Insaniyat Kay Naatay
Episodes
رمنا کی چیخ سن کر دعا اور سمراب باہر بھاگے۔ وہ اور دعا کی بھابی دعا کےساس سسر کے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ دعا کابھاہی اور شانی بھی بیٹھے ہوئے تھے شانی تیزی سے تڑپ کر بولا کیا ہوا میری چاند، وہ روتے ہوئے بولی آپ صرف میرے پاپا ہیں۔ بھاہی کے نہیں ہیں۔ سب حیران کن نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ تو جھٹ دعا کی بھابی نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وہ دعا سمراب کو بتا رہی تھی ہم نے سن لیا خیر ایک دن تو پتا لگنا ہی تھا۔ دعا نے اس مکار عورت کو دیکھا جو اس سے دل میں پرانی دشمنی رکھتی تھی کہ وہ اس کی کزن تھی اور اچھی عادات کی نہ تھی اس کے بھائی سے شادی کرنا چاہتی تھی دولت کے لیے، خود وہ امیر نہ تھی۔ گھر والے بھی راضی نہ تھے۔ مگر اس کی ماں جو دعا کے ابو کی کزن تھی رو رو کر ہاتھ جوڑ کر منتیں کرتی کہ میری بیٹی خودکشی کر لے گی۔ اگر ادھر نہ ہونی۔ وہ بہت روتی ہے تو دعا کے والد نے ہاں کر دی مگر دعا نے بہت احتجاج کیا کہ سب ڈرامے بازی ہے میں بھاہی کی زندگی برباد نہ ہونے دوں گی مگر باپ نہ مانا حتکہ بھائی نے بھی اسے روک دیا اور ہاں کر دی۔ بھابھی کو پرانی ملازمہ کو لالچ دے کر پل پل کی خبر لیتی رہی۔ تب سے وہ اس کے ساتھ حسد رکھتی تھی۔
دعا نے بات بڑھانی مناسب نہ سمجھی۔ اور بیٹی کو باہر لے جا کر سمجھانے لگی۔ وقتی طور پر وہ سمجھ گئی۔ دعا نے نارمل انداز میں چاے پانی کے تواضع میں لگ گئ مگر سسر نے پھر بھی اس کی طرف خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا بہو یہ کیا بےوقوف ہے۔ وہ جواب میں خاموش رہی۔ بھابھی طنزیہ نظروں سے ہلکی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے خدشہ تھا کہ بھابھی اسکے راز سے واقف نہ ہو۔ اس لیے وہ مجبور تھی۔ سب خاموشی سے چاے پی رہے تھے بھائی نے بھی اسے ہلکا سا سمجھانے والے انداز میں کہا پھر بھی ابھی اسے نہ بتاتی۔ دعا نے لاپرواہی والے انداز میں کہا، بھائی اگر اسے کسی اور سے پتا چلتا تو اسے گلہ رہتا۔ سب قاہل ہو گے اور بھابھی کا وار خالی جاتے منہ بن گیا۔ بھائی نے بوچھا سمراب کدھر ہے ٹھیک تو ہے نا۔ ہاں دعا نے کہا ابھی اسے نہ چھوڑیں میں خود اسے سیٹ کر لوں گی مگر سب کو تسلی نہ ہو رہی تھی تو دعا اسے بلانے گی تو اس نے اندر سے دروازہ بند کیا ہوا تھا۔ دعا پریشان ہو کر زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے لگی۔ سب آ گئے تو سمراب ماں کے گلے لگ کر زور زور سے رونے لگا۔ دادا نے کہا میرے بیٹے مت رو ہم سب تمھارے اپنے ہیں بڑی مشکل سے اسے نارمل کیا۔
اب تو ہر وقت رمنا اسے طعنے دیتی ریتی کے یہ اس کا گھر ہے یہ گھر اس کے پاپا کا نہیں ہے۔ دعا سمجھاتی مگر اسے باپ کی شہ تھی۔ وہ کہتا سچ ہی تو کہتی ہے۔ دادا دادی رمنا کو ٹوکتے تو وہ رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتی۔ باپ خوش ہوتا۔ جب دعا رمنا کو پیار کرتی تو وہ خوش ہوتا جب سمراب کو کرتی تو وہ حسد کرتا۔ شانی اسے اولاد نرینہ نہ دینے پر طعنے دیتا۔ وہ بے بسی سے خاموش ہو جاتی، جانتی تھی کہ صفائی دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس لئے خاموش ریتی۔
سمراب اب سنجیدہ رہنے لگا تھا دعا اسے سمجھاتی کہ دیکھو بیٹا جس نعمت کی قدر نہ کی جائے وہ چھن جاتی ہے۔ ہر حال میں رب العزت کے فیصلے پر رازی رہنا چاہیے۔ ورنہ وہ نعمت چھن جاتی ہے۔ تمھارے پاس پیار کرنے والے کتنے لوگ ہیں۔ دادا دادی تم پر جان دیتے ہیں۔ بس اچھا وقت آنے والا ہے جلد ہی۔ تم فل توجہ سٹڈی کی طرف دو تاکہ کچھ بن سکو۔ جب تم اپنے پاوں پر کھڑے ہو جاو گے تو سب تمہاری عزت کریں گے تم سے پیار کریں گے تو اس نے حسرت سے سر اٹھا کر ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ پر پاپا تو نہیں کریں گے تو دعا کے دل پر گھونسا پڑا وہ آ نکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے جزباتی انداز میں روتے ہوئے بولی ضرور کریں گے میری جان۔ تم اپنے رب العزت کو جیسا گمان کرو گے ویسا ہی پاو گے۔ اس لئے اپنے رب العالمین پر پورا یقین رکھو تو وہ تمھاری سب مرادیں پوری کرے گا۔ ماں نے سمجھایا رمنا ابھی نادان ہے تم اس کی باتوں کا کا برا مت منانا۔ دیکھنا ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا سمراب نے ماں کی باتوں پر عمل کا دل میں پکا عہد کیا۔
دعا کو ماں نے آج فون کر کے گھر بلایا تھا اس سے کوئی بہت ضروری بات کرنی تھی اور اکیلے آنے کو کہا تھا وہ اکیلی گاڑی ڈرائیور کر کے ماں سے ملنے چل پڑی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.