Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
سب زویا کا فیصلہ سن کر شاک میں تھے۔ ابا جان نے پوچھا، تم کیا ضروری بات بتانے والے تھے۔
شاہ رُخ کا باپ مسکرا کر بولا،، زویا نے جو کہا وہی کہنے والا تھا کہ جویریہ اور شاہ رُخ کی خوشی شادی میں ہی سب کی خوشی ہے۔
زویا کی ماں بولی، میری بیٹی کا کیا ہو گا۔
شاہ رُخ کے باپ نے کہا، بھابھی وہ بیگ صاحب ہیں ناں ہمارے پڑوسی وہ بھی رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں میں نے ہلکہ سا زکر کیا تو وہ انٹرسٹ لینے لگے۔
شاہ رُخ اٹھ کر بولا، پلیز ڈیڈ روز روز یہ رشتے توڑنا جوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ اور کہہ کر باہر نکل گیا۔
شاہ رُخ کے باپ نے حیرت سے بیٹے کو دیکھا۔
زویا اپنے کمرے میں آ کر ساری رات دبی دبی ہچکیوں سے روتی رہی۔ اس نے ماں کو کہہ دیا تھا کہ وہ سونے لگی ہے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔
ماں جانتی تھی بیٹی کچھ دنوں سے اداس تھی۔ نہ جانے اس دن گھر موبائل لینے گئی تھی اس کے بعد بدلی ہوئی ہے۔ اداس رہتی ہے۔ سنجیدہ مزاج ہو گئی ہے۔ شوخی و شرارتیں بھول گئ ہے۔
شاہ رُخ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے باپ نے یہ کیا اچانک فیصلہ کر لیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ انہیں اس کی خوشی عزیز ہے۔ پھر میں خوش کیوں نہیں ہوں۔ ساری رات وہ کروٹیں بدلتا رہا۔
صبح بغیر ناشتے اداس سا آفس چلا گیا۔ اسکا باپ حیران ہو رہا تھا کہ بجائے خوش ہونے کے وہ زویا کے انکار سے اداس ہو گیا ہے کیا وجہ ہے۔ کہیں جلدی میں ان سے غلط فیصلہ تو نہیں ہو گیا ہے کیا۔
انہوں نے بیوی سے پوچھا۔
بیوی نے سرد آہ بھر کر کہا، آپ زویا کی کہیں اور بات نہ کرنا، مجھے لگتا ہے کہ ہمارا بیٹا جویریہ سے نہیں زویا سے پیار کرتا ہے۔
شوہر حیرت سے بولا، تو پھر جویریہ کے ساتھ کیا تھا اسکا۔
بیوی نے سانس بھر کر جواب دیا کہ وہ بچپن سے اکھٹے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو پیار کرتے ہیں مگر پہلے زویا اسے نوکر سمجھ کر اپنے اس جزبے کو قبول کرنا نہیں چاہتی تھی۔ پھر جویریہ آئی اور اس نے مجھے بہت عزت دی جس کی وجہ سے شاہ رُخ خوش ہو گیا اس وقت اس پر ماں کی محبت غالب تھی اور اس کو بھی احساس نہیں تھا کہ وہ زویا سے پیار کرتا ہے۔ اس نے جویریہ کے لیے حامی بھر لی، جب زویا کو احساس ہوا تو وہ سہہ نہ سکی اور دل کھول دیا۔
زویا نے مجھے لگتا ہے کہ اس دن آپ کی باتیں سن لی تھیں مجھے ہلکی سی دروازے کی آواز آئی تھی۔ اس کو آپ سے یہ امید نہ تھی کیونکہ اسے آپ کی محبت پر بہت مان تھا اسکا مان ٹوٹ گیا اور وہ بھی ٹوٹ گئ اور اس کی اندر کی غیرت جاگ گئی۔
پلیز آپ ان دونوں کو جدا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ دیکھا نہیں ہمارا بیٹا آج ناشتہ بھی نہیں کر کے گیا ہے۔ اس سے خود بھی فیصلہ نہیں ہو رہا ہے کہ وہ جویریہ کو پسند کرتا ہے یا زویا کو۔ جویریہ سے صرف متاثر ہوا تھا۔ جب محبوب جدا ہو جائے یا ہونے کا ڈر ہو تو تب محبت کا احساس ہوتا ہے۔
زویا سے جب شاہ رُخ جدا ہونے لگا تو اسے اپنی محبت کا احساس ہو گیا۔
اب شاہ رُخ کو میں نوٹ کر رہی تھی جب سے زویا سارا دن پارلر گزارتی ہے اور شاہ رخ آئے تو گھر موجود نہیں ہوتی تو وہ بےچین ہو جاتا ہے۔ اور بار بار اسکا زکر کرتا ہے۔
زویا بچپن سے اسے زلیل کرتی رہی تو وہ اس پر تپا ہوا تھا جب جویریہ کی طرف سے اسے عزت اور محبت ملی تو وہ وقتی طور پر بہل گیا تھا مگر وہ زویا سے شدید محبت کرتا ہے۔ غصے میں بھی اسکا دھیان اسی کی طرف رہتا تھا۔
شاہ رُخ کے باپ نے سر پکڑ لیا اور پچھتاتے ہوئے بولے، یہ میں نے کیا کر دیا۔ میں دوبارہ زویا سے بات کر کے اسے منا لوں گا۔
شاہ رُخ آفس گیا تو بات بات پر ورکز پر برسنے لگا اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔ اس نے اپنے پرانے دوست کو فون کیا تو وہ ناراض ہوتے ہوئے بولا، اتنے ٹائم کے بعد میری کیسے یاد آ گئی۔
وہ بولا یار میں آج بہت پریشان ہوں تو آ زرا اکٹھے باہر کہیں چل کر باتیں کرتے ہیں۔
وہ اوکے کہہ کر بولا آتا ہوں۔
دونوں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے کھانے کے ساتھ باتیں کرنے لگے۔
شاہ رُخ نے شروع سے جویریہ سے لیکر زویا تک تمام تفصیل اسے بتائ۔
دوست نے ایک لمبا سانس کھینچا اور بولا، سمپل بات ہے تو جویریہ سے ماں کی محبت میں متاثر ہوا تھا مگر تو پیار زویا سے ہی کرتا تھا مگر اس کے سابقہ رویے کی وجہ سے اس کی طرف سے بدگماں تھا مگر اب اس کی دوری کا ڈر تجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔ اپنے پاپا کو بھی کلیر کر دے کہ تو زویا سے پیار کرتا ہے اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
شاہ رُخ سانس بھر کر بولا پہلے میں خود تو کلیر کر لوں۔
دوست نے کہا، بس تو اس کلیر کے چکر میں اسے ہاتھ سے نہ گنوا دینا۔
شاہ رُخ نے کہا، شکریہ یار شاید تو صحیح کہہ رہا ہے۔ جب سے وہ پارلر جانے لگی تھی مجھے اس کی کمی شدت سے محسوس ہوتی تھی جب وہ واپس آ جاے تو تب چین آتا تھا۔ اب تو وہ سخت دکھی اور ناراض ہے۔
دوست نے کہا، یار تیرے پاپا نے بھی تو ان کے ساتھ اچھا نہیں کیا دودھ میں مینگنیں ڈال کر دینے والی بات کی ہے۔ ان کو پارلر کھول کر دیا اور ان کا کھانے کا سسٹم بند کروا دیا۔ کم سے کم رات کا تو رکھتے۔ پھر گاڑی لے لی۔ اس کے پاپا کو نوکری سے نکال دیا۔
ساری زندگی ان کی پرورش کر کے اب ہاتھ کھینچ لیا۔
شاہ رُخ نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ اچھا ہوا اگر وہ تائ اماں کو پہلے ہی پارلر کھول دیتے تو آج وہ لوگ اپنے پاوں پر کھڑے ہوتے۔
دونوں بل ادا کر کے باہر نکل گئے۔
قریب ٹیبل پر زویا کی فرینڈ نے ساری گفتگو سن لی اور جھٹ زویا کو فون ملا کر خوش خبری سنانے کے لیے فون کیا تو اس نے اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ اسے ڈانٹ کر کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں سننا چاہتی۔
دوست حیرت سے فون کو دیکھنے اور سوچنے لگی کہ اسے کیا ہوا۔
شاہ رُخ کے باپ کو فون آیا کہ آج جویریہ کا نکاح ہے اور سب لوگ انواہیٹ ہیں۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر۔
عشق مثل شمع ہے قطرہ قطرہ پگھلنا ہے
آہستہ آہستہ جلنا ہے خود کو ختم کرنا ہے۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.