Loading...
Logo
Back to Novel
Aks
Episodes
Aks

عکس 2

From Aks - Episode 2

نور نے بھوت کی تصویرتو لے لی مگر اب ڈر کر اسے نہ دیکھتی۔ اس کا موبائل بھی بہت مہنگے والا تھا۔ نور نیچے کھڑکی کا پردہ ٹھیک کرنے لگی تو عین کھڑکی کے باہر اسے وہی بھوت نظر آیا جو اسے نور نور کہہ کر پکار رہا تھا۔ نور اس قدر خوفزدہ ہوٸی کیونکہ عدنان نے میسج کیا تھا کہ وہ راستے میں ہے۔ نور نے چیخیں مار کر گھر سے باہر روڈ پر تیزی سے بھاگنا شروع کر دیا۔ تیزی سے بھاگنے پر اس کو کسی بڑے پتھرسے ٹھوکر لگی ۔اور پاو ں زخمی ہو گیا۔

پاؤں پر چوٹ کی وجہ سے بھاگ تو نہیں پا رہی تھی مگر اسکے چلنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ پاؤں کی چوٹ کا درد اسے محسوس تک نہیں ہو رہا تھا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو گھر کافی پیچھے رہ گیا تھا اور رات کی تاریکی میں اسے بس صرف لائٹ نظر آ رہی تھی۔ نور اتنی خوفزدہ تھی کہ اسے ٹھنڈ بھی محسوس نہ ہو رہی تھی۔ وہ گھر سے تو بہت دور آ گئی تھی مگر اسکے دل کی دھڑکن ابھی بھی بہت تیز تھی۔ دور دور تک اسے سڑک پر کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ اور تیز چلنے لگی اور عدنان کو دل میں کوسنے لگی۔ عدنان کے گھر آنے کا وقت ہو چکا تھا۔ نور اتنا سہم چکی تھی کہ اس کو یہ بھی یاد نہیں آ رہا تھا کہ اس نے اپنا فون گھر میں چھوڑ دیا ہے یا راستے میں کہیں گرا دیا ہے۔ اکیلے گھر پر واپس جانے کا تو وہ اب سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور سڑک پر بھی کوئی نظر نہیں آرہا تھا جو اسکی مدد کر سکے۔ اسکے دل کو امید تھی کہ ابھی عدنان آفس سے لوٹتا ہی ہوگا اور جیسے ہی یہاں سے گزرے گا وہ اسے راستے میں ہی روک لے گی اور سارا ماجرا بتائے گی۔ نور کے قدم آہستہ ہوتے ہوتے رک گئے اور اب وہ سڑک پر خوفزدہ کھڑی تھی۔ اسے یقین تھا کہ اس جنگل نما جگہ پر اور تو کوئی نہیں صرف اب عدنان ہی نظر آئے گا۔ اسکے پاؤں کا درد اب اسے محسوس ہونے لگا تھا۔ اسے دل چاہ رہا تھا کہ وہ اب سڑک پر ہی بیٹھ جائے مگر اس پر بےچینی ایسے طاری تھی کہ وہ کھڑی ہی رہی۔ کچھ ہی دیر بعد اسے دور سے ایک گاڑی کی لائٹ نظر آنے لگی۔ اسکی جان میں جان آنے لگی۔ اسکے دل میں ایک امید پیدا ہوئی کہ یہ ضرور عدنان ہوگا۔ دفتر سے لوٹ رہا ہوگا۔ گاڑی ابھی کچھ دور تھی اور نور کی بےچین آنکھیں اس گاڑی کی ماند سی لائٹ پر نظر ڈانے ہوئے تھی کہ اچانک نور کو اسکے پیچھے سے کسی کی ایک آواز سناٸ دی بھاری سی آواز آٸ،"سنو"۔نور کے کانوں میں جیسے ہی وہ آواز پڑی تو اسکے ہوش اڑھ گئے۔ اسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اسے یقین نہین آ رہا تھا کہ اس ویران علاقے میں اسے کسی کی آواز کیسے سنائی دی۔ نور کا جسم جیسے حرکت ہی چھوڑ بیٹھا تھا۔

اسکا ذہن ابھی اسی کشمکس میں تھا کہ اسکو دوبارہ آواز آئی، "سنو"۔ اب یہ آواز اتنے قریب سے آئی کہ جیسے کوئی عین اسکے پیچھے کھڑا ہو۔اب یہ آواز سنتے ہی اسنے لنگڑاتے ہوئے ہی دوڑ لگا دی۔ گاڑی کے قریب آتے ہی زور زور سے چلانے لگی، "عدنان بھوت، عدنان بھوت۔۔۔"۔ عدنان نے جیسے ہی نور کو گھر سے کوسوں دور سڑک پر رات کو اکیلے دیکھا تو وہ چکرا گیا۔ فوراً گاڑی روکی اور گاڑی سے اتر کر جیسے ہی باہر آیا نور وہیں سڑک پر بے ہوش ہوگئی۔ عدنان نے اسے گاڑی میں بٹھایا۔ اس نے دیکھا کہ اسکے پاؤں پر گہری چوٹ تھی اور کافی خون بہہ رہا تھا۔ عدنان نے فوراً سے میڈیکل کٹ نکالی اور اسکی مرہم پٹی کرنا شروع کردی اور مسلسل یہی سوچتا رہا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ پڑھا لکھا ہونے کے ناطے اسے یہ بات تو ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ کوئی بھوت پریت ہو سکتا ہے مگر وہ اپنی بیوی کی یہ حالت دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا۔ پاؤں پر پٹی کرتے ہی اس نے گاڑی گھر کی جانب بڑھا دی۔ نور ہوش میں آتے ہی چلانے لگی، "میں نے کہا تھا نا عدنان اس گھر میں کچھ عجیت حرکتیں ہو رہی ہیں اور آپ نے میری بات نہیں مانی۔ اب اور کیا دیکھنا رہ گیا ہے۔" عدنان بےچینی سے بولا، "آخر ہوا کیا ہے؟ کچھ بتاؤ توسعی۔" نور غصے سے آگ بگولہ ہو کر بولی، "بتایا تو ہے کہ گھر میں بھوت ہیں۔ آپ کو کیوں نہیں سمجھ آرہی؟" عدنان نے اسکی یہ بات دل میں رد تو کردی مگر نور کی حالت کو دیکھتے ہوئے خاموش ہوگیا۔ گھر کے سامنے آچکے تھے۔ گھر کا گیٹ پورا کھلا تھا۔ عدنان کچھ نہیں بولا۔ اتر کر عدنان نے نور کو کندھا دیا اور گھر کے اندر داخل ہونے لگے۔ دروازے سے اندر آتے ہی عدنان نے دیکھا کہ سامان سارا بکھرا پڑا تھا۔ چیزیں یہاں سے وہاں تھیں۔ نور کو صوفے پر بٹھا کر تیزی سے کمرے کی جانب بڑھا۔ نور زور سے بولی، "پلیز مجھے اکیلا مت چھوڑ کر جائیں۔" عدنان نے جواب دیا،"کہیں نہیں جا رہا۔ یہیں پر ہوں۔ قیمتی سامان دیکھ رہا ہوں۔ گھر میں دروازہ کھلا رہنے کی وجہ سے چور آگئے ہیں اور سارا سامان بکھیر دیا ہے۔ برتن بھی توڑ دئیے ہیں۔ نہ جانے کیا کیا لے گئے ہوں گے۔ تمام قیمتی چیزیں تو موجود ہیں۔ یہاں تک کہ میرا لیپ ٹاپ بھی جو سامنے ٹیبل پر پڑا ہے۔ نورتمہیں پاؤں پر چوٹ کیسے لگی؟"

عدنان کو جلدی تھی کہ وہ جلد سے جلد نور سے معاملے کی تحقیق کرے اور پھر پولیس کو فون کرے مگر نور سیدھے منہ جواب ہی نہیں دے رہی تھی۔ ابھی تک شاک میں تھی۔ بس ہر بات کا ایک ہی جواب دے رہی تھی کہ گھر میں کچھ ہے۔ عدنان نے اسکو دوا دی اور کافی تسلی دی، "میں اب آگیا ہوں اب کچھ نہیں ہوگا۔ مجھے تسلی سے بتاؤ کہ کیا ہوا۔" نور روتے ہوئے اور ہچکیاں لیتے ہوئے بتانے لگی،"مجھے شام سے ہی گھر میں کچھ محسوس ہونے لگ گیا تھا۔ میں کچن میں کھانا بنا رہی تھی کہ اچانک سے مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ کچن کے باہر کوئی کھڑا ہے اور آہستہ آہستہ سے کچن کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ میں اس ویران علاقے میں اتنے بڑے گھر میں بالکل اکیلی تھی۔ کرم دین کی بیوی بھی روشنی روشنی میں سارے کام نپٹا کر نکل جاتی ہے۔ مسلسل دستک کی آواز آتی رہی اورپھر ایسا لگنے لگا کہ کوئی سرگوشی میں کچھ بول رہا ہو۔ میں دروازے کے قریب گئی تو مجھے ایسا لگنے لگا جیسے کوئی مرد اور عورت دونوں کی آواز میں میرا نام لے کر مجھے پکار رہا ہو۔ نور، نور، نور۔۔۔" ابھی نور یہ بول ہی رہی تھی کہ اچانک گھر کے دروازے پر زور زور سے دستک ہونے لگی۔

عدنان نے دروازہ کھولا تو کرم دین کھڑا تھا وہ بولا ، صاحب جی سب خیریت ہے نا۔ میں نے باجی کو تیزی سے سڑک پر بھاگتے دیکھا تو سخت فکر لگی اور ان کے پورشن کے دروازے بھی کھلے ہوے تھے۔ میں نے انہیں روڈ پر تیزی سے بھاگتے دیکھا تو ان کے پیچھے پیچھے جاتا گیا اور آوازیں بھی دیں۔ مگر انہوں نے سنا ہی نہیں۔

نور دوائيوں کے اثر سے سو رہی تھی۔ عدنان نے کرم دین سے کہا، میں ابھی پولیس کو بلاتا ہوں۔ کرم دین جھٹ بولا، سر جی پولیس کو بلانے کی کیا ضرورت ہے ویسے ہی روز پولیس آ کر پوچھ گچھ کرتی رہے گی اور باجی مزید ڈر جاٸیں گی۔ بہتر ہے ان کو لیکر آپ ادھر سے چلے جاٸیں اس جنگل میں کیوں بور ہونے آ گئے ہیں۔ شہر میں رہیں تاکہ باجی بھی خوش رہیں۔ آپ بھی گھر والوں سے دور ہیں اور باجی بھی ڈرتی رہتی ہیں۔اگر آج انہیں کچھ ہو جاتا تو۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ یہاں سے فوراً ادھر سے ٹرانسفر کروا لیں۔عدنان نے کہا، اچھا دیکھتا ہوں تم ادھر سے سب صفائی کر دو۔ ٹھیک کہتے ہو پولیس کو نہ ہی بلاؤں۔نور مزید ڈر جاۓ گی۔ کرم دین جوش اور خوشی سے بولا، جی صاحب جی پولیس کے چکروں میں پڑنا ہی نہیں چاہئے۔ عدنان نے اکتاتے ہوئے کہا، جلدی سارا کچھ سمیٹو اور جاؤ مجھے سخت نیند آ رہی ہے۔ کرم دین بولا، صاحب چائے پئیں گے۔ نہیں یار جلدی کام ختم کر کے جاؤ۔ عدنان نے برہمی سے کہا۔

رات کو فکر کرتے ہوئے سوچتے سوچتے عدنان اس نتیجے پر پہنچا کہ میرے لیے نور کی زندگی سب سے زیادہ اہميت رکھتی ہے آج اگر اسے کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتا اس کے بغیر کیسے جیتا۔کرم دین سہی کہتا ہے کہ سارا دن بےچاری اکیلی ڈرتی رہتی ہے۔ آجکل میرا کام بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ کیا کروں ۔بس جوں ہی میرا کام مکمل ہوا تو میں اسی وقت یہاں سے ٹرانسفر کروا دوں گا۔رات کو نور کی آنکھ کھل گٸ ۔عدنان گہری نیند سورہا تھا۔ نور کھڑکی کے پاس بیٹھی وڈیو بنا رہی تھی۔ اس نے نیا سوٹ پہنا تھا سوچا وڈیو بنا کر گھر والوں کو بھیجے گی۔ اسے خیال آیا کہ کھڑکی کا پردہ ڈال دے۔ فون آن تھا کھڑی کے پاس مرد اور عورت کی نور نور پکارنے کی آوازیں آنے لگیں۔ اس نے موبائل ڈر کر پھینکا تو وہ صوفے کے نیچے گر گیا تھا ۔اب نور جاگی تو موبائل کا خیال آیا۔ ڈر بھی بہت لگ رہا تھا مگر عدنان کی موجودگی کی وجہ سے تسلی بھی تھی ڈرتے ڈرتے لاونج میں گٸ اور موبائل اٹھایا جو آن ہی تھا۔ اس نے سوچا دیکھوں اس میں کیا بھرا گیا ہے ۔ہو سکتا ہے ان جن بھوت کی آوازیں بھری گٸ ہوں۔ واقعی آوازیں بھری جا چکی تھیں۔ جب مزید آگے سنا تو کرم دین اور اس کی بیوی کی آوازیں تھیں کرم دین بیوی سے کہہ رہا تھا وہ ہماری آوازوں سے ڈر کر بھاگ گٸ ہے تم کچھ سامان بکھیر دواور تھوڑے برتن توڑ دو۔ میں اس کے پیچھے جاتا ہوں۔ نورنے پھر بھوت والی تصویر دیکھی اسے زوم کیا تو ہاتھ اسے کرم دین کے لگے۔ اب اس کو سب سمجھ آ گیا تھا کہ کرم دین اور اس کی فیملی اسے ڈرانے میں ملے ہوئے تھے۔ اکثر اس کی فیملی اسے یہاں سے شوہر کو ٹرانسفر کروا کر جانے کا کہتی رہتی تھی۔ کیونکہ عدنان ایمندار افسر تھا اور ادھر بہت گپلے ہوئے تھے۔ جن کو عدنان درست کرکے کارواٸی کر رہا تھا۔ کرم دین کو لالچ دیا گیا تھا۔ اس نے سوچا اب میں کھبی نہیں ڈروں گی اور عدنان کا ساتھ دوں گی۔ تاکہ ہم جیسے ڈر کر بےایمانوں کو اور موقعےنہ دیں۔ اگراس راہ میں موت ہو بھی گٸ تو جنت ملے گی۔ مرنا تو ویسے بھی ایک دن ہے تو کوٸی اچھا کام کر کے جان دی جائے جو ثواب بھی ملے۔اس نے سوچا وہ عدنان کو ابھی کچھ نہیں بتائے گی۔فجر کی اذان ہو رہی تھی۔ اس نے وضو کیا اور نماز پڑھ کر اللہ تعالی سے دعا کی کہ عدنان کو کامیابی ملے اور اس کو اپنے حفظ وامان میں رکھنا۔ عدنان نے کروٹ لی اور نور کو نہ پا کر پریشان ہو کر ننگے پاوں باہر آیا تو وہ مصلحے پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی۔ کہ عدنان کو دیکھ کر مسکراٸی۔ وہ اسے مسکراتا دیکھ کر لمبی سانس بھر کر بولا، تم نے تو میری جان نکال دی تھی۔ پاؤں کا درد اب کیسا ہے۔ وہ اتراتی ہوٸی بولی، ارے ان چھوٹی موٹی چوٹوں سے مجھےکوٸی فرق نہیں پڑتا ۔عدنان نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا، تمیں ایک خراش بھی آ جاتی تھی تو قیامت مچا دیتی تھی۔ سارا گھر پریشان ہو کر کھڑا ہو جاتا تھا اب اتنی بڑی چوٹ لگی ہے تو تمہیں پرواہ ہی نہیں ہے۔کیا لاڈ اٹھانے کے لیے گھر والے موجود نہیں ہیں میں تو ہوں۔ نور نے کہا، آپ اپنے کام پر دھیان دیں مجھے نازک نہ بناٸیں۔ میں اب جنوں بھوتوں سے بھی ڈرنے والی نہیں۔ عدنان نے کہا، لگتا ہے کہ تمہارے دماغ پر اثر ہو گیا ہے۔اب تمہیں جلد گھر بھجوانا پڑے گا۔ وہ چلاکر بولی، کھبی نہیں۔میں اب نہ گھر سے کسی کو بلاؤں گی اور نہ ہی یہاں سے جاؤں گی۔ اور نہ ہی وقت سےپہلے آپ ٹرانسفرکراٸیں گے۔ آپ جلدی سے نماز پڑھ لیں لیٹ ہو رہی ہے میں ناشتہ بناتی ہوں پھر سب بتاتی ہوں۔ وہ ناشتہ بنانے چل پڑی۔ اس نے سوچا اگر عدنان کو سچائی نہ بتاٸی تو یہ مجھے ضرور گھر بھجوا دیں گے۔ بہتر ہے انہیں سب بتا دیا جاۓ۔ اس نے پراٹھے آملیٹ اور چائے بنا کر عدنان کو آواز دی کہ ناشتہ کر لیں۔ وہ ناشتہ دیکھ کر حیران ہوا اور بولا، اتنا اچھا ناشتہ اوروہ بھی اتنی جلدی بنا لیا۔ نور نے کہا، پریکٹس ہو گٸ ہے جب گھر کے اتنے کام کرو تو پھر جلدی ہو جاتے ہیں۔ میں خود اب سارے کام کرنے لگی ہوں۔ پھر ناشتے کے دوران اس نے عدنان کو سب بتا دیا پھر فون بھی دیکھایا ۔عدنان بہت حیران ہوا۔ اور ڈرنے بھی لگا کہ ملازم بھی مجرم ہے۔ میں اب تمہیں یہاں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔ رات کو ہی میں نے سب کو میسج کر دیا تھا آج سب آ رہے ہیں۔ کچھ دن رہیں گے پھر ہم اکھٹے واپس جاٸیں گے۔میرا مشن یہاں پر ختم ہو گیا ہے مجرم پکڑے گۓ ہیں میری بھٕی ٹرانسفر ہو گٸ ہے۔کرم دین بھی آج گرفتار ہو جاۓ گا۔ اس لیے اب سب چند دن رہیں گے پھر ہم اکھٹے واپس جاٸیں گے۔ نور خوش ہو گٸ۔ اور اللہ پاک کا شکر ادا کرنے لگی۔

ختم شد


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books