Dil ki Dharas Teri Yaadein
Episodes
نوید صاحب کی بیوی نے اسے گلے لگا کر تسلی دیتے ہوئے کہا، کہ پہلے تو اسے آتی سمجھ نہ تھی کہ وہ کیا کرے، اس کی ساس نے اسے صاف لفظوں میں بتا دیا تھا کہ وہ شوہر کو اپنا مشکل سے بنا سکے گی۔ اس لئے اسے صبر وشکر سے کام لینا ہوگا کیونکہ وہ عشوہ کی ماں کا دیوانہ تھا وہ تو اس کہتا تھا کہ دل کی ڈھارس ہیں اس کی یادیں۔
وہ انہیں یادوں کے سہارے زندگی بسر کر لے گا مگر والدین نے زبردستی اس کی شادی مجھ سے کروا دی۔
مجھے سب سچ بتا دیا گیا۔۔ میرے شوہر ویسے بہت اچھے انسان تھے۔ میرے حقوق و فرائض میں کوتاہی نہیں برتتے تھے۔ مجھے انہوں نے کھبی کوئی تکلیف نہیں دی۔ کھبی لڑے نہیں۔
میں نے بھی وقت و حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ مگر جب تمہاری بات آئی تو ساس سسر نے اسے مجھے پالنے نہ دیا۔ انہوں نے یہ منظور کر لیا کہ وہ چھ ماہ باہر اور چھ ماہ پاکستان رہے۔
وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر عشوہ ادھر آ گئی تو انکا پوتا پوتی اگنور ہو جائیں گے کیونکہ باپ ہر وقت عشوہ کے چکر میں لگا رہے گا۔
وہ سامنے نہیں ہو گی تو بچوں پر توجہ دے گا۔ ساس سسر نے شرط رکھی کہ جب تم ہمارے پاس ہو تو کھبی کبھار دو منٹ خیریت دریافت کر سکتے ہو، باقی سارا وقت اپنے بیوی بچوں کو دو گے۔
وہ وعدے کے مطابق ایسا ہی کرتے تھے۔
مجھے تم سے ملنے کا تجسس رہتا تھا مگر ساس سسر نے مجھے تمہارا زکر کرنے کا سختی سے منع کیا تھا۔
جب وہ اچانک بیمار ہوئے تو انہوں نے مجھے سب تفصیل سے آگاہ کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ تمہاری رقم سے انہوں نے ایک چلتی فیکٹری اور گھر خریدا اور جو رقم تمہاری تھی اور جو خرچ کرتے تھے سب حساب کتاب رکھتے تھے۔
وہ گھر تمہارے نام ہے۔
اور جو رقم تمہاری خرچ کی تھی اس سے دگنی وہ تمہارے اکاؤنٹ میں جمع ہے۔
باقی وہ اپنی محنت سے کمایا ہوا پیسہ اپنے بیوی بچوں کے نام کر گئے تھے۔
انہوں دوسری بیوی کی حقیقت کا پتہ چل گیا تھا۔
وہ جاتے ہی اس سے فون پر لڑے اور اسے طلاق بھیج دی جب سنا کہ تم نے نکاح کر لیا ہے۔
اس کے بعد وہ زیادہ بیمار ہو گئے اور مجھ سے بھی معافی مانگی، اور مجھے نصیحت کی کہ میں تمہاری دولت اور گھر تمہیں اس عورت سے دلوا سکوں۔
اس کے علاوہ تمہارا خیال رکھوں کہ وہ عورت تمہیں نقصان نہ پہنچا سکے کیونکہ اس نے اپنی طلاق چھپا لی تھی اور وہ جاہیداد اور دولت کی حصے دار بننے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے طلاق کے کاغذات کی کاپی مجھے بھی دی تاکہ اس کا سچ سامنے لا سکوں۔
ساس سسر تو چند سال پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔
اب وہ پچھتا رہے تھے کہ مجھے رازداں کیوں نہ بنایا۔
وہ مجھ سے خوش تھے کہ میں نے اور میرے بچوں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ہم پاکستان جا کر تمہیں بہت پیار اور مان دیں گے۔
اور اب انشاءاللہ ایسا ہی ہو گا۔ تم ہماری بیٹی ہو۔
میرے بچوں کی بہن۔
عشوہ کے دل میں سکون اتر آیا۔
تیسرے دن قل اور چالیسواں کروا دیا گیا اور ان ماں بیٹی کو قانون کی مدد سے نکال دیا گیا۔
ان کی بہو کے گھر والے بیٹی کے کہنے پر انہیں اپنے گھر رکھنے پر راضی ہو گئے۔
وردا کو بچہ سنبھالنے کے لیے ملازمہ رکھ دیا گیا۔
وردا کو بچے سے بہت پیار ہو گیا تھا پھر اس نے خفیہ طور پر بچے کے باپ سے نکاح کر لیا تھا۔
نکاح کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہ ماں بننے کی نعمت سے محروم ہے تو اس نے بچے کو ہی اپنا سب کچھ مان کر دل سے اس کی دیکھ بھال کرنے لگی۔
اس بچے کے ننھیال والے اسے بیٹی کی نشانی سمجھ کر اسے پال رہے تھے پھر بچے کے باپ اور دادی کو بیٹی کی وفات کے بعد سرونٹ کوارٹر میں جگہ مل گئ اور بیٹے کو ان کے آفس میں نوکری۔
وہ بیٹے سے پیار کرتا تھا اس وجہ سے وہاں رہنے پر مجبور تھا کہ بچہ اچھی تعلیم پا سکے گا خوشحالی کی زندگی بسر کرے گا۔
وہ وردا کے نکاح کو بھی جان چکے تھے۔
وردا بچے پر جان چھڑکتی تھی۔
دادی ادھر ملازمہ بنی گھر کے کام سنبھالتی۔
عشوہ کو نوید صاحب کی بیوی اب بلکل بیٹی کی طرح چاہنے لگی تھی۔ اور اسے زبردستی اس کے سسرال والوں سمیت ادھر شفٹ کر دیا تھا اور نوید صاحب کے دونوں بچے عشوہ سے بہت پیار کرتے۔
نوید کی بیٹی کو عشوہ کے دیور سے بیاہ دیا گیا تھا۔
عشوہ نے نوید کی بیوی جسے وہ اب ماما کہتی تھی بتایا کہ نکاح کے بعد اس نے شوہر کو آزمانے کے لیے اس کے ساتھ غربت میں رہنے لگی اور بتایا کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے سب اس عورت نے چھین لیا ہے۔
اس نے بنایا کہ ماما آپ جانتی ہیں کہ ارحم نے کھبی اسے کریدنے کی کوشش نہیں کی۔
کھبی اس کی دولت کی طرف دھیان نہیں دیا۔
وہ فخریہ انداز میں بولی، ماما میں بہت لکی ہوں کہ مجھے اتنا اچھا شوہر اور اتنے اچھے سسرالی ملے۔
پاس بیٹھی ان کی بیٹی فخر سے بولی، شکریہ آپ کا کہ آپ کے طفیل مجھے بھی اتنا اچھا سسرال ملا۔
نوید کی بیوی نے کہا، بیٹی تمہارا بہت شکریہ کہ میری بیٹی کو دیور سے بیاہنے کا آئیڈیا تمہارا تھا۔
جب میں نے پاکستان شوہر کی خواہش کے مطابق ادھر مستقل رہائش پذیر ہونے کا ارادہ کیا تو میں خاص طور پر اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے بہت پریشان تھی۔ مگر تم نے میری یہ مشکل بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسان کر دی۔
تم بہت گریٹ لڑکی ہو۔
تم تو وردا کو بھی، نہیں بھولی،
اسے بھی اپنے گھر آنے جانے کے لیے ویلکم کرتی ہو۔
تم اس کے بارے میں اتنا سوچتی ہو کہ یہ اسکا میکہ ہے۔
اب تو تمہاری سوتیلی ماں بھی مرتے مرتے معافیاں مانگتی رہی۔
اب بھائی کی شادی بھی تم نے ہی کرنی ہے اور لڑکی بھی تم نے تلاش کرنی ہے۔
وہ مسکرا کر بولی، میرے بھائی نے ہماری یہ مشکل بھی آسان کر دی ہے۔
ماں نے حیرت سے پوچھا وہ کیسے؟
عشوہ نے بتایا کہ وردا کی نند کو بھائی پسند کرتا ہے اور وہ بھی کرتی ہے۔
اس کے گھر والے بھی ادھر رشتہ کرنا چاہتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے۔
نوید صاحب کی بیگم نے خوشی سے بتایا کہ مجھے تو وہ لوگ شروع سے ہی بہت اچھے لگے تھے جو اس عورت کی اصلیت کو جانتے ہوئے بھی اسے اور اس کے بیٹے بہو کو نواسے کے لیے اپنے گھر میں رکھے ہوئے تھے۔
ورنہ وہ صرف نواسے کو بھی رکھ سکتے تھے۔ انہوں نے وردا کے شوہر کو بھی اپنے آفس میں اچھی پوسٹ دے دی کہ وہ بزنس کے نکتے جانتا ہے۔ نوید صاحب نے اسے بزنس میں طاق کر دیا تھا۔
وہ اب نوید صاحب کو یاد کرتا ہے اور عشوہ سے بھی معافی مانگتا ہے۔
جب سے اس کی ماں فوت ہوئی ہے وہ اب اپنے آپ کو اکیلا سمجھتا ہے۔
اب تو وہ عشوہ کو بہن مانتا ہے اور اسے اور اس کے بچے سے بہت پیار کرتا ہے۔
عشوہ کے ساس سسر وفات پا چکے تھے۔
نوید صاحب کے بیٹے کی شادی بہت دھوم دھام سے وردا کے دیور سے ہو چکی تھی۔
عشوہ کا بیٹا سب کی آنکھ کا تارا تھا۔
عشوہ کو اب ڈھیروں رشتے مل چکے تھے۔
نوید صاحب کا بیٹا اور بیٹی اسے بہن کا درجہ دیتے۔
عشوہ کو نوید صاحب کی بیوی بیٹی کی طرح چاہتی۔
وہ اکثر اس بات کا زکر کرتی رہتی کہ نوید نے اس کے پیسے سے بزنس شروع کیا جو اتنا ترقی کر گیا کہ اج سب کا مستقبل سنور گیا۔
عشوہ بڑے پیار سے انہیں ماما کہہ کر گلے میں بانہیں ڈال کر کہتی،
ماما یہ میرے لیے گھاٹے کا سودا نہیں ہوا۔
انہوں نے مجھے سگے باپ سے بڑھکر پیار دیا اور اتنے ڈھیروں پیارے رشتے مل گئے۔
انہوں نے مجھے پیار سے پالا پوسا، پڑھایا لکھایا۔
یہ ان کا مجھ پر بہت احسان ہے۔
نوید کی بیوی نے ڈرتے ڈرتے کہا، کہ بیٹی ایک بات کہوں تو مانو گی کیا،؟
وہ تڑپ کر بولی، ماما کیسی باتیں کرتی ہیں آپ حکم کریں بس۔ میری کیا مجال کہ میں نہ مانوں۔
انہوں نے جھجکتے ہوئے کہا کہ تمہارا سگا باپ آیا تھا ملنے۔
وہ رو رو کر معافی مانگ رہا تھا۔
اس نے شادی خاندان میں والدین کی پسند سے کی۔
عشوہ ایکدم غصے سے بولی، ماما میں اس شخص کا نام بھی نہیں سننا چاہتی ہوں۔
مسز نوید نے یاد دلایا، بیٹی تم مجھ سے بات ماننے کا پرامس کر چکی ہو۔
وہ کچھ بولنے لگی تو وہ جھٹ سے بولیں، اچھے لوگ پرامس نہیں توڑتے۔
پھر وہ تمہارا باپ ہے۔
وہ غصے سے بولی، وہ میرا باپ نہیں۔۔۔۔۔
مسز نوید نے اس کی بات کاٹتے ہوے کہا، دیکھو پہلے میری سکون سے پوری بات تو سن لو۔
اتنے میں عشوہ کا بچہ رونے لگا۔
ارحم نے اسے گود میں لیتے ہوئے کہا، میں کسی کو کہہ کر اس کی فیڈر بنوا لیتا ہوں۔ اور اسے سلا دیتا ہوں۔
تم فکر نہ کرو۔
وہ بچے کو لیکر باہر چلا گیا۔
عشوہ نے آہستہ سے کہا، لگتا ہے میرے علاوہ اس گھر میں سب کو اس بات کا علم ہے۔
مسز نوید نے کہا، سچ ہے۔
کیونکہ تمہارے بابا روز آ کر منتیں کرتے ہیں۔
ان کے تین بیٹے ہیں۔
ان کی بیوی بہت اچھی ہے۔ اسے بیٹی کا بہت شوق تھا۔
جب اسے پتا چلا کہ اس کے شوہر کی ایک بیٹی بھی ہے تو وہ تڑپ گئی اور بولی، جب میری اپنی بیٹی موجود ہے تو وہ مجھ سے اور اپنے باپ بھائیوں سے دور کیوں ہے۔
تمہارے دادا دادی بہت ضعیف ہو چکے ہیں۔ وہ بھی اپنے کیے پر شرمسار ہیں۔
تم پلیز مان جاو۔
عشوہ آنکھوں میں آنسو بھر کر تیزی سے کمرے سے چلی گئی۔
عشوہ کو سب نے بہت منانے کی کوشش کی، مگر وہ اس معاملے میں پتھر کی بن گئ۔
کسی کی بات نہیں مان رہی تھی۔
دادا دادی مسز نوید سے فون پر منتیں کرتے کہ ہماری پوتی کو منا لو۔
اس کی سوتیلی ماں اسکا باپ، سوتیلے بھائی، ایک بھائی شادی شدہ تھا اس کی بیوی کو بھی اپنی نند سے ملنے کا بہت شوق تھا۔
مگر عشوہ کسی کے آگے نہ پگھل رہی تھی۔
روز سب منتیں کرتے اور فون پر انہیں مایوس کر دیتے۔
سب نے فیصلہ کیا کہ وہ اب اپنے کیے پر شرمندہ بھی ہیں اور بزرگ ہو کر معافیاں مانگ رہے ہیں۔ ہیں تو وہی اس کے سگے۔
ہمیں ان کو ملانا چاہیے۔
آخر انہوں نے انہیں گھر دعوت پر انواہیٹ کیا اور کہا کہ آمنے سامنے بات چیت ہو گی تو ہمیں امید ہے کہ وہ پگھل جائے گی اور معاف کر دے گی۔
عشوہ کو یہ بتایا گیا ہے ہمارے قریبی عزیز ملنے آ رہے ہیں۔
وہ ملک سے باہر تھے۔
گھر میں ان کی آمد کی خوب تیاریاں کی گئیں۔
جب وہ لوگ آے تو عشوہ کو کچھ شک گزرا۔ کیونکہ اس نے ملازمہ سے پوچھا کہ کتنے لوگ ہیں۔
جب اس نے تعداد بتائ تو عشوہ نے سوچا بہتر ہے کہ وہ طبیعت خرابی کا بہانہ کر کے کھانے کے بعد ملے۔
مسز نوید کو اندازہ ہو گیا کہ اسے شک پڑ چکا ہے۔
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.