Meri Masom Kali
Episodes
ہما نے سسر کو نند کے فون کا بتا دیا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اندر سے اس کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بےچین ہو گا۔ اور اس سے ملنے کی اجازت مانگی وہ چپ ہو گیا تو ہما نے بھی سوال دوبارہ نہ دہرایا کہ ہاں کرنے میں ان کی اناء آڑے آئے گی۔
ہما نے پڑوسی ملک صاحب کی بیوی کو جو اس کی ماں جیسی اچھی اور ہمدرد عورت تھی نند کا واقعہ سب بتا دیا اس نے اسے تسلی دی کہ جو جوانی کے جوش میں ہونا تھا ہو گیا تم جا کر اس کی خبرگیری کرو آخر ہے تو نند نا۔ جو ایسے بھگا کر لے کر جاتے ہیں وہ اکثر قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ کچھ تو جعلی نکاح پڑھوا کر بےوقوف بناتے ہیں۔ عزت خراب کرتے ہیں۔ یا بیچ دیتے ہیں۔ تم فوراً اس کا پتا کرو۔ انہوں نے اس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور خود ساتھ چل پڑی۔ ہما نے نند کو اپنے آنے کی اطلاع کر دی وہ بہت خوش ہوئی۔ اور اس کا انتظار کرنے لگی۔
ہما مسز ملک کے ساتھ اس کے بتائے ہوئے فلیٹ پر پہنچی تو دنگ رہ گئی۔ لگثری فرنیشڈ فلیٹ تھا۔
ہما کی نند روتے ہوئے ہما کے گلے لگ کر رونے لگی۔ ہما نے اسے پیار کیا۔ مسز ملک نے بھی پیار کر کے اسے تسلی دی۔ ہما کی نند نے کافی اہتمام کیا ہوا تھا۔ ملازم سرو کرنے لگے۔
ہما اس کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر خوش اور حیران ہوئی۔
ہما کی نند اپنی داستان ہما کو سنانے لگی۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس چھوٹا موبائل فون تھا جو اس نے ساہلنٹ کر کے پاس رکھا ہوا تھا۔ اس نے اپنے بوائے فرینڈ کو واش روم میں جاکر ساری بات بتا دی تو اس نے کہا کہ ہمیشہ کے لیے جدا ہونے سے بہتر ہے کہ ہم کورٹ میرج کر لیں بعد میں سب کو منا لیں گے۔ اسی نے بتایا کہ تم ایسے بن جانا جیسے تمہیں سمجھ آ چکی ہے کہ گھر والے درست کہتے ہیں اور ان کی بات ماننے میں ہی اس کی بھلائی ہے۔ جب ان کو اعتبار ا جاے گا اور وہ سو جائیں گے تو تم صبح فجر کی نماز کے تھوڑا بعد داو لگا کر خالی ہاتھ ہی چادر اوڑھ کر آ جانا میں گھر کے قریب ہی چھپ کر کھڑا ہوں گا اور تمھارا انتظار کروں گا۔ اس نے ایسا ہی کیا ہما نے فجر کی نماز کے بعد آ کر اسے دیکھا اور مطمئین ہو کر کمرے میں چلی گئی۔ اس وقت وہ داو لگا کر آہستہ سے گیٹ کھول کر باہر آ گئ وہ قریب ہی انتظار میں کھڑا تھا اور اسے لیکر گاڑی میں بٹھا کر اپنے ہوٹل لے گیا جو اس نے پہلے ہی بک کروایا ہوا تھا۔ عدالت کھلتے ہی دونوں نے کورٹ میرج کر لی۔ اس نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ نکاح ان کو گواہ بنا کر شادی کی۔ دوستوں کو رات ہوٹل میں ڈنر پر انواہیٹ کر دیا۔ اسے ڈھیر ساری شاپنگ کرائی۔ دونوں بہت خوش تھے۔
شام کو تیار ہو کر دوستوں کی موجودگی میں کیک کاٹا۔ دوستوں میں چند ایک کی فیملیز بھی تھیں۔ شاندار ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ وہ اپنی قسمت پر رشک کر رہی تھی وقفے وقفے سے اسے باپ اور بھائی کا بھی خیال آتا تھا۔ پھر جلد ہی اس نے اسے فرنیشڈ فلیٹ رینٹ پر لے دیا۔ ملازم خدمات کے لئے رکھ دیے۔ پھر وہ لوگ شمالی علاقہ جات ہنی مون پر گئے۔ واپس آ کر اس نے بھائی کو سوری کا میسج کیا۔ شوہر کی تعریف کی اور ساری بات لکھی۔ جواب میں اس نے فون کیا وہ خوش ہو گئی اس نے سپیکر آن کر دیا تاکہ اس کا شوہر جو اس کے پاس بیٹھا تھا وہ بھی سن لے۔ جب فون یس کیا تو بھائی نے خوب برا بھلا کہا اور کہا کہ وہ اس کے لیے مر چکی ہے۔ اور دوبارہ کھبی رابطہ کیا تو اچھا نہیں ہو گا۔ وہ شوہر کے سامنے شرمندہ تھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ اسے تسلی دینے لگا کہ وہ اس کا ساتھ کھبی نہیں چھوڑے گا۔
ہما مطمئین ہو کر آئی۔ سسر کو سب بتایا وہ بھی خوش ہوا۔ سسر نے بیٹے کو بتایا کہ ہما اس کی اجازت سے اسے ملنے گئی تھی اور وہ اسے اس سے ملنے سے نہ روکے گا۔ اور ہما کو بھی کچھ نہ کہے گا۔ وہ باپ کے بڑھاپے کا خیال کرتے ہوئے بولا ٹھیک ہے مگر میرے سامنے وہ کھبی نہ آے ورنہ میں لحاظ نہ کروں گا نہ ہی اسے گھر بلائیں گے۔ خود جانا ہے تو چلے جاہیں۔ باپ نے کہا کہ ٹھیک ہے میں اسے کھبی گھر نہیں بلاوں گا مگر ہما کو کھبی کبھار اس کی خبرگیری کے لیے بھیجتا رہوں گا جواب میں وہ چپ ہو گیا۔
ہما نے ساری بات نند کو بتائی تو وہ رونے لگی کہ شادی کے بعد اسے بھائی جیسی نعمت کا احساس ہوا ہے۔ بھائی تو بہنوں کے رکھوالے ہوتے ہیں۔ ان کا بھلا ہی سوچتے ہیں۔ اس کی نند کہتی کہ اس کی ایک دوست کی کزن بھی اس کی طرح کسی کے ساتھ بھاگی تو وہ اسے کسی دوست کے مکان میں لے گیا دونوں نے اس کی عزت کو تار تار کیا اور پھر اسے کسی کے آگے بیچ دیا وہ اسے لے کر جا رہا تھا کہ وہ موقع پا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ گھر پہنچی تو باپ بھائی نے قبول نہ کیا آخر ماں کے دہائی دینے پر ڈرائیور جسے لالچ دیکر نکاح پر راضی کیا گیا اور اس کا نکاح ڈرائیور سے کروا کر سرونٹ کوارٹر میں شفٹ کر دیا گیا۔ بھابھیاں اسے ملازمہ کی طرح ٹریٹ کرتی ہیں۔ بس ماں ہی اس سے چوری چھپے ہمدردی کرتی ہے کہ بہوؤں کو بھی ناراض نہیں کر سکتی۔ باپ مر گیا بھائی اپنی بیویوں کے کہنے پر اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ بھابھیاں ہر وقت اسے طعنے بھی دیتی رہتی ہیں۔ وہ اپنے ہی گھر میں نوکر کی حیثیت سے رہتی ہے۔ نیو لوگوں کو بھابھیاں اسے ملازمہ ہی بتاتی ہیں۔ رشتےدار بھی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اب وہ کہتی ہے کہ کاش کوئی لڑکی کسی کے ساتھ کھبی نہ بھاگے معاشرہ اسے اس غلطی کی کھبی معافی نہیں دیتا۔ وہ غربت میں پل رہی ہے۔ اس کے بچے معمولی اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔ ماں بھی مر چکی ہے۔ اب وہ اسی حال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ کہہ کہاں جاے ادھر کم از کم محفوظ تو ہے نا۔ ورنہ باہر تو بھیڑیے بیٹھے ہیں۔ بھائی اسے کوستے ہیں کہ ماں کی وجہ سے اسے پناہ دی ہے ورنہ ہم ہر وقت رشتےداروں کے طعنے سننے پر مجبور ہیں۔ وہ ہزار بار معافیاں بھی مانگ چکی ہے مگر اس کا داغ دھل نہیں پا رہا۔ اس کا شوہر بھی اسے طعنے دیتا ہے اور مزاق اڑاتا ہےکہ میں غریب نہ ہوتا تو تجھ جیسی گندگی کو کھبی قبول نہ کرتا۔ نہ تو مجھ جیسے سے کھبی خواب میں بھی شادی کرنے کا سوچتی۔ نہ وہ اسے اس گھر سے اسے دور لے کر جاتاہے۔ کہتا ہے۔ نام کا ہی سہی ہوں تو اس گھر کا داماد۔ وہ اپنے بچوں کے لیے اب سب سہنے اور جینے پر مجبور ہے۔ اس کے برعکس ہما کی نند کہتی ہے کہ میں ان کم از کم ان لڑکیوں کی بنسبت لکی ہوں۔ کہ میرے شوہر نے مجھے عزت سے رکھا ہے۔ میری محبت کا دم بھرتا ہے۔
ہما نے شوہر سے پوچھا کہ تم اگر پہلے ہی اسے عزت سے رشتہ دے دیتے تو سب ٹھیک ہوتا۔ حالانکہ اس نے فون کر کے تم سے رشتے کی بات کی تھی۔ تو وہ بولا میں جان بوجھ کر اسے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں کیسے ڈال دیتا۔ اس امیرزادے نے صاف کہا تھا کہ وہ اس سے شادی ہمیشہ خفیہ رکھے گا کیونکہ گھر والے اس کی شادی خاندان سے باہر نہیں کرنا چاہتے کہ نسل خراب ہوتی ہے۔ اور وہ خاندان میں شادی کرے گا اور اسے بھی ملتا جلتا رہے گا اور کوئی کمی نہ ہونے دے گا۔ اب بتاو بھلا میں اس کی بات کیسے مانتا۔ اب اس نے خاندان میں بھی شادی کر لی ہے۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں۔
پلیز لاہک شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.