Bay Zabaan Phool
Episodes
سالگرہ پر رملہ سعد کے بھتیجے کے لیے ریموٹ جیپ اور سوٹ لائ۔ اس کے ساتھ اس کی بہن کے لیے ایک چھوٹا سا گھر جس میں وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے سجا ہوا تھا۔ اور سعد کی بہن کے بچے کے لئے بچنے والا ایک چھوٹا سا کھلونا لے کر آئی۔
سب اس بات سے بہت متاثر ہوئے کہ اس نے سب بچوں کا خیال رکھا۔
سعد کی بھابھی رملہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولی، رملہ تمہارا بہت بہت شکریہ تم نے بچوں کی کھلونوں پر لڑائی سے بچا لیا۔
میری بیٹی تو اتنی خوش ہو رہی ہے کہ مت پوچھو۔ اور میرا بیٹا تو اس جیپ کا دیوانہ بنا ہوا ہے۔ بہت اچھی چوائس ہے تمہاری۔
رملہ جواب میں مسکرا دی۔
جب سعد کی بہن کے سسرال سے شیما کا رشتہ آیا تو شیما کے والد سوچ میں پڑ گئے کہ ابھی بڑی کا مسئلہ ہے تو چھوٹی کا کیسے کر دیں۔
سعد نے تو ڈائریکٹ رملہ کے باپ سے رملہ کے رشتے کی بات کر دی تھی کہ میں جانتا ہوں کہ وہ بول نہیں سکتی مگر مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ میں نے ابھی اپنے گھر میں سوائے امی جان کے سب سے بات کر لی ہے۔ اور مجھے ان کا اندازہ ہے کہ پہلے وہ لوگوں کے خوف سے شاید منع کر دیں مگر میں منا لوں گا۔ میں ابھی یہ بات اوپن نہیں کرنا چاہتا کہ رملہ کی دل شکنی ہو۔ میں صرف رملہ سے ہی شادی کروں گا آپ مجھ پر بھروسہ کریں۔ اس کے والد جو خاموشی سے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بیٹے سے کہا تھا کہ کہ پہلے تم بات شروع کرنا پھر میں کروں گا۔
رملہ کے والد نے آنکھوں میں آنسو بھر کر روندھی ہوئی آواز میں کہا کہ میرے دوست نے عین موقع پر دھوکہ دے دیا تو میں اب کسی پر بھی اعتبار کرنے سے ڈرنے لگا ہوں۔ پھر بھی میں مان لیتا ہوں کہ تم دھوکہ نہیں دو گے اور اپنی بات پر قائم رہو گے تم میں وہ سب خوبیاں موجود ہیں جو ایک باپ اپنی بیٹی کے لئے چاہتا ہے۔
سعد کے باپ نے اٹھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ویسے تو مجھے اپنے بیٹے اپنے خون پر مکمل بھروسہ ہے اگر خدانخواستہ یہ اپنے وعدے پر قائم نہ رہا تو میں اس سے ہمیشہ کے لیے ناطہ توڑ لوں گا۔ سعد نے کہا، انشاءاللہ ایسی نوبت نہیں آئے گی۔
وہ آنسو پونچھ کر بولا، ٹھیک ہے۔
شیما کے رشتے کی سعد کے باپ نے گارنٹی دی کہ ویسے بھی ہفتے بعد اسکا ہاوس جاب مکمل ہونے والا ہے تم اس کی شادی بھی کر سکتے ہو۔
رملہ کا باپ بولا، دراصل میں چاہتا تھا کہ دونوں کی شادی ایک ساتھ کر کے فرض سے سبکدوش ہو جاوں۔ پھر ہم بیٹے کے پاس چلے جائیں۔ وہ بہت بلاتا ہے مگر ان بچیوں کی پڑھائی کا مسئلہ تھا ادھر سے کالج وغیرہ نزدیک پڑتا تھا۔ ہم بچیوں کو ہاسٹل میں خوار نہیں کرنا چاہتے تھے۔
سعد کا باپ سانس بھر کر بولا، اچھا ایسا ہے کہ آپ شیما کا رشتہ اوکے کریں تو میں گھر میں سعد کے رشتے کی بات چلاتا ہوں اور انشاءاللہ جلد آپ کو خوشی کی خبر دیتا ہوں پھر دونوں کی شادی ایک ساتھ کر دینس۔
سعد کچھ بولنے لگا تو باپ نے اشارے سے منع کر دیا۔
شیما کے رشتے کے لیے سعد کی ماں نے اپنی بہن کے آگے ان لوگوں کی بہت تعریفیں کیں۔ اور ان کے ساتھ خوشی خوشی رشتہ لینے گئی۔
سادگی سے رسم ادا کر دی گئی۔
سعد کی بہن نے شیما کو دیور سے بات کرنے پر اصرار کیا تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ نکاح سے پہلے وہ بات چیت نہیں کرے گی۔ اکثر رشتے کھبی خدانخواستہ ٹوٹ جائیں تو بعد میں پچھتاوا اور شرمندگی ہوتی ہے۔
شیما کے انکار کا جب اس کے منگیتر نے سنا تو ضد کرنے لگا کہ ٹیلی-فون پر نکاح کروا دیں تاکہ میں اس کے کاغذات آفس میں دے کر فیملی کا ویزہ اور گھر اپلائ کر سکوں۔
اس بات پر سب نے شیما کے والدین کو منا لیا۔ اس کا بھائی بھی اپنی فیملی کے ساتھ آ گیا اور اسے بھی یہ لوگ بہت پسند آئے۔
اس نے اپنے طور پر بھی شیما کے منگیتر کی ساری معلومات حاصل کر کے تسلی کر لی۔
شیما نے شرط رکھی تھی کہ وہ ڈاکٹر اس لیے بنی تھی کہ وہ اس شخص سے شادی کرے گی جو اسے جاب کرنے دے گا اور مزید آگے بھی پڑھنے دے گا۔
اس کے منگیتر نے کہا، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بلکہ میں آگے پڑھنے میں اس کے ساتھ تعاون کروں گا۔
اس کے سسرال والوں نے بھی کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا ویسے بھی شادی کے بعد اس نے شوہر کے ساتھ دوبئی چلے جانا ہے۔
شیما مطمئن ہو گئی۔
شیما نے کہا، پاپا پہلے رملہ کی شادی نہ سہی کم ازکم منگنی ہی ہو جائے تو مجھے گلٹی محسوس نہیں ہو گی۔
رملہ کے باپ نے ساری بات ان کو بتا دی۔ تو وہ لوگ کافی حیران ہوئیں۔
رملہ کی ماں نے قیاس آرائی کی کہ سعد کو ماں کے خیالات کا اندازہ ہو گا۔ اسی لیے اس نے وقت مانگا ہے تو ہمیں اب اس کی بات پر اعتبار کر کے انتظار کرنا چاہیے اور شیما کا نکاح کر دینا چاہیے۔
شیما نے کہا، پاپا سعد بھائی پر بھروسہ رکھیں وہ عام لڑکوں جیسے نہیں ہیں۔
وہ بولے، اللہ کرے ایسا ہی ہو۔
رملہ شرما کر اندر چل پڑی۔
شیما اسے بہت خوشی سے چاکلیٹ زبردستی کھانے لگی کہ مبارک ہو تم بھی رشتہ شدہ ہو گئی ہو۔
دونوں نے گلے لگ کر خوشی کا اظہار کیا۔
ماں نے بھی گلے لگا کر روتے ہوئے پیار سے دعائیں دیں۔
شور سنکر بھابھی بھی آ گئ اور رملہ کو گلے لگا کر بولی، تمہارے بھائی نے ابھی مجھے یہ خوشی کی خبر سنائی ہے۔ میں بیٹے کو سلا رہی تھی۔
بہت بہت مبارک ہو۔
اتنے میں بھائی پاوں سے ننگا بیوی کو زور زور سے آوازیں دیتا ہوا آ گیا۔
بھابھی بولی، کیا ہوا، وہ جلدی سے بولا، بچی جاگ گئی ہے جلدی جاو۔
بھائی نے شفقت سے رملہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ پچھلے رشتے میں میری رضا شامل نہ تھی اور مجھے تم بھی اداس نظر آتی تھی۔ میں نے پاپا سے بہت کہا کہ یہ لوگ اتنے مناسب نہیں لگ رہے۔ مگر انہوں نے مجھے ڈانٹ کر کہا، تم سے زیادہ میری عمر اور تجربہ ہے۔
اس بار یہ لوگ بہت اچھے مل گئے ہیں اور سعد بہت سنجیدہ اور زمہ دار لڑکا ہے۔
اس نے بہت سلجھے طریقے سے رشتہ مانگا ہے اور اپنی پرابلم بھی بتا دی ہے۔
میری گڑیا بہن تم اگر بول سکتی تو یہ پرابلم بھی نہ ہوتی۔
شیما نے جزباتی ہو کر روتے ہوئے اسے گلے لگا کر کہا کہ تمہیں بولنا پڑے گا۔ کتنا مزہ آتا تھا جب ہم آدھی آدھی رات تک باتیں کرتی تھیں۔ ماما آ کر ڈانٹتی تھی۔
بھائی نے کہا، اچھا اسے پریشان نہ کرو، میں نے کچھ ڈاکٹرز سے مشورہ کیا ہے اور سارے ٹیسٹ بھی دکھائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسے کوئی شدید صدمہ لگا تھا جس کی وجہ سے اس کی زبان بند ہو گئی تھی۔
ڈاکٹرز پرامید ہیں۔ بس رملہ میری گڑیا تم اپنے اندر ول پاور خود پیدا کرو بولنے کی۔
چلو اب سو جاؤ۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.