Aks
Episodes
نوربہت پریشان تھی کہ اس کے شوہر کی ٹرانسفر ایک پہاڑی علاقے میں ہو گٸ تھی۔نور جو بہت نازو پلی نازک سی لڑکی تھی زرا سی آہٹ سے ڑر جاتی تھی پھر اسے اپنے شوہر کے ساتھ پہاڑی علاقے میں رہنے جانا تھا اور سال سے پہلے وہاں سے واپسی مشکل تھی۔ عدنان اس کابچپن کا منگیتر اور اس کا چچازاد تھا ۔دونوں میں دوستی بھی بہت تھی۔ عدنان اس سے کم سے کم چار سال بڑا تھا ۔وہ اسے ایک چھوٹی بچی کی طرح سمجھایا کرتا تھ۔ا۔جب وہ اپنے سسرال کے مجبور کرنے پر عدنان کے ساتھ آنے پر رضامند ہو گٸ مگر وہ پورے راستے عدنان کی جان کھاتی رہی کہ وہ ادھر اکیلی کیسے رہے گی جب آپ آفس چلے جایا کریں گے ۔اور آپ نے بتایا ہے کہ جس گھر ہم جا رہے ہیں وہ کافی عرصے سے بند پڑا ہوا تھا اور ادھر فقط فلحال ایک ہی ملازم ہے جو کک بھی ہے اور چوکیدار بھی ہے۔آپ کوزرا فکر نہٕیں ہے کہ زمانہ کدھر جا رہا ہے میں اکیلی ایک جوان حسین عورت بھلا اکیلی کیسے ایک جوان مرد کے ساتھ سارا دن رہ سکتی ہے۔ وہ جھٹ اکتاے ہوےلہجے میں بولا، ارے یار وہ جوان نہیں ہے درمیانی عمر کا ہے ۔اسی گاوں میں اس کی فیملی بھی رہتی ہے میں جاتے ہی اسے کہہ دوں گا کہ فوراً اپنی فیملی کو پاس بلا لو۔ اب پلیز اس گردان کو بند کرو ، کہ ہاے عدنان میں اکیلی کیسے رہوں گی۔وہ اس کی نقل اتارے ہوئے بولا۔ جواب میں نور نے اس کی طرف روٹھی ہوٸی نظروں سے دیکھا تو وہ مسکرا کر پھر اسے چھیڑنےوالے انداز میں اسی کی نقل اتارتے ہوئے بولا، میں خوبصورت جوان اکیلی ۔۔۔۔اتنا کہنا تھا کہ نور نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر غصے سے اسے دیکھا تو وہ مسکرا کر بولا، یار ڈراٸیو کر رہا ہوں ہاتھ نہ چلاؤ۔ ادھر جا کر مجھے جتنا مرضی مار لینا ۔مار مار کر میرا سانس روک دینا ۔ مجھے وہاں بچانے والا بھی کوٸ نہیں ہوگا۔ وہ شوخی سے بولی، دیکھنا بچوُمیں ایسا ہی کروں گی۔ جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو مغرب ہو چکی تھی وہاں کا ملازم کرم دین دوڑتا ہوا آیا اور آ کر سلام کیا نور کو بھی سلام کیا۔ سلام با جی کہہ کرسامان اتارنے لگا ۔نور کو پہلے دن بلکل ڈر نہ لگا ۔اسلام آباد سے اس کے گھر والوں کے فون آ رہے تھے ۔نور نے سب کو تسلی دی کہ اسے بلکل ڈر نہیں لگ رہا اور کرم دین بھی بہت اچھا ملازم ہے۔ دوسرے دن نور زرا لیٹ اٹھی تو کرم دین کچن میں کام کر رہا تھا۔ وہ کچن میں گٸی اور عدنان کا پوچھا، کرم دین نے بتایا کہ عدنان صاحب تو صبح سویرے ہی چلے گۓ تھے۔ کرم دین مزے کے کڑک پراٹھے پکا رہا تھا۔ وہ پوچھنے لگی کرم دین یہ کس کے لیے پکا رہے ہو۔ وہ بولا، باجی آپ کے لیے ۔صاحب جاتے ہوئے تاکید کر گۓ تھے کہ آپ کو ناشتے میں کڑک پراٹھا پسند ہے۔ اس لیے پکا رہا ہوں۔ نور نے کہا، کرم دین کیا تمہاری فیملی یہاں آ کر نہیں رہ سکتی ۔اتنا بڑا تو سرونٹ کوارٹر ہے۔ وہ خوش ہوتے ہوئے بولا، باجی اگرصاحب جی کہہ دیں تو میں فیملی لے آوں گا بلکہ کل ہی لے آؤں گا۔ نور خوش ہوتے ہوئے بولی، صاحب کو میں کہہ دوں گی تم لانے کی تیاری کرو۔
نور اور عدنان کے چچا آپس میں سگے بھاٸ تھے اور ان کی بیویاں آپس میں سگی بہنیں تھیں۔ سب شروع سے ہی اکھٹے ایک ہی بڑے سے گھر میں رہتے تھے۔ نور اور عدنان دونوں کی اولادوں میں سب سےچھوٹے تھے۔ نور چونکہ سب سے چھوٹی تھی اس لیے سب کی لاڈلی تھی۔ نور زندگی میں پہلی بار گھر والوں سے دور اس طرح اکیلی رہنے آٸی تھی۔ دادا نے سب کو ڈانٹ کر کہہ دیا تھا کہ اب اسے بڑا ہونے دیں کب تک بچی بناے رکھیں گے۔ اب اس کی شادی ہو گٸ ہے اسے زمہ داریاں سیکھنے دیں۔ اس کا شوہر ساتھ ہے تو کیا ڈر ہے ۔ سرکاری ادارہ ہے۔فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ گھر سے کوٸی اس کے ساتھ نہیں جائے گا وہ وہاں اکیلی رہے گی۔ اسے بہادر بنانا ہے اس کاڈر نکالنا ہے۔ عدنان سرکاری افسر تھا۔ اسے ڈراٸیور کی سہولت بھی ملی ہوٸ تھی اس کے علاوہ دو تین سرکاری گاڑیاں بھی ملی ہوٸی تھیں مگر عدنان ایک بہت ہی ایماندار افسر تھا اس نے یہ سب مراعات لینے سے منع کر دیا تھا۔
اگلے دن کرم دین اپنی فیملی کو وہاں لے آیا اس کی ایک بیٹی سولہ سال کی تھی ایک بچہ تیرہ سال کاتھا۔ اس کی بیوی گھر کی صفائی ستھراٸ کرتی تھی اس کی بیٹی اوربیٹا قریبی سرکاری اسکول میں پڑھتے تھے۔ نور کو آے ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ اس کے ساتھ کچھ عجیب وغریب واقعات پیش آ رہے تھے۔ کرم دین کی بیوی کچن میں برتن دھورہی تھی کہ برتن گرنے کی زور سے آواز آٸی۔ اس نے کرم دین کی بیوی کو چند آوازیں دیں اور پوچھا کیا گرا ہے ۔ تھوڑی دیر کے بعد کرم دین کی بیوی نے آ کر سلام کیا ۔ پیچھے ہی کرم دین آ کر سلام کرنے لگا۔ کرم دین کی بیوی پوچھنے لگی بی بی جی پہلےبرتن دھو لوں یا صفائی کروں۔ نور حیرت سے بولی، جو برتن دھو رہی تھی پہلے وہ ختم کرو۔ وہ حیرت سے بولی، بی بی جی میں تو ابھی آٸی ہوں۔ نور کپکپاٸ آواز میں بولی، مگر تم تھوڑی دیر پہلے آٸی اور سلام کر کے برتن دھونے لگی پھر کچھ زور سے گرایا۔ چلو میرے ساتھ برتن آدھے دھلے پڑے ہیں۔ وہ کچن میں اسے لیکر گٸی تو چند پلیٹیں دھلی پڑی تھیں۔ اس نے اشارہ کیا وہ دیکھو چند پلیٹیں دھلی پڑی ہیں۔ وہ شوہر کو آواز دیکر بولی، کرمو بتاؤ بی بی جی کو یہ پلیٹ صاف ہے یا دھلی ہوٸ ہے۔ نور نے بھی جھٹ پوچھا، بتاؤ کرم دین کیا یہ پلیٹ گندی ہے یا دھلی ہوٸ ہے۔وہ جھٹ ہاتھ میں لیکر بولا ، جی یہ گندی چکنی ہے میرا ہاتھ بھر گیا اس نے صابن سے ہاتھ دھویا۔ کرم دین کی بیوی نے اسے بتایا کہ باجی کویہ پلیٹ صاف لگ رہی تھی۔ اور کہہ رہی تھی کہ میں ادھر پہلے سے کھڑی برتن دھو رہی تھی۔جب کہ میں تمہارے ساتھ ابھی آٸی ہوں۔ وہ ایکدم چلا کر بولا، کیا واقعی۔ ان سے پہلے جو فیملی تھی ان کی بیوی کے ساتھ بھی یہی مسلہ تھا۔ وہ بھی اس قسم کی باتیں بہت کرتی رہتی تھی۔ پھر چوکیدار کی بیوی ڈرتے ہوئے بولی، اب تو مجھے ادھر بہت ڈر لگنے لگا ہے۔
شام کو نور کمرے سے باہر دیکھا تو سامنے اس کی بیٹی باہر لگے جھولے پر جھولا جھول رہی تھی ۔اور اسے دور سامنے کالے بڑے بڑے سینگوں والا کالا بھوت نظرآیا ۔نور کو خوف سے کپکپی طاری ہو گٸ۔ پھر ساتھ والے کمرے سے میوزک کی ہلکی ہلکی آوازیں آنے لگیں۔ اتنے میں باہر بیل ہوٸی تو نور خوف سے پوچھنے لگی کون ؟ کرم دین کی بیٹی چلا کر بولی، باجی میں ہوں۔ یہ آپ کے لیے ساگ لاٸ ہوں ۔ نور نے جھٹ دروازہ کھول دیا۔ اور ہکلاتی ہوٸ بولی،جلدی سے اندر آؤ۔ وہ ہاتھ میں ساگ کی پلیٹ پکڑے اسے بولی، باجی کیا بات ہے۔ اس نے کہا، میں ساگ کچن میں رکھ آؤں ۔ نور نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی، نہیں پلیز ادھر سے مت جاؤ۔ پھر ساتھ والے کمرے سے اسے میوزک کی آواز آٸی۔ نور گھبراتے ہوئے جلدی سے بولی، سنو یہ آواز۔ وہ ہنس کر بولی، باجی مجھے تو کوٸی آواز نہیں آ رہی ہے۔ نور نے حیرت سے پوچھا کیا تمہیں کوٸی آواز نہیں آ رہی۔ وہ ہنس کر بولی، باجی امی بھی بتا رہی تھی کہ آپ کچھ پاگلوں جیسی باتيں کر رہی تھیں۔ آپ سے پہلے جو باجی تھی وہ بھی یہی بتایا کرتی تھی کہ اسے کوی کالا بھوت نظر آتا ہے۔ نور نے سنا تو جھٹ بولی، مممجھے ببھی ننظر آیا تھا وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔ اس لڑکی نے کہا،میں کچن میں سے آپ کے لیے پانی اور ٹرے لے آوں آپ یہ گرم گرم روٹی کھا لیں۔ وہ ڈر کر بولی، ٹھہرو میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔ نور ساتھ کچن میں گٸی اور ٹرے نکال کر پانی کا گلاس بھر کررکھ رہی تھی کہ نور کو اندر سے کھٹکے کی آواز آٸی۔اس نے ڈر کر کہا،سنا تم نے ابھی آوازیں آٸی ہیں جیسے کہ۔۔۔ وہ بات کاٹ کر بولی، باجی چلیں آٸیں گرم گرم کھانا کھالیں۔ نورکو بھوک بھی بہت لگی ہوٸ تھی ۔یہاں فون کے سگنل کا بھی مسلہ تھا۔ فون کے سگنل باہر آتے تھے اور اسے دن کے وقت بھی باہر نکلتے ڈر لگتا تھا۔ نور نے جلدی جلدی روٹی کھاٸی۔ اور پانی پیا۔ نورنے اسے کہا، مجھے ایک کپ چائے بنا کر دو۔ پھر نور نے اس سے پوچھا تم شام کو جھولا جھول رہی تھی۔ کیا باجی آج تو مجھے فرصت ہی نہیں ملی گھر سے نکلنے کی۔ نور اسے باہر دھکیلتے ہوئے بولی، اچھا تم جاؤ میں خود چائے بنا لوں گی۔ اسے چائے کی بھی ہوش نہ رہی وہ کمبل میں دبک کر لیٹ گٸ۔ لیٹے لیٹے سو گٸ۔
عدنان رات کو گھر آتا تھا وہ کہتا کہ کام بہت ہے۔اسے اپنے دادا پر غصہ آ رہا تھا جنہوں نے اسے بہادر بنانے کے چکر میں اس کی جان لینے کی ٹھان لی تھی۔ گھر میں دادا کا ہی حکم چلتا تھا ان کی مرضی کے بغیر کوٸی کچھ نہیں کرتا تھا۔ دادا نے اسے سمجھایا تھا کہ کوٸی بھوت پریت نہیں ہوتے ۔یہ سب ہماری زہن کی پیداوار ہوتے ہیں۔ جو بھی تصور کرووہی نظر آنے لگتا ہے۔ جتنا انسان ڈرتا ہے وہ سوچیں اس پر حاوی ہو جاتی ہیں پھر وہی چیزیں اسے چلتی پھرتی بھی نظر آتی ہیں۔ بس اللہ تعالی کا کلام پڑھتے رہو کلمہ ہی پڑھنے لگو تو ڈر ختم ہو جاتا ہے۔
وہ غصے سے سوچتی ہوٸی بولی، اگر دادا کو میری طرح چیزیں نظر آٸیں نا تو ان کی ساری بہادری دھری رہ جاے۔ ایسے موقعوں پر تو کلمہ بھی بھول جاتا ہے۔
مغرب کے وقت وہ جب کھڑکیوں کے پردے آگے کرتی تو اسے وہی کالا بھوت دور کھڑا نظر آتا۔ وہ عدنان سے گلہ کرتی کہ تم یہاں آ کر بہت مصروف ہو گۓ ہو۔کہیں گھومانے بھی نہیں لے کر جاتے۔ وہ کہنے لگا ایک سنڈے کی چھٹی ہوتی ہے مشکل سے سونے کا موقع ملتا ہے۔ زرا کام سنبھل جائے پھر تمہیں گھمانے لیکر جاوں گا۔
نور دوپہر کو دھوپ میں نکلتی ۔اور کرم دین اسے دھوپ میں کرسی رکھ دیتا اور وہ وہاں بیٹھ کر گھر والوں سے باتیں کرتی ۔اس نے سوچا تھا کہ وہ اپنے ڈر والی باتیں کسی کو نہیں بتائے گی اس کی ماما پہلے ہی اس کے لیے بہت تڑپتی ہیں پریشان رہتی ہیں وہ آ بھی نہیں سکیں گی اور بیمار پڑ جاٸیں گی۔ میں بھی یہاں سے جا نہیں سکتی۔ عدنان کو چھٹی بھی نہیں مل سکتی کام بہت ہے۔دادا نے سختی کی ہوٸی ہے کہ اسے اپنے پاس رکھنا ادھر مت بھیجنا۔ ورنہ یہ ساری زندگی اپنی زمہ داریاں نہیں نبھا سکے گی۔ بےشک ملازم بھی ہوں مگر ان کو بھی بار بار کہنا پڑتا ہے۔ نور نے سوچا واقعی اسے کرم دین کی بیوی کو کپڑے دھونے کا کہنا پڑتا ہے پھر کپڑے اتارنے کا یاد دلانی پڑتا ہے۔پھر کپڑے پریس کرنے کا بھی کہنا پڑتا ہے۔ آہستہ آہستہ نور گھرداری سیکھتی جا رہی تھی۔ مگر وہ بھوت کے نظر آنے سے بہت تنگ تھی۔ گرمیوں کا سیزن تھا۔ نور قدرت کے اس حسین نظارے کو بہت دلچسپی سے دیکھتی تھی ویسے بھی اسے یہ قدرتی نظارے بہت پسند تھے۔ وہ ان کی تصویریں بناتی رہتی تھی۔ وہ ماں کو زبردستی مسکرا کر سیلفیاں اور تصویریں بھیجتی رہتی تھی تاکہ ماں کو لگے کہ میں یہاں بہت خوش ہوں۔ اسے سب بہت یاد آتے تھے اور وہ اکیلے میں خاص طور پر ماں کو یاد کر کے رو بھی پڑتی تھی۔
سوائے کرم دین کے اس کی فیملی مغرب سے پہلے سارے کام کر کے چھٹی کر کے چلی جاتی تھی۔ نور کو ماں کہتی کہ ہانڈی خود پکایا کرو۔نیٹ پر ترکیبیں دیکھ کر نئی نئی چیزیں پکایا کرو تاکہ وقت گزرنے کا احساس نہ ہو اور دل بہلا رہے۔ وہ کس کے لیے پکاتی۔ عدنان کھا کر آتے اور تھکے ہوئے ہوتے تو سو جاتے۔ اس نے چیزیں پکانی شروع کیں اور کرم دین کی بیٹی کو دیتی کہ گھر لےجاو سب کو کھلادو۔ وہ بہت تعریف کرتی ۔کرم دین بھی تعریف کرتا ۔اس کی بیوی نے کہا، کہ میری بیٹی کو بھی سکھا دیں۔ مگر اسے بہت حیرت ہوٸی جب اس کی لڑکی شام کو اس کے پاس آٸی۔ کام کوٸی نہ تھا گپ شپ لگاتی رہی پھر چائے بنا کر لائی۔ دوسرے دن وہ آ کر معزرت کرنے لگی کہ کل نہیں آ سکی۔ نور بہت حیرانی سے بولی، تم بھول رہی ہو کل ہم نے چائے بھی اکھٹی پی تھی۔وہ حیرت سے بولی، باجی کل تو میں اپنے رشتے داروں کے گھر گٸ ہوٸی تھی وہاں میری نانی ہوتی ہیں بہت گلے کرتی ہیں کہ آتی نہیں۔ نور جواب میں چپ کر گٸ۔
اس کی ماں صفائی کر کے گٸ توشام کو کرم دین نے کہا، باجی وہ میری بیوی کل سے ماں کے گھر گٸ ہوٸی ہے اس کی طبعیت خراب ہے کیا میں گھر کی صفائی آج کر دوں۔ نور نے حیرت سے کہا، کیسی باتیں کر رہے ہو دو گھنٹے پہلے اس نے صفائی کی ہے۔ کرم دین پریشان ہو کر بولا، باجی آپ مجھے پاگل کر دیں گی بہت ڈراونی باتیں کرتی ہیں۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے چلا گیا۔ نور اب اس کی فیملی سے بھی ڈرنے لگی۔ اس نے خود کام کرنے شروع کر دیے تھک جاتی ۔مگر پھر ہمت کرتی۔ کرم دین سے بھی کھانا پکوانا چھوڑ دیا ۔کپڑے دھونے والی مشین بھی ڈیجیٹل تھی۔ وہ دھوتٕی اور پنکھے لگا کر سکھا لیتی۔ اسے کام کرنے میں مزہ آنے لگا مگر اسے بھوت اکثر نظر آتا۔ ایک دن کھڑکی سے اس نے اس کی تصویر لے لی۔ اس نے عدنان سے کہہ کر گھر کے لاک تبدیل کروا لیے کہ اس لاک کی چابی ہو سکتا ہے کسی اور کے پاس بھی ہو۔ کیونکہ کرم دین کہتا تھا کہ ایک ہی چابی ہے مجھے نہیں علم۔ ہو سکتا ہے پچھلی فیملی سے گم ہو گٸی ہوں۔ سارا دن اب اس کا کام کاج میں گزر جاتا۔ عدنان کے کپڑے دھوبی کے ہی جاتے اور پریس ہو کر آتے۔ نور کو اب گھر کے کاموں میں مزہ آنے لگا۔ کرم دین کی بیوی رو رو کر کرکہنے لگی ہم سے کوٸی غلطی ہو گٸ ہے ۔کرم دین بھی پریشان تھا ۔نور نے انہٕیں تسلی دی کہ جب کام کروانے کی ضرورت ہوٸی تو بلا لوں گی ۔اور تم لوگوں کوتنخواہ ملتی رہے گی فکر نہ کرو۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.