Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
زویا اور اس کی ماں کھانے کی ٹیبل پر دور بیٹھی کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
ایک بار قریب سے گزرتے ہوئے زویا نے اسے آواز بھی دی، مگر شاہ رُخ انگور کرتا ماں کا ہاتھ پکڑ کر تیری سے گزر گیا۔
زویا غصے سے بولی، موم آج گھر جا کر اس بڑھیا کی تو خوب خبر لینا اور ڈیڈ کو ضرور بتانا۔
ماں نے ایک سرد آہ بھر کر کہا کہ بیٹا کیا کروں تمہارے ڈیڈ بزدل سے اور سادہ انسان ہیں۔ اسی لیے تمھارے دادا نے سارا اکاؤنٹ کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں رکھا ہوا ہے۔ تمھارے ڈیڈ تو بس وہاں ایک کھٹ پتلی ہیں۔ مخصوص رقم ان کو ملتی ہے۔ فالتو پیسے وہ مانگ نہیں سکتے۔ شکر کرو ہمیں پاکٹ منی الگ سے دیتے ہیں۔
کاروبار کا سارا حساب کتاب ہر ہفتے جا کر خود دیکھتے ہیں۔ بوڑھے ہو گئے ہیں اس لئے روز نہیں جا سکتے۔
وہ کہتے ہیں کہ شاہ رُخ میں انہوں نے ٹیلنٹ محسوس کر لیا تھا اور اس لیے انہوں نے اسے پڑھا لکھا کر اس قابل کیا کہ اپنے کاروبار میں لگا سکیں۔ بچپن سے ہی ایمان دار ہے، شریف فیملی سے ہے۔ ماں بہت سلجھی عورت ہے۔ اس نے جوانی میں بیوہ ہو کر بھی دوسری شادی نہ کی۔ اسے بیٹے کو پڑھانے کا بہت شوق تھا۔ ان کی احسانمند رہتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انکا کوئی پوتا نہیں ہے ہماری تو تم اصل اولاد ہو۔ تمہارے چچا نے تو بیوی کی بھتیجی پال رکھی ہے۔
زویا نے کہا، موم کیا ڈیڈ نے یا دادا نے بیٹے کے لیے دوسری شادی کرنے کا نہیں بولا۔
ماں نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا، تمہارے ڈیڈ سادی طبیعت کے اور ڈرپوک سے انسان ہیں وہ میرے رعب میں رہتے ہیں اس لئے ان کی کھبی جرات نہ ہوئی، کیونکہ میں ہر وقت ان پر باور کراتی رہتی ہوں کہ اس خاندان کو اولاد تو میں نے ہی دی ہے ناں۔
زویا نے ماں سے سوال کیا اور چاچو کیسے ہیں؟
ماں نے کہا ارے اس کے کیا کہنے، وہ تو کسی سے نہیں ڈرتا، اپنی مرضی کا مالک ہے بہت خوبیوں کا مالک ہے۔ اسی نے تو باپ سے زمینیں بیچنے کی ضد کر کے شہر میں شفٹ کروایا، باپ کو گھر چھوڑ جانے کی دھمکیاں دے کر بڑی مشکل سے منایا۔ ورنہ اتنی آسانی سے کون مانتا ہے۔ تمہاری دادی رو رو کر شوہر کے ترلے کرتی تھی کہ بیٹا بہت ضدی طبیعت کا مالک ہے اس نے کچھ اپنے آپ کو کر لیا یا گھر سے چلا گیا تو پھر ان جاہیدادوں کا اچار ڈالنا ہے۔
زویا جوش سے خوش ہوتے ہوئے بولی، شکر ہے چاچو نے شہر میں شفٹ کروا دیا ورنہ ہم گاوں میں ان لوگوں جیسی لائف گزار رہے ہوتے۔
ماں نے جوش سے بتایا کہ ارے یہ سارا کاروبار بھی اس نے اپنے ٹیلنٹ سے بڑھایا تھا ورنہ تمہارے ڈیڈ تو کسی قابل نہیں ہیں۔ بس آفس میں تھوڑا بہت سیکھ گئے ہیں وہی کرتے ہیں اور ملازمین کو بھی ڈر ہوتا ہے کہ مالک سر پر موجود ہے۔
تمہارے دادا سب کچھ لاہیو وڈیو کال پر کام پردھیان رکھتے ہیں۔ اور ہدایات دیتے ہیں۔
زویا بے زاری سے بولی، موم اس شاہ رُخ کے بچے کو اتنی بڑی پوسٹ پہلے ہی دے دی کیا پتا وہ یہ کام کر بھی سکتا ہے یا نہیں۔ دیکھنا گرینڈ پا ضرور پچھتائیں گے اور اسے نکال باہر کریں گے۔
ماں نے یقین سے کہا، نہیں بیٹا اس میں کافی ٹیلنٹ ہے تمہارے دادا بہت سمجھدار اور دور اندیش انسان ہیں۔
زویا اکتائے ہوئے لہجے میں بولی، موم اس لڑکے کا دماغ بچپن سے ہی خراب ہے۔ دیکھا نہیں کیسے کسی کے رعب میں نہیں آتا تھا ڈانٹ مار کھا لیتا تھا۔ اب بھی ہمارے گھر میں ایسے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھتا ہے اور گھر میں ایسے گھومتا پھرتا ہے اور لان میں ایکسرسائز کرتا ہے جیسے امیروں کا لڑکا ہے۔ دادا نے اسے بہت سر چڑھا رکھا ہے۔ اسی لیے وہ سینہ ٹھونک کر رہتا ہے۔
ماں اتنی ہی ڈرپوک اور دبی دبی خدمات گزار بنی رہتی ہے۔
دونوں نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا کہ ہم بھی اس کی ماں سے اسکا چن چن کر بدلہ لیتے ہیں وہ بھی اکیلے میں۔ ورنہ گرینڈ پا تو فوراً اس کی فیور لے کر زلیل کر دیتے ہیں۔
موم چاچو امریکہ کیوں چلے گئے تھے۔
ماں نے ٹالتے ہوئے تیزی سے اٹھتے ہوئے کہا، بعد میں بتاؤں گی ابھی چلو وہ لوگ باہر نکل گئے ہیں۔
زویا اور اس کی ماں گھر آ کر بھی غصے میں رہیں۔
شاہ رخ کی ماں زویا کے دادا اور دادی کے لیے بھی کپڑے لاے جو انہیں بہت پسند آے۔
زویا کی دادی کی ویسے بھی شاہ رُخ کی ماں سے بنتی تھی وہ خود بھی اسی کے گاوں کی تھیں اور دونوں گاوں کی باتیں بہت جوش و خروش سے کرتی تھیں۔
شاہ رُخ کی ماں کو وہ پاس بٹھائے رکھتی تھیں وہ ان کی بہت خدمت کرتی تھی۔ ان کے سر میں تیل لگاتی مالش کرتی۔
زویا کی ماں تو ان سے فالتو بات نہ کرتی بس سسر کے سامنے اچھی بن جاتی۔ وہ بھی اس کی نیچر جانتے اور سمجھتے تھے۔ بہت سمجھدار اور دور اندیش انسان تھے۔
شاہ رُخ زویا کی دادی جسے سارے دادو کہتے تھے ان کے پاس آ کر ضرور سلام دعا کرتا، حال احوال پوچھتا۔
وہ اس سے بہت خوش ہوتیں اور پیار سے پاس بٹھا کر باتیں کرتیں۔
زویا کو بہت غصہ آتا کہ میری دادو اس نوکر کے بچے کو کیوں اتنی امپارٹنس دیتی ہیں۔
شاہ رُخ جب دادو کے کمرے سے نکلتا تو زویا تاک میں رہتی اور موقع پا کر اس پر طنز کرتی کہ کسی کو دادو بلا لینے سے وہ دادو نہیں بن جاتی۔ تم لاکھ ان لوگوں کی آنکھ کا تارا بنے رہو مگر تم رہو گے ایک ملازم کے ہی بیٹے، اس حقیقت کو تم جھٹلا نہیں سکتے۔
شاہ رخ دکھی انداز سے اسے ایک نظر دیکھ کر چل پڑتا کھبی پلٹ کر جواب نہ دیتا۔
زویا طنزیہ مسکراتی اسے دیکھتی۔ قریب کھڑی ماں بھی مسکراہٹ سے بیٹی اور شاہ رُخ کو دیکھتی اور طنزیہ کہتی، میری بیٹی اس خاندان کی اکلوتی اولاد ہے۔ اور اس پوری جاہیداد کی بھی وارث، اس بڑی کوٹھی کی بھی وارث۔
میں تو اپنی بیٹی کی شادی کسی اونچے اور اعلیٰ امیر کبیر خاندان میں کروں گی۔
میری خوبصورت، اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹی کے لئے ابھی سے رشتے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مگر میں تو خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہوں، اتنی جلدی کسی کو ہاں نہیں کروں گی۔
شاہ رُخ تیزی سے پانی کا گلاس لے کر ابا جان کے کمرے کی طرف بھاگا۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر
دل کی دھڑکن اور سانسوں میں مشابہت ہے یہ
دونوں نے تیرے نام کو ورد بنا رکھا ہے۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.