Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
زویا شاہ رُخ کی گاڑی کے آگے کھڑی ہو گئی اور روتے ہوئے بولی، میری لاش پر سے گزر کر جاو گے۔
اباجان روتے ہوئے بولے بیٹا مت جا ہمیں چھوڑ کر۔
دادی ویل چیئر پر ملازمہ کے ساتھ آ گئ۔
زویا کا چچا اس سے معافی مانگ کر رکنے کی منتیں کرنے لگا۔
زویا کے والدین شاہ رُخ کی ماں منت سماجت کرنے لگے۔
شاہ رُخ کی ماں نے کہا، بیٹا ہم اتنے پیاروں کی بدعائیں لے کر خوش نہیں رہ سکیں گے۔ چلو ان کو معاف کر دو۔
شاہ رُخ کا باپ شاہ رُخ کی ماں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگا۔
اس نے کہا،سرتاج آپ مجھے شرمندہ نہ کریں۔ میں نے آپ کو معاف کیا۔
زویا خوشی سے شاہ رُخ کی ماں کے گلے لگ کر اسے چومنے لگی۔
شاہ رُخ کے واپس آنے پر دادا نے فرطِ جزبات سے اسے گلے لگا لیا اور کہا کہ جو انسان بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔
میں نے گاوں کی غریب اور بیوہ عورتوں کی کفالت کی۔
شاہ رُخ اور اس کی ماں اور اس کے نانا کو ترس کھا کر گھر لایا اور اس کی ماں کے خواہش کے پیش نظر میں نے شاہ رُخ کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ اس کی ماں کو اس گھر میں فیملی ممبر کی طرح سمجھا اور آج اسی نیکی کے سبب مجھے اللہ تعالیٰ نے انعام میں پوتا نواز دیا۔
اگر میں اسے غریب سمجھ کر زیادہ نہ پڑھاتا تو آج میرا اپنا پوتا کم تعلیم یافتہ ہوتا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ شاہ رُخ کی ماں کو عزت سے اس کے باپ سے رشتہ مانگ کر اس کا ولیمہ کروں گا اور بعد میں پوتے کی شادی دھوم دھام سے کروں گا انشاءاللہ۔
شاہ رُخ کے نانا نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی عزت سے گھر میں بسے، اسکا اجڑا گھر بس جائے تو میں سکون سے مر سکوں گا۔
اباجان نے کہا، اب آپ آج سے ہمارے گھر میں عزت سے رہیں گے اور اب چوکیداری نہیں کریں گے بلکہ آرام کریں گے۔
ساری کوٹھی کو دولہن کی طرح سجایا گیا اور شاہ رخ کے والدین کے ولیمہ کی تقریب لان میں کی گئی چند قریبی لوگوں کو انواہیٹ کیا گیا۔
شاہ رُخ ماں کی خوشی میں مطمئن ہو گیا مگر باپ سے کھنچا کھنچا رہتا۔
شاہ رُخ کی ماں بولی، میں اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرتی ہوں کہ میں سہاگن بن گئ اور بیٹے کو خونی رشتے مل سکے۔ اور میرے باپ کو اس عمر میں عزت سے رہنا نصیب ہوا۔
زویا اور شاہ رخ کی شادی کی تیاریاں شروع کردی گئی۔
اچانک دادی سوتے سوتے اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئی۔
شادی کچھ التواء میں پڑ گئ۔
جویریہ کی بہنوں کا اچانک ایک ہی گھر سے اچھا رشتہ آ گیا اور وہ کرونا کی وجہ سے سادگی سے رخصت کر دی گئیں۔
زویا کے گھر والے بھی شامل ہوے۔
جویریہ روز باپ کو فون کر کے انکا حال احوال پوچھتی، وہ بہت خوش ہوتے۔ اسے بہت یاد کرتے مگر اسکا باپ کہتا کہ، ہمیں علم نہ تھا کہ آپ کس نیچر کے ہیں ہماری بہن نے کھبی کچھ نہ بتایا، آپ ہماری بہن کے شوہر اور ہماری جویریہ کو پالنے والے ہیں اس لیے قابل احترام ہیں آپ نے ہماری بیٹی کو بہت پیار سے پالا، مگر شاہ رُخ اور اس کی ماں کے ساتھ بہت زیادتی کی۔
شاہ رُخ کے باپ نے اعتراف کیا کہ وہ غلطی پر تھے۔ انہوں نے ہر ویک اینڈ پر جویریہ سے ملنے کی اجازت مانگی اور معافی بھی مانگی۔ انہوں نے کہا، کہ جویریہ ان سے بہت پیار کرتی ہے۔ اس لئے ہم آپ کو اس گھر میں آنے سے کھبی نہیں روک سکتے، بحرحال یہ آپ کا سسرال ہے۔
شاہ رُخ کے باپ نے خوش ہو کر انکا بہت شکریہ ادا کیا۔
شاہ رُخ اپنے لیب ٹاپ پر لاونج میں بیٹھا کام کر رہا تھا اور زویا سامنے بیٹھی بہانے بہانے سے دور سے اس کی فوٹو لے رہی تھی۔
شاہ رُخ کے باپ نے بیٹے کو دیکھا اور نظروں سے بلائیں لیں۔
ابا جان نے شاہ رخ کے باپ سے کہا کہ وہ ایک بڑا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.