Loading...
Logo
Back to Novel
Dil ki Dharas Teri Yaadein
Episodes
Dil ki Dharas Teri Yaadein

دل کی ڈھارس تیری یادیں 3

From Dil ki Dharas Teri Yaadein - Episode 3

ارحم نے ماں کو تسلی دیتے ہوئے کہا، آپ فکر نہ کریں وہ ادھر ہی فرینڈ کی طرف ہو گی اور بتانے سے منع کیا ہو گا۔

وہ صرف ہمیں تنگ کرنے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔

ورنہ اس نے کہاں جانا ہے۔ فرینڈ بھی کتنے دن اسے رکھے گی بھلا۔

خود ہی آ جاے گی۔ آپ اس کو جانتی تو ہیں۔

وہ تسلی میں ہو گئیں۔

ارحم عشوہ سے بولا، تم ڈیڈ کو کب بتاو گی۔

وہ بولی، میرے ڈیڈ چھ ماہ پاکستان میں اور چھ ماہ باہر یوکے میں گزارتے ہیں۔

مہینے میں دو تین بار فون کرتے ہیں۔ وہ بھی مختصر بات چیت ہوتی ہے۔

اس دوران موم میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتیں۔

ارحم نے پوچھا،ویسے تو وہ تم سے بہت پیار کرتے ہیں گارڈ بھی رکھا ہوا ہے۔

وہ دکھی لہجے میں بولی، وہ سمجھتے ہیں کہ میں یہ سب کر کے کھلے پیسے دے کر پیار کر رہا ہوں۔ حق ادا کر رہا ہوں۔

وہ میرے لیے وقت نہیں نکالتے۔

بس موم پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ میرا بھلا چاہتی ہیں۔

لیکن موم کا پیار تو صرف دکھاوا ہے ڈیڈ کے سامنے۔

مجھ سے کھبی پوچھیں بھی تو انہوں نے بچپن سے ہی میرے دل میں اتنا ڈر ڈال رکھا ہے کہ میں چاہ کر بھی کچھ نہیں بتا سکتی۔

لیکن اب میں ان سے کچھ نہیں چھپاوں گی۔ سب کچھ سچ بتا دوں گی کہیں وہ پیسے کے لالچ میں ڈیڈ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔

انہیں تو بس اپنے بیٹے کی فکر ہے۔ باقی ڈیڈ کی بھی نہیں۔

صرف ان کو ان کے پیسے سے پیار ہے۔

ڈیڈ نے میرا اکاؤنٹ الگ بنایا ہے۔

مگر میری موم اس پر بھی مجھے دھمکاتی رہتی ہے۔

ساری دنیا مطلب کی ہے بس۔

ارحم نے کہا، تم ٹھیک سوچتی ہو۔

مگر میں نے تمہیں پیسے کے لیے نہیں اپنایا بس تھوڑی مجبوری تھی۔

وہ رقم میرے اوپر ادھار ہے۔ جلد لٹانے کی کوشش کروں گا اور ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا۔

وہ ایک لمبی سانس بھر کر طنزیہ انداز میں دیکھ کر بولی، چھوڑو ایسی باتوں کو۔

میں گھر جا کر موم کو سب سچ بتاوں گی۔

اور اپنا سامان بھی لے کر آوں گی۔

وہ پریشانی سے بولا، کوئی ضرورت نہیں ادھر جانے کی، جب تک تمہارے ڈیڈ نہ آ جائیں۔

وہ بولی، زندگی کا ڈر ہوتا ہے۔ جب اس کا ہی بھروسہ نہیں تو پھر کیا ڈرنا۔

اب میں موم کو نکاح کا جا کر بتاوں گی

مجھے اب کسی کا ڈر نہیں ہے۔

وہ ارحم کے کہنے پر بھی نہ رکی اور آٹو کر کے چلی گئی۔

وہاں جا کر دیکھا تو عجیب ہی منظر تھا۔ اس کے بھائی کا نکاح کسی عشوہ نامی لڑکی سے ہو چکا تھا اور سادگی سے اسے رخصت کر دیا گیا تھا۔

اس نے جب اس لڑکی کو دیکھا تو اسے وہ اچھی لگی۔

وہ اس سے خوش اخلاقی سے پیش آئی۔

عشوہ نے موم سے شکوہ کرتے ہوئے نم آنکھوں سے کہا، میرے بھائی کی شادی میں بہن کی شرکت کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

وہ نفرت اور غصے سے لبریز لہجے میں بولی، پہلی بات یہ ہے کہ کہ تم اس کی سگی کیا سوتیلی بہن بھی نہیں ہو۔

دوسرے تم جیسی کینسر کی مریضہ کا سایہ بھی میں شادی کے موقع پر اپنی بہو پر نہیں ڈال سکتی تھی۔

تم نے بھی تو نکاح کر لیا۔ مجھے سب خبر ہے۔ بہتر ہے کہ تم اپنی بچی کھچی زندگی اپنے شوہر کے گھر گزارو۔

مجھے قطعی ارمان نہیں ہے کہ تم نے مجھ سے پوچھے بغیر مجھے شامل کیے بغیر نکاح کر لیا۔

میں تمہارا منحوس سایہ اپنی بہو پر نہیں ڈال سکتی ہوں۔

بہتر ہے کہ تم اپنا سامان اٹھاو اور ہمیشہ کے لیے چلی جاو۔

اس نے کہا،ٹھیک ہے موم،

وہ چلا کر بولی، خبردار جو مجھے موم کہا۔

میں تمہاری کچھ نہیں لگتی۔

اس کی بہو حیرت اور دکھ سے بولی، آنٹی آپ ایسا اس کے ساتھ کیوں کر رہی ہیں۔

وہ اسے پیار سے پچارتے ہوے بولی، ڈیر آپ اسے نہیں جانتی۔

یہ وہ ہے جس کی وجہ سے میرا شوہر ہمیشہ میرے اوپر اسے اہمیت دیتا رہا۔

اس پر فدا رہا کہ یہ اس کی منگیتر کی بیٹی تھی۔

اس سے پیار کرتا تھا مگر شادی نہ ہو سکی۔

جب یہ منحوس پیدا ہوئی تو ماں چل بسی۔

انہوں نے اسے نانی کو بھجوا دیا۔

مگر نانی بوڑھی تھی۔ ایک ہی بیٹی تھی۔ نانی بھی مرتے وقت میرے شوہر کے حوالے کر گئی اور وہ اسے میرے سر پر ڈال گیا۔

عشوہ نے روتے ہوئے اپنا سامان سمیٹا اور حسرت سے اس گھر کو دیکھتے ہوئے چلی گئی۔

گھر واپس آئ تو سب کچھ ارحم کو اور سب کو بتا دیا۔

ارحم کی ماں نے اسے گلے لگا کر بہت پیار سے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ تم کیوں فکر کرتی ہو۔ میں تمہاری ماں ہوں ناں۔

بس تم خوش رہا کرو، میں ہر نماز کے بعد تمہاری صحت اور تندرستی کی دعائیں کرتی ہوں۔ دیکھنا تم بلکل ٹھیک ہو جاو گی۔

میں تمہارا روحانی علاج بھی کروں گی۔

وہ اسے روز پانی دم کر کے دیتیں۔

اس پر دم کرتیں۔

ان کے اس طرح کرنے سے اسے قلبی سکون محسوس ہوتا۔

دن بدن وہ اپنے آپ میں بہتری محسوس کرنے لگی۔

اب تو وہ امید سے بھی تھی۔

ارحم کی اچھی جاب لگ گئی تھی۔ مگر پھر بھی وہ سب کے اخراجات پورے کر رہا تھا۔

عشوہ نے اسے صاف بتا دیا تھا کہ اس کا اکاؤنٹ خالی ہے اور سوتیلی ماں سے ایک روپیہ بھی نہیں لے سکتی۔

اس نے سسرال والوں کو تسلی دی کہ وہ غربت میں بھی ان کے ساتھ بہت خوش ہے۔ اور اسے کسی دولت کی خواہش نہیں۔

اس نے بہت دولت دیکھی ہے۔

جب امید سے ہوئی تو بہت زیادہ دعائیں اپنی زندگی کی کرنے لگی۔

اس نے دعائیں کیں کہ وہ اپنے بچے کو خود ہی پال سکے۔

کھبی کھبی مایوس ہو جاتی۔ پھر امید جاگ جاتی۔

اسکا پریگنسی کا آخری ہفتہ چل رہا تھا۔ ارحم اور ساس اس کا بہت خیال رکھتے۔

دیور اسے تسلی دیتا کہ آپ ابھی دو تین بچے اور پیدا کریں گی فکر نہ کریں۔

مجھے ایک بچے کا چچا بننا گوارا نہیں۔

وہ ہنس دیتی۔

وہ کہتی، تمہاری صورت میں مجھے اپنا چھوٹا بھائی مل گیا ہے۔

وردا عشوہ کے گھر ان کی ملازمہ کی حیثیت سے رہنے لگی۔

عشوہ کے بھائی پر دولت کے لیے ڈورے ڈالنے لگی۔

وہ بھی اس پر فدا ہو گیا۔

اس کی بیوی کا بچہ پیدا ہونے والا تھا۔

عشوہ نے سستے کلینک میں نارمل ڈلیوری کے ساتھ ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا۔

وردا کا اب اس گھر کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

یہاں بڑا سا گھر تھا۔ بےشک حیثیت ملازمہ کی سی تھی۔

عشوہ کی سوتیلی ماں اس سے بہت خوش تھی اور اسے بہت سی مراعات دے رکھی تھیں۔

کیونکہ وہ ان کے پوتے کی بہت اچھی دیکھ بھال کرتی تھی۔

پوتے کی ماں جو کینسر کی مریضہ تھی۔

وہ بہت بیمار رہنے لگی۔ اور اسے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروا دیا گیا۔

اس کے بچے کو وردا سنبھال رہی تھی۔

اس لیے وہ ان کے گھر شفٹ گئی۔

دادی اور باپ بچے سے ملنے آتے۔

عشوہ بھی اسے دیکھنے آئی تو یہ عقدہ کھل گیا کہ دونوں کے نام ایک جیسے ہونے کی وجہ سے رپورٹس بدل گئی تھی۔

بچہ تو بہت پیارا تھا۔

اس کی ماں بیمار تھی اس لیے وردا اس کو سمبھالتی تھی۔

بچے کی ماں وردا سے کہتی، تم میرے بچے کو بہت پیار کرتی ہو۔ میرے بعد تم اس کی ماں بن جانا۔

وردا خوش ہو گئی اور گھر والوں سے نصیحت کی کہ وردا بچے کو بہت اچھی طرح سنبھالتی ہے۔ اس لئے اس کی شادی میرے شوہر سے کروا دینا۔

وردا عشوہ کو اور ارحم کو بتاتی کہ وہ بہت جلد عشوہ کی بھابھی بننے والی ہے۔ اور میں بیڈ روم تو اسکا لوں گی۔

عشوہ اس کی باتوں سے دکھی ہوتی۔

وہ اسے طعنے دیتی کہ تم غریب گھر کی بہو بنی ہو اور میں امیر گھرانے کی بہو بنوں گی۔ تمہارا بھائی مجھ پر فدا ہے۔

عشوہ بچے کو سلا رہی تھی کہ فون کی بیل بجی۔

جب عشوہ نے اٹھایا تو وردا کی کال تھی کہ اس کے فادر کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔

وردا بری طرح رونے چلانے لگی۔

بڑی مشکل سے اسے ارحم اور اس کی ماں نے سنبھالا۔

عشوہ غم سے نڈھال تھی۔

ارحم کے گھر والے عشوہ کو لے کر اس کے باپ کے گھر پہنچے۔

اس کے باپ کی ڈیڈ باڈی باہر سے آنی تھی۔

ان کے بیٹے کے سسرال والے بھی پہنچ گئے اور سب رشتےداروں کو بھی اطلاع مل چکی تھی۔

سب وہاں جمع ہونے شروع ہو گئے۔

جب اس کے باپ کی ڈیڈ باڈی آئی تو ساتھ اس کے وہاں کے بیوی اور بیٹا بیٹی بھی ساتھ آئے۔

سب زیادہ عشوہ کو تسلیاں دے رہے تھے اور سب سے زیادہ وہ رو رہی تھی۔

اس کے باپ کے بیوی بچے عشوہ سے بہت پیار کر رہے تھے اسکا خیال رکھ رہے تھے۔

انکا بیٹا اسے اپنی بہن کہہ رہا تھا۔

اس کی ماں شمسہ بیگم کہہ رہی تھی کہ کاش مجھے پتا ہوتا کہ تم اتنی اچھی بچی ہو تو میں تمہیں اس لالچی عورت کے حوالے ہی نہ کرتی۔

اس نے پیار سے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا، کی وہ اپنے شوہر نوید کے سر زبردستی تھوپی گئ تھی۔ میرے والدین اور اس کے والدین نے اس کا تمہاری ماں کے ساتھ جنونی عشق دیکھ کر میری شادی اس سے کر دی۔

مگر وہ ہر وقت اپنی منگیتر یعنی تمہاری ماں کی محبت میں اسے ہر وقت یاد کرتا رہتا۔

اس دوران اس کے دو بچے بھی ہو گئے مگر وہ اس کی خیر خبر رکھتا۔

کیونکہ وہ شادی کے بعد خوش نہ تھی اور اس سے فون کر کے بتاتی رہتی۔

پھر اسکا جب بچہ یعنی تم پیدا ہونے والی تھی تو اسے فکر لگی کہ شوہر بیٹا چاہتا ہے اور میرے پیٹ میں بیٹی ہے۔ اس نے اسے چھوڑ کر تمہارے باپ سے پیار کی شادی کی تھی۔ جبکہ تمہاری ماں میرے شوہر کی بچپن کی منگیتر تھی۔

اس کے گھر والوں سے چھپ کر اس نے اسے رکھا اور بیٹی کا سنکر تمہاری ماں کو طلاق دے کر چلا گیا اور اپنے خاندان میں شادی کر لی۔

تمہاری ماں تمہیں جنم دیتے ہی مر گئی۔

میرے شوہر نے تمہارے باپ اور اس کے گھر والوں کو سب حقیقت بتائ مگر وہ تمہیں قبول کرنے سے معزرت کرنے لگے اور تمہارے نام بھاری رقم نوید صاحب کو دے دی۔

وہ لینا نہیں چاہتے تھے مگر اسے تمہارا حق سمجھ کر قبول کر کے تمہیں تمہاری نانی کے حوالے کر دیا۔

وہ تمہیں پالنے لگی۔

ادھر ان کے والدین نے تمہیں گھر لانے کی اجازت نہ دی۔

جب نانی بہت علیل ہوئی اور تمہارا کوئی آسرا نہ ملا تو مجبوراً نانی کے کہنے پر ایک بیوہ جس کا لگ بھگ تمہارے جتنا بیٹا تھا اس شرط پر اس سے نکاح کر لیا کہ وہ تمہاری پرورش کرے گی اور تم چھ ماہ اس کے اور چھ ماہ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ گزارو گے۔

عشوہ اپنی ماں کی دکھ بھری سٹوری سنکر ہچکیوں سے رونے لگی۔

نوید صاحب کی بیوی نے اسے بہت پیار کیا۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books