Meri Masom Kali
Episodes
ہما کی نند اپنے شوہر سے کسی طور سنبھل نہیں رہی تھی۔ وہ اسے بولی میرے بھائی نے ٹھیک کیا تھا جو تمہیں جواب دے دیا تھا کاش بھائی یہ بات مجھے بٹھا کر سمجھا دیتا پھر خود ہی بولی پر میں اس سے فالتو بات کہاں کرتی تھی کاش میری ماں اپنے سوتیلے کو قبول کر لیتی تو اج وہ اس کا بھی بڑھاپے کا سہارا بنتا۔ وہ اس کی اہمیت میرے دل میں ڈالتی تو میں شاید اس طرح برباد نہ ہوتی۔ شاید یہ مکافات عمل ہے۔ میری ماں کی روح بھی تڑپ رہی ہو گی۔ بیٹی کی بربادی پر۔ اس نے شوہر کو وارننگ دی کہ بس بہت رو لیا اب میں سسک سسک کر زندگی نہیں گزار سکتی۔ میں اس وقت کا انتظار کروں گی کہ بچہ اس دنیا میں آ جاے۔ پھر میں چیخ چیخ کر ساری دنیا کو بتاوں گی کہ میں تمھاری بیوی ہوں۔ پھر میں دیکھتی ہوں تم مجھے سسرال والوں سے ملنے سے کیسے روک سکتے ہو۔ تمہیں خوشخبری سنا دوں کہ تمھاری بھی بیٹی پیدا ہونے والی ہے تم نے کسی کی بیٹی کے ساتھ کیا اب اپنی بیٹی کے مستقبل کا بھی سوچ لینا۔ اسے بھی دولت کے بل بوتے پر نکاح کی آڑ میں رکھیل بنا کر بھیجنا ہے۔ اس کے شوہر نے اسے تڑاخ سے ایک تھپڑ مار دیا۔ وہ روتے چلاتے بےہوش ہو گئ۔ وہ گھبرا گیا فوراً ایمبولینس منگوائی ہما کو فون کیا۔
ہما نے سسر کو بتایا اور جلدی سے آٹو میں اکیلی چل پڑی۔ اب وہ باہر کے کام کاج چیک اپ کے لیے ہاسپٹل اکیلی جانے لگی تھی۔ وہ جوں ہی ہاسپٹل پہنچی تو نند کا شوہر ایمبولینس کے پاس کھڑا تھا اور آنکھوں میں آنسو تھے وہ پاس پہنچی تو وہ گھبرا کر بولا۔ بہن آپ کی نند اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ میں اس کی ڈیڈ باڈی آبائی گاؤں لے کر جا رہا ہوں۔ ادھر کے گورکن سے بات ہو چکی ہے۔ پلیز بچی کو اپنے ساتھ لے جاہیں۔ وہ سن کر چکرا گئ پاس دیوار سے سہارا لے لیا۔ پاس کھڑی عورتوں نے اسے پانی پلایا اور اسے تسلی دی وہ رو رہی تھی اس نے پڑوسیوں کو فون کیا کہ میرے سسر کو طریقے سے زرا بتا دیں پھر اس نے نرگس کو فون کیا اس نے بہت تسلی دی۔ وہ کسی وجہ سے آنے سے قاصر تھی۔ ہما نے جا کر بچی کو اپنی تحویل میں لیا۔ اور شوہر کو فون کیا تو وہ کافی حیران و پریشان ہوا۔ بچی کا سن کر کچھ نہ بولا۔
وہ خود بھی پریگننٹ تھی لاسٹ ماہ چل رہا تھا کہ اوپر سے اسے نند کی بیٹی کو سنبھالنا پڑا۔ گھر آئی تو پڑوسیوں نے بہت ساتھ دیا۔
پھر اس نے نند کے شوہر کو کہہ دیا کہ بچی مر گئی ہے۔ تاکہ بچی رلنے سے بچ سکے۔ کیونکہ نند اس کی دوست بھی تھی۔
شوہر نے اس کو بچی پالنے پر ہلکہ پھلکہ احتجاج کیا مگر سسر کے حکم پر چپ ہو گیا۔ وہ ملک سے باہر تھا۔ پھر ایک ڈیڑھ ماہ بعد ہی اپنی بیٹی کی پیدائش کی اطلاع ملی وہ خوشی سے دیوانہ ہو گیا اور اپنی بات پر زور دے کر بولا میری بچی خوبصورت ہے نا۔ تم جانتی ہو مجھے بدصورت بچے نہیں اچھے لگتے اسی وقت ہما نے بچی بدلنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ اس کی اپنی بچی سانولی تھی جبکہ نند کی بچی بہت خوب صورت تھی۔ اس نے اس راز میں سسر اور پڑوسن اماں کو بھی شامل کر لیا۔ اپنی بہن کو شامل نہ کیا کہ وہ ایسا کرنے نہ دیتی۔ مگر ہما مجبور تھی۔ ساری پریگنینسی میں شوہر نے جان کھائی تھی کہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی خوبصورت ہو ورنہ اسے دوسری شادی کرنی پڑے گی۔
نرگس کو بھی اس نے نند کی بیٹی کو اپنی بیٹی بتایا۔ وہ بھی ان کے جوان ہونے تک عروبہ کو ہی اپنی بھانجی سمجھتی رہی۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں
پلیز لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔
جزاک اللہ

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.