Aik Raat Ki Dulhan Meri
Episodes
منیر صاحب نے پہلے خوشی کے والد سے بات کی کہ وہ لوگ معافی مانگ رہے ہیں اور خوشی اور آپ کو بھی ساتھ لے کر جانا چاہتے ہیں۔۔
خوشی کے والد نے روتے ہوئے کہا، کون سا باپ ہو گا جو بیٹی کو اپنے گھر بسنا نہیں دیکھنا چاہے گا۔۔
میرا جانا مشکل ہے میں اپنے گھر چلا جاوں گا۔۔ ویسے بھی میری بڑی بیٹی پاکستان واپس آ چکی ہے ادھر ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور وہ اپنے گھر کا حصہ بھی بھائیوں کو بیچ گئے تھے۔۔ اب ایک کمرے کے گھر میں رہ رہے ہیں۔۔ داماد سخت شرمندہ ہے اور معافی مانگ رہا ہے۔۔ بےروزگار ہو گیا ہے۔۔
برے حالات میں ہے۔۔ بچوں کی تعلیم چھٹ گئی ہے۔۔
پھر خوشی نے انہیں اپنے گھر میں شفٹ کروا دیا ہے اس شرط پر کہ وہ مجھے ساتھ رکھیں گے اور خیال رکھیں گے۔۔
اب میں ان کے پاس جا رہا ہوں۔۔
خوشی ادھر ہی رہے گی۔۔
اب بہت اچھا ہے کہ وہ سسرال چلی جاے۔۔
منیر صاحب نے افسوس کیا اور کہا، بےشک آپ لوگ ہمارے لیے رحمت ہیں۔۔ مگر میں خود غرض نہیں بنوں گا۔۔
آپ کو جانے سے نہیں روکوں گا۔۔
مگر ہر ویک اینڈ آپ ہمارے ساتھ گزاریں گے اتنا تو ہمارے لیے کریں گے ناں۔۔
پھر دونوں نے خوشی کو سمجھایا کہ وہ سسرال چلی جائے۔۔
خوشی اپنے پیارے شوہر سے خود بھی ملنا چاہتی تھی اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی اب جبکہ اس کی بیوی اس سے خود خلع لے رہی ہے۔۔
جب موویز کی بیوی نے سنا کہ خوشی اپنے بچے کے ساتھ واپس آ رہی ہے۔۔ وہ جو اپنا سامان لینے آئی تھی۔۔
اس نے واپس جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور چلانے لگی کہ میں اب خلع بھی نہیں لوں گی۔۔ اور خوشی اب اس گھر میں واپس نہیں آ سکتی ہے۔۔
سسر نے گرج کر کہا، وہ واپس ضرور آئے گی اور اسی کمرے میں رہے گی۔۔
ملازموں سے کہہ کر اس کا سامان باہر نکالنے لگے۔۔
موویز پریشان الگ خاموش کھڑا تھا۔۔
باپ نے کہا، بیٹا اسے ابھی طلاق دے۔۔
پانچ لاکھ ہم افورڈ کر لیں گے۔۔ اتنی بڑی رقم نہیں ہے۔۔
وہ دوسرے کمرے میں انکار کر کے چلا گیا۔۔
اس کی بیوی مسکرا کر طنزیہ انداز میں بولی، وہ خود مجھے کھبی طلاق نہیں دے گا۔۔ اب میں ادھر ہی رہوں گی۔۔
دوسرے کمرے میں رہ لوں گی مگر جاوں گی نہیں اب۔۔
آپ بےشک اب اپنی بہو اور پوتے کو لے آئیں میں ان کو بھی ادھر چین سے رہنے نہیں دوں گی۔۔
ساس نے غصے اور نفرت سے کہا، اسے لانے کے لیے ہمیں تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں۔۔
سسر کو منیر صاحب کی کال آ گئ۔۔
وہ کال پر تفصیل بتاتے ہوئے بولے، بس یار آتے ہیں۔۔
بیوی نے کہا، چلیں دیر ہو رہی ہے اس کو بعد میں دیکھ لیں گے۔۔
وہ چلا کر بولی، دیکھوں گی تو میں آپ لوگوں کو۔۔
آپ لوگوں نے پہلے میرے رشتے سے انکار کیا تھا حالانکہ میرے والدین نے گھر آ کر رشتہ دینے کی پیشکش کی تھی۔۔
اس وقت ہی میں نے سوچ لیا تھا کہ نکاح کے بعد میں آپ لوگوں کا جینا حرام کر دوں گی۔۔
جو میں کر کے والدین کی توہین کا بدلہ بھی لے رہی ہوں۔۔
آپ لوگوں نے مجھے تھوک کر چاٹا ہے۔۔
موویز نے گاڑی نکال لی۔۔
وہ ملازموں سے بولی، میرا سامان دوسرے روم میں رکھ دو، اور میرے لیے اچھی سی چائے بناو۔۔
ساس نے کہا، میں سارا گھر بند کر کے جاوں گی۔۔ تو اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی رہ۔۔
ابھی ہم اپنی بہو اور پوتے کو لے کر آ جائیں گے تو تم منہ دیکھتی رہ جاو گی۔۔
ساس صرف کچن اور اس کے کمرے کے علاوہ سارے گھر کو لاک کر کے چل پڑی۔۔
منیر صاحب نے اپنے گھر والوں کو جب سب سچائی بتائ تو وہ حیرت کے ساتھ خوش بھی ہوے کہ ایک تو یہ ہماری رشتے دار ہے دوسرے اس کا گھر دوبارہ بسنے جا رہا ہے۔۔ ہم گو اس کے جانے سے بہت اداسی محسوس کریں گے مگر اس کو اپنے گھر آباد دیکھ کر خوشی ملے گی۔۔
وہ لوگ اسے دعائیں دینے لگے۔۔
بچوں نے چلانا شروع کر دیا کہ یہ لوگ نہیں جا سکتے۔۔ وہ رونے اور ضد کرنے لگے۔۔
بڑی مشکل سے انہیں بہلایا گیا کہ وہ روز آیا کریں گی۔۔
جب موویز کو دیکھا تو خوشی کی آنکھیں برس پڑیں۔۔
ساس نے آگے بڑھ کر خوب روتے ہوئے بہو کو گلے لگا کر پیار کیا اور زاروقطار رونے لگی۔۔
سب کی آنکھیں نم تھیں۔۔
سسر نے آگے بڑھ کر اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔۔
اس نے ان کے ہاتھ پکڑ کر کہا، ایسے نہ کریں۔۔
اتنے میں موویز کے باپ نے خوشی کے باپ سے بھی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تو خوشی کے باپ نے انہیں گلے لگا لیا۔۔
منیر صاحب نے ہنستے ہوئے ازروئے مزاق کہا، کوئی بات نہیں اگر صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جاے تو اسے بھولا نہیں بلکہ بولا کہتے ہیں۔۔ مطلب سادہ۔۔
سب ہنسنے لگے۔۔
خوشی سے موویز نے ہاتھ بڑھا کر ہاتھ ملایا اس نے شرماتے ہوئے ملا لیا۔۔
پوتے کو دادا دادی بار بار پیار کرتے۔۔
موویز کی گود میں جا کر غور سے اسے دیکھنے لگا۔۔
موویز نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر دی تو لے کر مسکرانے لگا۔۔
موویز نے بہت پیار کیا۔۔
منیر صاحب نے دعوت کا اہتمام کیا تھا۔۔ خوشی جوش و خروش سے لگی ہوئی تھی۔۔
کھانے کے بعد چائے کا دور چلا۔۔
موویز کی بیوی بار بار موویز کو کالیں کر کے پوچھتی کب آنا ہے۔۔
آخر تنگ آ کر اس نے فون ساہلنٹ پر لگا دیا۔۔
منیر صاحب نے خوشی سے پوچھا، بیٹی سامان پیک کر لیا ہے کیا؟
وہ آہستہ سے بولی، جی ابھی نہیں کیا۔۔ تھوڑا سا ہے۔۔ کر لوں گی۔۔
سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔۔ چاے پی۔۔
موویز کے سسر نے کہا، اب چلنا چاہیے۔۔
اتنے میں ساس کے موبائل پر موویز کی بیوی کا فون آیا کہ کب آنا ہے۔۔
وہ چلا کر غصے سے بولی، آتے ہیں صبر کرو۔۔ کیوں بار بار تنگ کر رہی ہو۔۔
خوشی کے باپ نے حیرت سے پوچھا، کس کا فون تھا انہیں شک گزرا کہ شاید موویز کی بیوی کا ہے
وہ غصے سے بولی، موویز کی بیوی کا۔۔ پھر آج کا سارا واقعہ اسے کوستے ہوئے غصے سے بتا دیا۔۔
خوشی کے باپ نے ایک لمبی سرد آہ بھری اور کہا کہ میری بیٹی اس وقت تک اس گھر میں قدم نہیں رکھے گی جب تک وہ اپنی پہلی بیوی کو وہاں سے نکال نہیں دیتا،یا طلاق نہیں دیتا۔۔
ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔۔
میں اپنی بیٹی کو دو دھاری تلوار پر نہیں چلا سکتا ہوں۔۔
یا تو اسے طلاق دو یا میری بیٹی کو۔۔ تاکہ میں اس کے مستقبل کا کچھ اور سوچوں۔۔
ان کی بات سنکر سب حیران و پریشان ہو گئے۔۔ سب انہیں منانے لگے مگر وہ نہ مانے۔۔
خوشی نے بھی باپ کے فیصلے کا ساتھ دیا کہ اگر وہ مجھے اس کی موجودگی میں بھی بھیجیں گے تو میں کوئی شرط نہیں رکھوں گی۔۔ مگر ان کی اجازت کے بغیر نہیں جاوں گی۔۔
موویز کا باپ جوش سے بولا، ٹھیک ہے میں نے ہی شادی کروائی تھی اب میں ہی اسے طلاق دلوا کر دم لوں گا۔۔
خوشی کے باپ نے کہا، جو بھی کرنا ہو جلدی کیجیے گا میں اب بیٹی کی عمر نہیں گزار سکتا۔۔
موویز لوگ گھر پہنچے تو ساتھ خوشی کو نہ دیکھ کر موویز کی بیوی نے پوچھا تو سسر نے غصے سے کہا، ان کی شرط ہے کہ پہلے تمہارا گند وہاں سے صاف ہو۔۔
موویز کو دیکھ کر بولے، کل تم اسے طلاق دے دینا۔۔ یہ کہہ کر وہ غصے سے بھرے اندر چلے گئے۔۔
وہ مسکرا کر بولی، کیا پتا ادھر کی صفائی ہو جاے۔۔
موویز نے اسے گھور کر غصے سے دیکھا۔۔
وہ موویز کو مخاطب کرتے ہوئے بولی، چلو تم اپنے کمرے میں اپنی ناکامی کا ساری رات سوگ مناو، میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں سکون سے سونے۔۔
روز منیر صاحب فون کر کے پوچھتے، مگر موویز کے باپ کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا کہ بیٹا الگ کمرے میں سوتا ہے اس سے فالتو بات بھی نہیں کرتا مگر طلاق دینے پر راضی نہیں۔۔
وہ طنز کرتی ہے بیوی بچے کو بھی بلا لو تاکہ مجھے زیادہ لوگوں کو تنگ کرنے میں مزہ آے۔۔
منیر صاحب نے خود بھی آ کر بات کی مگر وہ مختصر بات کر کے انکار کر کے چل پڑا۔۔
ادھر خوشی کے باپ نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔۔
خوشی نے سنا تو تڑپ گئی اور رونے لگی۔۔
بولی، میں طلاق نہیں لوں گی۔۔ مجھے آپ موویز کے گھر بھیج دیں تاکہ میرا بچہ باپ دادا کے زیر سایہ پلے۔۔
باپ نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا، اس کی بیوی تمہارا جینا حرام کر دے گی۔۔ کوئی بعید نہیں کہ بچے کو ہی نقصان نہ پہنچا دے۔۔
وہ بولی، ابو جی، وہاں سب موجود ہوں گے آپ تسلی رکھیں۔۔
ادھر موویز تمہارا ساتھ کھبی نہیں دے گا وہ بزدل انسان ہے۔۔
موویز کے والدین کا ساتھ ہی میرے اور میرے بچے کے لئے کافی ہے۔۔
کسی کے گھر اس طرح بوجھ بن کر رہنے میں مجھے بہت غیرت آتی ہے۔۔
وہ لوگ بےشک بہت اچھے ہیں۔۔ آپ آپا کے پاس چل کر رہیں اور میں سسرال میں۔۔
اسی میں ہم دونوں کی عزت ہے۔۔
ہم ان لوگوں کے احسانات نہیں بھول سکتے۔۔ ہم ان سے ملتے جلتے رہیں گے۔۔ ویسے بھی یہ میرے سسرال کے رشتے دار ہیں۔۔ کسی نہ کسی بہانے ملنا جلنا لگا رہے گا انشاءاللہ۔۔
باپ نے پریشانی سے سانس بھر کر کہا، ٹھیک ہے بیٹا۔۔
میں منیر صاحب سے بات کرتا ہوں۔۔
جاری ہے۔۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.