Intzaar Taweel Tha
Episodes
فریال گھر واپس آئی تو اماں کو ناراض سا پایا _
اماں سے کھانے کا پوچھا تو وہ بولی زہر دے دو مجھے، ایک ہی بار مار دو، روز روز یہ سوچ کر مرنا نہ پڑے کہ میری وہ بیٹی جس پر مجھے اندھا اعتماد تھا وہ مجھ سے جھوٹ بولے گی مجھے دھوکہ دے گی اگر میں اس دن تجھے رکشے میں کسی کے ساتھ کار میں جاتا نہ دیکھتی تو مجھے محلے کی عورت کی بات کا یقین نہ آتا، سچ بتا کس کے ساتھ گل چھڑے اڑاتی پھرتی ہے _
فریال یہ بات سن کر دم بخود رہ گئی اور اماں کے پاوں میں بیٹھ کر پیر پکڑ کر روتے ہوئے بولی اماں میں آپ کو دھوکہ دینے کا کھبی سوچ بھی نہیں سکتی _
اماں نے گرج کر پاوں سے ٹھوکر مارتے ہوئے کہا پھر بتا کس یار کے ساتھ گاڑی میں جا رہی تھی اور پرسوں تو سکول گئی ہی نہیں بتا کدھر گئ تھی وہ چیج کر گرجیں_
فریال نے آنسو صاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اس لیے سچ چھپایا کہ آپ پریشان نہ ہوں ورنہ خدا گواہ ہے آپ کی بیٹی ایسی نہیں، آپ بھروسہ رکھیں، اس نے اپنی اور بسمل کی ساری گفتگو اماں کو بتا دی_
اماں سن کر پریشان سی ہو گئی اور پوچھنے لگی کہ آخر کیا بات تھی کہ جاوید صاحب نہیں مان رہے تھے _
فریال نے بتایا کہ اس نے ایان کا نمبر زبانی یاد کر کے بسمل کے فون سے ڈیلیٹ کر دیا اور واپس آ کر ایان سے فون پر چھپ کر بات کی تو اس نے بتایا کہ جب خالہ ہمیں سنا کر گئی تو بسمل نے ایان کو گلہ کیا اور شرط رکھ دی کہ وہ اماں سے معزرت کریں گی تو شادی کروں گی _
ایان نے جواب دیا کہ مجھے بھی خالہ پر سخت غصہ آ رہا ہے انہیں معزرت کرنی پڑے گی، پھر خالہ کا بیٹا فوت ہو گیا اور وہ لوگ ادھر بزی ہو گئے _
جب ایان نے جاوید صاحب سے بات کی تو انہوں نے یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا کہ خالہ کسی صورت معافی نہیں مانگیں گی جس کی وجہ سے باپ بیٹے میں ٹھن گئی اور ادھر بسمل بھی اڑ گئی کہ میری ماں سے چلو فون پر ہی سہی معزرت کر لیں تو ہمارے دل کو اناء کو بھی سکون مل جائے گا مگر جاوید صاحب نہ مانے اور خالہ تو پہلے ہی بمشکل مانی تھی اب اور اسے دوسری جگہ شادی پر اصرار کرنے لگی اور نحوت سے کہتی معافی مانگتی ہے میری جوتی ان لوگوں کی اوقات کیا ہے یہ تو ہمارا بچہ ہمیں زلیل کروا رہا ہے ورنہ ان کی اتنی جرات کہاں جو ہم سے مقابلہ کر سکیں، ہمارے لڑکے کو عقل نہیں آتی کہ ایسی لڑکیاں پیچھے لگانے میں ماہر ہوتی ہیں بس لڑکا دولتمند ہو_
ایان پیچ وتاب کھا کر رہ جاتا، باپ سے کہتا خالہ کی آپ اتنی فیور کیوں کرتے ہیں تو وہ جواب دیتے وہ میری ماں کا نعمل بدل ہیں _
فریال نے ماں کو بتایا کہ میں فون کر کے ایان سے ملنے گئی تھی تاکہ اس مسئلے کا کچھ حل نکل سکے، یا تو بسمل مان جائے تو مسئلہ ہی حل ہو جائے، اب تو خالہ کا بیٹا بھی فوت ہو چکا ہے اور جاوید صاحب کی ہمدردی اب مزید پکی ہو چکی ہے _
اماں نے پیار سے فریال کو روتے ہوئے گلے لگا کر معزرت کی تو فریال نے کہا اماں جان ہم بیٹیاں آپ کا غرور ہیں جو کھبی ٹوٹے گا نہیں، بسمل کو بہت سمجھایا کہ اپنی ضد چھوڑ دے ورنہ اتنا پیار کرنے والا انسان کھو دے گی کب تک وہ انکار کرے گا اسے گھر والے اموشنل بلیک میل کر کے بھی منا سکتے ہیں مگر وہ کہتی ہے میں ماں کی عزت نفس پر کمپرومائز نہیں کروں گی چاہے مجھے ایان کو ہی کھونا کیوں نہ پڑے، ہم نے یہ سب آپ سے اس لیے چھپایا کہ آپ پریشان نہ ہوں _
اماں نے کہا کہ میں ان کی خالہ کو افسوس کرنے کے لیے جانا چاہتی ہوں مگر بسمل کو پتا نہ چلے اور اس مسئلے کا بھی شاید کوئی حل نکل سکے _
ایان نے باپ کو منا لیا کہ فریال اور اس کی اماں خالہ کے پاس افسوس کے لئے آنا چاہتی ہیں _
وہ خوشی سے بولے بہت اچھی بات ہے ان لوگوں کو ہمارے دکھ کا احساس ہوا ہے ضرور تشریف لائیں اگر وہ نہ آتے تو شاید مجھے افسوس ہوتا مگر اب میں متاثر ہوا ہوں _
خالہ جل کر بولی ارے بےوقوفو وہ اپنی بیٹی لگانے کے چکر میں آ رہی ہے اسے اب آنے کا موقع مل رہا ہے،،،،
ایان غصے سے بولا پلیز ان کی نیت پر شک نہ کریں ان کو بیٹی لگانے میں کیا مسئلہ ہے ان کی بیٹی کی طرف سے دیر ہے جس کو اپنی خوشیوں سے زیادہ ماں کی عزت پیاری ہے اور اس کی اسی خوبی نے مجھے اور زیادہ اس کا گرویدہ بنا دیا ہے ورنہ اگر وہ آسانی سے مان جاتی تو شاید میں بھی اسے عام لڑکی سمجھتا مگر وہ بہت خاص لڑکی ہے اور میں اس کا ساری زندگی انتظار کر سکتا ہوں _
فریال نے اسکول سے چھٹی لی اور ماں کو لے کر آٹو میں چل پڑی _
ایان نے آفر کی تھی بتانا میں لینے آ جاوں گا فریال نے کہا چند دن تک چکر لگائیں گے جس دن آنا ہوا تو بتا دوں گی مگر وہ اچانک جانا چاہتی تھی تاکہ اس پر برڈن نہ پڑے_
دونوں بسمل کو بتاے بغیر چل پڑیں اس نے باتوں باتوں میں لوکیشن پوچھ لی تھی _راستے سے فروٹ کی باسکٹ اچھے طریقے سے پیک کروا کر لے لی_
عین گھر کے گیٹ پر پہنچ کر ایان کو فون کیا تو وہ کافی حیران ہوا اور فوراً گھر سے باہر بھاگا آیا اور باپ کو بھی فون کر دیا وہ گھر سے باہر تھا اس نے کہا میں میٹنگ میں ہوں میرے آنے تک انہیں جانے نہ دینا_
ایان خوشی سے پاگل ہو رہا تھا فریال اسے جوس کے علاوہ کچھ تکلف نہ کرنے دے رہی تھی فریال نے اماں سے کہا تھا رشتے کے ٹاپک پر آج کوئی بات نہیں کرنی آج ہم صرف افسوس کے لیے جا رہے ہیں ان لوگوں کو یہ نہ لگے کہ ہم اس کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں _
خالہ نے پہلے تو منہ بنائی رکھا پھر وہ پگھلنے لگی کیونکہ فریال نے ہی چاے خود بنائی اور پھر برتن بھی دھو دیے، خالہ نے دوائی کھانی تھی تو اس نے جلدی سے آلو کی بجیا پکا کر خالہ کو روٹی پکا دی،
خالہ کو ان کے آنے سے رونق سی لگنے لگی اس کا دل بھی بہلنے لگا اس نے فریال کو مجبور کیا کہ ماں کے لئے بھی روٹی پکاو _
خالہ اتنے دنوں سے ہوٹل کی روٹی سالن کھا رہی تھی کام والی خالہ کے رویے کی وجہ سے ٹکتی ہی نہ تھی، خالہ نے شکر کیا کہ آج گھر کا کھانا نصیب ہوا اور وہ بھی اتنی جلدی اس نے پکا بھی لیا _
ایان کو بھی کھانا بہت اچھا لگا فریال نے بسمل کو دیر ہو جانے کی وجہ سے سب سچ بتا دیا _
فریال لوگ جانے لگے تھے مگر جاوید صاحب نے کہا جب تک میں آ نہ جاوں آپ لوگ ملے بغیر مت جاہیں _
جاوید صاحب آئے تو خالہ کو خوشگوار موڈ میں فریال کی ماں سے گھل مل کر باتیں کرتے دیکھ کر بہت خوش ہوئے _
خالہ اکیلی بور ہوتی رہتی تھی جب اس نے فریال کی ماں سے باتیں کرنی شروع کیں تو اس کی سمجھداری سے اور مہزب گفتگو سے دل میں متاثر ہونے لگی اس نے نوٹ کیا کہ اسے گھر جانے کی جلدی تھی اور اس نے اس ملاقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رشتے کی کوئی بات نہ کی_اسے ان کی کمپنی اچھی لگنے لگی ان کے جانے کا سوچ کر اسے پریشانی ہونے لگی _خالہ کے کپڑوں پر جوس گر گیا تو ان کے کپڑے پریس کر کے دیے اور ان کے کپڑوں کو ہاتھ سے ہی دھو کر ڈال دیے_
خالہ بھی انہیں مزید بیٹھنے پر اصرار کرنے لگی _
جاوید صاحب باہر سے کھانا آرڈر کرنے لگے تھے مگر خالہ نے سالن کی بہت تعریف کی اور فریال سے کہا کہ جاوید کو روٹی پکا دو_
جاوید صاحب کو بھی گھر کا سادہ کھانا کھا کر بہت مزہ آیا اور انہوں نے بہت شکریہ ادا کیا_
فریال نے ماں کو جانے کا بولا کہ بسمل گھر میں اکیلی ہے تو جاوید صاحب نے کہا کہ وہ خود چھوڑ کر اتے ہیں خالہ نے بھی چھوڑنے پر اصرار کیا_
جاوید صاحب نے کہا کہ وہ گاڑی میں پٹرول ڈلوا کر ابھی آتے ہیں اتنے میں آپ لوگ گپ شپ لاہیں _
فریال نے سوچا چلو میں اتنی دیر میں ایک سالن بنا دیتی ہوں جو بعد میں ان کے کام آ جاے گا اس نے فریزر سے چکن نکال کر جلدی جلدی میں پکانا شروع کر دیا، وہ چکن پکا کر فارغ ہو چکی تھی، جاوید صاحب نے آنے میں دیر کر دی تھی _
ایان نے فون کیا مگر فون پک نہیں کر رہے تھے سب پریشان ہونے لگے ادھر بسمل بھی بار بار آنے کا پوچھ رہی تھی _
ایان کو فون آیا تو اس نے زور سے چلا کر کہا کیا کون سے ہاسپٹل میں اور فون بند کر کے پریشانی سے بولا، ڈیڈ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے شکر ہے بچ گئے ہیں ٹانگ میں فریکچر آیا ہے میں ہاسپٹل جا رہا ہوں _
فریال نے کہا کہ میں بھی ساتھ چلتی ہوں _
خالہ فریال کی ماں کا ہاتھ پکڑ کر بولی پلیز آپ نہ جانا مجھے اکیلا چھوڑ کر_
بسمل کو فریال سب بتا رہی تھی خالہ کے positive رویے کی رپورٹ بھی دے رہی تھی _
جاوید صاحب کی ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا دیا گیا تھا اور ایان بسمل کو لے کر اپنے گھر چھوڑ گیا تھا خالہ اسے دیکھ کر نارمل رہی مگر بسمل نے سلام کے بعد فالتو بات نہ کی_
خالہ چونکہ اکیلی تھی اور بسمل بھی اکیلی لحاظہ سب کو اس گھر میں اکٹھے رہنا پڑا _
ایان رات باپ کے پاس رکا _
فریال نے سوپ بنا دیا اور ایان کو بھی زبردستی تھوڑا بہت کھانا کھلا دیا_
دونوں بہنوں نے ملکر گھر کے کام سنوارے، ڈیجیٹل مشین میں کپڑے دھو کر پریس کر دیے کہ اماں کا حکم تھا کہ ان کے پہننے والے کپڑے ریڈی کر دو_
صبح خالہ کو گھر کا پراٹھہ ملا تو بہت خوش تھی کام والی صفائی کر کے چلی گئی
دوسرے دن جاوید صاحب گھر واپس آ گئے تو یہ سن کر انہیں افسوس ہوا کہ دونوں بہنیں الاونج کے صوفوں پر سوئی تھیں _
خالہ بھی ان کی شرافت کی دل میں قاہل ہونے لگی، انہوں نے مردوں کے خالی بیڈ روم میں سونا بھی مناسب نہ سمجھا، اماں تو خالہ کے ڈبل بیڈ پر سو گئی _
فریال نے ماں کے کہنے پر دو تین سالن پکا دیے کہ پیچھے ان لوگوں کو مسئلہ نہ ہو _
جب وہ لوگ جانے لگیں تو خالہ پریشان ہو کر بولی کم از کم فریال کو ادھر چھوڑ دو میری کل فلاہیٹ ہے میں نہ جاتی مگر وہاں پنشن کا مسئلہ ہے جانا ضروری ہے یہ لوگ مسئلے میں ہیں جیسی عورت دیکھ بھال کر سکتی ہے ویسے ایان نہیں کر سکے گا _
فریال کی ماں بولی بہن جی میری بیٹی بھی جوان ہے بسمل اور اسے پیچھے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ہوں ورنہ فریال کے ساتھ میں رہ جاتی آپ میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کریں میں اکیلے ادھر فریال کو نہیں چھوڑ سکتی دنیا کیا کہے گی نامناسب ہے _
خالہ نے پھر تجویز پیش کر دی کہ آج ہی فریال کا نکاح جاوید سے کر دیتے ہیں آپ کی بیٹی کو بھی سہارا مل جائے گا اور جاوید کو بھی اچھی بیوی مل جائے گی _
جاوید صاحب نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی کو اپنی مجبوری کی بنا پر قربانی دینے پر مجبور نہیں کر سکتا میری اور اس کی عمر میں بہت فرق ہے _
جاری ہے _

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.