Aik Raat Ki Dulhan Meri
Episodes
بڑی بیٹی کو باپ نے بتانے سے منع کیا تھا مگر پھر بھی اس سے رہا نہ گیا اور جب شفٹ ہو رہے تھے تو اس نے شوہر کو سب بتا دیا۔۔
اسی وقت یہ لوگ شفٹ ہوے تھے۔۔
وہ سنکر فوراً پہنچ گیا اور گرجنے، چلانے لگا۔۔
بیوی پر بھی چلایا۔۔
خوشی کے باپ نے کہا، میں نے تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا۔۔ اپنی جائیداد بیچی ہے اور بیٹی کو شرعی حصہ دے دیا ہے۔۔
اگر تم نے ہمارے ساتھ رہنا ہے تو رہو اور امن سے رہو۔۔ میری بیوی یمار ہے۔۔ ہم پہلے ہی پریشان ہیں تم نے ہماری بیٹی کو سسرال جانے نہیں دیا۔۔
وہ وہاں جاتی رہتی تو حالات بہتر ہوتے جاتے۔۔ کیونکہ یہ وہاں سب کی پسندیدہ بہو تھی۔۔
اب ہم مزید تمہاری حکومت اپنے اوپر برداشت نہیں کر سکتے۔۔ تم اب ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے۔۔ اپنی فیملی کو لے کر چلے جاو یہاں سے۔۔
وہ اب بےبسی سے بیوی کو دیکھنے لگا۔۔
بیوی چلا کر بولی، جہاں میرے شوہر کی عزت نہیں، میں وہاں نہیں رہوں گی۔۔
اسکا سامان ابھی پیک تھا۔۔
باپ نے محلے کے چند لڑکوں کو بلا کر ان کا سامان گھر سے باہر نکال کر رکھ دیا اور انہیں نکال کر دروازہ لاک کر دیا۔۔
خوشی کچھ بولنے لگی مگر باپ نے اشارے سے منع کر دیا۔۔
وہ دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے سامان لاد کر اپنے آبائی گھر چل پڑا۔۔ جس کے حصے کے لیے وہ کوشش کر رہا تھا۔۔
بھائیوں نے اسے دے کر اس سے جان چھڑای۔۔
خوشی کا اسکول یہاں سے کافی نزدیک تھا۔۔ پڑوسی بھی بہت اچھے تھے۔۔ باپ نے انہیں سب سچائی بتا دی۔۔ وہ بہت افسوس کرنے لگے۔۔ اور ان کا ساتھ دینے لگے۔۔
اسی پڑوس کی ایک ٹیچر بھی اپنی گاڑی میں جاتی تھی۔۔
خوشی اس کے ساتھ جانے لگی۔۔ دونوں اچھی دوست بن گئیں۔۔
خوشی کے باپ نے کہا، بیٹی تم اپنے شوہر کو فون کر کے اس کے ساتھ چلی جاو۔۔
خوشی نے جواب دیا، نہیں ابا جان میں اب ان کی شادی شدہ زندگی کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی۔۔
ورنہ ہم تینوں کی زندگی بےسکون ہو جاے گی۔۔
ماں بیٹی اور نواسی نواسے کو یاد کر کے روتی۔۔
آخر خوشی نے باپ کو ان سے راضی ہونے پر منا لیا۔۔
بہنوئی جو اپنی عادتوں کی وجہ سے خاندان بھر سے دور ہو چکا تھا۔۔ اندر سے شکر کیا اور بیوی کو چھوڑ کر تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا گیا۔۔
اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہی ماں کی طبیعت سخت خراب ہو گئی۔۔
اسے پڑوسیوں کی مدد سے ہاسپٹل پہنچایا گیا مگر وہ راستے ہی میں دم توڑ گئ۔۔
خوشی اور اس کے گھر والوں پر قیامت گزر گئ۔۔
پڑوسیوں نے بہت ساتھ دیا۔۔
بہن کا شوہر گھر سے باہر تھا کہ اسے بیوی کا فون آیا کہ امی جان فوت ہو گئ ہیں۔۔
شوہر نے چالاکی سے بہت افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اسے بہت ضروری کام سے کراچی جانا پڑ گیا ہے وہ جلد از جلد آنے کی کوشش کرے گا۔۔
محلے والوں نے بہت ساتھ دیا۔۔
خوشی کے بہنوئی کو جب اطمینان ہو گیا کہ اب تیسرے دن ہی قل کے ساتھ چالیسواں بھی ہو گیا ہے تو وہ چوتھے دن واپس آیا۔۔
بیوی رو رو کر نڈھال ہو رہی تھی۔۔
وہ بیوی کو بہت پیار سے تسلیاں دیتا رہا۔۔ ساس کی قبر پر بھی گیا۔۔
وہ کافی عرصے سے باہر ملک جانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا اور اب اسے اتفاق سے اچھی جاب بمعہ فیملی ویزے کے مل چکی تھی۔۔
ایک پرانا دوست اسکا ساتھ دے رہا تھا۔۔
وہ باہر چلا گیا۔۔
خوشی کی پرنسپل اسکی شادی اپنے بھائی سے کرنا چاہتی تھی۔۔ وہ اس کے سب حالات جانتی تھی۔۔ اسے اس کے ساتھ بہت لگاو ہو گیا تھا۔۔
اس نے اسے مشورہ دیا کہ اتنی پہاڑ جیسی زندگی کیسے اکیلے کاٹو گی۔۔
ماں کے بعد باپ کو کچھ ہو گیا تو کیا کرو گی۔۔ ایسا کرو۔۔ شوہر سے طلاق لے کر میرے بھائی کے ساتھ شادی کر لو۔۔
خوشی نے کہا، میں امید سے ہوں اور اپنے بچے کے سہارے زندگی بسر کر لوں گی۔۔
میرا باپ بیمار ہے۔۔ میں اسکا سہارا بنوں گی۔۔
وہ دعائیں دینے لگی۔۔
خوشی اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ اسکول جاتی اور بچے کو بھی ساتھ رکھتی۔۔
اسکول کے ڈے کیر میں فارغ وقت میں چکر لگا آتی۔۔
بیٹا اب سال سے اوپر کا ہو گیا تھا۔۔
وہ اگر پرنسپل کو کوئی کام ہوتا یا وہ چھٹی پر جاتی تو وہ خوشی کے سپرد اپنا کام کر جاتی۔۔
خوشی پرنسپل کی سیٹ پر اپنا کام خوش اسلوبی سے سر انجام دیتی۔۔
کچھ کولیگ اس سے جیلس ہوتیں اور کچھ کو اس سے ہمدردی تھی۔۔ کہ اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی۔۔
ایک دن خوشی آفس میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اس کے سسر اور ان کا ہی ایج کا کوئی شخص ان کے ساتھ آیا۔۔
خوشی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے سسر کو سامنے دیکھ کر۔۔
مگر وہ دونوں کو سلام کر کے انجان سی بن گئی۔۔
وہ آدمی بولا، میں اپنے پوتے کا ادھر ایڈمشن کرانا چاہتا ہوں۔۔
میں اپنی فیملی کے ساتھ ملک سے باہر ہوتا تھا اب پاکستان سیٹل ہوا ہوں۔۔ یہ میرے فرسٹ کزن ہیں۔۔ انہوں نے اس شہر کے چند اچھے اسکولوں کا وزٹ کروایا۔۔ مگر سب سے زیادہ میں آپ کے اخلاق سے متاثر ہوا ہوں۔۔
میری بیوی بیمار سی رہتی ہے۔۔ اسے کسی بااخلاق لیڈی کی ضرورت ہے۔۔
اتنے میں پرنسپل آ گئ اور خوشی اٹھتے ہوئے بولی، سر یہ پرنسپل صاحبہ ہیں۔۔
وہ جانے لگی تو وہ آدمی بولا، پلیز بیٹا آپ بیٹھیں اور میری آفر پر غور کریں۔۔
اس اسکول میں آپ جتنا وقت دیتی ہیں۔۔ اتنا اگر آپ میرے گھر میں میری بیوی کو دیں تو میں آپ کا احسان نہیں بھولوں گا۔۔
آپ کو اس سے بہت زیادہ تنخواہ بھی دوں گا اور ایڈوانس بھی تین ماہ کی سیلری دوں گا۔۔
اس کے سسر نے پہلو بدلا۔۔
خوشی نے سسر کی طرف ہلکہ سا دیکھا اور معزرت کے ساتھ انکار کر دیا۔۔
پرنسپل جو اس کی بہت ہمدرد تھی۔۔ جھٹ سے بولی، کیوں نہیں مگر اس کے ساتھ اس کا بوڑھا باپ اور ایک ڈیڑھ سال کا معصوم سا بچہ بھی ہے۔۔
اور شوہر۔۔
پرنسپل نے کہا، اس نے دوسری شادی کر لی۔۔
کیا طلاق؟
نہیں نہیں اس نے طلاق نہیں لی۔۔
وہ افسوس کرتے ہوئے بولا، کیسے ہیرے دنیا میں رل رہے ہیں اور دنیا کو ان کی قدر نہیں۔۔
پھر وہ بولا، میں ان کو اپنے گھر عزت سے ایک فیملی ممبر کی طرح رکھوں گا۔۔
ان کے والد محترم کو عزت و احترام سے رکھوں گا۔۔
بچے کی ساری دیکھ بھال کی زمہ داری میری۔۔
خوشی نے احتجاجی طور پر انکار کیا تو پرنسپل اسے پیار سے ڈانٹتے ہوئے بولی،سر یہ بہت خوددار لڑکی ہے۔۔ ایسے ہی اس کے والد محترم ہیں۔۔
وہ بولا ،ظاہر ہے انہیں کی تربیت ہے۔۔
خوشی نے پھر عزر پیش کیا کہ ان کا چھوٹا سا اپنا گھر موجود ہے۔۔
میں اتنی ہی ڈیوٹی دے کر واپس گھر آ جایا کروں گی جتنی اسکول میں دیتی ہوں تب تو ٹھیک ہے مگر اتنی ہی تنخواہ لوں گی جو یہاں لیتی ہوں۔۔
ہو سکتا ہے آپ کی واہف کے معیار پر پوری نہ اتروں۔۔
وہ بولا چلو بیٹا آپ آو تو سہی۔۔ پھر دیکھتے ہیں۔۔
اگر میری واہف آپ سے خوش نہ بھی ہوئی تو میں آپ کو اپنی بیٹی کی طرح رکھوں گا۔۔ میری کوئی بیٹی نہیں ہے۔۔ دو بیٹے ہیں ان کو بہن مل جائے گی۔۔
ایک شادی شدہ ہے اور ایک بیٹی اور ایک بیٹے کا باپ ہے۔۔ آپ ان بچوں کو پڑھانے کا کام کر لینا۔۔
خوشی پھر بولی، سر میں اپنے والد صاحب سے پہلے پوچھ لوں اگر انہوں نے اجازت دی تو۔۔
پرنسپل بولی، اتنی اچھی آفر ہے۔۔ میں اس کے والد محترم سے اجازت دلوا دوں گی۔۔ کچھ عرصہ آپ اس کا ورک دیکھیں پھر اس کے والد صاحب کی آفر دیکھ لیں گے کہ کیا حالات ہوتے ہیں۔۔ آپ کے گھر والوں کا رسپانس کیا ہے۔۔
وہ بولا، ٹھیک ہے میں کل دوبارہ آوں گا اور ان کے والد صاحب سے بھی ملاقات کروں گا انشاءاللہ۔۔
وہ اٹھ کر چلے گئے تو خوشی جو اداس سی اور سوچوں میں گم تھی۔۔ روتے ہوئے پھٹ پڑی۔۔ بولی، آپ نہیں جانتی۔۔ ساتھ والے میرے سسر تھے۔۔
پرنسپل حیرت سے چیخی اور جوش سے بولی، پھر تو ان کو سبق سکھانے کا اچھا موقع ہے۔۔ اس آفر کو ٹھکرانا مت۔۔
وہ آہستہ سے غمزدہ لہجے میں بولی، موویز اور اس کے گھر والے مجھ تک پہنچ جائیں گے۔۔ ایسا نہ ہو کہ وہ مجھ سے میرا بچہ چھین لیں۔۔ وہ منت بھرے لہجے میں بولی۔۔
میم پلیز مجھے بچا لیں۔۔ میں کل نہیں آون۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل بات کاٹتے ہوے بولی، اب ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔ ان کا رشتہ دار جو تمہیں لے کر جانا چاہتا ہے وہ سڑرونگ ہے معاشی طور پر۔۔
اس لیے میں اسے خود ساری سچائی بتا دوں گی اور حفاظت کا وعدہ لوں گی۔۔
تم بس فکر نہ کرو۔۔ اب تمہارے اچھے دن آنے والے ہیں۔۔
تمہارا سسر اسی لیے مجھے کچھ بے چین سا لگ رہا تھا۔۔ اسے ہو سکتا ہے پوتے سے لگاو ہو جاے اور تمہارے بچے کو باپ اور دھدیال کا پیار بھی مل جائے جو اس کا حق ہے۔۔
تم اپنی اناء اور خوشی کے لیے اپنے بیٹے کو اس کے جائز رشتوں سے دور مت کرنا۔۔
بن باپ کے بچے اکثر احساس محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔
موویز کا باپ سارا راستہ خاموش رہا۔۔
منیر صاحب نے پوچھا، یار کیا بات ہے۔۔ تم اتنے خاموش کیوں ہو۔۔
موویز کے باپ نے اداس لہجے میں کہا، یار گاڑی کسی کیفے میں لے چلو، مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔
وہ حیرت سے دیکھ کر بولا، تم ٹھیک ہو خیریت ہے۔۔؟
وہ بولے، تم چلو پھر بتاتا ہوں۔۔
منیر صاحب نے گاڑی ایک ساہیڈ پر روک لی، اور کہا، جو بات ہے ادھر ہی بتاو۔۔ پبلک پلیس پر نہیں۔۔
موویز کے باپ نے اسے ساری کہانی کہہ سنائی۔۔ وہ سنکر کافی حیران ہوا۔۔
منیر صاحب نے کہا، تم بہت ظالم انسان ہو۔۔ اگر تم میرے بچپن کے دوست اور رشتے دار نہ ہوتے تو میں تم سے اس بات پر ناطہ ہی توڑ لیتا۔۔
وہ روتے ہوئے بولے، یار ہم جیسے اناء پرست اور گھمنڈی مرد ہمیشہ اپنے خاندان والوں کے لیے مصیبت کا باعث ہی بنے رہتے ہیں۔۔ ہم لوگوں کی قسمت بھی اچھی ہوتی ہے کہ بیوی بچے دبے ہوئے اور حکم کے پابند ہوتے ہیں۔۔
ہم ان کی فرمانبرداری سے خوش ہونے کی بجائے الٹا خود بھی ناخوش رہتے ہیں اور ان کی خوشیوں پر بھی پابندی عائد کر دیتے ہیں۔۔ ان کی فرمانبرداری سے ہمارے اناء کے جزبے کو تو تقویت ملتی ہے مگر اندر سے ہم پچھتاوے کی آگ میں جلتے ضرور ہیں مگر جھکنا نہیں چاہتے۔۔ نہ ہی ہار ماننے کو تیار ہوتے ہیں۔۔
منیر صاحب نے پانی کی بوتل اسے پکڑاتے ہوے کہا، ویسے تو تم رحم کے قابل نہیں ہو مگر کیا کروں تمہارا رونا انسانیت کے ناطے دیکھا نہیں جا رہا۔۔
وہ ہچکیوں سے رونے لگے اور بولے، میں نے اپنے بیٹے کو ایسے دلدل میں پھنسا لیا ہے کہ اس سے نکلنا اس کے لیے بہت مشکل ہے۔۔
جب سے بیٹے کی دوسری شادی کی ہے۔۔ وہ اداس رہتا ہے۔۔ ایک روبوٹ کی طرح اپنے رشتے کو نبھا رہا ہے۔۔
گھر والوں نے تو اس کے ساتھ قسمت کا لکھا سمجھ کر اسے قبول کر لیا ہے مگر میں بےسکون ہوں۔۔
اولاد بھی بیٹے کی نہیں ہے۔۔
جبکہ میرا پوتا ہے جسے میں بدنصیب نہ مل سکتا ہوں نہ ہی پاس رکھ سکتا ہوں۔۔
منیر صاحب نے کہا، اس کا آسان حل یہ ہے کہ تم خوشی اور اس کے باپ سے معافی مانگ لو۔۔ اور عزت سے اپنے گھر لے چلو۔۔
مجھے امید ہے کہ وہ ماں بیٹی بہت نرم دل لگتے ہیں ضرور معاف کر دیں گے۔۔
موویز کے باپ نے دکھی لہجے میں کہا، وہ تو شاید معاف کر دیں مگر میری دوسری بہو میرے بیٹے پر بہت شک کرتی ہے لڑتی جھگڑتی ہے۔۔ اسے یہ بھی وہم رہتا ہے کہ شاید وہ اپنی پہلی بیوی سے رابطے میں ہے اور اس سے ملتا جلتا ہے۔۔
جب حقیقت میں سامنا ہوا تو اس کا رد عمل کیا ہوگا۔۔ وہ تو پہلے ہی سب کو بے سکون رکھتی ہے اور زیادہ سب کا جینا حرام کر دے گی۔۔
میرا بیٹا چونکہ خوشی سے محبت کرتا تھا وہ اسے دیکھتے ہی اپنا لے گا مگر بیوی اس کو برداشت نہیں کر سکے گی۔۔
چلو کل دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔۔ ابھی گھر چلتے ہیں۔۔
جاری ہے۔۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.