Loading...
Logo
Back to Novel
Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
Gar Na Main Tera Deewana Hota

گر نہ میں تیرا دیوانہ ہوتا 14

From Gar Na Main Tera Deewana Hota - Episode 14

شاہ رُخ زویا کے رویے سے بہت دکھی اور پریشان تھا وہ اب اسے بلکل لفٹ نہ کراتی تھی البتہ اس کی ماں کی عزت کرتی تھی۔

ابا جان نے زویا کے باپ سے کہا کہ زویا کو سمجھاو، میں اب ان دونوں کی شادی کرنا چاہتا ہوں۔

زویا کے باپ نے بیٹی کو پیار سے سمجھایا کہ وہ اب ابا جان کو وعدہ کر چکے ہیں اور تمہیں ماننا پڑے گا۔

اس نے سر جھکا دیا۔

گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی سب خوشی میں شادی کی تیاریاں کرنے لگے ایک ماہ بعد شادی تھی۔

ابا جان نے شاہ رُخ سے کہس کہ وہ بھی تیاری کر لے اور روز زویا اور ماں اور تائ کو شاپنگ پر لے کر جایا کرے۔

ابا جان نے سادگی سے گھر میں نکاح پڑھوا دیس اور شاہ رخ کی خوشی دیدنی تھی مگر زویا حسب معمول سنجیدہ اور شاہ رخ سے بات نہ کرتی تھی۔

زویا کی فرینڈ نے اسے سمجھایا کہ دیکھو تمہاری ہاں سے شاہ رُخ کتنا خوش ہے اور ایک تم ہو کہ تمہارے مزاج ہی نہیں مل رہے نخرے پر نخرے دکھائی جا رہی ہو۔ ساری زندگی تم اسے ستاتی اور زلیل کرتی آئی ہو پھر بھی اسکا بڑا پن ہے کہ وہ تمہاری ساری زیادتیوں کو اگنور کرتا آ رہا ہے اس لیے کہ وہ تم سے شدید پیار کرتا ہے کیا اس کے لیے لڑکیوں کی کمی ہے کیا۔

جویریہ بے چاری کو دیکھ لو، آج اگر اس کی شادی شاہ رُخ سے ہوتی تو اس کے نصیب کھل جاتے۔ ادھر سب اچھے تھے اسکا سسر اسکا پالنے والا باپ ہوتا۔

مگر افسوس اس کے نصیب میں دو بچوں کا باپ لکھا تھا۔ جب شاہ رُخ اسے منگنی کی انگوٹھی پہنا رہا تھا تو کسی نے بتایا کہ تم نے نیند کی گولیاں کھا لی ہیں تو شاہ رُخ تڑپ کر جویریہ کا ہاتھ جھٹک کر تیزی سے سب سے پہلے تمہارے کمرے کی طرف بھاگا تھا اور تمہیں دیکھا اور جھٹ گاڑی کی چابی لایا اور تمہیں اس میں پیچھے ڈالا۔ اس کے بعد تمہارے والدین کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور تیز سپیڈ سے گاڑی دوڑاتا لے گیا دو بار ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا۔

زویا حیرت اور خوشی سے سب سن رہی تھی۔

زویا بولی، جویریہ ایک عقلمند لڑکی تھی وہ شاہ رخ کا رجحان جان گئ تھی اسی لیے خاموشی سے تم دونوں کے بیچ میں سے ہٹ گئی۔اب تم سدھر جاو۔

زویا تنک کر بولی، اس نے مجھے نہیں ستایا کیا۔ کیسے مزے سے جویریہ سے منگنی کرنے چلا تھا۔میں اس ناراض ہوں۔

زویا کی فرینڈ بولی، دیکھو پگلی کسی کو اتنا ناراض نہیں کرتے کہ وہ خود تم سے ناراض ہو جائے۔

اب دیکھو ناں، نکاح کے بعد اس نے تمہیں شعر کے زریعے کیسے خوبصورت انداز میں اظہار محبت بھرا میسج کیا تھا۔

کیا خوب شعر تھا جیسے،

شعر۔

اے حسینہ گر نہ میں تیرا دیوانہ ہوتا

تیرے رنگ و روپ کا کیا پیمانہ ہوتا

میری محبت نے جلا بخشی ہے

ورنہ تیرے غرور کا کیا ٹھکانہ ہوتا۔

زویا کی فرینڈ فرط جزبات سے بولی، کاش مجھے بھی کوئی ایسا چاہنے والا ہوتا تو کتنا مزہ آتا۔ اب نخرے بند کر سمجھی، یہ نہ ہو پھر وہ تمہیں لفٹ نہ کراے اور پھر پچھتاتی پھر وہ اتراتے ہوئے بولی، ایسا کھبی نہیں ہو سکتا۔ وہ میرا دیوانہ ہے۔ دیکھا نہیں کتنا خوش خوش پھرتا ہے۔

زویا کی فرینڈ زچ ہو کر ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی، اچھا میری ماں جو جی میں آئے کرو۔

زویا مسکرا کر اسے کشن مارتے ہوئے بولی، تم جو اتنی دیر سے مجھے دادیوں کی طرح لیکچر دے رہی تھی۔

شاہ رُخ اور زویا کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔

شاہ رُخ نے شاہ رخ نے ساتھ شاپنگ پر جانے سے معزرت کر لی تھی کہ کام کا برڈن ہے۔

زویا کو حیرت کے ساتھ غصہ بھی آ رہا تھا کہ اس نے اپنی شاپنگ کے لیے بھی گھر والوں کی مرضی پر چھوڑ دیا تھا۔

زویا کو اس بات کا غصہ تھا کہ وہ جویریہ کی منگنی کا سوٹ اور انگوٹھی ماں کے ساتھ جا کر اپنی پسند سے لایا تھا۔

زویا کی فرینڈ نے سمجھایا، یار وہ کس کو کہتا لانے کو۔ اب وہ واقعی بزی ہے۔ انکل اور ابا جان اسے کہہ رہے تھے کہ جلدی کام ختم کرو تاکہ شادی میں چھٹیاں لے سکو اور ہنی مون پر جا سکو۔

زویا خوش ہو کر بولی، میں تو ورڈ ٹور پر جاوں گی۔

زویا کی دوست بولی، ارے بی بی کرونا کی وجہ سے سب کچھ گڑ بڑ ہوا ہے فلائٹ بھی نہیں ملتی۔ اب تو لوگ ڈر کر گھروں سے نہیں نکلتے۔ رشتہ داروں کو نہیں بلاتے۔ اب تو فوتگیوں پر بھی لوگ نہیں بتاتے بس اسٹیٹس لگا دیتے ہیں وہ بھی چند دن بعد کا۔ بس گھر والے ہی یا بہت قریبی کو بلاتے ہیں۔

باقی لوگ اسٹیٹس پڑھ کر فون پر افسوس کر دیتے ہیں۔

اب اگر کرونا نہ ہوتا تو شادی گھر میں کرنے پر کھبی راضی ہوتی۔ قیامت مچا دیتی۔ اور سب سے مہنگے ہوٹل میں کرواتی۔

زویا کی فرینڈ شادی میں شرکت کے لیے پہلے سے ہی رہنے آ چکی تھی۔

شادی پر شاہ رُخ بہت خوش دکھائی دے رہا تھا سب نے نوٹ کیا تھا۔

شادی پر دونوں بہت پیارے لگ رہے تھے۔

زویا کی فرینڈ نے شاہ رُخ کو کہا، شاہ رُخ بھائی دیکھیں زویا پری جیسی خوبصورت لگ رہی ہے۔

شاہ رُخ نے ایک نظر دیکھ کر مسکرا کر جواب نہ دیا۔

زویا اور شاہ رُخ کو سب کمال کی جوڑی کہہ رہے تھے۔

سہاگ رات پر زویا دولہن بنی اترا رہی تھی کہ میں تو خوب attitude دیکھاوں گی۔

شاہ رُخ نے آ کر کمرے میں اسے کہا، میں بہت تھک گیا ہوں ان ڈھیر ساری فضول رسموں کو ادا کرتے کرتے۔تم واش روم جا کر فریش ہو جاو اور نائٹ سوٹ پہن لو۔

میں بھی فریش ہو کر آتا ہوں۔

زویا تو نہ جانے کیا کچھ سوچ کر بیٹھی تھی کہ وہ ساری رات اس کے حسن کے قصیدے پڑھے گا اور وہ اتراے گی نخرے دیکھاے گی۔ منہ دکھائی دے گا مگر اس کے انداز سے تو ایسا کچھ نہیں لگتا کہ وہ کچھ دے گا۔ وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔

اسے سخت انسلٹ محسوس ہوئی اور بہت غصہ آیا۔

اس نے غصے سے اپنے زیورات اتارنے شروع کر دیے۔

اتنے میں شاہ رُخ واش روم سے آیا۔ اس کو زیور اتارتے غصے میں دیکھ کر دھیما سا مسکرایا۔

زویا نے اسے آتا دیکھ کر جلدی سے غصے سے بھری نائٹ سوٹ اٹھا کر واش روم گھس گئی۔

سارا میک اپ اچھی طرح دھو دیا۔

واپس آئی تو وہ جانماز پر بیٹھا ہوا دعا مانگ رہا تھا۔

زویا سکون سے پاس سوے ہوئے شاہ رُخ کو دیکھنے لگی۔

وہ رو رہی تھی اس کے ارمانوں کا خون ہو چکا تھا اس نے تو اپنے سارے ارمان پورے کر لیے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ وہ اپنی کالج کی فرینڈز کو کیا بتائے گی کہ منہ دیکھای کیا ملا۔ کتنی سبکی ہو گی سب کے سامنے۔ آج اسکا سارا غرور ٹوٹ چکا تھا۔

جویریہ نے بھی اگر پوچھ لیا تو وہ کیا جواب دے گی۔

وہ کیسے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش نظر آ رہی تھی اور اپنے شوہر سے کیسے شاہ رُخ کا پر اعتماد طریقے سے تعارف کروا رہی تھی۔

شاہ رُخ بھی کیسا اس کو اور اس کے شوہر کو پرتپاک طریقے سے ملکر مبارک باد دے رہا تھا اور اس کے شوہر سے گپ شپ لگا رہا تھا اور جویریہ بھی اس کی باتوں میں شامل ہو کر ہنس رہی تھی۔

جویریہ کے شوہر نے جھٹ ان کی شادی کے بعد دعوت آفر کر دی تھی۔ جسے شاہ رخ نے بخوشی قبول کر لی تھی۔

چاچو بھی جویریہ سے کتنا پیار جتا رہے تھے اسے گلے لگا کر کھڑے تھے۔ اور شاہ رُخ کی ماں بھی جویریہ کو پیار کر رہی تھی۔

ابا جان بھی بڑی محبت سے اسے باتیں کر رہے تھے۔ کسی کو میری پوتی بتا کر تعارف کروا رہے تھے۔ سب میرے ہیں۔ جویریہ تو کسی کی کچھ بھی نہیں۔

چاچو بھی سب کو میری بیٹی بتا رہے تھے۔

شاہ رُخ اس سے فالتو بات نہ کرتا۔ زویا پہلے تو کچھ حیران ہوتی رہی مگر ماں نے سمجھایا کہ شوہر کو مٹھی میں کرو، اس کا دل جیتو، ورنہ وہ ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ خوب اس کی خدمت کرو۔ اس سے پیار والا رویہ رکھو۔ تم نے اس کے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں وہ اسے یاد آتی ہوں گی۔

زویا تڑپ کر غصے سے ماں سے بولی، موم یہ سب آپ نے ہی تو سکھایا ہے۔

ماں نے پچھتاتے ہوئے کہا کہ مانا مجھ سے غلطیاں ہوئی ہیں مگر اب تم تو عقل پکڑو۔ اس کا دل جیتنے کی کوشش کرو، اس کی ماں کی دل سے خدمت کرو۔ اس کا دل یقیناً پگھل جائے گا۔

کسی کا دل جیتنے کے لئے اس کے دل کو پڑھنا پڑتا ہے کہ کون سب سے زیادہ اس کے دل کے قریب ہے۔ پھر اسکا دل جیتو تو وہ خود ہی نرم پڑ جائے گا۔ بس کوشش کر کے اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھو۔

اب مجھے سمجھ آ چکی ہے کہ جب خدمت ہی کرنی ہے تو دیکھاوے کی کیوں کرے۔ چلو شوہر نہیں دیکھ رہا۔ اللہ تعالیٰ تو دیکھ رہا ہے۔ وہی دل سے کی جاے تو اللہ تعالیٰ صلہ بھی دیتے ہیں۔

میں نے ساری زندگی سیاست کی، دکھاوے کی خدمت کی، وقتی طور پر شوہر خوش بھی ہوا مگر اب وہ بات بات پر تمہاری تربیت کے حوالے سے طعنے دیتے ہیں۔

شاہ رُخ کی ماں کی تعریف کرتے ہیں۔

ابا جان جب اس کی مثال دیتے ہیں تو تمہارے ڈیڈ مجھے طعنے دیتے ہیں۔ اگر میں اس وقت وہی کام نیک نیتی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرتی تو آج یوں رسوا نہ ہوتی۔ بلکہ شاہ رُخ کی ماں کی طرح میری بھی اہمیت ہوتی۔ جو اپنی نیک نیتی اور صبر کی وجہ سے فرش سے عرش پر آ گئی ہے اور سب کے دلوں پر راج کر رہی ہے اور ایک میں اپنے گھمنڈ میں رہتی تھی کہ میری بیٹی اکیلی اس خاندان کی وارث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک جھٹکے میں میرا سارا گھمنڈ توڑ کر آسمان سے فرش پر لا گرایا۔

اب اسی گھر میں میری کوئی اہمیت نہیں۔ میں بے بس ہوں۔ اب اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتی رہتی ہوں۔ کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔

شاہ رُخ کی ماں کو حقیر سمجھتی تھی آج وہ ہر چیز کی مالک ہے سب اسے عزت دیتے ہیں۔

اباجان نے غریب کا بھلا سوچ کر شاہ رُخ کواعلیٰ تعلیم دلائی۔ تو وہ اپنا پاتا نکلا۔ ان کی نیکی کام آ گئی۔

بیٹا یاد رکھنا اچھی نیت کا اچھا انجام اور بری نیت کا برا انجام ہی ہوتا ہے۔ سب کے لیے اچھی نیت رکھو، ملازموں سے اچھا برتاو کرو۔

زویا کی ماں آنسوؤں کو صاف کرتے اٹھتے ہوئے بولی، میں عصر کی نماز پڑھ لوں تم بھی پڑھو۔

اب دیکھو ناں میرا امپریشن اتنا خراب ہو چکا ہے کہ میں اچھا کام بھی کروں تو وہ سب کو دیکھاوا ہی لگتا ہے لیکن کوشش جاری رکھنی چاہیے تو ضرور سب کے دل بدل جائیں گے انشاءاللہ۔

زویا کی ماں باتھ روم میں گر گئی اور ایک پاوں میں کوئی نقص آ گیا اور وہ اسٹیک کے سہارے آہستہ آہستہ چلنے لگی۔

زویا روتی تو وہ اسے سمجھاتی کہ، اس پر بھی وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی کہ کم از کم خود چل تو سکتی ہے۔

زویا کے باپ کو فالج کا اٹیک ہو گیا وہ بات چیت تو کر سکتا تھا مگر ویل چیئر پر آ گیا۔ وہ بیوی سے کہتا، دیکھا میرے دل میں لالچ تھا کہ ابا جان کے بعد میں بھائی کی فیکٹری اور اس گھر کا مالک بنوں گا کیونکہ بھائی تو باہر رہتا ہے اور ویسے بھی وہ اس میں دلچسپی نہیں لیتا۔ ہماری بیٹی اس تمام جاہیداد کی وارث ہو گی۔ بھائی مجھ سے بہت پیار کرتا تھا اندھا اعتماد کرتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ سب کچھ میرے بھائی کا ہے مگر میری نیت بری تھی۔ آج اس کی سزا ملی ہے کہ میں اپنے گناہوں پر نادم ہوں۔

ہماری بیٹی نیت کی بری نہ تھی وہ بہت رحم دل تھی جانوروں پر رحم کھاتی تھی۔ پرندوں کو روزانہ یاد سے باجرہ ڈالتی تھی۔

ماں نے ہاں میں ہاں ملائ، اور بولی۔ کالج میں غریب اسٹوڈنٹ کی فیسیں دیتی تھی۔

شاہ رُخ شادی کے دوسرے دن سے ہی آفس جانے لگا۔

ابا جان نے اسے ہنی مون پر جانے کا بولا، تو وہ چڑ کر بولا، پلیز مجھے اپنے کام پر دھیان دینے دیں۔ میں نے جو پراجیکٹ شروع کیا ہے اس کو پورا کرنے دیں۔ ہماری ہوائی روزی ہے، جوانی میں محنت کریں گے تو بڑھاپا آرام سے گزرے گا۔

آج اباجان نے اس پر محنت نہ کی ہوتی تو ہم کس حال میں ہوتے۔

جاری ہے۔

پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔

شعر۔

تنہا دل تنہا راتیں جدائی کے لمحات میں

یادوں کی چادر اوڑھ کر عاشق سو جاتا ہے۔

#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books