Intzaar Taweel Tha
Episodes
بسمل نے آفس جانا شروع کر دیا قدرے فیشن ایبل تھی مگر اس میں بھی پردہ رہتا، لباس میں کوئی عریانی نہ ہوتی – دوپٹے میں جاتی سر پر نہ کرتی – ماں ٹوکتی تو کہتی اماں مجھے چادروں میں الجھن ہوتی ہے اور لوکل جانا ہو تو مشکل لگتا ہے گرمی حبس اور دھکے کھا کر جانا ہوتا ہے تو بہت مشکل پیش آتی ہے –
فریال نے ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا اماں ہماری پھول جیسی بہن کملا گئی ہے اسے نہ روکیں ٹوکیں_
فریال نے عدت ختم ہوتے ہی زبردستی نوکری کر لی مگر اسکول کی نوکری تھی گھر کے قریب تھا جلدی گھر آ سکتی تھی، ماں بھی اب قدرے بہتر ہونے لگی تھی _
ایان گھر کے روم میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اتنا زیادہ وقت گزر چکا ہے سال بھر ہونے کو ہے مگر بسمل کی کوئی خبر نہیں ہے کہ کدھر چلی گئی ہے وہ کافی بار پرانے محلے پتا کرنے جا چکا تھا اور فون بھی کرتا مگر بسمل کسی میسج کسی فون کا جواب نہ دیتی تھی اور نہ ہی اسے اس کے گھر کا ایڈریس معلوم تھا_
فریال نے بسمل سے پوچھا کھبی ایان کا فون آیا تو بسمل نظریں چراتے ہوئے بولی نہیں _
فریال نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا زرا میری طرف دیکھ کر بتاو تو کیا سچ بول رہی ہو تمھیں اماں کی قسم سچ بتاو کیا بات ہے ورنہ میں ناراض ہو جاوں گی سمجھی تم _
ایان روتے ہوئے بولی آپا اس کا فون اس دن چوری ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے رابطہ نہیں کیا پھر اسی دن اس خالہ کا بیٹا باہر فوت ہو گیا تھا تو وہ لوگ ادھر مصروف ہو گئے تھے پھر جب ادھر سے فارغ ہوئے تو ایان نے مجھے فون کیا مگر میں نے اسے سختی سے منع کر دیا کہ ہم لوگ اتنے بھی مجبور نہیں ہیں کہ اپنی عزت کا سودا کر لیں – تمھاری خالہ کون ہوتی ہیں ہماری بے عزتی کرنے والی اور آئندہ کے بعد مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرنا پھر میں نے اسے بلاک تو نہ کیا مگر اس کے فونز اور میسیجز کا جواب نہیں دیا –
کیا اب بھی کرتا ہے فون یا میسیجز –
نہیں کچھ عرصے سے بند ہیں ظاہر ہے مرد زات ہے اتنا ہی حوصلہ ہوتا ہے ان مردوں میں اب تک تو شادی بھی کر چکا ہو گا شاید صاحب اولاد بھی ہو چکا ہو _
فریال نے چلاتے ہوئے کہا مگر تم نے ایسا کیوں کیا-
بسمل نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا اگر میں شادی کر کے چلی جاتی تو امی جان اور تمھارا کیا بنتا-اگر ان کے گھر لے کر جاتی تب بھی خالہ بے عزتی کرتی رہتی جو مجھ سے سہنا مشکل ہوتا-
فریال نے غصے سے کہا کہ تم نے پھر اسکا نمبر ابھی تک موبائل میں سیو کیوں کیا ہوا ہے لاو موبائل میں ابھی اسے ڈیلیٹ کرتی ہوں اس نے اسکا موبائل-فون اس سے چھین کر اسکا نمبر ڈیلیٹ کر دیا اور موبائل اس کے بیڈ پر پھینک کر تیزی سے کمرے سے نکل گئی _
بسمل نے آنسوؤں بھری آنکھوں سے سوچا کہ نمبر تو دل پر لکھا ہے بھلے موبائل سے ڈیلیٹ کر دو_
اماں آج پھر بچیوں کو سمجھا رہی تھی کہ رشتے والی بہت سے رشتے بتا چکی ہے عمر گزرتے دیر نہیں لگتی تم لوگ جلدی کسی جگہ ہاں کر دو تاکہ مجھے سکون مل سکے-
فریال ماں سے بولی بسمل کی شادی ہو جانی چاہیے میں نے دوبارہ شادی نہیں کرنی ایک تجربہ ہی کافی ہے ویسے بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی ہوں _
ماں نے فریال سے پوچھا بیٹی آج تھوڑی دیر نہیں ہو گئ تمھارے آنے میں کیا؟
فریال نے چادر اتارتے ہوئے کہا اماں بس نکلتے نکلتے دیر ہو گئی ہے _
ماں کے پاس پڑوسن بیٹھی بتا رہی تھی کہ اس کی بیٹی اس کے کالج میں پڑھتی ہے وہ بتا رہی تھی کہ فریال آج کالج نہیں آئی _
اماں کو سن کر شاک لگا مگر خود پر قابو پا کر بولی ہاں آج وہ کسی کام سے باہر گئ ہے _
عورت کے جاتے ہی فریال گھر میں داخل ہو کر بولی اماں آج کیا پکایا ہے بہت بھوک لگی ہے _
ماں نے کہا پہلے کالج کی کوئی بات نہیں بتائی آج یہ ہوا وہ ہوا-
فریال ٹالتے ہوئے بولی اماں آج کچھ خاص نہیں ہوا جو بتاوں -میں روٹی بنا لوں پھر مل کر کھاتے ہیں _
اماں بولی مجھے آج بھوک نہیں ہے _
فریال اس کو پیار کرتے ہوئے بولی نو ناغہ آپ نے دوائی کھانی ہوتی ہے روٹی لازمی کھانی پڑے گی _
اماں دل میں سوچنے لگی مجھے اپنی بیٹیوں پر بھروسہ ہے مگر آج فریال کدھر گئ تھی چلو دیکھتے ہیں خود بتا دے گی_
چند دن گزرے اماں جمعرات بازار سے سودا لینے پڑوسن کے ساتھ رکشے میں جا رہی تھی کہ پاس سے گزرتی گاڑی میں انہیں فریال نظر آئی ساتھ کون تھا وہ نہ پہچان سکیں انہوں نے ڈرتے ڈرتے پڑوسن کو دیکھا مگر وہ منہ دوسری طرف کیے دیکھ رہی تھی –
اماں نے شکر کیا کہ اس نے نہیں دیکھا وہ دکھ سے نڈھال ہو رہی تھیں مگر خود پر قابو پا رہی تھیں _
پڑوسن نے ان کی بدلتی رنگت دیکھ کر پوچھا کہ کیا ہوا پسینہ کیوں آ رہا ہے _
وہ نڈھال ہو کر بولی طبیعت خراب ہے اور بے ہوش ہوگئی _
پڑوسن نے چیخ کر رکشے والے کو قریبی کلینک لے جانے کا بولا اور اماں کے موبائل سے فریال کو فون کرنے لگی-
اماں ٹھیک ہو کر گھر آ چکی تھی بیٹیوں نے رو رو کر اپنا حال خراب کر لیا تھا وہ کہتیں کہ اماں کے علاوہ ہمارا اس دنیا میں کون ہے _
اماں بیٹیوں کو دیکھتی تو سوچتی کیا یہ مجھ سے اتنا پیار کرنے والیں مجھے دھوکہ کیسے دے سکتی ہیں خاص طور پر فریال سے تو مجھے بلکل بھی امید نہ تھی کہ وہ کسی کے ساتھ گاڑی میں جاے اور مجھ سے جھوٹ بولے پہلے بھی ایک عورت نے مجھے بتایا تھا مگر میں نے یقین نہیں کیا تھا مگر اب تو خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے آج میں فریال سے سچ پوچھوں گی اور اجازت دے دوں گی جہاں دل کرتا ہے شادی کر لو مگر ایسے دھوکہ نہ دو_پھر اس کا زہن اس طرف چلا گیا کہ کہیں دولت کا لالچ تو نہیں آ گیا توبہ توبہ اللہ رحم فرمائے کھبی ایسا نہ ہو _
آج میں ضرور پوچھوں گی _
جاوید صاحب نے ایان سے پوچھا بیٹا کب تک انتظار کرو گے کچھ تو بتاو _میں تمھاری شادی کر کے فرض سے فارغ ہونا چاہتا ہوں _خالہ جی کو بیٹے کی وفات کا جو غم ملا ہے اس نے ان کی کمر توڑ دی ہے _گھر میں بہو آئے تو کچھ رونق لگے تم کب تک بسمل کا انتظار کرو گے آفس جا جا کر بھی منتیں کر چکے ہو مگر وہ تیار نہیں ہوتی ہے _
ایان نے غصے سے کہا کہ آپ لوگ بھی تو میرے ساتھ ضد لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ خالہ معافی نہیں مانگیں گی اب بس آپ لوگ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں اس نے شرط رکھی ہے کہ بے شک فون پر بول دیں اماں کو تاکہ اسے یقین ہو جائے کہ آپ لوگوں نے دل سے انہیں قبول کر لیا ہے وہ حق بجانب ہے میں بھی ہوتا تو ایسا ہی کرتا _
جاری ہے_

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.