Intzaar Taweel Tha
Episodes
خالہ اگلے دن امریکہ چلی گئی اور فریال اور جاوید دونوں بہت خوش تھے _
جاوید صاحب نے فریال کو اپنی سابقہ زندگی کے بارے میں سب بتا دیا تھا کہ ایان انکا بیٹا نہیں ہے بلکہ ان کے مرحوم بھائی کی نشانی ہے، بھائی کی اچانک وفات پر ان کے باپ نے بھابھی سے شادی پر مجبور کر دیا کہ وہ ان کے پوتے کی ماں بننے والی تھی اور وہ اسے اپنے سے دور نہ کرنا چاہتے تھے، بھابھی بھی میکے نہ جانا چاہتی تھی کہ بھابھی نے صاف کہہ دیا تھا کہ تم واپس آ سکتی ہو مگر بچہ قبول نہ ہو گا اسے سسرال والوں کو دینا پڑے گا اور تمھاری اور جگہ شادی کرنی پڑے گی اور کوئی سوتیلا باپ پرائ اولاد کو نہیں پالتا، اور بچہ اس کے لیے مسائل پیدا کرے گا اور شادی بھی لازمی کرنی ہے میں بیوہ بہن کو ہمیشہ گھر میں نہیں رکھ سکتی ہوں، اس گھر میں صرف بھابی کی چلتی تھی کیونکہ میاں اس کی سنتا تھا اور والدین بے بس تھے_
کچھ نہ کر سکتے تھے _
جاوید صاحب کے والد نے جاوید صاحب کو مجبور کیا جو ابھی ٹین ایج کے تھے وقت کی نزاکت کا احساس دلایا ان کی بھابھی عمر میں ان سے دس سال بڑی تھی _
جاوید صاحب نے والدین کی بات کی لاج رکھتے ہوئے اسے ایمانداری سے نبھایا _
ایان پیدا ہوا جو ان کے بھائی کی نشانی تھا مگر انہوں نے اسے باپ کا پیار دیا اور والدیت میں بھائی کا نام لکھوایا اور بڑے ہونے پر ایان کو حقیقت بتا دی _
ایان کی ماں بہت اچھی عورت تھی وہ اپنے شوہر سے پیار کرتی تھی اس کی وفات کے بعد وہ اپنے ہونے والے بچے کے ساتھ سسرال میں زندگی گزارنا چاہتی تھی مگر اسکا باپ کہتا تھا بچہ ہو جائے تو میں تمہیں واپس لے جاوں گا اور بچہ اس کے دھدیال والوں کو دے دوں گا وہ پالیں گے اور تمھاری دوسری شادی کروں گا بچے کو سوتیلا باپ نہیں پالتا _
وہ بہت روتی ساس، سسر کو کہتی میں آپ لوگوں کے بغیر اور اپنے بچے کے بغیر نہیں رہ سکتی_
ساس، سسر نے یہی حل نکالا کہ اس کی شادی جاوید صاحب سے کر دیں۔
بیوی کی وفات کے بعد جبکہ ایان ابھی دس سال کا ہی تھا کہ اس کی ماں چل بسی، خالہ نے بہت کوشش کی کہ جاوید کی دوسری شادی کر دیں مگر جاوید صاحب نہ مانے اور ایان کی پرورش میں مگن ہو گئے وہ اسے بہت چاہتے تھے اور سوتیلی ماں کا سایہ اس پر نہیں ڈالنا چاہتے تھے، ایان کو بڑے ہو کر حقیقت کا علم ہو چکا تھا اور وہ خالہ کے سمجھانے پر کہ تمھاری شادی کے بعد جاوید اکیلا رہ جائے گا اس لیے اس کی شادی ضرور کروانا،
فریال بہت خوش تھی شادی کے بعد اس نے کھبی اپنی ماں بہن کو گھر نہیں بلایا بلکہ خود بھی کم جاتی،اور کھڑے کھڑے واپس آ جاتی، بسمل اور اماں نے بھی اس کے گھر جانے کی خواہش نہ کی بلکہ اماں فریال کو بھی سمجھاتی کہ ہمیں ادھر بلانے کی ضد نہ کرنا اور ایان کی شادی جہاں جاوید صاحب چاہتے ہیں کروا دینا، بہن کا لالچ نہ کرنا اس کی قسمت میں جو ہو گا دیکھا جائے گا ہم کھبی اپنے وعدے سے نہیں مکریں گے،
فریال بہن کے لیے دل میں بہت کڑھتی اور اپنے اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشیوں کی دعائیں کرتی،
خالہ وطن واپس آ چکی تھی اور اس کے دوسرے بیٹے نے پاکستان سیٹل ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا اور وہ اب ماں کا احساس کرنے لگا تھا اور ماں کو پاس رکھنا چاہتا تھا، ماں نے اسے محلت مانگی کہ وہ ایان کی شادی کے بعد اپنے بیٹے کے پاس شفٹ ہو جاہیں گی،
جاوید صاحب نے فریال کو بغور دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ حسبِ وعدہ ایان کی شادی اپنے دوست کی بیٹی سے کر کے سرخرو ہو جانا چاہتے ہیں،
فریال نے سر جھکا کر پھر ایک نظر ان پر ڈال کر اپنی آہوں کو اندر چھپا کر کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے،
جاوید صاحب اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگے، ایان جو سامنے کھڑا پانی پی رہا تھا سن کر تیزی سے کمرے میں چلا گیا، اور آخری لمبا چوڑا میسج بسمل کو کرنے لگا کہ وہ اب وعدے کے مطابق باپ کی بات ماننے پر مجبور ہے مگر وہ کھبی خوش نہیں رہ سکے گا نہ اسے کھبی بھلا سکے گا اور تم بھی اپنی منزل تلاش کر کے زندگی سنوار لینا اپنی زندگی برباد نہ کرنا ورنہ ہماری قربانی رائیگاں چلی جائے گی،
بسمل نے اس کے میسج کا جواب نہ دیا وہ سوچنے لگی کہ وہ کیا جواب دے جبکہ وہ کھبی بھی شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے،
فریال نے ایک پیارے سے بیٹے کو جنم دیا، ایان بہت خوش ہوا اس کو بہت پیار کرتا،
اماں نے فریال کو کہا کہ وہ گھر آ جائے ہم اس کے گھر اسے سنبھالنے نہیں جا سکتے،
جاوید صاحب اور خالہ نے اصرار کر کے بسمل اور اماں کو گھر بلا لیا،
بسمل نے گھر کو اچھی طرح سے سنبھال لیا اور خالہ کی بھی بہت خدمت کرتی، ایان کو مکمل نظر انداز کرتی، وہ بھی زیادہ سامنے نہ آتا،
گھر میں ایان کی شادی کی بات چیت چلنے لگی اور جاوید صاحب نے اماں اور بسمل کے سامنے فون کیا اور شادی کی ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگے کن انکھیوں سے اما ں کو جو سامنے خالہ کے پاس بیٹھی چاے پی رہی تھیں اور بسمل قریب آ کر جاوید صاحب کو چاے پکڑا رہی تھی خاموشی سے چاے پکڑا کر چل پڑی،
ایان کمرے میں آیا تو جاوید صاحب نے خوشگوار موڈ میں سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب جلد ایان کی شادی کی خوشخبری سنائیں گے کیوں ایان تم تو ہماری پسند کے مطابق شادی کرنے پر رضا مند ہو ناں،
ایان نے ایک سرد آہ بھر کر کہا میں وعدہ خلاف نہیں ہوں کہہ کر تیزی سے باہر نکل گیا،
بسمل کچن میں برتن دھوتے ہوئے رو رہی تھی، مگر بے بس تھی،
خالہ اور جاوید صاحب آپس میں ایان کی شادی کی گفتگو کر رہے تھے،
جاوید صاحب نے پڑوسیوں اور رشتہ داروں میں مٹھائی تقسیم کی ایک تو بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں دوسرے ایان کی رشتہ پکا ہو جانے کی خوشی میں،
جاوید صاحب نے بتایا کہ ان کے دوست نے رشتہ پکا کر دیا ہے اور ان کے پاکستان آنے پر شادی انجام پائے گی،
اماں اور بسمل فریال کی طبیعت بہتر ہونے پر جانے لگیں تو جاوید صاحب نے ان سے ریکویسٹ کی کہ اس وقت ایان کی شادی کی تیاریاں کرنی ہیں اور آپ لوگوں کے تعاون اور مدد کی ضرورت ہے پلیز آپ لوگ شادی تک رک جاہیں،
بسمل نے کہا ٹھیک ہے مگر پلیز آپ لوگ یہ شادی کی تیاریاں جلد نمٹا لیں میرے آفس کی چھٹیاں کم رہ گئ ہیں،
جاوید صاحب نے کہا کہ فلحال جیولری اور ویڈنگ ڈریس خرید لیتے ہیں باقی شاپنگ بعد میں کر لیں گے،
بسمل، خالہ ،فریال، اماں اور ایان نے ملکر جیولری اور شادی کے کپڑے خرید لیے،
بسمل نے ایان سے کوئی بات کرنے کی کوشش نہ کی نہ ہی ایان نے اسے بات کرنے کی کوشش کی، بس دونوں اداس رہتے تھے، شاپنگ مکمل ہو گئی تو بسمل نے گھر واپس جانے کی ٹھان لی اور اماں کو لے کر چل پڑی،
جاوید صاحب نے کارڈز پسند کرنے کا کہا مگر ایان نے کہا جیسی آپ کی مرضی،
بسمل آفس جانے لگی،
اماں آہ بھر کر کہتی کاش میری بسمل کا بھی گھر بس جائے، میرے بعد اسکا کیا ہو گا بسمل کے چند اچھے رشتے بھی آئے اور وہ نہ مانی،
اماں نے بتایا کہ فریال کا فون آیا تھا کہ وہ سب لوگ کل ہمارے گھر شادی کا بلاوا دینے آ رہے ہیں،
بسمل نے ان کے کھانے پینے کی تیاریاں شروع کر دیں اور گھر کو صاف شفاف کرنے لگی، اس نے آفس سے چھٹی لے لی تھی وہ لوگ شام کی چائے پر آئے اور ساتھ میں خالہ کی بہو اور بیٹا بھی آئے،
چاے پانی سے فارغ ہو کر جاوید صاحب نے اماں کو مخاطب کر کے کہا کہ آج ہم سب آپ سے بسمل کے رشتے کے لیے حاضر ہوئے ہیں،
اماں اور بسمل کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا بسمل نے کہا کیوں آپ کے دوست نے بیٹی دینے سے انکار کر دیا ہے کیا،؟
اماں نے اسے گھور کر دیکھا،
جاوید صاحب نے کہا کہ بات دراصل یہ ہے کہ ایان مجھے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہے اور میں اسے کسی ایسی لڑکی کو سونپنا چاہتا تھا جو خوبیوں کا مجسمہ ہو اور اس کے لیے میں نے بسمل کو آزمانے کے لیے یہ سب ڈرامہ کیا، میرا کوئی دوست نہیں تھا میں تو خالہ جی کے بیٹے کو اس میں شامل کر کے بات کرتا تھا، اور خدا کا شکر ہے کہ وہ میری آزمائش پر پوری اتری، بہت مضبوط کردار کی، وعدے کی پابند اور بات کو نبھانے اور والدین کی عزت ک لاج رکھنے والی لڑکی ہے، بہت شریف اور ثابت قدم ہے اور یہ سب تربیت اماں نے اپنی بیٹیوں کی کی ہے میں خوش قسمت ہوں کہ فریال جیسی شریک حیات مجھے ملی جس نے شوہر پرست ہونے کا ثبوت دیا اور بہن کی فیور میں ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا اور نہ میرے اچھے رویے کی بنا پر فاہدہ اٹھاتے ہوئے مجھے منانے کی کوشش کی، بلکہ سسرال کی خوشی کو مقدم جانا اور ساتھ دیا، اماں جی آپ کی تربیت کو سلوٹ ہے، خالہ نے بھی تعریف کی کہ بہت اچھا گھرانہ ہے گدڑی میں لال ہیں یہ لوگ ماشاءاللہ،
جاوید صاحب نے کہا کہ ہم عزت سے آپ سے بسمل کا رشتہ مانگنے آئے ہیں،
اس سے پہلے کہ اماں کچھ بولتی بسمل چلا کر بولی لیکن مجھے منظور نہیں ہے،آپ امیروں نے ہم غریبوں کو کھلونا سمجھ رکھا ہے جب چاہا ہاں کی جب چاہا نہ کی چاہے ہمارے دل پر جو قیامت گزرے آپ لوگوں کو کیا، آپ نے سمجھا کہ آپ آفر کریں گے تو ہم آپ کے تمام دیے ہوئے دکھ بھلا کرخوشی سے بچھ جاہیں گے مگر نہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا میں نے صبر کرنا سیکھ لیا ہے ویسے بھی ہم غریبوں کے پاس َسواے صبر کے اور کیا چارہ ہوتا ہے، آپ لوگ اب دوبارہ اس موضوع پر بات نہ کریں تو اچھا ہے کیونکہ میرا جواب بدلنے والا نہیں آپ کاوقت ہی برباد ہو گا اور عزت نفس مجروح ہو گی میں آپ کی بہنوئی ہونے کے ناطے بہت عزت کرتی ہوں مگر اقرار کے لئے کوئی مجبور نہ کرے ورنہ میں کچھ کر بیٹھوں گی،
فریال چلا کر بولی تم جاوید صاحب کی توہین کر رہی ہو، بسمل نے آہستہ سے کہا یہ آپ کے سوچنے کا اینگل ہے ورنہ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی میں نے تو صرف اپنا فیصلہ سنایا ہے،
اماں نے ڈانٹ کر کہا کہ بڑوں کے ہوتے ہوئے تم فیصلہ کرنے والی کون ہوتی ہو،
بسمل نے روتے ہوئے کہا کہ اماں اگر میں نے آپ کو چھپ چھپ کر روتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو شاید میں پگھل جاتی اور اگر آپ نے میرے ساتھ زبردستی کی تو اس نے جھٹ چھری اٹھا کر بازو پر رکھتے ہوئے کہا کہ میں اپنی نبض کاٹ لوں گی،
جاوید صاحب نے اشارہ کیا کہ چلیں،
فریال نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ آج سے میرا اور تمھارا بہن والا رشتہ ختم سمجھی، اور سب اداس ہو کر چل پڑے،
اماں خاموش لیٹی آنسو بہا رہی تھی،
بسمل کھانا لے کر اماں کے پاس آئی اور بولی اماں کھانا کھا لیں دوا بھی کھانی ہے،
اماں نہ مانی،
بسمل روتے ہوئے بولی اماں آپ کو جو دکھ دے اسے میں کیسے معاف کر سکتی ہوں،
اماں نے کہا کہ تم نے خوش قسمتی کو ٹھوکر ماری ہے یہ نہیں سوچا کہ تیرے انکار سے میں کتنی دکھی ہو جاوں گی، تو نے مجھے جیتے جی مار دیا ہے، میں تو شکر کر رہی تھی کہ تسلی والی جگہ ہے دونوں بہنوں کا ساتھ ہو گا مگر افسوس تو نے عقل سے کام نہیں لیا،
بسمل نے اماں کے آگے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہا کہ اب جو آپ میرے بارے میں فیصلہ کریں گی مجھے منظور ہو گا اب جو رشتہ آئے آپ ہاں کر دیں اور آپ کو مگر میں ساتھ رکھوں گی بس میری یہی شرط ہے جس کو منظور ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے،
دوسرے دن اماں جاوید صاحب کے گھر رکشے میں چلی گئی اور بسمل کو بتایا کہ وہ اس کے رشتے کے سلسلے میں جا رہی ہے،
اماں نے جاوید صاحب سے بسمل کے رویے کی معافی مانگی اور بتایا کہ اس نے اب میری پسند کے مطابق شادی کرنے کے لیے ہاں کر دی ہے پھر شرمندگی سے سر جھکا کر بولی پر اس نے شرط رکھی ہے کہ میں اس کے ساتھ رہوں گی، میں نے اپنے رہنے کا ٹھکانہ سوچ رکھا ہے بس اس کی جلدی سے شادی ہو جائے تو میں سکون سے مر سکوں گی،
جاوید صاحب نے ہشاش بشاش طریقے سے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس کے انکار سے میں نے قطعی برا نہیں منایا بلکہ اس قدر وہ خوددار ہے اسکا مجھے اندازہ نہ تھا وہ اپنی بچی ہے زرا اسکا غصہ اتر جائے تو اسکو پیار َسے سمجھا دیں گے بلکہ اس کے انکار سے میرے دل میں اس کی عزت اور بڑھ گئی ہے، اور فریال نے میری خاطر بہن کو چھوڑ دیا تو میں فریال سے بھی بہت خوش ہوں اور آپ کا چل کر آنا اور معزرت کرنا سر آنکھوں پر، بلکہ مجھے آپ سب سے معافی مانگنی چاہیے کہ غلطی مجھ سے ہوئی ہے میں بھلا خدا پر بھروسے کے بدلے خود ہی اپنی دولت کے گھمنڈ میں تھا کہ بسمل جیسے متوسط طبقے کے لوگوں کو انکار کی گنجائش نہ ہو گی بلکہ وہ جھٹ مان کر اسے اپنی خوش قسمتی سمجھیں گے مگر بسمل نے ایک جھٹکے میں میرا غرور توڑ دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے اب میں خود بسمل سے معافی مانگوں گا،
جاوید صاحب کا فون آیا تو بسمل نے کہا کہ سر میں نے آپ کی ایج کا لحاظ کرتے ہوئے فون پک کر لیا ہے ورنہ میں کسی اور کا اس گھر سے فون اٹینڈ نہیں کروں گی پلیز اگر کوئی ضروری بات ہے تو جلدی کر لیں میں بزی ہوں، حالانکہ وہ اکیلی گھر میں فارغ بیٹھی اماں کا انتظار کر رہی تھی،
جاوید صاحب مسکراے اور کہا کہ پہلے تو تم سے میں اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگتا ہوں مجھے تم لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا میں نے تمھاری اماں جان سے بھی معافی مانگ لی ہے اور میں گھر آ کر تم لوگوں سے معافی مانگوں گا چاہے سڑک پر منگوا لو، مجھے ایان ساری دنیا سے زیادہ عزیز ہے مجھے اس کی خوشی جلد لٹا دینی چاہیے تھی میں تم دونوں کی خوشیوں کا مجرم ہوں، میں نے ایان سے بھی معافی مانگ لی ہے، اب میں دوبارہ تمھارا رشتہ لینے عزت سے آوں گا کیا تم مجھے معاف کرو گی،
بسمل نے کہا آپ بڑے ہیں اور شرمندہ ہیں تو میں نے معاف کیا آپ کو دوبارہ معافی مانگنے کی ضرورت نہیں آپ نے اماں سے مانگ لی بس ان کی ضروری تھی میری نہیں ہے، اور رہا سوال شادی کا تو ابھی میرا ماہنڈ اس طرف نہیں ہے، میری اماں بہت خوددار ہیں وہ اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسری جگہ کمفرٹیبل نہیں ہوتیں ہیں انہیں اپنے گھر میں سکون ملتا ہے یقیناً آپ لوگ بھی انہیں رکھنے پر رضامند ہوں گے مگر وہ ادھر مطمئن زندگی نہیں گزار سکیں گی اس لیے جب تک اماں زندہ ہیں میں شادی نہیں کروں گی اگر آپ کو اعتراض ہے تو میں کچھ نہیں کر سکتی یہی میرا فاہنل جواب ہے،
جاوید صاحب سوچنے لگے کیا کوئی اولاد خاص طور پر لڑکی بھی اپنے والدین کی خوشی کے بارے میں اتنا زیادہ سوچ سکتی ہے کہ اپنی قسمت داو پر لگا دے،
ایان نے سنا تو باپ سے کہا کہ اب کوئی بسمل پر پریشر نہیں ڈالے گا، میں خود اس سے بات کروں گا،
ایان نے اور اماں نے بھی ملکر اسے اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ سادگی سے نکاح کر لے اور پھر جب تک وہ نہ چاہے اس کی زبردستی رخصتی نہیں ہو گی،
بسمل جانتی تھی کہ ایان کھبی اس سے وعدہ خلافی نہیں کرے گا،
بسمل کے گھر پر سب کی موجودگی میں اسکا نکاح سادگی سے ہو گیا، ایان بہت خوش تھا اماں بھی خوش تھی، سب بہت خوش تھے،
بسمل نے کہا تھا کہ وہ نہ ہی کبھی اسے فون کرے گا نہ ہی اس گھر میں آئے گا اور نہ وہ اسے فون کرے گی،
ایک ہفتہ گزر گیا نہ ہی ایان نے فون کیا نہ ہی بسمل نے، فریال سے تو بسمل فالتو بات ہی نہ کرتی تھی، نہ ہی فون وغیرہ کرتی تھی،
رات کے تین بجے بسمل کی کال ایان کے نمبر پر آئی تو وہ ہڑبھڑا کر اٹھ بیٹھا دوسری طرف بسمل بری طرح رو رہی تھی کہ اماں اماں اس سے آگے وہ کچھ نہ بول سکی اور فون بند کر دیا،
ایان نے جاوید صاحب کو کال کی تھوڑی دیر بعد فریال نے کال اٹھائ جاوید صاحب بھی جاگ کر نیند بھری آنکھوں سے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے، فریال رونے لگی تو پاس سویا کا کا جاگ گیا، فریال نے روتے روتے تھپکیاں دے کر اسے سلا دیا،
جاوید صاحب گاون پہنے باہر آئے اور خالہ کے بیٹے کو فون کرنے لگے، ایان جا چکا تھا، خالہ بھی شور سن کر اٹھ گئی اور فریال کو تسلی دینے لگی کہ تم کاکے کی فکر نہ کرو اس کی فیڈر بنا دو میں اس کے پاس ہی ہوں تم جاو جاوید کے ساتھ،
اماں فوت ہو چکی تھیں سب پہنچ گئے تھے،
اماں کو فوت ہوئے دو ماہ ہو چکے تھے سب بسمل کو احساس دلاتے کہ لڑکیوں کو اکیلے نہیں رہنا چاہیے اور نہ ہی اتنی اکڑ اور بہادری دکھانی چاہیے جب آپشن موجود تھی اماں بھی ساتھ رہنے میں راضی ہو جاتیں اور اس طرح اچانک بیمار ہو کر مر نہ جاتیں انہیں بروقت ہاسپٹل لے جایا جا سکتا تھا اکیلی عورتوں کا ویسے بھی اکیلا رہنا مناسب نہیں ہوتا کچھ بھی ہو سکتا ہے کھبی بھی کوئی نقب لگا سکتا ہے،
فریال بھی پچھتا رہک تھی کہ اس نے بھی ماں بہن کو اکیلا محض اناء کی خاطر اکیلا چھوڑ دیا جبکہ وہاں معاشی مسئلہ بھی نہ تھا بیٹیوں کو بھی جن کے بھائی نہ ہوں انہیں شادی کے وقت ہی سسرال والوں کو کہہ دینا چاہیے کہ وہ والدین کا بھی سہارا بنیں گی اور شوہر کے والدین کا بھی، تاکہ انصاف برابر رہے،
بسمل نے بھی معافی مانگ لی تھی کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھایا جائے تو کھبی مسئلے کا حل نہیں نکلتا بلکہ اور پچیدہ صورت اختیار کر جاتے ہیں،
بسمل اور ایان کی شادی دھوم دھام سے ہو گئ خالہ جلد ہی فوت ہو گئ،
ختم شد،
شعر
اتنے طویل انتظار کے بعد منزل کو پا لیا ہم نے
دل اور محبت نے ملکر ساتھ نبھایا منزل تک
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں،
#abidazshireen،
پلیز اسے لائیک، کمنٹ اور دوستوں کو بھی شئیر کریں شکریہ،
4
Shares
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.