Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
ابا جان نے شام کا فنکشن لان میں رکھا۔
شاہ رُخ نے ہی سارا انتظام سنبھالا۔
لان میں کرسیاں لگا کر سامنے صوفہ سیٹ لگا دیا۔ کھانے کا باہر سے آرڈر دے دیا۔
جویریہ کی بہنیں اسے صبح سے پارلر تیار ہونے لے کر گئی ہوئی تھیں۔
زویا بھی پارلر سے تیار ہو کر پہنچی تو اس کی فرینڈ اس کی ماں کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے دیکھ کر شوخی سے بولی، تم کہاں چلی گئی تھی ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔
زویا نے مسکرا کر اسے ایک ہلکی سی چپت لگائی تو وہ تعریف کرتے ہوئے بولی، ویسے غضب ڈھا رہی ہو سچی۔
زویا پنک کلر کے سوٹ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
قریب سے شاہ رُخ گزرا، ایک اچٹتی سی نظر ڈالی اور اگنور کر کے گزر گیا۔
زویا کی فرینڈ نے زویا سے کہا، ویسے یار لگتا ہے یہ جویریہ کا سچا عاشق ہے۔ ورنہ تم اتنی حسین لگ رہی ہو اور اس نے دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ ویسے وہ خود بھی تیار ہو کر کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا ہے۔
زویا کی قدرے شکل بن گئ۔
زویا کی فرینڈ نے زویا سے پوچھا، یار اس نے جویریہ میں کیا دیکھا جو اتنا بڑا فیصلہ کر لیا، اسے تو ایک سے بڑھ کر ایک حسین لڑکی مل سکتی تھی۔ ماشاء اللہ سے ہینڈسم ہے، پڑھا لکھا ہے اور اچھا کما رہا ہے۔
زویا لاپرواہی سے بولی، پتا نہیں، ویسے اندازہ ہے کہ وہ اس کی ماں کی بڑی عزت کرتی تھی شاید اس وجہ سے۔ کیونکہ یہ ماں کا دیوانہ ہے۔
فرینڈ بولی، ظاہر ہے ماں تو سب کو پیاری ہوتی ہے۔ جو اس کی عزت کرے اسے تو وہ بہت پسند آئے گی۔
زویا کا باپ سب کے اصرار کے باوجود اپنے کمرے سے باہر نہ نکلا اور منہ بنا کر لیب ٹاپ پر کام میں مگن ظاہر کرتا رہا۔
بیوی کو ویل چیئر پر بٹھا کر جویریہ کی بہنیں لے گئی۔
فنکشن بہت اچھا رہا۔
شاہ رُخ نے مووی والوں اور فوٹو گرافر بھی بلاے ہوئے تھے۔ ہلکہ ہلکہ میوزک بھی چل رہا تھا۔
جویریہ آف واہیٹ سوٹ میں بہت پرکشش لگ رہی تھی۔ شاہ رُخ اسے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔ اسے انگوٹھی پہنا رہا تھا تو زویا پہلو بدلنے لگی۔ اسے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ خود حیران تھی کہ شاہ رُخ کے لیے وہ کیوں ایسا سوچ رہی ہے۔ اس کا دل دکھی ہو رہا تھا۔ اس کی فرینڈ نے دیکھا اس سے ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھایا جا رہا تھا۔ وہ معزرت کر کے کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں اور اپنے کمرے میں چل پڑی۔ ساتھ ہی فرینڈ اور زویا کی ماں بھی پریشان سی آ گئی اور آنے کی وجہ پوچھنے لگی۔
زویا نے روتے ہوئے کہا کہ موم یہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ میں کیوں برداشت نہیں کر رہی کہ شاہ رُخ کسی اور کا ہو جائے۔
وہ دھاڑیں مار مار کر اونچا اونچا رونے لگی۔ فنکشن ختم ہونے والا تھا۔
سب پریشان ہو کر زویا کے کمرے میں آ گئے۔
شاہ رُخ اور جویریہ بھی آ گئے۔
زویا تیزی سے شاہ رُخ کے پاس جا کر اس کا گریبان پکڑ کر جزباتی انداز میں روتے ہوئے بولی، شاہ رُخ تم صرف میرے ہو، میں تمہیں کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔
سب اس کی بات سنکر حیرت زدہ رہ گئے۔
شاہ رُخ نے نفرت سے اسکا گریبان جھڑواتے ہوئے کہا، مگر میں تم سے نفرت کرتا ہوں اور تم میری خوشیاں خراب نہیں کر سکتی۔
وہ منت کرنے لگی کہ میں تمہاری ماں کو اپنی ماں سمجھوں گی۔ پھر وہ شاہ رُخ کی ماں کے پاس تڑپ کر آ کر ہاتھ جوڑ کر بولی، پلیز میں آئندہ سے آپ کی عزت کروں گی کھبی کچھ نہیں برا کہوں گی۔ آپ اپنے بیٹے کو سمجھائیں ورنہ میں مر جاوں گی۔
زویا کی ماں اور اس کی فرینڈ اسے سنبھالنے لگیں مگر وہ پرجوش ہو کر تیزی سے کمرے میں سے نیند کی گولیاں اٹھا کر پانی سے کافی ساری کھا گئی اور بے ہوش ہو گئی۔
اسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔
شور سنکر زویا کے چچا روم سے باہر نکلے تو شور کی وجہ پوچھی۔
ابا جان نے کہا کہ ہم سے جلد بازی میں بہت بڑی غلطی ہو چکی ہے پھر ساری بات بتائی۔
چچا نے غصے سے کہا کہ ابا جان ایک کمی کمیین کا بیٹا اس گھر کا داماد کھبی نہیں بن سکتا۔ جویریہ تو میرے سالے کی بیٹی ہے۔ مگر زویا میرا اپنا خون ہے اس کا مرنا مجھے منظور ہے مگر اس کا نوکر سے شادی کرنا ہرگز گوارا نہیں۔
ابا جان روتے ہوئے بولے، میں اپنی اکلوتی پوتی کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ کاش میں نے جلد بازی نہ کی ہوتی۔
میں اپنی پوتی کی خوشی چاہتا ہوں اسے دکھی نہیں دیکھ سکتا۔
زویا کا معدہ واش کر کے رات کو لیٹ ناہیٹ اسے گھر لایا گیا۔
زویا کے چچا غصے میں ہاسپٹل پہنچے۔ اور سامنے ہی شاہ رُخ مل گیا اسے دیکھ کر بولے، تم لاکھ پڑھ لکھ جاو، سوٹ بوٹ پہن لو مگر تم میری بھتیجی کی جوتی کے برابر بھی نہیں، میں اس کا مرنا منظور کر سکتا ہوں مگر تمہارے ساتھ شادی ہرگز نہیں۔
شاہ رُخ بولا، سر آپ کی بھتیجی سے شادی کر کون رہا ہے میں تو انسانیت کے ناطے یہاں آیا ہوں۔
میں ماں کو لے کر جلد یہاں سے چلا جاوں گا اور جویریہ سے شادی کروں گا۔
وہ غصے سے بولے، جتنی جلدی یہاں سے جاو تو اچھا ہے ورنہ دھکے دے کر نکال دوں گا۔
اتنے میں شاہ رخ کی ماں سامنے سے آتی نظر آئ۔
زویا کے چچا نے جب دیکھا تو وہ کچھ جانی پہچانی سی لگی۔
حیرت سے اسے دیکھ کر بولے تتت تم۔
وہ بڑے اعتماد سے بولی جی میں اس کی ماں ہوں۔ وہ شاہ رُخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
کک کیا وہ لڑکھڑا کر سنبھلتے ہوئے بولے، تمہارا بیٹا۔
وہ طنزیہ انداز میں بولی، جی جناب میرا بیٹا۔
وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگے۔
شاہ رُخ دونوں کی گفتگو سے حیران ہو رہا تھا۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر
حسین خواب آنکھوں میں سجاتے سجاتے
تعبیر کے شوق میں وقت گزرتا چلا گیا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.