Insaniyat Kay Naatay
Episodes
سمراب کوان لوگوں کی باتوں سے بہت غصہ آ رہا تھا۔ پر وہ کنٹرول کر رہا تھا۔ علی کی ماں نے کہا۔ میں نے علی کا رشتہ پکا کر دیا ہے سمراب اور دعا دم بخود رہ گئے۔ وہ بتانے لگی میں نے اس کے لئے بہت لڑکیاں دیکھیں۔ مجھے لڑکی سمیت گھر والے بھی مزہبی چاہیے تھے۔ میں نے رشتے کروانے والی کو اپنی ڈیمانڈ بتا دی۔ اس نے بہت جلدی میری ڈیمانڈ کے مطابق لوگ ڈھونڈ دہیے۔ پہلی بار ہی میں وہ لوگ سند آ گئے۔
لڑکی سر پر بڑا دوپٹہ اوڑھے خاموشی سے سامنے بیٹھی رہی۔ ہم تو علی کو بھی ساتھ نہیں لے کر گئے تھے پھر بھی انہیں ہم اتنے پسند آئے وہ بولے کہ وہ بھی ہماری طرح کے لوگ ڈھونڈ رہے تھے۔ اس کے بھائی، باپ شلوار قمیض میں ملبوس سر پر نماز کی ٹوپیاں پہنے پھر رہے تھے۔ ماں باپ کے ہاتھوں میں تسبیحات تھیں۔ دعا نے کہا کہ میری بیٹی پریگننٹ ہے۔ ہمارا اس کے حاملہ ہونے سے کوئی مطلب نہیں۔ دعا نے پاس پڑے پرس میں سے پانی کی بوتل نکال کر دو گھونٹ پیے۔ اور بولی حاملہ ہونے کے دوران طلاق ہوتی بھی نہیں ہوتی۔ علی کی ماں بولی اسی مسئلے پر بات کرنے کے لیے آپ کو بلایا ہے کہ ہم نے شادی فکس کر دی ہے اور کارڈز بھی چھپ گئے ہیں اس لیے ہم اس کی شادی میں کوئی الجھن نہیں چاہتے۔ آپ بھی بیٹی کے مزاج کے مطابق اس کی شادی کر دینا۔ سمراب غصے سے بولا آپ اس کی فکر نہ کریں یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ دعا نے اسے کول رہنے کا اشارہ کیا۔ علی کی ماں بولی آپ اس کا بچہ ضائع کروا کر جان چھڑا لیں اور اس کی شادی کر دیں۔ سمراب پھر غصے سے بولا پلیز آپ ابھی اس نے اتنا ہی بولا تھا کہ دعا نے گھور کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ دعا نے انہیں آرام سے کہا کہ اگر بچہ حرام کا بھی ہوتا تو کبھی ایسا نہ کرتے یہ تو حلال کا ہے۔ سمراب سے یہ باتیں سنی نہیں جا رہی تھیں وہ غصے سے کھڑا ہو گیا۔ دعا نے اسے کہا تم گاڑی میں میرا انتظار کرو میں آتی ہوں۔ وہ غصے سے چلا گیا۔
علی کی ماں بولی تو آپ نے پکا فیصلہ کر لیا ہے کہ آپ بچہ پیدا ہونے دیں گی۔ دعا بولی جی۔ مگر ہم تو سرے سے اسے تسلیم ہی نہیں کرتے۔ خیر سے علی کی شادی ہونے والی ہے۔ حلال بچے ہوں گے۔ دعا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے بولی۔ نکاح نامہ ہے پاس۔ مگر ہم تو اس بات کو بالکل ختم کرنا چاہتے ہیں اور آپ بچے کا مسئلہ کھڑا کر رہی ہیں۔ وہ لالچ دیتے ہوئے بولی۔ آپ اس کے بدلے کافی رقم لے لیں اور اس قصے کو ختم کریں۔ دعا روتے ہوئے بوے کہا کہ میری بیٹی نے مجھے صاف کہہ دیا کہ وہ نہ طلاق لے گی نہ کبھی اور شادی کرے گی۔ شاید اسے آپ کا اندازہ ہو گیا تھا کہ آپ اسے قبول نہیں کریں گی۔ اس لئے اس نے مجھے چلتے ہوئے تاکید کی تھی کہ وہ طلاق نہ دیں اس کے بدلے اسے اور کچھ نہیں چاہیے۔ نہ کوئی تعلق نہ کوئی خرچہ لے گی۔ آپ بےشک اپنے بیٹے کی شادی کر دیں۔ ہم ان کو اس رشتے کے بارے میں کچھ نہیں کھبی بتائیں گے۔ آپ اس کے بدلے جو چاہیں شرط رکھیں رقم چاہیے تو وہ بتائیں۔ علی کی ماں بولی مگر آپ اپنا وعدہ توڑیں گے تو نہیں ناں۔ دعا بولی آپ اسٹام پیپر پر لکھوا لیں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.