Loading...
Logo
Back to Novel
Intzaar Taweel Tha
Episodes
Intzaar Taweel Tha

انتظار طویل تھا 3

From Intzaar Taweel Tha - Episode 3

بسمل نے ماں کو غصے سے دیکھ کر کہا کہ اماں اچھی طرح جان لو میں یہ شادی نہیں کروں گی میں ان لوگوں کو صاف انکار کر دوں گی،

ماں نے اسے کوستے ہوئے کہا کہ کیوں امیروں کے گھر جا کر پل پل زلیل ہونا چاہتی ہے کیسے اس کی خالہ نے ہمیں صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ ہم ان کی حیثیت کے نہیں ہیں،

اتنے میں زور زور سے دروازہ پیٹا گیا،

بسمل کوستے ہوئے اماں لو آ گئے ہیں آپ کے تمیزدار لوگ، میں خود ان سے نمٹ لیتی ہوں فکر نہ کرو،

فریال نے دروازہ کھول کر ادب سے ڈرتے ڈرتے سلام کیا، تو اسکا شوہر اسے ڈانٹنے لگا کہ دروازہ کھولنے میں دیر کیوں کی، ساس نے جواب دینے کی بجائے گھور کر اسے دیکھا،

فریال کی اماں نے خوشدلی سے ان سے ملی، بہن بدستور اکڑی رہی،

فریال کا شوہر اکڑ کر کرسی پر بیٹھ گیا،

فریال پانی کے دو گلاس ٹرے میں رکھ کر لائی تو اس کے شوہر نے گرج کر کہا جوس نہیں لا سکتی تھی کیا،

لوگوں کی تو بہت خاطرمدارت کرتی ہو،

بسمل کمرے میں آئ اور فریال کے شوہر سے بولی پہلی بات یہ کہ دروازہ کھولنے کے لئے چل کر جانا پڑتا ہے کوئی جہاز میں بیٹھ کر نہیں جاتے جو اڑ کر پہنچ سکیں اس لیے آپ لوگ زرا تمیز سے دروازہ بجایا کریں ہم بہرے نہیں ہیں، دوسری بات یہ کہ جوس پلانا فرض نہیں ہے، ضروری نہیں کہ جو ان کے ساتھ کیا وہی آپ کے ساتھ ہو ان کو تو آخر میں بے عزت کر کے گھر سے نکالا گیا تھا اور یہ میرا گھر ہے آپا کا نہیں اس لئے آپ لوگ پانی پیں اور تمیز سے بات کریں میرے گھر میں آپا کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی اگر باز نہ آئے تو میں پولیس بلا لوں گی،

ماں نے ڈانٹا چپ کر اور کمرے سے چلی جا،

بسمل ناگوار لہجے میں بولی، اماں اپنے حیثیت والوں میں ہماری کون سی عزت ہے کیسے ہر لمحہ ہمیں زلیل کرتے ہیں نہ کسی مہمان کا لحاظ کرتے ہیں، ایان لوگ پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ ایسے نہیں ہیں وہ عورتوں کی بہت عزت کرتے ہیں،

میں نے ان کی بے عزتی نہیں کی، ان لوگوں نے میرا رشتہ توڑنے کی کوشش کی ہے مگر یہ جانتے نہیں کہ ان کا خواب کھبی پورا نہیں ہو گا آپ لوگوں کو مجھ سے کوئی ہمدردی نہیں بس سکھی دیکھنا نہیں چاہتے اپنے گھر لے جا کر زلت کی زندگی دینا چاہتے ہیں جیسے میری آپا کو دی ہے،

فریال کی ساس کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی توبہ اس لڑکی کی گز بھر زبان لمبی ہے،

فریال کے شوہر نے کہا خالہ اور پڑھاو اسے کالجوں، یونیورسٹیوں میں یہ وہاں یاریاں لگانے جاتی تھی،

ماں نے بھی تاہید کرتے ہوئے کہا اسی لیے کہتی تھی نہ پڑھاو اتنا بیٹیوں کو اب دیکھ لیا ناں کیسے زبان چلاتی ہے، ہم نے بیٹی کو پڑھایا نہیں آج خیر سے اپنے گھر سکھی ایک بچے کی ماں ہے، ساس سسر خوش ہیں،

بسمل میرا منہ نہ کھلوائیں میں سب جانتی ہوں کیوں آپ نے بیٹی کا جلدی سے نکاح پڑھوایا اور نو ماہ کے بچے کو سات ماہ کا بتایا کہ جلدی پیدا ہو گیا ہے، ساس سسر اس کے شریف لوگ تھے ان کو ڈرا دھمکا کر شادی کروا دی، اب وہ ان پر حاوی ہو کر رہتی ہے کہ پوتا دیا ہے،

فریال کی ساس غصے سے اٹھی اور فریال کی ماں سے بولی اب ہماری بھی شرط ہے جب تک یہ لڑکی معافی مانگ کر ہمارے بیٹے کے لیے ہاں نہیں کرے گی تب تک فریال ادھر ہی رہے گی ورنہ طلاق دے دیں گے،

بسمل جلدی سے بولی یہ دھمکیاں کسی اور کو دینا سمجھے،

فریال کی ماں نے بیٹی کو ڈانٹا اور انہیں روکنا چاہا مگر وہ نہ رکی،

فریال کا شوہر بیوی کو جاتے ہوئے دھمکی دے کر بولا دیکھنا اب میں کرتا کیا ہوں، اور غصے سے بھرا زور سے دروازہ بجاتا گزر گیا،

ببسمل نے سوچا اب اماں کے ہاتھوں میری شامت آنی ہے، اس نے ماں کو دیکھا وہ خاموش بیٹھی خیالوں میں گم تھی،

فریال بھی خاموش کھڑی تھی،

بسمل نے کہا اماں کیا ہوا تھارے عتاب کی میں منتظر کھڑی ہوں آج تو آپا بھی نہیں بول رہی،

اماں نے خلاؤں میں گھورتے بیٹی کہا، کیا تو سچ کہہ رہی ہے ان کی بیٹی ایسی تھی،

بسمل بولی جی اماں سارا محلہ اس لڑکی کے کرتوت جانتا ہے اس نے ایک نہیں کئی لڑکوں سے چکر چلاے ہوئے تھے، ماں سب جانتی تھی ساتھ ملکر ان لڑکوں سے فاہدے اٹھاتی تھیں، کھبی بیلنس کھبی سودے کھبی کیا کھبی کیا، اور ابھی تو آپ کے داماد کے کرتوت بھی آپ کو بتاتی ہوں اس کے ایسے لوگوں سے تعلقات ہیں جو رات کو دس بارہ سال کی لڑکیوں کے ساتھ توبہ توبہ ان بچیوں کے والدین خود پیسے کماتے ہیں اور یہ آپ کا داماد ان لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے اور گھر میں خوبصورت بیوی چھوڑ کر گندے کام میں ملوث ہے، دیکھنا یہ بیوی جیسی نعمت کا ناشکرا ہے ناں اللہ تعالیٰ اس کی اس نعمت سے اسے دور کر دیں گے انشاءاللہ اور میری معصوم نیک آپا کی اس سے جان چھوٹے گی اگر تم چاہو تو جلدی جان چھڑوا سکتے ہیں، اماں پلیز آپا کی بچی کھچی زندگی برباد نہ کرو اسے سکون سے جینے دو،

آپا روتے ہوئے بولی میں طلاق کا داغ لے کر ماں کو شرمندہ نہیں کر سکتی لوگوں کے طعنے نہیں سہہ سکتی،

بسمل فریال کو سمجھاتے ہوئے آپا کیسے طعنے، سارا محلہ تمھیں جانتا ہے اور تمھاری قسمت پر افسوس کرتا ہے، تم جتنا دنیا سے ڈرو گی دنیا ڈراتی رہے گی، میں نہیں ڈری تو میرے آگے بول نہیں سکے تم ایسے بولتی تو تمھاری چمڑی ادھیڑ چکے ہوتے، سارا محلہ ان کے کرتوت جانتا ہے مگر لڑاکے ہیں اس لئے کوئی منہ پر نہیں بول سکتا، پیچھے سے چہ مینگوہیاں کرتے ہیں اب میں نے ان کو آہینہ دیکھایا ہے، اب وہ دشمنیاں مجھ سے باندھ لیں گے،

بسمل بولی،آپا پہلے آپ ڈرنا چھوڑ دیں اور اپنے اللہ پر بھروسہ رکھیں ایسے شخص کے ساتھ کیوں ظلم کی زندگی برداشت کر رہی ہیں ساتھ ہمیں بھی بے سکون کیا ہوا ہے، وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے، بس آپ ہمت سے مقابلہ کریں کچھ نہیں ہو گا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور وہی مدد کرے گا،

فریال روتے ہوئے بولی میں سب کے دکھوں کا باعث بنی ہوئی ہوں، ماں بھی میری وجہ سے بہن سے دور ہو گئی ہیں،

بسمل غصے سے بولی بہن کون سی بہن وہ عورت دشمن ہے ہم سب کی، اماں سے اسکا کوئی رشتہ نہیں، وہ اماں کی سوتیلی ماں کے پچھلے شوہر سے ہے، نہ وہ اماں کی باپ کی طرف سے سگی ہے نہ ہی ماں کی طرف سے پھر بھی اماں اسے بہن کا درجہ دیتی ہیں، اور وہ دشمنوں کا درجہ،

بسمل ماں کو مخاطب کر کے بولی اماں جان پلیز ہوش کے ناخن لیں بیٹی کی آنکھوں سے آنسو خشک ہونے دیں سب سے زیادہ دکھی اسے آپ کی زات نے کیا ہوا ہے، ورنہ ان کی کیا مجال،

اماں نے جو بات کی اس سے فریال اور بسمل کا منہ کھلا رہ گیا،

بسمل تڑپ کر اماں کیا آپ سچ کہہ رہی ہیں کہ میں نے جو کیا ٹھیک کیا،

اماں بولی جاوید صاحب کی فیملی بہت نیک اور اچھی ہے، عورتوں کی عزت کرنا جانتے ہیں، ایسے لوگ نصیبوں والوں کو ملتے ہیں، میں خود ان سے معزرت کر کے ان سے رشتہ جوڑنے کی کوشش کروں گی،

بسمل نے زور سے نعرہ لگایا جیو اماں جانی، پھر وہ جوش سے بولی میں ابھی ایان کو فون کر کے خوشخبری سناتی ہوں اور ایان کو مس کال کر کے انتظار کرنے لگی، پہلے وہ پہلی کال ہی فون اٹھا لیا کرتا تھا مگر اب وہ اتنی کالز اتنے میسجز کے بعد بھی اٹھا نہیں رہا تھا بسمل رونے لگی، اور فریال سے بولی آپا کیا ایان بدل گیا ہے اس نے تو اب فون ہی بند کر دیا ہے، آف کر دیا ہے، میرے پاس تو اور کوئی نمبر بھی نہیں ہے،

فریال اسے پیار سے گلے لگاتے ہوئے بولی میری گڑیا رانی مجھے نہیں لگتا کہ ایان بدل سکتا ہے ہاں کوئی اور مسئلہ نہ ہو گیا ہو اللہ خیر کرے، بس دعا کرو اور پریشان نہ ہو،

کچھ نہیں ہو گا انشاءاللہ،

بسمل روتے ہوئے بولی اگر ایان خدانخواستہ بدل بھی جاتا ہے تو تب بھی میں کھبی بھی آپ کے دیور سے شادی نہیں کروں گی اور نہ ہی کسی اور سے، بس نوکری کر کے اپنا اور اپنی اماں کا سہارا بنوں گی، ایان اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ مجھے صبح شام فون نہ کرے تو میں کتن پریشان ہو جات ہوں اب رات ہو چکی ہے مگر جناب صاحب کا کچھ پتا ہی نہیں ہے ٹھیک ہے میں بھی اب دوبارہ نہ میسج نہ ہی کال کروں گی،

فریال نے کہا ہو سکتا ہے فون میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہو،

بسمل اگر ایسا ہوتا تو اس کے ڈیڈ کا بھی فون ہے، گھر میں سے کر سکتا ہے پی ٹی سی ایل سے نیٹ پر سے کر سکتا ہے، اس کی وہ فتنی ڈیڈ کی خالہ صاحبہ اس کے لئے امیر گھروں سے رشتے لا لا کر کنوینس کر رہی تھی کہ ادھر کر لو اور ادھر کر لو، یہ بہت ناہس فیملی ہے تو وہ فلاں بہت خواہش مند لوگ ہیں وغیرہ وغیرہ، یہ نہ ہو خالہ نے مجبور کر دیا ہو منا لیا ہو باپ بیٹے کو اپنی محبت کا واسطہ دے کر اموشنل بلیک میل کر کے، اگر اسا ہوا تو میں ایان سے فوراً رشتہ ختم کر دوں گی اسے صفائی کا بھی موقع بھی نہیں دوں گی تاکہ وہ پوری طرح اپنی بیوی کا ہو سکے اور اسے اپنی قسمت سمجھ کر صبر کر کے نوکری کر کے ساری زندگی گزار دوں گی اور کھبی شادی نہیں کروں گی،

فریال اسے پیار سے گلے لگاتے ہوئے روتے ہوئے بولی اللہ نہ کرے تیری قسمت خراب ہو خدا تجھے میرے حصے کی خوشیاں بھی دے دے،

بسمل تمھارے پاس خوشیاں ہیں کدھر جو مجھے دو گی، بس چھوڑو ایان کے ٹاپک کو میں اس کی وجہ سے گھر کا ماحول خراب کر کے اماں کو دکھی نہیں کر سکتی، بس صبر کر لوں گی واویلہ مچانے کا کیا فائدہ بس آپ کے سسرال والوں کو کچھ پتہ نہ چلے ورنہ وہ اورشیر ہو جاہیں گے ابھی پھر شاید انکا کچھ ڈر ہو،

فریال اس نازک سی لڑکی کو پیار سے دیکھ کر سوچنے لگی کتنی بہادر ہے اور کتنی سمجھدار بھی، اللہ تعالیٰ اس کا نصیب اچھا کرے وہ دل میں اس کے لیے دعائیں کرنے لگی،

محلے کا ایک لڑکا حواس باختہ دوڑا آیا اور جو بتایا اسے سن کر سب حیرانی سے اسے دیکھنے لگیں،

جاری ہے،

ناول نگار، عابدہ زی شیریں،


شعر،

محبت صیاد کا ایسا روپ دھار لیتی ہے

کہ قیدی کو رہائی بھی سزا جیسی تصور ہو،

#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں




Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books