Loading...
Logo
Back to Novel
Aik Raat Ki Dulhan Meri
Episodes
Aik Raat Ki Dulhan Meri

ایک رات کی دولہن میری 6

From Aik Raat Ki Dulhan Meri - Episode 6

خوشی گھر گئی تو چپ چپ سی تھی۔۔ باپ نے وجہ پوچھی تو ٹال گئ۔۔

وہ اپنے روم میں فریش ہونے چلی گئی۔۔ بچہ سو رہا تھا اسے لٹا کر کھانا گرم کیا اور باپ کو دینے گئی تو وہ فون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔۔

جب وہ کھانا رکھ کر جانے لگی تو اس کے باپ نے اسے بیٹھنے کا کہا۔۔

وہ سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔

باپ نے پوچھا، آج کیا ہوا، اچھا چھوڑو تم تھکی آئی ہو، میں بتاتا ہوں۔۔

اس سے بولا، تم فریش ہو جاو کھانا کھا لو پھر میری بات سن جانا۔۔

اسے اتنے میں بچے کے رونے کی آواز آئی اور وہ جی اچھا کہہ کر بھاگی۔۔

اس سے کھانا بھی ٹھیک سے نہ کھایا گیا۔۔ وہ بچے کو ساتھ لے کر باپ کے کمرے میں آ گئ۔۔ بچہ کھلونوں سے کھیلنے لگا۔۔

وہ باہر نکل گیا تو وہ اسے موبائل پر کارٹون لگا کر بٹھانے لگی۔۔ اس کا دماغ بھی الجھا ہوا تھا۔۔

باپ نے بات شروع کی۔۔

دیکھو بیٹی، تم بےشک بہت باہمت اور نڈر لڑکی ہو مگر ہو تو عورت ناں۔۔

عورت کو مرد کی ضرورت کہیں نہ کہیں رہتی ہی ہے۔۔ جیسے وہ اس دن والا واقعہ جب آٹے کی بوری تم نے اس محلے کے لڑکے سے اندر کچن میں رکوائی تو وہ کچن کی کھڑکی سے اگلے دن چوری کرنے آ گیا۔۔

وہ تو شور کرنے پر بروقت گزرتا ہوا محلے دار پہنچ گیا اور اس نشی کو پکڑ لیا۔۔

بےشک محلے دار بہت اچھے ہیں مگر ہمیں ادھر آے کتنا وقت ہوا ہے۔۔ اور ہماری رکھوالی کا کسی نے ٹھیکہ تو نہیں لیا ہوا ہے۔۔

کراے دار رکھے کہ چلو زرا حفاظت اور کمپنی رہے گی مگر وہ دو دو ماہ کرایہ بھی نہیں دیتے تھے پھر ہر وقت تنگ کرنا اور چیزیں مانگنا الگ مصیبت۔۔

ان کو دو ماہ کا کرایہ معاف کیا اور پلے سے پیسے دیے تو وہ بھی محلے والوں کے پریشر سے نکلے۔۔

اب ہم کب تک دوسروں کی آس پر ادھر مطمئن بیٹھ سکتے ہیں۔۔

داماد بھی سازشی تھا۔۔ ورنہ اس کے ساتھ ہوتے ایسے مسائل نہ تھے۔۔ مگر اس کے اپنے پیدا کردہ مسائل بہت تھے۔۔

وہ بولے، میں جانتا ہوں کہ تم بہت خوددار لڑکی ہو۔۔ میری ہی تربیت ہے اور اچھی بات ہے۔۔ اب میں اصل مدعے پر آتا ہوں۔۔

کل تمہاری میم کا فون آیا تھا۔۔

خوشی نے سانس بھر کر پہلو بدلا اور سر جھکا لیا۔۔

باپ نے پھر لمبی سانس بھر کر بات شروع کی۔۔ بیٹی جیسے تمہاری ماں چلی گئی اسی طرح میں بھی۔۔۔۔۔۔

وہ تڑپ کر بات کاٹتے ہوے بولی، ابو آپ کے سوا میرا ہے کون۔۔الل تعالیٰ آپ کو لمبی زندگی عطا فرمائے۔۔

باپ نے محبت سے اسے دیکھتے کہا، بیٹی لمبی زندگی ہو بھی تو میں کمزور ناتواں تمہاری کیا حفاظت کر سکتا ہوں۔۔ دیکھا نہیں تھا چور نے مجھے ایک دھکہ دیا تھا اور میں مرتے مرتے بچا تھا۔۔

اگر خدانخواستہ وہ بچے کو کچھ کر جاتا پھر۔۔

اسی لیے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اپنی اناء اور خودداری کو بالاے طاق رکھتے ہوئے ہمیں منیر صاحب کی آفر مان لینی چاہیے۔۔

اگر تمہارا سسر تمہیں قبول نہیں بھی کرتا یا موویز کی بیوی تمہیں اس گھر میں آنے نہیں دیتی تو کم از کم تم اپنے سسرالی رشتے داروں کی تحویل میں تو چلی جاو گی۔۔

پھر تمہاری ساس پوتے کے لیے شاید جزبہ رکھتی ہو۔۔

چلو بالفرض وہ سب نہ بھی ہو اور تمہیں وہاں ملازمہ کی حیثیت سے ہی رہنا پڑے پھر بھی میں تسلی سے مر سکوں گا کہ تم ایک محفوظ ہاتھوں میں ہو۔۔

جس مقصد کے لئے منیر صاحب لے کر جانا چاہتے ہیں مجھے امید ہے کہ تم ان کی امیدوں پر کھری اترو گی انشاءاللہ۔۔

اگر ہمیں وہاں سرونٹ کوارٹر میں بھی جگہ ملے تو ہم بخوشی قبول کر لیں گے۔۔

بلکہ ہمیں پہلے ہی ان سے اتنی مراحات لینی ہی نہیں چاہیے کہ ان کا کوئی فیملی ممبر اعتراض کرے۔۔

اب کل وہ آئیں گے تو ان کو میرے پاس لے آنا میں خود ان سے کھل کر ساری بات کر لوں گا۔۔ ابھی تمہارا رشتہ ان کے خاندان سے ظاہر نہیں کروں گا۔۔

ہو سکتا ہے تمہارا سسر اس بات کو ظاہر نہ کرنا چاہے۔۔ ہم ہر ممکن اس بات کا پردہ رکھیں گے ورنہ شاید وہ یہ نہ سوچیں کہ ہم اس بات کو بنیاد بنا کر انہیں کیش کرنا چاہتے ہیں۔۔

بیٹی ٹھنڈے دل سے سوچو۔۔ ہم سب اس جگہ محفوظ نہیں ہیں۔۔

اس نشی کو محلے داروں نے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دیا پولیس کے حوالے نہیں کیا۔۔

وہ دوبارہ پوری تیاری سے کسی کے ساتھ آ کر حملہ کر سکتا ہے۔۔ میں اب ڈرنے لگا ہوں۔۔

وہ نم آنکھوں سے بولی، میں خود اس واقعے کے بعد ڈرتی رہتی ہوں۔۔

آپ کی فکر رہتی ہے۔۔

وہ بولے، اسی لیے اب موقعے کو ہاتھ سے گنوانا نہیں۔۔ ہم بس گزر اوقات تک کی مراحات لیں گے زیادہ ان پر بوجھ نہیں ڈالیں گے۔۔

وہ ٹھنڈی سانس بھر کر اٹھتے ہوئے بولی، ٹھیک ہے ابو جی۔۔

وہ بولی، آپ اب آرام کریں۔۔

میں بچے کو سلا لوں۔۔

وہ بولے، تم بھی اب پرسکون ہو کر آرام کرو۔۔

دوسرے دن میم اور خوشی منیر صاحب کا انتظار کرتے رہے۔۔

خوشی کے ابو بھی فون کر کے پوچھتے رہے۔۔ مگر وہ نہ آئے نہ ہی ان کا کوئی کونٹینٹ نمبر تھا ان لوگوں کے پاس۔۔

چند دن گزر گئے روز انتظار کرتے کرتے مگر وہ نہ آئے۔۔

آخر ان لوگوں نے مایوس ہو کر آس چھوڑ دی۔۔

اس نتیجے پر پہنچے کہ سسر صاحب نے شاید کچھ بتا کر منع کر دیا ہو۔۔

وقت گزرنے لگا۔۔

منیر صاحب اور موویز کے والد جب گاڑی میں باتیں کر رہے تھے تو اسی وقت گھر سے فون آ گیا کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔۔

وہ افراتفری میں وہاں چل پڑے۔۔

ان کی والدہ اپنے دوسرے بیٹے کے ساتھ ملک سے باہر تھی۔۔

ان کو لانے کیلئے بھی وہاں سے چند دن لگ گئے۔۔ اس افراتفری میں وہ مگن ہو گئے اور اس بات کو بھول گئے۔۔

موویز کے والد نے بارہا سوچا کہ خوشی کو گھر لے آئیں مگر وہ ہمت نہ کر سکے۔۔ پوتے کے لیے تڑپتے رہے۔۔ کیونکہ موویز کا کوئی بچہ نہ تھا۔۔

موویز پر وہ بہت شک کرتی۔۔ کسی عورت کے قریب نہ جانے دیتی بات نہ کرنے دیتی۔۔

ساس سے جھگڑا ڈالی رکھتی۔۔ چھوٹی سی بات کا بتنگڑ بناتی۔۔

بڑا بیٹا اور بہو دوسرے ملک چلے گئے تھے۔۔

گھر میں وہ ہوتی یا ساس سسر۔۔

سسر کو بھی جواب دے دیتی۔۔

گھر کے کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی۔۔

ماں سے فون پر لگی رہتی اور پل پل کی خبر دیتی۔۔

سسر نے تنگ آ کر موویز کو اسے چھوڑنے کا کہا مگر اس نے انکار کر دیا۔۔

وہ اب اپنے فیصلے پر سخت پچھتا رہے تھے۔۔

اب ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا طریقہ اختیار کریں کہ خوشی اور انکا پوتا گھر لا سکیں۔۔

بیٹے نے خوشی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر وہ شفٹ ہو چکے تھے اور کوئی اتا پتا نہ تھا۔۔

خوشی کے سسر نے سوچا کہ منیر صاحب نے خوشی کو آفر کر کے دوبارہ رابطہ ہی نہیں کیا۔۔

چلو وہ اسے اپنے گھر میں ہی رکھ لے، میں بہانے سے ان کا خرچہ دیتا رہوں گا۔۔ کم سے کم بہو اور پوتا تو محفوظ ہاتھوں میں رہیں گے۔۔

وہ تو وعدہ کر کے بھول ہی گیا ہے۔۔

چلو اب اسکول کے بہانے بہو کا اتا پتا تو ملا۔۔

دوسرا مسئلہ بھی تھا کہ جب موویز کا نکاح کیا تو اس کی بیوی کو سسر نے جھوٹ بولا تھا کہ موویز نے اسے طلاق دے دی ہے۔۔ تب وہ لڑکی اس شرط پر نکاح پر راضی ہوئی تھی۔۔ اب وہ اس کو کیسے بتائیں۔۔

وہ تو کسی سے اسکا بات کرنا برداشت نہیں کرتی بیوی کیسے برداشت کرے گی۔۔

انہوں نے منیر سے مل کر سوچا اس مسئلے کا حل نکالیں۔۔

آفس سے لڑکی کا آفس کے کام کے سلسلے میں فون آیا۔۔ تو موویز کی بیوی نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔۔ کیونکہ موویز نے اسے فائلیں گھر دے جانے کا بولا تھا۔۔

وہ گھر میں داخل ہوئی تو اس کی بیوی اسے بےعزت کرنے اور مارنے لگی۔۔

بڑی مشکل سے اسے موویز نے بچایا۔۔

موویز کی ماں اسے بمشکل اپنے کمرے میں لے گئی مگر وہ پھر چلانے لگی اسے نکالو۔۔

تب وہ غصے سے بولی، اتنی جاہل بیوی کے ساتھ آپ لوگ کیسے رہتے ہیں۔۔

موویز کی ماں شرمندہ ہو گئی۔۔

وہ تیزی سے باہر نکل گئی۔۔

سسر منیر صاحب کی طرف گئے ہوئے تھے۔۔

ماں نے اس کے جاتے ہی کہا، بیٹا اس مصیبت سے ہماری جان کیوں نہیں چھڑواتا۔۔

اب ہم بوڑھے ہو چکے ہیں اتنی ٹینشن برداشت نہیں کر سکتے۔۔

موویز نے دکھی لہجے میں نم آنکھوں سے کہا، امی جان ابو نے نکاح کے وقت یہ گھر اس کے نام کر دیا تھا۔۔ اس لیے مجبور ہوں۔۔

ماں نے غمزدہ لہجے میں جواب دیا کیا ساری زندگی اس مصیبت کو برداشت کرنا پڑے گا۔۔

جاری ہے۔۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books