Loading...
Logo
Back to Novel
Intzaar Taweel Tha
Episodes
Intzaar Taweel Tha

انتظار طویل تھا 7

From Intzaar Taweel Tha - Episode 7

ماں سوچ رہی تھی جبکہ خالہ فریال کی ماں کی منت سماجت کر رہی تھی اور بسمل خوش ہو رہی تھی اس نے فریال کو بھی منانا شروع کر دیا _

ایان بہت خوش ہو رہا تھا بسمل اور ایان بھی خوش ہو رہے تھے _

اماں نے فریال سے پوچھا تو وہ بولی ویسے تو میں کھبی بھی شادی نہ کرتی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتی مگر ان لوگوں کی مجبوری دیکھتے ہوئے رضامندی دینے پر مجبور ہوں، میں بسمل سے پہلے تو شادی کا سوچ بھی نہ سکتی تھی مگر میری ماں کی پریشانی بھی کم ہو جائے گی جو آے دن رشتے والی َسے اچھا رشتہ لانے پر اصرار کرتی رہتی ہیں _مجھے اماں کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں چاہے اندھے کنویں میں دھکیل دیں _

جاوید صاحب کو خالہ نے منانا شروع کر دیا اور بسمل کی شرط پوری کرنے کے لئے اس کی ماں سے معزرت کرنے کی بھی حامی بھر لی _

بسمل نے فوراً اپنی شرط واپس لے لی اور کہا کہ میں نے خالہ جان کو غلط سمجھا تھا اگر وہ معافی مانگیں گی تو مجھے شرمندگی ہو گی بلکہ میں اپنی ضد کی معزرت چاہتی ہوں _

جاوید صاحب نے اس شادی کے لئے ایک شرط عائد کر دی کہ ایک لڑکی اس گھر سے آ سکتی ہے یا بسمل یا فریال اور اگر آپ لوگوں نے میری شادی فریال سے کر دی تو ایان کو بسمل کو چھوڑنا پڑے گا اور میری دوست کی بیٹی جس کا رشتہ ایان کے لیے آیا ہوا ہے اس سے کرنی پڑے گی اگر منظور ہے تو ٹھیک، ویسے بھی اس گھر میں ایک عورت کی ضرورت ہے بسمل یا فریال _

بسمل ایان کو ایک ساہیڈ پر لے گئی اور آپس میں معاہدہ کیا کہ وہ اپنے پیاروں کی بہتری کے لئے قربانی دیں گے اور تمھیں اپنے باپ کی ضد کو یہ سمجھ کر پورا کرنا ہے کہ انہیں تم پر ایک مان ہے تم انکا غرور ہو، تم جوان ہو اپنی مرضی کر کے انکے فیصلے کو ٹھکرا سکتے ہو مگر ہمیں انکا مان رکھنا ہے ان کی عزت نفس قائم رکھنی ہے ہمیں صبر اور حوصلے سے اپنے اوپر قابو پا کر ان کی خوشیوں کو پروان چڑھانا ہے تاکہ ان کو یہ نہ لگے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا ہے _

ایان نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تم ٹھیک کہتی ہو میں اگر ان کی بات مانوں گا تو اسے اچھی طرح نبھانے کی بھی کوشش کروں گا انشاءاللہ خدا کی رضا کے لیے ہم یہ سب کریں گے تو ضرور ہم اس آزمائش میں اس امتحان میں سرخرو ہوں گے مجھے اپنی خوشی سے زیادہ باپ کی بہتری عزیز ہے اور فریال آپی سے بہتر ان کا جیون ساتھی کوئی نہیں ہو سکتا، مجھے احساس ہی نہ تھا کہ انہوں نے میری پرورش میں اپنا آپ بھولاے رکھا ان کی تنہائی کا مجھے اب احساس ہو رہا ہے مجھ سے زیادہ تو خالہ نے انکا احساس کیا ہے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ واقعی وہ ان کے لیے ماں کا نعمل بدل ہیں کاش میں نے ان کی ویران زندگی کے بارے میں پہلے سوچا ہوتا _

بسمل اسے دلاسے دیتی اسکا شکریہ ادا کرنے لگی کہ وہ اپنی آپا کی زندگی خوشیوں سے بھر دینا چاہتی ہے شکر ہے تم نے اپنا لالچ نہیں کیا باپ کی خوشیوں کو ترجیح دی _

اماں نے سنا کہ بسمل فریال کی شادی پر بضد ہے اور ایان سے شادی نہیں کرنا چاہتی اسے اپنے آفس میں ایک کولیگ نے پروپوز کیا ہے اور وہ اسے پسند بھی ہے _

فریال نے سنا تو بولی کھبی نہیں تمھاری شادی ہونی چاہیے میں تو جوان ہوں تم چند سال بعد اس جیسے رشتے سے بھی جاو گی، میں ویسے بھی اب ایان کو بھول چکی ہوں اور نیا راستہ چن لیا ہے میں نے ایان کو سب بتا دیا ہے اسے جب کوئی اعتراض نہیں تو آپ اتنا اچھا رشتہ ہاتھ سے کیوں گنواتی ہیں _

اماں کو اور فریال کو بسمل نے راضی کر لیا _

خالہ بہت خوش اور حیران رہ گئ _

جاوید صاحب نے کہا کہ یہ نہ سمجھنا کہ چلو وقتی طور پر مان جاتے ہیں پھر بعد میں اپنی من مانی کر لیں گے تو یاد رکھو تمھیں میرے دوست کی بیٹی سے ان کے امریکہ سے آتے ہی نکاح کرنا پڑے گا اور میں آج ہی اس سے تمھارا رشتہ پکا کرنے کے لیے اسے فون پر ڈن کروں گا بولو منظور؟

جی منظور یہ کہہ کر ایان کمرے سے باہر نکل آیا _

خالہ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی بات سے نہ ہٹے_

آخر خالہ نے اماں کو سمجھایا کہ بعد میں دیکھ لیں گے ابھی تو شکر ہے کہ وہ راضی ہوا_

فریال کا نکاح سادگی سے جاوید صاحب سے کر دیا گیا اور آس پڑوس کے چند لوگوں کو بھی شامل کیا گیا اور محلے میں مٹھائی تقسیم کی گئی چند عورتیں مبارکباد دینے بھی آ گئ _

خالہ نے فریال کو اپنی نیو قیمتی خوبصورت ساڑھی اور سونے کا سیٹ گفٹ کیا _

فریال پر ایسا روپ آیا تھا کہ خالہ بھی تعریف کیے بنا نہ رہ سکی، گھر میں تیار ہو کر ہلکہ پھلکہ میک اپ کرنے سے اسے وہ نکھار آیا کہ سب تعریف کرنے لگے _

خالہ نے نکاح ہوتے ہی فریال کو جاوید صاحب کے روم میں بھیج دیا _وہ سوچوں میں گم کرسی پر بیٹھ گئی _

تھوڑی دیر بعد ایان جاوید صاحب کو وہیل چیر پر بٹھا کر کمرے میں چھوڑنے آیا تو فریال چونک کر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی _

ایان نے سلام کیا اور مبارک باد دی، جاوید صاحب نے بھی سلام کیا اور ان کی نظر اس کے حسن پر ٹہر گئی، وہ دل میں سوچنے لگے کہ انہوں نے تو کھبی دوسری شادی کا سوچا تک نہ تھا کہ اچانک ان کی زندگی میں یہ پری زاد آ گئی _

فریال اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور نارمل انداز میں پوچھنے لگی کہ آپ کھانا کھا لیں پھر آپ کو دوا بھی دینی ہے _

جاوید صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا اب کسی دوا کی ضرورت نہیں مرہم آ گیا ہے _

فریال نے نظریں جھکا لیں اور دھیرے سے مسکرا دی_

جاوید صاحب نے کہا کہ تم مسکراتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہو، اب انشاءاللہ میں تمھاری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا، میں تمھاری زمہ داری نبھاوں گا تمھاری اماں اور بسمل کو اب اس گھر میں ہمیشہ کے لیے رکھوں گا اور بسمل کی اچھا رشتہ دیکھ کر دھوم دھام سے شادی کروں گا اور تم ایان کی دولہن لانے میں میرا ساتھ دو گی بولو دو گی نا، انہوں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر التجایا لہجے میں پوچھا _

وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے_

فریال نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر آنکھوں میں آئی نمی کو روکتے ہوئے کہا ضرور انشاءاللہ _

جاوید صاحب نے کہا میری اور تمھاری عمر میں بہت فرق ہے کیا تم خوش ہو _

فریال نے کہا کہ دس سال کا فرق کوئی زیادہ نہیں ہوتا اور میں کیوں خوش نہ ہوں آپ جیسے آہیڈیل انسان جسے ملیں وہ اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرے گی_

جاوید صاحب نے کہا کہ جب تم کالج میں تھی تو میں تم سے بہت متاثر تھا میں سوچتا تھا اگر شادی کرنے کے لیے مجھے چوائس کا موقع ملتا تو میں تمھیں چنتا دیکھو رب نے میرے صبر کا عظیم صلہ دیا کہ تم مجھے مل گئی _

فریال نے کہا چلیں کھانا کھا لیں پھر دوا بھی کھانی ہے _

جاوید صاحب بولے جو حکم جناب _

فریال کھانا لینے جانے لگی تو بسمل ٹرے میں کھانا رکھے آ گئ اور جاوید صاحب کو سلام کیا_

جاوید صاحب نے پرجوش انداز میں وعلیکم السلام سالی جی کہہ کر اسے بغور دیکھا_

بسمل نے ان کی طرف دیکھ کر کہا جی جو جی کچھ اور چاہیے تو ابھی بتا دیں کیونکہ مجھے نیند آ رہی ہے _

جاوید صاحب اس مضبوط لڑکی کو دیکھتے رہ گئے _

فریال نے کہا تم جاو سو جاو اور اماں کو بھی سلا دینا دوا بھی یاد سے دے دینا_

بسمل بولی آپ فکر نہ کریں اب میں آپ کی جگہ بھی اماں جان کا خیال پوری زمہ داری سے رکھوں گی انشاءاللہ _

خالہ کچن میں آئی تو بسمل برتن دھو رہی تھی اور اماں سمیٹ رہی تھی اور دونوں آہستہ آہستہ باتیں بھی کر

رہی تھیں _

خالہ نے سوچا اب تو ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اب تو یہ اس گھر کو اپنا سمجھنے لگیں گی مگر میں بھی ان کی ادھر چلنے نہیں دوں گی _

کیا ہو رہا ہے اچھا برتن دھو کر ایک کپ چائے بنا دینا_

خالہ کو چائے دے کر دونوں نے خالہ سے آہستہ سے کہا کہ ہم لوگ گھر جا رہی ہیں _

خالہ نے وقت دیکھا ساڑھے نو بج رہے تھے اور وہ دونوں جا چکی تھیں _

ایان اپنے کمرے میں اداس لیٹا ہوا تھا اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ باپ کی آبادی پر خوشی مناے یا اپنے غم کا ماتم کرے_

اسے پیاس لگی تو اس نے باہر دیکھا قدرے خاموشی لگی وہ خالہ کے پاس آکر پوچھا کہ بسمل اور اماں کدھر ہیں _

خالہ حیرت سے بولی کیا تم انہیں چھوڑنے نہیں گئے تھے وہ تو کہہ رہی تھیں کہ گھر جا رہی ہیں _

کیا ایان زور سے چلایا جھٹ اس نے بسمل کو فون کیا تو اس نے فون پک نہ کیا _

ایان نے سوچا بسمل بات کی پکی ہے اس نے کہا تھا کہ اب میں تم سے فون پر رابطہ نہیں رکھوں گی _

ایان تیزی سے باپ کے کمرے کی طرف گیا اور قدرے زور سے دروازہ بجایا_

فریال واش روم میں تھی _

جاوید صاحب نے زور سے پوچھا کون؟

ایان چلا کر بولا ڈیڈ بسمل اور اماں گھر چلی گئی ہیں خالہ نے بتایا ہے اور بسمل فون پک نہیں کر رہی اس نے کہا تھا کہ اب وہ فون پر رابطہ نہیں کرے گی پلیز فریال آپی سے بولیں وہ فون کر کے پوچھیں کہ وہ پہنچ گئی ہیں کیا_

فریال پریشان سی تیزی سے باہر نکلی اس نے ساری بات سن لی تھی اس نے فون اٹھا کر ملایا اور غلطی سے اسپیکر دبا دیا _

بسمل تیزی سے بولی اسلام علیکم آپا ہم لوگ خیریت سے گھر پہنچ گئے ہیں اور اب آپ ہماری فکر میں نہ گھلتی رہنا اور نہ ہی بلا وجہ فون کرتی رہنا میں صبح شام خیریت کا میسج کر دیا کروں گی آپ بس اب اپنی گھریلو زمہ داریاں نبھاو اور دیور کی شادی جلد کروا دینا اور اسے وارن کر دینا کہ دوبارہ مجھے کال نہ کرے ورنہ میں اسے بلا ک کر دوں گی اور میری فکر نہ کرنا میں اماں کی خدمت میں زندگی گزار لوں گی اور ہمیں اپنے پاس رکھنے کی کوشش نہ کرنا جاوید انکل بہت اچھے ہیں وہ یقیناً چاہیں گے کہ ہم ان کے ساتھ رہیں مگر نہ ہی اماں مانیں گی نہ ہی میں وہاں رہنا مناسب سمجھوں گی ایان کی شادی ہو گی اس کی بیوی بھی نیچرل ہے برداشت نہیں کرے گی اور وہ بھی ڈسٹرب رہے گا اور پوری طرح سے اپنی بیوی کی طرف متوجہ نہیں ہو پاے گا خوش رہنا آپا میری تنخواہ سے ہم دونوں کا اچھا گزارا ہو جائے گا اور اب ہم کھبی کسی موقع پر تمھارے گھر نہیں آہیں گے اور نہ ہی ہمیں بلانے کی کوشش کرنا اگر بہت دل کرے میاں کے ساتھ جب چاہے آ جانا، اوکے میں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی مگر تمھاری تسلی کے لیے فون کرنا پڑا دونوں خوش رہو آباد رہو آمین اللہ حافظ _

ایان اور جاوید صاحب نے ساری گفتگو سن کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا _

ایان تیزی سے باہر نکل گیا اور جاوید صاحب سوچنے لگے کہ اس لڑکی میں کیا دم خم ہے کتنی مضبوط ہے _

فریال نے اپنے آنسو صاف کیے اور نارمل رہنے کی کوشش کرنے لگی اس وقت وہ جس دکھ اور غم میں مبتلا تھی چھوٹی بہن اور ماں کی تنہائی کی فکر تھی انہیں اس جگہ گئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا، پرانے محلے میں سب جانتے تھے ادھر اکیلے بھی کوئی فکر نہ تھی _

جاوید صاحب نے بسمل کو تسلی دی کہ وہ جلد منا کر انہیں ادھر لے آہیں گے تم فکر نہ کرو_

فریال بولی وہ لوگ کھبی نہیں آئیں گی _

جاوید صاحب خاموش ہو کر رہ گئے جانتے تھے کہ وہ لوگ بہت غیرت مند اور وعدے کے پکے ہیں _

جاری ہے _



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books