Aik Raat Ki Dulhan Meri
Episodes
موویز کا باپ منیر کے گھر پہنچا اور اس نے خوشی کے مسئلے کی بابت پوچھا کہ کب اسے ادھر لا رہے ہو۔۔
منیر صاحب نے تحمل سے جواب دیا کہ نہیں لا رہا۔۔
وہ حیرت سے بولے، مگر کیوں؟
اتنے میں ملازم نے چائے رکھی۔۔
وہ دونوں لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔
منیر صاحب نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں ملازم کی حیثیت سے آے گی تو تم تو جانتے ہو، اس گھر میں ملازم کو کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے۔۔
پھر تم کیسے برداشت کرو گے اور موویز کو پتا چلا تو وہ کیا کہے گا۔۔
موویز کا باپ بھرائی ہوئی آواز میں بولا، یار جلد ہی میں اس مسئلے کا حل نکال کر انہیں گھر لے جاوں گا۔۔
منیر صاحب بولے، اسکا باپ بھی ساتھ ہے۔۔
وہ نظریں چراتے ہوئے بولے، کوئی بات نہیں میں اسے بھی ساتھ رکھ لوں گا۔۔
منیر صاحب سرد آہ بھر کر بولے، چلو ٹھیک ہے میں پرنسپل کو فون کرتا ہوں۔۔ میں نے تو گھر والوں کو بتایا تھا کہ بچوں کو پڑھانے کے لیے ان کی ٹیچر کا بندوبست کیا ہے وہ ادھر ہی رہے گی سرونٹ کوارٹر میں اپنے باپ اور بچے کے ساتھ۔۔
موویز کے باپ نے کہا، تم انہیں ادھر لانے کا بندوبست کرو میں جلد انہیں یہاں سے لے جاوں گا انشاءاللہ۔۔
منیر صاحب نے پرنسپل کو فون کرکے آنے کا بتایا اور لیٹ آنے پر معزرت کی اور بتایا کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔۔
وہ افسوس کرنے لگی۔۔
اس نے کہا،میں ابھی خود جا کر اس کی جانے کی تیاری کرواتی ہوں۔۔
پرنسپل نے اپنی ملازمہ کو ساتھ لیا اور اسے فون پر ساری بات بتا دی اور اس کے گھر چل پڑی۔۔
خوشی سنکر پریشان سی ہو گئی۔۔
باپ نے تسلی دی کہ شکر کرو جو اللہ تعالیٰ وسیلہ بنا رہا ہے تمہارے سسرال کے جانے کا۔۔
بس اب خوشی سے ضروری سامان پیک کر لو۔۔
تمہاری میم کہہ رہی ہیں کہ فلحال اپنے کپڑے وغیرہ ڈال لو۔۔ پھر جو سامان کی ضرورت ہو گی وہ آ کر لے جانا اور گھر کی خیر خبر بھی لے جانا۔۔
خوشی اداسی سے پیکنگ کرنے لگی۔۔
خوشی کے سسر نے منیر صاحب سے کہا، کہ میں گھر پر ہی تمہارا انتظار کروں گا۔۔
تم بس بہانے سے مجھے پوتے سے ملوا دینا۔۔
منیر صاحب ڈرائیور کے ساتھ ان کے گھر چل پڑے۔۔
میم نے ان کو لوکیشن بھیج دی تھی۔۔
جب منیر صاحب پہنچے اور خوشی کے والد کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔۔
خوشی اور میم گاڑی میں سامان رکھوانے لگیں۔۔
خوشی نے منیر صاحب اور باپ اور میم اور ڈرائیو کو بھی فریش جوس دیا۔۔
منیر صاحب ڈرائیور کو دینے پر حیران اور متاثر ہوئے۔۔
انہیں منیر صاحب سے باتیں کر کے بہت اچھا لگا۔۔
وہ حیران ہوئے کہ یہ بظاہر لاغر سا کمزور سا شخص نہ امیر ہے نہ کوئی حیثیت ہے پھر بھی کتنی دانائی کی باتیں کرتا ہے اور کتنی متاثر کرنے والی اس کی شخصیت ہے۔۔
جب وہ لوگ جانے لگے تو خوشی میم کے گلے لگ کر بےاختیار رو پڑی۔۔
میم نے اسے بہت پیار کیا اور تسلیاں دیں۔۔
خوشی کے باپ نے بھی میم کا بہت شکریہ ادا کیا۔۔
منیر صاحب نے بھی میم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں لے کر گھر روانہ ہوگئے۔۔
گیسٹ روم میں انکا سامان رکھوایا گیا۔۔
خوشی کے سسر گیٹ پر کھڑے بےچینی سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔۔
دور سے پوتے کو دیکھ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر منیر صاحب کو آواز دے کر بولے، میں جا رہا ہوں۔۔
وہ خوش تھے کہ انہیں سرونٹ کوارٹر کی بجائے انہیں گیسٹ روم میں رہائش دی ہے۔۔
پوتے کو دیکھ کر ان کی آنکھوں کو سرور مل گیا۔۔
اتنے عرصے بعد وہ مطمئن محسوس کرنے لگے۔۔
انہوں نے منیر صاحب کو شکریہ ادا کیا۔۔
جب سامان رکھنے لگے تو خوشی نے صاف انکار کر دیا کہ وہ انیکسی میں نہیں رہے گی سرونٹ کوارٹر میں رہے گی۔۔
اگر آپ لوگوں کے کوئی گیسٹ آ گئے تو مسئلہ پڑ جائے گا۔۔
منیر صاحب نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ بیوی سنا رہی تھی کہ ایک معمولی ٹیچر کو اتنا پروٹوکول کیوں دیا جا رہا ہے۔۔ وہ سچائی بھی نہیں بتا سکتے تھے کہ خوشی بھی مائنڈ نہ کر جاے۔۔
سرونٹ کوارٹر کے اندر سامان رکھا گیا تو منیر صاحب نے کہا کہ میں کل یہاں نیا فرج اور سامان منگوا دوں گا۔۔
خوشی نے کہا، سر آپ اجازت دیں تو میں ابھی گھر سے اپنا سامان لے آتی ہوں۔۔
ضرورت کا سارا سامان موجود ہے کچھ بھی خریدنا نہیں پڑے گا۔۔
باپ نے کہا، بچہ سو رہا ہے اسے ادھر ہی چھوڑ جاو اور جا کر لے آو۔۔ میں اپنے جاننے والے کو فون کر دیتا ہوں وہ گاڑی لے آئے گا۔۔
منیر صاحب نے منع کر دیا کہ گاڑی موجود ہے۔۔
خوشی نے اندازہ لگا کر کہ ادھر جگہ کتنی ہے اور کون کون سا سامان لانا ہے نوٹ کر کے لسٹ موبائل پر نوٹ کر لی۔۔
بچے کا فیڈر اور نیپی دے گئی۔۔
منیر صاحب نے خوشی کے باپ کو اپنے پورشن میں بلا لیا اور ملازمہ کو کہا، وہ بچے کا خیال رکھے۔۔
منیر صاحب کے باپ کے پاس بیٹھ کر خوشی کے باپ نے سلام کے بعد منیر صاحب کے باپ سے بات چیت شروع کی۔۔
پہلے وہ تھوڑے اکڑے رہے۔۔ مختصر جواب دیتے رہے۔۔ پھر ان کی زہانت کے قابل ہونے لگے اور انہیں ان کی باتوں میں دلچسپی پیدا ہونے لگی۔۔
اور وہ ان کھل کر باتیں کرنے لگے۔۔
منیر صاحب کے پوتا پوتی بچے کو دیکھ کر خوش ہونے لگے۔۔
ان کی بہو بھی بچے کو دیکھ کر حیران سی ہوئی کہ بچہ بہت پیارا تھا اور پیاری باتیں کر رہا تھا۔۔ ادھر ادھر چل پھر رہا تھا۔۔
بچے اس کے ساتھ کھیل رہے تھے۔۔
اپنے کھلونے اسے دے رہے تھے۔۔
آیا نے اسے فیڈر پلا دیا۔۔ اور نیپی بدل دیا۔۔
منیر صاحب کی بیوی کرسی پر بیٹھی بچوں کو خوش ہوتے دیکھ رہی تھی۔۔
اسے ان لوگوں سے رونق محسوس ہو رہی تھی۔۔
منیر صاحب کے پاس بیٹھے خوشی کے باپ کی سلجھی اور پر اثر گفتگو سنکر ان کی معلومات پر حیران بھی ہو رہی تھی۔۔ ان کے پاس جرنل نالج بہت تھا۔۔
جو بھی ٹاپک چھیڑتے۔۔ اسکا وہ تسلی بخش جواب دیتے کہ سننے والا مطمئن ہو جاتا۔۔
خوشی ملازموں کی مدد سے سامان سیٹ کرنے کے بعد ان کو کچھ رقم دی جس سے وہ بہت خوش ہوئے۔۔
ادھر سے فارغ ہو کر وہ منیر صاحب کے بلانے پر ان کے پورشن میں آ گئ۔۔
بچہ ماں کو دیکھ کر خوشی سے لپٹ گیا۔۔
خوشی نے اسے گود میں اٹھا کر پیار کیا۔۔
پھر ان بچوں سے بھی پیار سے ہاتھ ملا کر ان کا حال احوال پوچھا۔۔
پھر منیر صاحب کے والد کو ادب سے سلام کیا اور ان کی طبیعت پوچھی۔۔
وہ اسے بچوں کے ساتھ ملتے دیکھ کر متاثر ہو رہے تھے کہ بچے بھی آج خوش تھے ورنہ وہ کسی ٹیچر سے سیدھے منہ بات نہ کرتے تھے۔۔
منیر صاحب نے کہا، اس عمر میں طبیعت اب کیا ہو گی پرہیزی کھانا، اور میڈسن وغیرہ کے سہارے زندگی بسر ہو رہی ہے۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی، جی میرے والد صاحب بھی پرہیزی کھانا کھاتے ہیں میں آپ کے لئے بھی بنا دیا کروں گی۔۔
وہ یہ سنکر اس کے خلوص سے خوش ہو کر بولے، مجھ سے زیادہ تو بیٹی اگر آپ میری بہو کو کمپنی دیں جو بیمار ہے تو زیادہ اچھا ہے سب بہت پریشان ہیں۔۔
وہ ان کی طرف دیکھ کر بولی، جی ضرور۔۔
پھر بہو کو سلام کر کے منیر صاحب کی بیوی کے پاس گئی اور سلام دعا کے بعد ان کا حال پوچھنے لگی۔۔
منیر صاحب نے اشارے سے ملازمہ کو بیوی کے قریب کرسی رکھنے کا کہا۔۔
خوشی ان کے پاس بیٹھ گئی۔۔
ملازمہ نے جوس پیش کیا تو خوشی نے سب کی طرف دیکھا اور آفر کی تو سب نے شکریہ کہہ کر انکار کر دیا۔۔
منیر صاحب کے والد نے کہا، ابھی ہم سب کھانا کھائیں گے۔۔
آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ کھائیں گے۔۔
خوشی نے معزرت کرتے ہوئے کہا، کہ میں ابو کا پرہیزی کھانا بناتی ہوں۔۔
منیر صاحب کے والد نے کہا، کک پرہیزی کھانا بنا رہا ہے فکر نہ کرو۔۔
منیر صاحب کی پوتی خوشی کے پاس آ کر پوچھنے لگی، آپ ہماری ٹیچر ہیں ناں۔۔ آپ روز ادھر ہی رہیں گی ہمارے ساتھ۔۔
خوشی نے اس کے گال کو پیار سے چھوتے ہوئے کہا، ہاں۔۔
وہ معصومیت سے پوچھنے لگی، کیا بےبی بھی ادھر رہے گا۔۔
سب ہنسنے لگے۔۔
خوشی نے ہنستے ہوئے کہا بلکل۔۔ پر آپ پرامس کریں کہ اچھا اچھا پڑھیں گے۔۔ اور میری بات مانیں گے۔۔
دونوں بچے بولے۔۔ ہم گڈ ورک کریں گے۔۔
منیر کی بہو خوش ہو گئی۔۔ اتنے میں منیر کا بیٹا بھی آ گیا اس نے سب کو سلام کیا۔۔ اور بچے اس سے لپٹ گے۔۔
اس نے بیٹے کو گود میں اٹھا کر پیار کیا۔۔
دونوں بچے خوشی خوشی باپ کو بتانے لگے کہ یہ ان کی نیو ٹیچر ہیں اور یہ ہمارے ساتھ رہیں گی اور انکا کیوٹ سا بےبی بھی رہے گا۔۔
وہ حیران ہو کر خوشی سے بیوی کو دیکھنے لگا جو خوشی سے مسکرا رہی تھی۔۔
سب بہت خوش لگ رہے تھے۔۔
خوشی نے اجازت لیتے ہوئے اٹھتے ہوئے کہا، ابو چلیں اب ہم اپنے پورشن میں چلتے ہیں۔۔
منیر صاحب نے کہا، کھانا تیار ہے کھا کر جانا۔۔
خوشی کے باپ نے معزرت کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔۔
مگر منیر کے باپ نے بھی کہا، نہیں آپ لوگ کھانا کھا کر جانا۔۔
خوشی نے کہا، ایک شرط پر کہ پھر ہم اپنا بندوبست کریں گے۔۔
منیر صاحب کے والد نے کہا، بلکل بھی نہیں۔۔ اب آپ لوگ اپنے پورشن میں سونے جایا کریں گے باقی وقت ہمارے ساتھ گزاریں گے۔۔
منیر کی پوتی خوشی کا ہاتھ پکڑ کر ضد کرنے لگی کہ نہ جائیں ناں۔۔
خوشی نے باپ کی طرف دیکھا تو وہ بیٹھتے ہوئے بولے، چلو ابھی ان کی بات مان لیتے ہیں پھر دیکھتے ہیں۔۔
منیر کی پوتی خوش ہو کر تالیاں بجانے لگی۔۔
منیر صاحب کی پوتی خوشی کے ساتھ والی کرسی پر ضد کر کے بیٹھ گئ۔۔
کھانا سرو ہوا تو خوشی نے اسے تھوڑا سالن اور ایک چپاتی لیکر اپنے ساتھ ساتھ اسے بھی کھلانا شروع کر دیا۔۔ بیچ میں کھبی پانی کا گھونٹ پلا دیتی۔۔
ماں نے حیرت سے دیکھ کر شوہر سے کہا، حیرت ہے آج یہ سالن کے ساتھ پوری چپاتی کھا گئی ہے نہ اسے آج مرچیں لگی ہیں۔۔
سب مشکور نظروں سے خوشی کو دیکھنے لگے۔۔
کھانے کے بعد گرین ٹی خوشی نے کہا، اگر اجازت دیں تو میں بنا دوں۔۔
منیر صاحب تشکر سے بولے، اگر آپ کچن کے فرائض سنبھال لیں تو ہم سب ممنون ہوں گے۔۔ کیونکہ ادھر ملازمین کو مینیو دے دیا جاتا ہے پھر چاہے وہ کیسا ہی پکا کر دیں ہمیں کھانا پڑتا ہے۔۔
کیونکہ باہر کے کھانے کھا کر ہمارا پیٹ خراب ہو جاتا ہے۔۔ اس لئے گھر میں پکواتے ہیں مگر زاہقہ نہیں ہوتا۔۔
خوشی نے کہا، اگر کسی کو اعتراض نہ ہو تو میں یہ زمہ داری لینے کو تیار ہوں۔۔
ان کی بہو خوش ہو کر بولی، بھلا اس نیک کام میں ہم کیوں منع کریں گے بلکہ تھینکس کہیں گے۔۔
خوشی مطمئن ہو گئی۔۔
سب نے گرین ٹی کی بہت تعریف کی۔۔
خوشی اپنے پورشن میں جانے لگی تو منیر صاحب کی پوتی جانے نہ دے۔۔
بڑی مشکل سے سمجھایا کہ اب وہ ادھر ہی رہیں گی۔۔
رات دیر تک خوشی کو نیند نہیں آئی۔۔ بچہ بھی شاید اپنی جگہ کے بغیر ڈسٹرب رہا۔۔
صبح خوشی کی آنکھ کھلی تو پاس دیکھا تو بچہ نہ تھا۔۔
باپ کو دیکھا تو وہ سو رہا تھا۔۔
سارے پورشن میں دیکھا مگر وہ نہ ملا۔۔
بہت پریشان ہو کر باہر بھاگی۔۔
باہر چوکیدار سے پوچھا کہ منیر صاحب کی فیملی کدھر ہے تو وہ بولا، وہ تو باہر گئے ہوئے ہیں۔۔
اسے فکر سے چکر آنے لگا۔۔
جاری ہے۔۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.