Meri Masom Kali
Episodes
ہما شرمندہ بیٹھی ان لوگوں سے عروبہ کے رویے کی معزرت کر رہی تھی جبکہ نرگس بھی شرمندہ بیٹھی شوہر کی باتیں سن رہی تھی۔
وہ ہما سے بولا بہن جی آپ کو معزرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں کیا آپ کو جانتا نہیں ہوں۔ آپ نے تو نیک نیتی سے سسرال کی بچی کو اپنی بچی کی طرح پالا گھر بیٹھ کر ہی اس کے ایم بی اے کروا دیا اور کتنی دقتوں سے اسے تعلیم دلائی۔ اگر کسی اور کی بچی ہمیں ایسا سناتی تو ہم دو منٹ بھی یہاں نہ رکتے۔
اتنے میں ساجد اندر داخل ہوا اور اس نے ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی تو سعد اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ہاتھ پکڑ کر بولا پلیز انکل۔ بس نادان ہے۔ نرگس کا شوہر بھی اٹھ کر اس کا کندھا تھپتھپا کر بولا کوئی بات نہیں اپنی بچی ہے۔ اسی وجہ سے ہم یہاں رکے ہوئے ہیں۔ آپ پلیز بیٹھیں وہ لوگ بیٹھ گئے ساجد کی آنکھوں میں آنسو تھے دروازے میں کھڑی عروبہ یہ سب دیکھ رہی تھی بھاگ کر ساجد کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر روتی ہوئی بولی سوری ڈیڈ آپ کو میری وجہ سے شرمندہ ہونا پڑا میں آپ کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی۔ میں سب سے َسوری کہتی ہوں۔ سب حیران رہ گئے۔ سعد کی آنکھوں میں خوشی کی چمک ابھر آئی۔ اس کے باپ نے بیٹے کو دیکھا جو بڑی محبت پاش نظروں سے عروبہ کو دیکھ رہا تھا پھر بیوی کو دیکھا وہ بہت خوش لگ رہی تھی۔ اس نے ساجد اور ہما کو دیکھا جو بےبس اور مظلوم نظر آ رہے تھے۔
عروبہ نرگس کے پاس آئی اور اس کے گلے میں باہیں ڈال کر بولی سوری آنی میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ نرگس نے شوہر کو دیکھا اور آرام سے اس کے بازو پیچھے کیے۔ اور آہستہ سے بولی انکل سے مانگو وہ زور سے بولی میں نے آتے ہی سب سے مانگ لی تھی نا۔ اس نے باپ کو دیکھا جو غصے سے اسے دیکھ رہا تھا پھر سعد کو دیکھا جو سپاٹ سا اسے دیکھ رہا تھا۔ ہما اٹھی اور بڑے پیار سے اسے بولی اپنی غلطی مان لینا بڑائی ہے بیٹا۔
ہما نے سعد کے باپ کے پاس جا کر کہا سوری انکل وہ کھڑا ہوا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا اوکے بیٹا۔ ماں نے سعد کی طرف اشارہ کیا تو وہ اسکے سامنے کھڑے دانت پسیج کر کر بولی سوری۔ سعد کے ساتھ سب مسکرانے لگے۔
نرگس کا شوہر بولا بیٹا آپ ہمارے سامنے بڑی ہوی ہو ہمیں تمہیں بہو بنانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے مگر مسئلہ ہمارے والدین کی خوشی کا ہے ہم خود بوڑھے ہو چکے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ بیٹا ہمارے پاس رہے اسی طرح ہمارے والدین کی بھی خواہش ہوتی ہے۔ چلو نوکری اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ہمیں گاوں سے نکلنا پڑا اگر ہم وہیں رہتے اور بچے کو تعلیم کے لئے اکیلے شہر یا ہاسٹل ڈال دیتے تو وہ بھی درست نہیں تھا میری نوکری شہر میں تھی پھر میری بیوی بھی بچے کے لیے ضروری تھی اور مجھے بھی اس کی ضرورت تھی آخر یہ میرے لیے آئی تھی شہر کی تھی۔ اب والدین کو ہماری خدمت کی ضرورت ہے اور بچے کو دو سال بعد اجازت دیں گے کہ جدھر اس کا مستقبل سنورتا ہے بیوی کو لے کر چلا جاے۔ میں تو اب جب تک والدین زندہ ہیں ان کے ساتھ رہوں گا بیوی کو دو سال کے بعد اجازت ہو گی چاہے گاوں رہے یا بیٹے کے ساتھ رہے یا دونوں جگہ آتی جاتی رہے۔
نرگس کا شوہر معزرت کرتے ہوئے بولا کہ ہمیں بیٹے کے لیے نتاشا جیسی عادتوں والی سیدھی سادی گھریلو لڑکی چاہیے جس سے میری والدین راضی رہیں اور وہ اس ماحول میں رچ بس جائے ان کی خدمت کرے وہاں کے رسم ورواج کی پاسداری کرے۔ صرف دو سال کی ڈیمانڈ ہے۔ میری بیوی نے پانچ سال وہاں گزارے پھر میں نے سوچا اب بچے کے مستقبل کا سوال ہے۔ مگر میں نجو جی کو اس شرط پر لایا تھا کہ وہ گاوں میں ہر عید گزارے گی۔ وہ اس نے نبھایا ویسے کم جاتی لیکن عید پر لازمی جاتی ہے۔ اب بتائیں کیا میں نے غلط سوچا ہے نتاشا بھی کوئی پرائئ نہیں آپ کی بھانجی ہے آپ کا خون ہے۔ یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ اس بن ماں کی بچی کو سگی بیٹی اور اپنی بیٹی میں کوئی فرق نہ رکھنے والی ماں ملی۔ ویسے بھی وہ آپ کی ہی زمہ داری ہے آپ نے ہی اس کی شادی کرنی ہے۔ کیونکہ عروبہ نہ ہی گاوں رہ سکتی ہے نہ وہاں جیسی زندگی گزار سکتی ہے۔
عروبہ نے کہا کہ انکل میں اپنی آنی اور سعد کی محبت کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔ دو سال کی بات ہے نا گزار لوں گی۔ نرگس بولی وہ یہاں سے بلکل مختلف لاہف ہے۔ چند دن کا جوش ہو گا پھر مجھے بھی زلیل کرواو گی۔ دو سال کیا تم وہاں دو دن بھی نہیں گزار سکتی۔ وہ بولی میں چیلنج کرتی ہوں کہ میں گزار کر دیکھا دوں گی۔ تم گھبرا جاو گی وہ بولی آنی آپ ساتھ جو ہوں گی۔
نرگس کے شوہر نے بیٹے کو دیکھا۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.