Bay Zabaan Phool
Episodes
رملہ کی ماں روتے ہوئے رات کو شوہر سے گلہ کرتے ہوئے بولی، آپ کو سب نے سمجھایا کہ یہ رملہ کے لیے رشتہ مناسب نہیں ہے۔ وہ لوگ پہلی بار ہی جب آئے تھے تو مجھے لالچی سے لگے تھے۔
اس کی ماں باتوں باتوں میں مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ کہ کیا یہی گھر ہی ہے یا کوئی اور جائداد بھی ہے۔ اور آپ لوگ بیٹیوں کو بھی حصے دیتے ہیں کہ نہیں۔
میں نے ادھر سے ہی اندازہ لگا لیا تھا۔ میں نے جواب دیا کہ نہیں بس یہی گھر ہی ہے۔ اور بیٹیوں کو اتنا پڑھایا لکھایا ہے۔ اپنی زندگی میں تو اس گھر کے حصے نہیں کریں گے کیونکہ ہم بےگھر ہو جائیں گے۔ یہ جہاں جائیں گی وہاں گھر میں ہی جائیں گی ناں۔
تو اسی وقت اس کی شکل سی بن گئی تھی۔ پھر وہ آ کر رشتے کے بعد رملہ پر حکم چلاتی۔
رملہ سے کہتی، تم نے اپنا حق لے کر آنا ہے۔
شوہر نے حیرت سے پوچھا، تم نے مجھے یہ سب باتیں پہلے کیوں ناں بتائیں۔
بیوی نے گلہ بھرے انداز میں کہا، آپ کو تو کالج کے زمانے کا بچھڑا دوست جو ملا تھا آپ بھلا ان کے خلاف اس وقت کہاں سنتے تھے۔
میں نے بتایا بھی تھا کہ رملہ اس رشتے سے خوش نہیں ہے۔
آپ نے کہا تھا کہ میں نے بیٹے کو اس کی پسند سے شادی نہیں کرنے دی، یہ تو پھر بیٹی ہے۔
بیوی نے کہا، وہ تو آپ کا فیصلہ ٹھیک تھا وہ لڑکی اچھے کردار کی نہیں تھی۔ اب بیٹا بھی خوش ہے۔ مگر ضروری تو نہیں کہ والدین کا ہر فیصلہ ہی سہی ہو۔
مانا کہ وہ اولاد کا بھلا ہی سوچتے ہیں۔ مگر بعض اوقات والدین خاص طور پر بچیوں کے ساتھ زبردستی کر دیتے ہیں تو وہ ساری زندگی کمپرومائز میں گزار دیتی ہیں اسی طرح بیٹے بھی والدین کی مرضی سے سر جھکا دیتے ہیں اپنی مرضی نہ ہونے کے باوجود مگر وہ بیوی سے اکثر لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔
شریف بچیاں والدین کی عزت پر خود کو قربان کر دیتی ہیں اور شریف لڑکے بھی۔
ہماری بیٹی رو رو کر مجھے فریاد کرتی رہی کہ ماما، میں چند منٹ بھی ان لوگوں کے ساتھ نہیں گزار سکتی، ساری زندگی کیسے بسر ہو گی۔ میں یہی کہتی بس صبر کرو اللہ تعالیٰ بہتر کریں گے۔
اس نے ہماری رضا کے آگے سر جھکا دیا، مگر شدت غم سے اس کی آواز چلی گئی۔ اور وہ لوگ بھی بھاگ گئے۔
رملہ نے خود ماں کو اپنی بہن کو فون پر بات کرتے سنا تھا کہ شادی والے دن نکاح رکھیں گے اور گھر نام کرنے کی ڈیمانڈ کر دیں گے۔ شریف لوگ ہیں اپنی عزت کے پیچھے سب مانیں گے۔ اس نے مجھے بتایا، میں نے آپ کو بتایا مگر آپ نے ٹال دیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا وہ کچھ اور بول رہی ہو گی۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ شوہر نے صفائی دیتے ہوئے کہا، کہ میں نے اپنی تسلی کے لیے دوست سے پوچھا تھا کہ تمہیں کوئی جہیز وغیرہ کی ڈیمانڈ تو نہیں۔ مگر وہ اور اس کی بیوی، حتکہ بیٹا بھی یہی کہتا کہ ہمیں تین کپڑوں میں قبول ہے۔ تب ہی تو میں تسلی میں تھا کہ وہ لوگ لالچی نہیں ہیں۔ لگتا ہے وہ شادی والے دن بلیک میل کر کے ایسی باتیں کر کے اعتماد بحال کر کے گھر ہتھیانا چاہتے تھے۔
میں اب سمجھ چکا ہوں کہ اگر رملہ کی زبان بند نہ ہوتی تو وہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے۔
میں نے تمہیں شرمندگی میں بتایا نہیں کہ تم طعنہ دو گی کہ میں ٹھیک کہتی تھی۔
ان لوگوں نے کہا، تھا کہ اب بیٹی معزور ہو چکی ہے اس سے اب کون شادی کرے گا تو ہم بیٹے کی قربانی دے دیتے ہیں اس سے شادی کروا کر۔ بس آپ یہ گھر ہمارے بیٹے کے نام کر دیں پھر یقین مانیں ہم اسے بہت خوش رکھیں گے۔
بیوی نے حیرت سے شوہر کو دیکھتے ہوئے پوچھا، پھر آپ نے کیا کہا۔
شوہر نے کہا، میں پہلے کی طرح صرف تین کپڑوں میں رخصت کروں گا اگر آپ کو منظور ہو تو ٹھیک۔
وہ لوگ رشتہ توڑ کر چل پڑے کہ ہمارا دماغ خراب ہے کہ ہم گونگی لڑکی کو بہو بنا لیں۔
سعد کی بہن نے بھائی کو مشورہ دیا کہ تم بھی امی جان سے جلد بات کر کے شادی کرو، رملہ کے والدین کو اس طرح انتظار کروانا ٹھیک نہیں ہے وہ دونوں بیٹیوں کی شادی کر کے اپنے بیٹے کے پاس رہ سکیں۔
سعد نے ماں کو جب اپنی مرضی بتائ تو بہن کی ساس بھی موجود تھی۔
سعد کی ماں ہتھے سے اکھڑ گئی، بولی ایسا کھبی نہیں ہو سکتا۔ میں ایک گونگی لڑکی کو بیاہ کر لے آوں۔
اس کی بہن نے کہا، میرے بیٹے کی مرتبہ تو تم نے آپا بہت تعریفوں کے پل باندھے تھے۔
وہ غصے سے بھرے لہجے میں بولی۔ ہاں تو وہ لڑکی ٹھیک تھی ناں گونگی تو نہ تھی۔
بیٹی نے کہا، امی ہمیں پتا چلا ہے کہ وہ بول سکتی تھی کسی وجہ سے اس کی زبان بند ہو گئی ہے۔ انشاءاللہ کھبی بھی وہ ٹھیک ہو سکتی ہے۔
ماں نہ مانی۔
اسی وقت اس کی بیٹی کا پانی پر سے پاوں پھسلا اور وہ درد سے کراہنے لگی۔
اس کا پاوں فریکچر ہو گیا تھا۔ اس کے پاوں پر پلاسٹر چڑھا دیا گیا۔
ویل چیئر پر اسے گھر لاے۔
بیٹی کی ساس بولی، آپا دیکھ لو تم نے کسی کی بیٹی میں نقص نکالا تو اپنی بیٹی ویل چیئر پر آ گئ ہے۔ اب بھی تم توبہ استغفار کر کے رملہ کو اپنا لو۔
سعد کی ماں رونے لگی اور بولی، تم ٹھیک کہتی تھی۔
سعد جو ماں کے انکار سے انتہائی پریشان تھا کھانا پینا کم ہو گیا تھا اوپر سے بہن کی یہ حالت۔
سعد کی شکل دیکھ کر اس کی بہن نے کہا کہ، کیسی ماں ہو، بیٹے کو پریشان دیکھ رہی ہو۔ اور احساس نہیں ہوتا۔
وہ روتے ہوئے بولی، مجھے اب مزید شرمندہ نہ کرو۔ میں اب راضی ہوں۔
رملہ کا بھائی بولا، پاپا ہمارے لیے یہی مناسب ہے کہ ہم دونوں بہنوں کی شادی ایک ساتھ کر لیں۔
ماں نے غصے سے کہا، اب سعد کی ماں بھی تو مانے۔
رملہ کے بھائی نے کہا، میں سعد سے بات کرتا ہوں کہ بعد میں بھی جو وہ ماں کو مناے گا بہتر ہے ابھی منا لے تاکہ ہمارا مسئلہ حل ہو جائے اور میں جو آپ لوگوں کی وجہ سے ادھر پریشان رہتا ہوں۔ وہ پریشانی ختم ہو جائے۔
باپ نے کہا کہ، نہیں بیٹا، تم اسے کچھ نہیں کہنا۔ دیکھا نہیں وہ کتنا پریشان ہے اوپر سے بہن کا مسئلہ بھی پڑ گیا ہے۔
ایک ان کی بہو بےچاری دل سے نند کو سنبھال رہی ہے اوپر سے اس کے دو بچے بھی ہیں۔ وہ لوگ فلحال اپنے مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ وقت مناسب نہیں ایسی بات کا۔
رملہ کی پڑھائی ختم ہو چکی ہے ہم شیما کا نکاح کر کے رملہ کو ساتھ لے کر تمہارے پاس شفٹ ہو جائیں گے۔
ماں نے روتے ہوئے کہا، شکر کرو، سب نے خوشی سے تمہاری بہن کو قبول کر لیا ہے۔ ماں کو بھی کھبی عقل آ جاے گی۔اور دونوں بہنیں ایک ہی خاندان میں جا رہی ہیں اور سب بہت اچھے ہیں۔ورنہ ایک بے زبان پھول کو کون قبول کرتا ہے۔
رملہ کو شیما نے کہا، رملہ پلیز تمہیں بولنا پڑے گا کوشش کرو، یہ سوچ کر کہ تمہارے والدین کو اس سے فائدہ ملے گا ان کی ٹینشن دور ہو جائے گی۔ پلیز رملہ وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر اس کی منت کرنے لگی۔
اس کا بھائی، ماں اور باپ بھی شور سنکر آ گئے۔ بھابھی بچوں کو سلا رہی تھی۔
ماں نے روتے ہوئے کہا، رملہ اب اپنے بیٹے کے بغیر تو رہ سکتے ہیں مگر اپنے پوتے، پوتی کے بغیر نہیں۔
بھائی نے بہن کے پاس کھڑے ہو کر کہا، تم کوشش کرو شاباش۔
باپ نے بےبسی سے کہا، تمہارے بولنے سے ہماری خوشیاں لوٹ آئیں گی۔
بہن پاوں میں بیٹھ کر بولی۔ رملہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری شادی پہلے ہو جائے اور تمہاری نہ ہو۔
ویسے بھلے ہی پہلے ہو جاتی مگر تمہارے نہ بولنے کی وجہ سے مجھے گلٹی فیل ہوتی ہے۔
باپ نے روندھی ہوئی آواز میں کہا،یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔
رملہ تڑپ گئی۔ سب کی طرف دیکھنے لگی۔
اور یکدم روتے ہوئے بولی،پلیز مجھے معاف کر دیں، میں بہت شرمندہ ہوں۔ میں نے یہ سب جان بوجھ کر کیا تھا کہ وہ لالچی لوگ مجھے گونگی سمجھ کر پیچھے ہٹ جائیں، کیونکہ میں ان کی باتوں سن چکی تھی کہ عین نکاح والے دن انہوں نے مکان نام کرنے کی ڈیمانڈ رکھنی تھی۔
سب حیرت سے اسے یکھنے لگے۔ بھابھی بھی بچوں کو سلا کر آ چکی تھی اور خاموشی سے پیچھے کھڑی تھی۔
شیما نے خوشی سے کہا، وہ سب چھوڑو شکرالحمدوللہ کہ تم بول سکتی ہو۔
ماں نے جزبات میں اسے گلے لگا کر کہا، بیٹا شکر ہے کہ تم بول سکتی ہو۔
بھائی اور بھابھی نے اسے چپ کراتے ہوئے کہا، تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ اور اسے گلے لگا لیا۔
وہ باپ کے پاس آئی اور ان کے پاوں پکڑ لیے۔ اور بولی، پلیز پاپا مجھے معاف کر دیں۔ مجھے ان کے ساتھ شادی میں کوئی اعتراض نہ تھا جو بھی وہ سلوک کرتے مگر وہ ڈھونگی لوگ تھے۔ آپ کو بےوقوف بنا رہے تھے کہ ہمیں تین کپڑوں میں لڑکی چاہیے۔
وہ بڑا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ اتفاق سے میں نے اس کی ماں کی اپنی بہن کو فون پر باتیں کرتی سن لی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھی کہ ہم نے نکاح اسی لیے بارات والے دن رکھا ہے تاکہ اس وقت وہ اپنی عزت بچانے پر مجبور ہو جائیں۔ کہ بارات واپس نہ چلی جائے۔
باپ نے اسے گلے لگا کر روتے ہوئے کہا، کہ وہ اپنے آپ کو بہت عقلمند سمجھتا تھا کہ اسے دنیا کی بہت پہچان ہے مگر میری بے زبان پھول بچی، جس کو باپ کی بات کا مان بھی رکھنا تھا اور ان کی اصلیت بھی سامنے لانی تھی۔ تم نے کچھ غلط نہیں کیا،
ان لوگوں نے بعد میں مکان کی شرط رکھی تھی کہ اب آپ کی بیٹی کو کون پوچھے گا اس لیے گھر ہمارے نام کر دیں تو ہم اسے قبول کر لیں گے تو اس وقت میں نے ان کی اصلیت جانی۔ ان کو انکار کر کے ڈانٹ کر نکال دیا۔
سعد کی ماں نے شوہر کے سامنے سعد سے کہا، بیٹا مجھے معاف کر دو، میں تمہاری خوشیوں میں رکاوٹ بن گئ تھی۔
اس نے ماں کے ہاتھوں کو چوم لیا اور خوشی سے بولا، بھلا میری پیاری امی جان میری خوشیوں میں کیسے رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ماں بولی، میں صبح ہی جا کر ان لوگوں سے تمہارے رشتے کی بات کروں گی۔
سعد کی بہن نے خوشی سے کہا، جیو امی جان۔
سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔ سعد کو بہن اور بھابھی چھیڑنے لگیں۔
وہ شرمانے لگا۔
رملہ کے گھر والے دیر رات تک آپس میں باتیں کرتے رہے۔ رات دیر سے سوے۔
صبح سب سو رہے تھے کہ اس کے گھر میں بھی سب دیر سے سوے تھے کہ صبح سنڈے بھی تھا۔
سعد کی ماں نے بمشکل صبح نو بجے تک صبر کیا اور زبردستی شوہر کو رملہ کے گھر لے گئی۔
وہ لوگ سو کر ابھی ابھی اٹھے تھے۔
کافی حیران ہوئے کہ اتنی صبح سعد کے والدین کیوں آ گئے ہیں اللہ تعالیٰ خیر کرے۔ ان لوگوں نے تو ابھی ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔
سعد کے والد نے رملہ کے باپ سے مسکرا کر معزرت کرتےہوے دونوں میاں بیوی سے کہا کہ ہماری وائف کھبی کھبی بچوں کی طرح ضد کرنے لگ جاتی ہیں۔
یہ آج آپ لوگوں سے رملہ کا ہاتھ مانگنے آئی ہیں۔
رملہ کے والدین نے حیرت سے ان لوگوں کو دیکھا۔
سعد کی ماں نے معزرت کرتے ہوئے کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گی۔ میں اس رشتے پر دل سے راضی نہ تھی۔
رملہ مجھے پسند بہت تھی مگر میں دنیا کی باتوں سے ڈرنے لگی تھی کہ ایک گونگی لڑکی سے(رملہ کی ماں سچائی بتانے لگی مگر شوہر نے اشارے سے منع کر دیا) اپنے بیٹے کی شادی کر دی۔
پھر اس نے ساری بات بتا کر ان سے معزرت کی۔
رملہ کی ماں بولی، آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں، آپ دل کی بہت اچھی ہیں جو ایک گونگی لڑکی کو اپنے بیٹے سے بیاہنا چاہتی ہیں۔ ہمیں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
انہوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور ناشتے کا پوچھا۔
سعد کے باپ نے کہا، صرف چائے بسکٹ پر ٹرخایا ہے۔
رملہ کا باپ بولا، پھر ہم اس خوشی کے موقع پر اکھٹے ناشتہ کرتے ہیں۔
رملہ کی ماں نے سچائی سب بتا دی،
سعد کے والدین بہت خوش ہوئے۔ اتنے میں سعد کا فون آ گیا کہ آپ لوگ کدھر ہیں۔
سعد کو والد نے سب سچائی بتا دی۔ وہ بہت خوش ہوا اس نے گھر میں سب کو یہ خوشی کی خبر سنائی۔
بھابھی مسکرا کر بولی، اوہو میں نے سمجھا تھا دیورانی کو خوب سنایا کروں گی جواب میں وہ بول نہیں پائے گی۔ پھر مسکرا کر دیور کو ماتھا چوم کر مبارک باد دینے لگی۔ سب سعد کو مبارک دینے لگے۔
سعد دولہن بنی رملہ کو رات کو اپنے کمرے میں کہہ رہا تھا کہ وہ اسے پہلی نظر میں ہی پسند آ گئ تھی۔
رملہ نے شرما کر کہا، آپ بہت گریٹ ہیں کہ آپ مجھے نقص سمیت قبول کر رہے تھے۔
میں بہت لکی ہوں۔
سعد نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا، ویسے شوہروں کو گونگی بیویاں زیادہ پسند ہوتی ہیں زندگی سکھی گزرتی ہے۔
رملہ نے گھور کر مسکرا کر دیکھا،
دونوں مسکرانے لگے۔
ختم شد۔
شعر۔
غزل۔
قبضہ دل۔
قبضہ دل تم سے چھڑانا ہے
دل کا مالک خود کو بنانا ہے
بن مول اس میں رہتے ہو
اب مول اس کا لگانا ہے
تم تو سانسوں میں بھی بسے بیٹھے ہو
اس جگہ سے بھی تمہیں ہٹانا ہے
اس خوش فہمی میں ہم جو بیٹھے ہیں
تمہاری بے وفائی سے زندہ رہنا ہے
تم پاوں پسارے ایسے بیٹھے ہو
جیسے پکا یہی ٹھکانہ ہے
اپنی کوشش کو اب رہنے دے
اب وقت کو ہی آگے بڑھانا ہے۔
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.