہے۔۔
ہوٹل کا وقت ختم ہو گیا تھا۔۔ ویٹر برتن سمیٹ رہے تھے۔۔ دن کا ولیمہ تھا۔۔
خوشی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔
اس نے باپ سے پوچھا کہ وہ کیا کرے۔۔
سسر نے موویز سے کہا، خوشی کو بتا دو کہ اگر وہ آج ہمارے ساتھ نہ گئی تو اس گھر کے دروازے اس پر ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔۔ وہ خوشی کے بہنوئی سے بھی ہار ماننا نہیں چاہتے تھے۔۔
جو انہیں بھی باور کروا رہا تھا کہ آپ کا حکم اپنے گھر والوں پر چلتا ہے اور میرا حکم میرے گھر والوں پر۔۔
وہ اس کی اس بات پر پہلو بدل کر رہ گئے۔۔
خوشی کے بہنوئی نے باہر نکلتے ہوئے بیوی کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر خوشی تمہارے ساتھ پانچ منٹ میں نہ آئی تو میں تین لفظ بولنے میں تین منٹ بھی نہیں لگاوں گا۔۔ اب دیکھتا ہوں تمہاری بہن تمہارا گھر اجاڑتی ہے یا بچاتی ہے۔۔
خوشی کی بہن خوشی کو کوسنے لگی کہ ہمارے ساتھ چلنے میں تجھے طلاق تو نہیں ہو جائے گی بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ مگر موویز کے ساتھ جانے پر میرا گھر اجڑ جائے گا۔۔
باپ نے بھی خوشی کو کہا، بہتر یہی ہے کہ تم اس وقت موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہمارے ساتھ چلو۔۔
خوشی نے موویز کی طرف دیکھا۔۔
موویز کی آنکھیں نم تھیں۔۔
ساس اور موویز کی بھابھی لپک کر اسے روکنے کی کوشش کرنے لگیں کہ وہ ویسے ہی دھمکا رہا ہے۔۔تم ہمارے ساتھ چلو۔۔
مگر خوشی نے کہا، پلیز مجھے ایک بار جانے دیں۔۔ ویسے بھی ابھی آپ کے گھر اور موویز کے کمرے میں اب میری جگہ نہیں رہی۔۔
ان دونوں کو نئ زندگی انجوائے کرنے دیں۔۔
ساس اس کی اس بات سے لاجواب ہو کر نظریں چرانے لگی۔۔
اس نے ایک نظر موویز کے اجڑے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا۔۔ اس کی آنکھوں میں دکھ کا سمندر تھا اور چہرے پر بےبسی۔۔
اس کی التجا بھری نظریں اسے روک رہی تھیں۔۔ مگر خوشی تقریباً دوڑتی ہوئی بہن سے بولی، چلو۔۔ اور تیزی سے بغیر کسی کی طرف دیکھے، بغیر ملے باہر نکل گئی۔۔
بہن کا چہرہ کھل گیا۔۔
جب خوشی کے بہنوئی نے خوشی کو اپنی طرف آتے دیکھا تو فاتحانہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔۔
اس نے گاڑی موڑتے ہوئے ایک طنزیہ نظر موویز کی طرف دوڑائی۔۔
وہ اور اسکا باپ اسے دیکھ کر نظریں چرانے لگے۔۔
خوشی نے دور سے موویز کی گاڑی کو جاتے دیکھا۔۔
دکھ سے اس کے سینے میں ایک ہوک سی اٹھی۔۔
وہ اپنے آنسوؤں کی برسات کو نہ روک سکی۔۔
ماں نے بڑھکر اسے گلے سے لگا لیا۔۔
وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔۔
سواے خوشی کے بہنوئی کے سب رو رہے تھے۔۔ اس کی نھنی معصوم بھانجی اس سے رونے کا سبب پوچھ رہی تھی۔۔
دوسرا بچہ بہن کی گود میں سونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
بہنوئی اسے جھوٹی تسلیاں دے رہا تھا۔۔ مگر وہ کچھ سننے کے موڈ میں نہ تھی۔۔ سارے راستے وہ اپنی بڑکیں مارتا رہا کہ میں تمہارے لیے یہ کروں گا اور وہ کروں گا۔۔
بیوی اس کی باتوں سے خوش ہو کر اسے تسلی دے رہی تھی کہ جب تک تمہارے شفیق مہربان بھائی جیسے بہنوئی موجود ہیں تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔
وہ شوہر کی صفائیاں پیش کرتی رہی۔۔ جواب میں سب خاموش رہے۔۔ کیونکہ وہ سب اس وقت دکھ کی شدید گھڑی سے گزر رہے تھے۔۔
خوشی سوچ رہی تھی کہ وہ کیسے سسر اور بہنوئی کی اناء کی بھینٹ چڑھ گئ۔۔
ان دونوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑا مگر اس کی دنیا اجڑ گئی۔۔
وہ بہت سمجھدار تھی سب کی نیتوں کو خوب سمجھتی تھی مگر بےبس تھی۔۔
ماں باپ کے دکھی چہرے کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی تھی۔۔
اس کی ماں سوچ رہی تھی کہ کیسے اسکا اچانک گھر بسا اور اچانک ہی اجڑ گیا۔۔
کاش وہ شادی پر ہی نہ گئ ہوتی۔۔
گھر پہنچ کر سب خاموشی سے اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔
خوشی والدین کے لئے دودھ گرم کر کے لائ۔۔
دونوں کو زبردستی دوددھ پلایا اور دوائی کھلای۔۔
وہ لوگ اسے دعائیں دینے لگے۔۔
روتے ہوئے بولے، بیٹا صبر کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ان کو چپ کراتے ہوئے بولی، اب کوئی نہیں روے گا بس آپ لوگ مجھے جاب کی اجازت دے دیں۔۔ ایک تو میرا دل بھی بہلا رہے گا اور میں بزی بھی رہوں گی۔۔
شادی پر جانے سے پہلے مجھے ایک اچھے اسکول سے آفر آئی تھی۔۔
باپ نے بھرای ہوی آواز میں کہا، بیٹی جو مرضی کرو۔۔ میں ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔
چند دنوں کے بعد خوشی کے والد نے اچانک داماد کو کسی سے فون کرتے سنا تو دنگ رہ گئے۔۔
انہوں نے فوری طور پر ایک فیصلہ کر لیا۔۔
خوشی کا اسکول کافی گھر سے دور پڑتا تھا۔۔
باپ نے اپنے پرانے محلے دار کی مدد سے وہاں قریب ایک چھوٹا تین مرلے کا گھر خریدا۔۔
داماد اپنے کام کے سلسلے میں اکثر گھر سے باہر کچھ دنوں کے لیے جاتا رہتا تھا۔۔
اس موقعے کا انہوں نے فاہدہ اٹھایا اور ایک حصہ اپنا اور بیوی کا رکھا۔۔ باقی دو حصے کیے اور دونوں بیٹوں کے نام پر ان کے اکاؤنٹ میں اس گھر کو بیچ کر جمع کروا دیے اور کسی کو کچھ بتاے بغیر وہاں شفٹ ہو گئے۔۔
جاری ہے۔۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.