Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
شاہ رُخ کا باپ زویا کی پسند سے پارلر بنا رہا تھا وہ سارا خرچہ نوٹ بھی کر کے لکھ لیتی تھی۔ وہ دونوں ماں بیٹیاں بہت خوش تھیں۔
پارلر سٹارٹ ہوتے ہی خوب چل پڑا تھا۔
کیش پر زویا کے چچا نے اس کے والد کو بٹھا دیا تھا کہ اب آفس سے زیادہ ادھر ان کی ضرورت ہے۔
زویا لوگ اب صبح جاتے اور رات لیٹ ناہیٹ واپس آتے۔
زویا کے چچا نے بیوی کو صاف منع کر دیا تھا کہ گھر سے کھانے پکا کر نہیں بھیجنے، اب تم ان کی ملازمہ نہیں ہو۔
زویا کی ماں کو ادھر ایک کچن کا بندوبست بھی کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے برا تو بہت منایا مگر بول نہ سکیں۔
زویا کے چچا جویریہ کے گھر چلے گئے۔
وہ لوگ انہیں یوں اچانک آتا دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔
انہوں نے جویریہ کا پوچھا تو جویریہ کے والد نے بتایا کہ ان کی شادی شدہ بیٹیوں کے سسرال میں آجکل بہت ٹینشن چل رہی ہے۔ ان کی جٹھانی کو کینسر diagnosed ہو چکا ہے اور اس کے دو بچے ہیں جو پانچ سال کا بیٹا اور تین سال کی بیٹی ہے۔
میری بیٹیاں امید سے ہیں اور جویریہ بچوں کو سنبھالتی ہے کیونکہ وہ اس سے مانوس۔۔۔۔
شاہ رُخ کے باپ نے غصے سے بات کاٹتے ہوے کہا، کہ میری بیٹی بچوں کی آیا نہیں ہے۔ وہ لوگ کسی ملازمہ کا بندوبست کریں۔ اگر نہیں کر سکتے ہیں تو میں کر دیتا ہوں۔
جویریہ کا باپ تحمل سے بولا، کول کول پلیز، ہم بھی اپنی بیٹی کے دشمن ہرگز نہیں ہیں۔ اس وقت ان پر برا وقت آیا ہوا ہے۔ ان کی بہو کی لاسٹ اسٹیج ہے۔
انہوں نے ڈھیروں ملازم رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بچوں کو صرف مورل اسپورٹ کی ضرورت ہے۔ جویریہ صرف بچوں کو دیکھتی ہے۔ وہ ہم سے بھی زیادہ پیسے والے لوگ ہیں۔ آپ فکر نہ کریں۔
اچانک کال آ گئ کہ وہ چل بسی۔
شاہ رُخ کے باپ سمیت وہ لوگ وہاں روانہ ہو گئے۔
زویا سوچنے لگی کہ جب تک زویا کی شادی نہیں ہو جاتی، شاہ رُخ کا دھیان اسی کی طرف لگا رہے گا۔ وہ دل میں اسے کوستے ہوئے بولی، کمبخت کے رشتے بھی آ رہے ہیں مگر محترمہ فرماتی ہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گی والدین اکیلے رہ جائیں گے ان کا سہارا بنوں گی۔ مکار کہیں کی جان کر شادی نہیں کرتی ڈھونگی کہیں کی۔ سوچتی ہو گی شاید اس کی شادی شاہ رُخ سے ہونے کا چانس بن جائے۔
چاچو مجھ سے کتنا پیار کرتے تھے میں جو فرمائش کرتی فوراً بھیج دیتے تھے۔ میرے لیے مہنگے گفٹس لاتے تھے۔ بازار ساتھ جاتے ڈھیروں برانڈڈ چیزیں لے کر دیتے۔ کاش یہ جویریہ ان کی زندگی میں نہ آئی ہوتی۔
شاہ رُخ نے ناشتے کی میز پر بیٹھتے ہوئے ماں سے ازراے مزاق کہا، ماما شکر ہے وہ چڑیل ادھر بزی ہو گئی ہے اب کتنا سکون ہے ہماری زندگی میں۔
شاہ رُخ کے باپ نے اسے حیرت سے دیکھا۔ اور کہا بیٹا میں جان گیا ہوں کہ تم زویا کے ساتھ ساری زندگی خوش نہیں رہ سکتے اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہاری شادی جویریہ سے ہونی چاہئے تاکہ تم دونوں خوش رہ سکو۔
سب حیرت سے دیکھنے لگ پڑے۔
ابا جان نے خفگی سے کہا، منگنی کرنا توڑنا کوئی مزاق نہیں ہے۔جانتے ہو سب کیا سوچیں گے اور زویا کا کیا ہو گا۔
شاہ رُخ کے باپ نے غصے سے کہا، مجھے اپنے بیٹے کی خوشی سب سے زیادہ عزیز ہے۔
زویا کا کیا ہے وہ ایک جزباتی سی لاابالی لڑکی ہے۔ وہ عیش وعشرت اور دولت کی شوقین ہے۔ وہ خوبصورت ہے اسکا رشتہ کسی امیر گھرانے میں کروا دیں گے، ماں بیٹیاں خوش ہو جائیں گی۔ بس میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میں زویا کے لیے اچھا رشتہ تلاش کرتا ہوں اور آپ لوگ جویریہ سے شادی کی تیاریاں کریں۔
زویا جو گھر موبائل فون بھول گئی تھی وہ لینے گھر آئی تو اس نے ساری باتیں سن لیں۔
وہ کافی شاکڈ ہوئی اور انہیں قدموں آہستہ سے واپس پلٹ گئی۔
شاہ رُخ کو دیر ہو رہی تھی اس نے جلدی سے بیگ اٹھایا اور باہر نکل گیا۔
پیچھے ابا جان اور شاہ رُخ کے باپ کی بحث جاری تھی۔ شاہ رُخ کی ماں اگر زویا کی فیور میں بولتی تو وہ اسے ڈانٹ دیتا۔
شاہ رُخ نے دیکھا زویا جا رہی ہے اس نے سوچا لگتا ہے اس نے باتیں سن لی ہیں چلو اچھا ہے اس سے جان چھوٹے گی اور جویریہ مل جائے گی۔ اس نے سوچا چلو زویا کو بٹھا لیتا ہوں پیدل جا رہی ہے۔
اس نے قریب گاڑی روک کر کہا، بیٹھو تمہیں پارلر چھوڑ دیتا ہوں۔
زویا نے غم و غصے اور بہت ضبط سے شاہ رُخ کو دیکھا اور بولی، نہیں میں پیدل ہی چلی جاوں گی۔ یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے چل پڑی۔
شاہ رُخ نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔ نہ وہ پہلے کی طرح خوش ہو کر جھٹ سے بیٹھ گئی کیونکہ وہ لوگ اب پیدل ہی پارلر جاتے تھے۔ واکنگ ڈسٹنس پر پارلر تھا، اور جو گاڑی زویا استعمال کرتی تھی اب چچا کو ضرورت ہوتی تھی انہوں نے کہا تھا بیٹا زویا تمہیں جب ضرورت ہو گاڑی مانگ لیا کرنا۔
شاہ رُخ سارا دن آفس میں بھی زویا کے رویے کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس نے سوچا، اسے تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ اب کافی حد تک اس کی اس سے جان چھوٹی ہوئی ہے۔
شاہ رُخ کے باپ نے دل میں سوچا کہ وہ اب اپنے بیٹے کی خوشیاں واپس لٹا کر دم لیں گے اور اپنے بیٹے کو خوشی دیں گے وہ زویا سے رشتہ آج ہی توڑ کر جویریہ سے پکا کر دیں گے۔
انہوں نے ساری تفصیل ابا جان کو بتائ تو وہ سمجھانے لگے مگر جب وہ نہ مانے تو تھک ہار کر بولے، جو جی میں آئے کرو۔ ویسے بھی تم کب کسی کی سنتے ہو۔
زویا لوگ آجکل دیر سے آنے لگے تھے اب تو انہوں نے گھر کھانا کھانا بھی چھوڑ دیا تھا۔
شاہ رُخ کو زویا کے اس بدلے رویے سے الجھن ہونے لگی تھی۔
پہلے اس نے شاہ رُخ کی خوشی کی خاطر شلوار قمیض پہننی شروع کر دی تھی مگر اب وہ پھر سے اپنے پرانے حلیے میں واپس آ گئ تھی پینٹ شرٹ، ٹراوزر، وغیرہ پہننے لگی تھی۔ مگر رویہ ٹوٹل بدل چکا تھا اب کسی سے فالتو بات نہ کرتی، صرف ابا جان کو سلام کرتی۔ شاہ رُخ کی ماں کو بھی اس نے لفٹ دینی چھوڑ دی تھی ان کی کسی بھی بات کا نرمی اور مختصر جواب دیتی۔
شاہ رخ کے باپ نے سنڈے والے دن رات کو سب کو بلا کر ضروری بات بتانے کا کہا۔
سب ڈرائنگ روم میں جمع ہو گئے۔
شاہ رُخ کے باپ نے کہا، میں آپ سب کو ایک ضروری بات۔۔۔۔۔
فوراً ہی زویا نے بات کاٹتے ہوے کہا سوری چاچو میں نے بھی سب سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔
سب اسے دیکھنے لگے۔
زویا نے کہا، سب سے معزرت کے ساتھ کہنا چاہتی ہوں کہ میں شاہ رُخ سے رشتہ توڑ رہی ہوں۔ آپ ان کی شادی جویریہ سے کر دیں سب کی بہتری اور خوشی اسی میں ہے۔
سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔
زویا کی ماں نے دکھی لہجے میں اسے ڈانٹ کر کہا تم ایسا نہیں کر سکتی۔
زویا بولی سوری موم میں فیصلہ کر چکی ہوں اور اب اس پر قائم ہوں۔
شاہ رُخ کے باپ نے خوش ہو کر کہا، بلکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے اب دیکھنا میں تمہاری شادی کتنے امیر گھرانے میں کروں گا۔
وہ بولی سوری چاچو آپ میری شادی کی فکر چھوڑ دیں یہ کہہ کر وہ تیزی سے چل پڑی۔
شاہ رُخ کے باپ نے شاہ رخ کو خوش ہو کر تھپکیایا، مگر شاہ رُخ کھویا ہوا تھا خوش نہ ہوا۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر۔
عشق کی گہرائی کا ہوتا ہے تب ادراک
جب ملے محبوب کی جدائی یا بے وفائی۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.