Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
زویا بیٹی آ گئ واپس، زویا کے دادا نے اپنے بیٹے سے پوچھا۔
جی بابا جان آ گئ ہے اپنے کمرے میں جو ڈھیروں شاپنگ کر کے لائ ہے اس کو سنبھال رہی ہے۔
بابا جان بولے، ارے اسے جلدی بلاو، چاے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
زویا مسکراتی ہوئی آئی اور سلام کر کے پاس کھڑی ملازمہ کو حکم دیا کہ چاے ڈال کر دے۔ وہ موبائل کھول کر بیٹھ گئ۔
اتنے میں شاہ رُخ آیا اور زویا کے باپ کو چابی دیتے ہوئے بولا، انکل گاڑی کی ٹیوننگ کروا دی ہے۔
وہ چابی لے کر چاے کی چسکیاں لینے لگے۔
زویا کے دادا نے اسے کہا، بیٹا بیٹھ کر چاے پی لو صبح سے گاڑی کے چکر میں گئے ہوئے تھے۔
وہ ان کے مجبور کرنے پر بیٹھ گیا۔
اسے چاے کی طلب بھی ہو رہی تھی تھک گیا تھا۔
زویا نے اسے دیکھتے ہی شکل بنالی۔
وہ آہستگی سے چاے کی چسکیاں لینے لگا۔
زویا نے باپ اور دادا کے جانے کے بعد شاہ رخ کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
تم یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ تم اس گھر کے ملازم ہو نوکر نہیں۔
زرا سی آفر کیا ملتی ہے چوڑے ہو کر بیٹھ جاتے ہو۔
شاہ رخ نے دکھ بھری نظروں سے اسے ایک نظر دیکھ کر ایک لمبی سانس لی اور چپ کر کے چاے پیتا رہا۔
اتنے میں شاہ رُخ کی ماں آ گئ جو زویا کی باتیں سن چکی تھی۔
دونوں اب اس کی باتوں کے عادی ہو چکے تھے۔
زویا جلدی سے چاے ختم کر کے منہ بنا کر اپنے موبائل اور ہیڈ-فون اٹھائے کمرے میں چل پڑی۔
اور غصے سے لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گئ۔
شاہ رُخ اپنے سرونٹ کوارٹر میں ماں کے پاس آیا اور روتے ہوئے بولا، اماں ہم غریبوں کو یہ امیر لوگ اتنی حقارت سے کیوں دیکھتے ہیں۔
کیا ہم اپنی مرضی سے غریب پیدا ہوئے ہیں اور کیا امیر اپنی مرضی سے امیر پیدا ہوئے ہیں۔ بچپن سے آج تک زلت اٹھاتا آ رہا ہوں۔
ماں قریب بیٹھ گئی اور اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر کر، اپنے پلو سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی، بیٹا جو غریب اپنی غربت سے بھی خوش اور صبر کرے گا اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا اجر و ثواب پائے گا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کسی سے بے انصافی نہیں کرتے جو امیر ہے اس کے لیے بھی دولت آزمائش ہے۔ اپنی ضرورت سے بڑھ کر جو سازو سامان رکھے گا قیامت والے دن اسے انکا حساب دینا پڑے گا اور وہ سامان جاہیداد وغیرہ اسے سر پر اٹھا کر کھڑس ہونا پڑے گا۔ اس لیے اپنی قسمت پر شاکر رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس حال میں بھی رکھیں اسکا شکر ادا کرنا چاہیے۔ بیٹا ماں کی گود میں سر رکھ کر بولا، سوری امی میں اب آپ کو کھبی پریشان نہیں کروں گا گلہ نہیں کروں گا۔
آپ تو خود بےبس ہیں۔ ابو کے جوانی میں ہی مرنے کے بعد آپ نے ساری عمر میرے فیوچر سنوارنے میں گزار دی۔ میں جب کمانے کے قابل ہوا تو میں آپ کو ان کی آیا گیری نہیں کرنے دوں گا انشاءاللہ۔
ماں نے شفقت بھرے لہجے میں سمجھایا، نہیں بیٹا، ان لوگوں کے ہم پر بہت احسانات ہیں۔ تم پڑھ لکھ گئے ہو۔ اب یہ لوگ تمہیں اپنے کاروبار میں شامل کر کے تمہیں اچھی پوسٹ دے رہے ہیں۔ تیری تنخواہ ہو گی تو میں تیری شادی کروں گی۔
کل سے تم نے زویا کے والد کے ساتھ ان کے آفس جواہن کرنا ہے۔ بس ان لوگوں سے منہ نہ موڑنا۔ یہ ہمارے محسن ہیں۔ ورنہ اس مہنگائی کے دور میں مجھے اور تیرے نانا کو چھت ملی ہے رہنے کا ٹھکانہ ہے۔ کرایہ بل گیس بھی نہیں دینے پڑتے وغیرہ۔
آفس میں تمہیں افسری دی ہے۔ دوسری بات تیری ماں کو اس محل نما گھر سے انسیت ہو گئی ہے اب آخری سانس تک ادھر ہی رہنا ہے۔ شاہ رُخ ٹھنڈی سانس بھر بولا، وہ تو مجھے بھی اس گھر سے بہت لگاو ہے اس گھر میں میرا بچپن گزرا ہے۔
ماں نے پیار سے سمجھایا کہ تو زویا اور اس کی ماں کی باتوں کا برا نہ منایا کر۔
دیکھ زویا کے دادا (بابا جان) اور زویا کے والد دونوں تم سے کتنا اچھا سلوک کرتے ہیں۔
شاہ رُخ طنزیہ ہنسا اور بولا، امی جان صرف بابا جان مجھ سے بچپن سے آج تک شفقت سے پیش آتے رہے ہیں۔
زویا کے والد تو مجھ سے زلت بھرا لہجہ اختیار کیے رہتے ہیں۔
بابا جان کے بعد ہمیں ادھر نہیں رہنا میں کہیں اور نوکری کر کے آپ کو اور نانا جان کو ادھر سے لے جاوں گا۔
مجھ سے نانا جان کی بےعزتی برداشت نہیں ہوتی۔ اس عمر میں چوکیداری جیسی سخت نوکری کرتے ہیں۔ اور زویا کے والد ان کے سلام کا جواب تک نہیں دیتے۔ اکڑ کر گزر جاتے ہیں۔ بیٹی کو بھی اپنے جیسا بنایا ہے اس میں بھی غرور اور نحوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
میری آفس جاب پر اس نے کافی واویلہ مچایا مگر بابا جان نے اس کی اور اس کے باپ کی چلنے نہ دی کہ جب گھر میں پڑھا لکھا بھروسے مند شخص موجود ہے تو باہر سے آدمی رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اور دیکھنا، امی جان میرے ٹیلنٹ سے وہ خود ہی متاثر ہو جائیں گے انشاءاللہ۔
زویا نے ضد پکڑی ہوئی ہے کہ اس کی پڑھائی ختم ہو چکی ہے اور وہ بھی اب آفس جوائن کرے گی۔
زویا کی ماں نے سسر کو بتایا۔
بابا جان بولے، زویا جو کانوں میں ہیڈ-فون لگاے ابھی آ کر بیٹھی تھی۔
دیکھو زویا بیٹا تم ایک بات اچھی طرح سے سمجھ لو مجھے تمہارے آفس جوائن کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے جب تک تمہاری شادی نہیں ہو جاتی تم اپنا شوق پورا کر لو۔ مگر آفس میں کسی سے بھی بدتمیزی نہیں کرنی کسی کو برا بھلا نہیں بولنا۔
آفس کے اندر شاہ رُخ کو اپنا ملازم نہیں سمجھنا اسے زلیل نہیں کرنا اس پر رعب نہیں جھاڑنا۔
اتنے میں زویا کے والد بھی آ کر بیٹھ گئے۔ اور بیوی نے چائے بنا کر انہیں دی۔ سب چاے پینے لگے۔
زویا کی ماں بیٹی کو دیکھنے لگی جو گلہ بھری نظروں سے ماں کو دیکھ رہی تھی۔
بابا جان نے سامنے سے آتے شاہ رُخ کو قریب بٹھایا اور اسے چاے دینے کا اشارہ کیا۔
زویا کی ماں نے حسبِ عادت اسے تیوری چڑھا کر چائے دی۔
بابا جان بولے ہاں بائ برخوردار کل سے آفس جواہن کر رہے ہو۔
وہ زویا کے باپ سے بولے، دیکھو میاں، اس کو ادھر جو پوسٹ تم ادھر دے رہے ہو وہ عزت والی ہے ادھر اسے گھر کا ملازم مت سمجھنا ورنہ اس کے ماتحت لوگ اس کے رعب میں نہیں آئیں گے اور کام صحیح نہیں کریں گے۔
زویا کے والد نے اثبات میں گردن ہلائی۔
زویا سے بولے، دیکھو بیٹا، یہ جو اتنا بڑا کاروبار پھیلا ہوا ہے یہ سب بہت مشکل سے کھڑا کیا ہے۔ گاوں کی زمینوں کو بیچ کر بیٹوں کی خواہش پوری کر کے ادھر شہر میں سکونت اختیار کی۔ ورنہ گاوں میں اپنے باپ دادا کی جاہیداد بیچنا بہت برا خیال کیس جاتا ہے۔ تمہارے چچا کو باہر اعلیٰ تعلیم کے لئے بھیجا۔ اس کی اس کی پسند کے مطابق اس کی کلاس فیلو سے شادی کروائی۔
تمہارے باپ کو بزنس سیٹ کر کے دیا۔ شہر میں گھر بنوایا۔ اب آفس میں ایک بھروسے مند آدمی کی ضرورت ہے۔ تمہارا باپ اب بوڑھا ہو رہا ہے بیمار بھی رہتا ہے اس لیے اسے اب قدرے آرام کی ضرورت ہے اس لیے شاہ رُخ کو وہاں پر ہیڈ بنایا ہے تاکہ یہ اس دوبتے کاروبار کو سنبھال سکے جو اب خسارے میں جا رہا ہے۔
شاہ رخ نے کہا، بابا جان آپ بھروسہ رکھیں میں پوری محنت اور لگن سے کام کروں گا انشاءاللہ۔
انہوں نے جواب دیا، مجھے تم سے یہی امید ہے بیٹا۔
زویا ماں کے پاس منہ بنا کر سرگوشی سے بولی، کیسے میرے گرینڈ پا کو بابا جان کہتا ہے جیسے یہ اس کے بھی گرینڈ پا ہوں۔
بابا جان نماز عصر کے لیے اٹھ گئے۔
شاہ خان بھی پیالی رکھ کر اٹھ گیا۔
شاہ رخ کی ماں ایک کونے میں صوفے پر سمٹی ہوئی بیٹھی چاے پی رہی تھی۔
بابا جان کے جاتے ہی زویا کی ماں نے شاہ رُخ کی ماں کو ڈانٹتے ہوئے کہا، میڈم اب نواب بن کر چاے نہ پیو جلدی کرو یہ برتن سمیٹو اٹھ کر۔
وہ جلدی سے اٹھی اور بچی ہوئی چائے کو جلدی جلدی سے کھڑے ہو کر ختم کرنے لگی اور ٹیبل پر سے برتن سمیٹنے لگی۔
بابا جان نے شاہ رخ کو پیسے دیکر کہا، جاو بیٹا آفس کے لیے اچھے جوڑے وغیرہ خرید کر لے کر آو۔
وہ عاجزی سے بولا، بابا جان کیا میں اپنی ماں کو ساتھ لے جا سکتا ہوں۔
وہ بولے، ہاں ضرور لے جاو زرا اس بے چاری کا بھی چینج ہو جائے گا ہر وقت کام میں مصروف رہتی ہے۔
وہ تھوڑی سی جھجکی کہ رات کا کھانا بنانا ہے تو بابا جان بولے، فکر نہ کرو آج باہر سے آرڈر کر لیں گے تم دونوں بھی باہر کھا کر آنا۔
زویا نے کہا، موم میں نے بھی شاپنگ پر جانا ہے آپ بھی چلیں میرے ساتھ۔
وہ بولی اچھا۔
شاہ رُخ نے اپنی بائیک نکالی اور ماں کو بٹھایا۔
اتنے میں زویا نے اپنی گاڑی نکالی اور ماں بیٹی گھر سے روانہ ہو گئی۔
پیچھے شاہ رُخ بائیک پر ماں کے ساتھ آ رہا تھا۔
زویا گاڑی کے مرر سے اسے دیکھ کر ماں سے بولی، موم آج ہم ان کا پیچھا کرتے ہوئے ادھر جائیں گے جدھر یہ گرینڈ پا کا لاڈلہ جائے گا۔ دونوں ہنسنے لگیں۔
شاہ رخ کو اندازہ تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہی رہے گی نوٹ کرنے کے لئے۔
شاہ رخ نے بڑے شاپنگ مال پر بائیک لگائی اور ماں کو لے کر مال کے اندر چلا گیا۔
زویا نے جلدی سے ماں کے ساتھ تقریباً بھاگتے ہوئے کہا، موم جلدی چلیں، وہ لوگ آگے نکل گئے ہیں۔
زویا نوٹ کر رہی تھی کہ شاہ رُخ کی چوائس بہت اچھی تھی۔
اس نے ماں کے لئے جو سوٹ پسند کیا، وہ اسے اور اس کی ماں کو بہت پسند آیا مگر انہوں نے نحوت سے خریدا نہیں کہ ایک جیسا ہو جائے گا۔
شاہ رُخ انہیں ٹوٹل اگنور کر رہا تھا اور ماں کو بھی سختی سے سمجھا رہا تھا کہ آپ نے ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں، ایسے ظاہر کرنا ہے جیسے دیکھا ہی نہیں۔ ورنہ ادھر بھی وہ ہماری خوشی خراب کر دیں گی اور رعب جھاڑیں گی۔
جہاں وہ قریب آتیں وہ ماں کو وہاں سے دور لے جاتا۔
زویا اس کے رویے سے بہت تپ رہی تھی اس سے ٹھیک سے شاپنگ نہیں ہو پا رہی تھی۔
شاہ رخ شاپنگ کے بعد ماں کو کھانے کی طرف لے گیا۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر
موت کی طرح ہی ہیں دنیا کے رویے
کھبی موت بھی پناہ گاہ محسوس ہوتی ہے۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.