Loading...
Logo
Back to Novel
Bay Zabaan Phool
Episodes
Bay Zabaan Phool

بےزباں پھول 1

From Bay Zabaan Phool - Episode 1

سعد چاچو چلیں ناں آئیں ناں لان میں میرے ساتھ فٹ بال کھیلیں۔

سعد کا چھ سالہ بھتیجا اس کے ساتھ ضد کر کے اسے بلانے لگا۔

سعد نے اس کے گال تھپتھپا کر کہا،

چلو میرے باس۔

وہ خوشی سے ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ چلنے لگا۔

بھائی نے کہا، سعد تم جاب کی سناو نئی جاب کیسی جا رہی ہے۔

وہ بولا زبردست جا رہی ہے۔

بھتیجا پھر چاچو کو باہر کی طرف کھینچنے لگا چلیں ناں۔

سعد نے کہا، میں پہلے یہ نوکری پوری کر لوں، یہ باس زیادہ سخت ہے پھر بتاتا ہوں۔

دونوں مسکرانے لگے۔

سعد کے بھائی نے بیٹے کو پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا بیٹا چاچو کو تنگ نہ کرو۔

سعد مسکراتا ہوا بولا، یہ واحد باس ہے جس کے تنگ کرنے سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

بھابھی بولی،

جمیلہ ماسی چاے بنا رہی ہے جلدی آ جانا ورنہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔

وہ اچھا کہہ کر نکل گیا۔

دونوں فٹ بال کھیل رہے تھے کہ بال کھیلتے کھیلتے ساتھ والے گھر میں گر گیا۔

سعد کا بھتیجا پریشانی سے بولا، چاچو مجھے بال چاہیے۔

چاچو نے کہا، ابھی جمیلہ ماسی کو کہتے ہیں وہ ساتھ والے گھر سے لے آئیں گی۔ مگر وہ ضد کرنے لگا کہ ابھی چاہیے۔

سعد نے باہر نکل کر ڈرتے جھجکتے بیل کی۔

ایک انکل نکلے۔

سعد نے سلام کیا اور بتایا کہ ہم ساتھ والے گھر میں نیے آئے ہیں اور غلطی سے۔۔۔۔

بھتیجا جلدی سے چاچو کی بات کاٹ کر بولا، انکل ہمارا بال لا دیں۔

وہ مسکرا کر آواز دے کر بولے، رملہ، شیما بیٹا کوئی ہے بال پکڑا جاو۔

شیما مسکراتی ہوئی بال اٹھا کر آئی۔ اس نے سعد کو دیکھا،

باپ نے اسے دیکھ کر کہا، بیٹا یہ ہمارے نیے پڑوسی ہیں۔

شیما نے سلام کیا۔

سعد نے  کہا، وعلیکم السلام بیٹا کیسی ہیں آپ۔

وہ مسکرا کر گردن ہلا کر بولی، جی میں ٹھیک ہوں۔ یہ آپ کا بیٹا ہے۔ بہت کیوٹ سا ہے۔

سعد نے کہا، نہیں میری ابھی شادی نہیں ہوئی ہے یہ بھتیجا ہے۔

وہ انکل ساجد بولے، بیٹا کیا کرتے ہیں آپ۔

سعد نے بتایا کہ وہ سول انجینئر ہے ابھی ابھی جاب لگی ہے۔

شیما بچے کو اندر لے گئی تھی۔

سعد نے بتایا کہ میرے والدجہانگیر  صاحب سریٹائرڈ کرنل ہیں۔ مجھ سے بڑے بھائی اور ایک بڑی بہن ہے۔ دونوں شادی شدہ ہیں۔

بہن بھی پچھلی لائن میں رہتی ہے۔

بھائی بھی سول انجینئر ہی ہیں ان کے آفس میں ہی مجھے جاب ملی ہے۔

شیما کے والد نے بتایا کہ میرے بھی تین بچے ہیں۔ بڑا بیٹا شادی شدہ ہے اور پھر دو بیٹیاں ہیں جن کی ابھی شادی کرنی ہے۔ بڑی نے ایم بی اے کیا ہے اور چھوٹی میڈیکل کالج میں پڑھ رہی ہے۔

اتنے میں شیما بچے کو باہر لائ، جس کے ہاتھ میں چاکلیٹس تھیں۔

سعد نے کہا، بیٹا یہ کیا آپ نے آپی سے چاکلیٹ مانگی تھی۔

وہ جلدی سے بولا، نہیں آپی نے خود دی تھی۔

سعد نے کہا، آپ تو بال لینے گئے تھے بری بات۔ آپ نے تھیک یو بولا،

شیما اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولی، بہت کیوٹ ہے۔

ہمارے بھائی کا بھی اتنا ہی بڑا بچہ ہے۔ وہ دوسرے سٹی میں رہتے ہیں۔ ہم سب اسے بہت مس کرتے ہیں۔ آپ اسے پلیز بھیج دیا کریں۔

سعد نے کہا، آپ تو ڈاکٹر بن رہی ہیں آپ کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے۔

وہ بولی، بس وقت نکال لیتی ہوں۔

انکل بولے، بیٹا اپنے والد صاحب سے میرا سلام کہنا، انہیں کہنا ملنے آئیں یا میں آ جاوں گا۔

سعد نے خوشدلی سے خوش ہوتے ہوئے کہا، جی ضرور انکل، آپ جب چاہیں آئیں،

بابا تو chess کے بہت شوقین ہیں۔

انکل خوش ہوتے ہوئے جوش سے بولے، ونڈرفل میں بھی بہت شوقین ہوں اب تو ان سے ملنا ہی پڑے گا۔

ٹھیک ہے کل ان سے ملاقات کرتا ہوں میں۔

سعد نے کہا جی ضرور،

پھر شیما سے مخاطب ہو کر بولا، بیٹا آپ بھی آنا ناں۔

وہ مسکرا کر بولی، اب تو آنا ہی پڑے گا اپنے ننھے دوست سے ملنے۔

اتنے میں رملہ اپنی ماں کے ساتھ باہر نکلی،

سعد کو دیکھ کر تھوڑی سی جھجکی۔

اس کی ماں نے جب سعد کو دیکھا تو انکل نے کہا، ارے بیگم، یہ برخوردار اپنے نیے پڑوسی ہیں۔

سعد نے ادب سے سلام کیا۔

وہ آگے بڑھ کر بڑے تپاک سے ملیں۔

سعد نے رملہ کو ہلکہ سا سلام کہا،

اس نے ہلکی سی گردن ہلا کر جواب دیا۔ پھر وہ گاڑی کی چابی اٹھائے گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔

سعد رملہ میں جیسے کھو گیا۔ ایسا معصوم حسن اس نے کسی میں نہ دیکھا تھا۔ اس کا دل دھڑکنا بھول گیا۔

انکل ساجد نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی شادی طے کر دی ہے۔ اپنے دوست کے بیٹے کے ساتھ۔ اس کی تیاری کر رہے ہیں۔ شاپنگ کرنے جا رہے ہیں۔

سعد کے دل میں طوفان غم جیسے بھر سا گیا۔ اس کی منزل قریب آتے آتے دور ہو گئی۔

رملہ اور اس کی ماں گاڑی میں بیٹھ کر چل پڑیں۔

سعد انکل ساجد کو خدا حافظ کہہ کر بھتیجے کا ہاتھ پکڑ کر اندر چل پڑا۔

وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا بھابھی نے آواز دے کر چائے کا بولا تو وہ جلدی سے بولا، بھابھی میں زرا لیٹنے لگا ہوں اٹھ کر پی لوں گا۔

اپنے کمرے میں آ کر بھی وہ رملہ کے مطلق سوچتا رہا۔

گھر والوں نے کتنی لڑکیاں دیکھا کر اس کی شادی کرنا چاہی مگر کوئی اس کے دل کو نہ بھائی۔

آج پسند بھی آئی تو وہ کسی اور کی ہونے جا رہی تھی۔

جہانگیر صاحب اور سعد انکل میں خوب دوستی ہو چکی تھی۔

دونوں گھرانوں کی لیڈیز میں بھی آپس میں آنا جانا شروع ہو چکا تھا۔

گھر میں رملہ کی  شادی کا اکثر تزکرہ رہتا۔

سعد کی بھابھی اکثر رملہ کا تزکرہ چھیڑ دیتی۔

سعد کی بہن بھی ان سے مل چکی تھی اب وہ بھی ان باتوں میں دلچسپی لیتی۔

وہ میکے گھر کے قریب رہتی تھی اور روز چکر لگاتی تھی۔

شام کو وہ اور اس کی بھابھی بچوں کو قریبی پارک لے کر جاتیں۔

سعد کی بہن کا چند ماہ کا بچہ تھا۔ اکثر وہ دیکھتیں کہ رملہ اور شیما ماں کے ساتھ پارک میں آتیں۔

شیما بہت خوش مزاج تھی جبکہ رملہ سنجیدہ رہتی۔

پارک میں شیما ان لوگوں کو دیکھ کر بھاگتی قریب آتی اور تپاک سے ملتی۔

آج پھر سعد کی بھابھی رملہ کا زکر لے بیٹھی کہ بے چاری کتنی خوبصورت ہے مگر گونگی ہے۔ پھر بھی اس کے باپ کے دوست نے آرام سے رشتہ کر لیا۔

سعد کی بہن بولی، خوبصورتی دیکھ کر  لی ہو گی ناں۔

بھابھی بولی، یہ بات تو ہے۔

سعد کی بہن آہ بھر کر بولی، کاش ہمیں بھی سعد کے لیے کوئی اس جیسی خوبصورت لڑکی مل جائے۔

سعد کی ماں جھٹ بولی، اللہ نہ کرے اس جیسی گونگی توبہ توبہ۔


شعر۔


شام ہوتے ہی گھر کی طرف دوڑا چلا جاتا ہوں

اک آس لگی رہتی ہے کہ شاید خواب میں تو آے۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books