Meri Masom Kali
Episodes
خالہ پڑوسن نے کہا کہ تو اب بیٹی کو بھی بتا دے سچائی۔ ہما روتے ہوئے بولی میرا حوصلہ نہیں پڑتا کہ سچائی بتا سکوں کس منہ سے یہ ساری باتیں بتاوں کہ تیرا باپ خوبصورت اولاد چاہتا تھا ورنہ وہ خوبصورت اولاد کو پانے کے لئے دوسری شادی کر لیتا وہ میرے بارے کیا سوچے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ میری بیٹی صبر والی ہے۔وہ تو ہر جگہ ایڈجسٹ ہو سکتی ہے۔ مگر عروبہ کی عادتیں میری بہن اور سعد ہی سمجھتے ہیں اور وہ اس کو ان عادتوں سمیت قبول کر رہے ہیں تو میں شکر کرتی ہوں کہ اس کا گھر بس رہا ہے وہ بھی ہماری ہی زمہ داری ہے جب تک عروبہ کی شادی نہ ہو جائے وہ اچھی طرح وہاں رچ بس نہ جائے میں اس راز کو راز رکھوں گی۔ ابھی تو میری بہن بھانجی کی محبت میں اس کی بگڑی عادتوں سمیت قبول کر رہی ہے اگر اسے بتا دیا تو وہ اسے کھبی قبول نہیں کرے گی اور اپنی بھانجی کو ہی فوقیت دے گی۔ دوسری طرف عروبہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے گی کہ ہم اس کے والدین نہیں ہیں اور وہ سعد کو بھی کسی اور کا نہیں ہونے دے گی اور یہ نہ ہو کہ وہ اس صدمے سے اپنے آپ کو کچھ کر نہ بیٹھے۔ پھر کیا کروں گی۔ اگر شوہر کو بتایا کہ میں نے جھوٹ بولا تھا تو وہ اس بات پر بھی ناراض ہو سکتا ہے کہ جھوٹ کیوں بولا۔ میں تو ہر طرف سے پھنس چکی ہوں اپنی بیٹی کے لیے دل دکھتا ہے کہ میں نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے اس کو اب کس منہ سے اپنی مجبوری بتاوں کہ زیادہ سسر نے اس اقدام پر فورس کیا تھا شاید انہیں اپنی پوتی سے زیادہ نواسی کا مفاد عزیز تھا وہ اپنے بیٹے کو ڈانٹ کر سمجھا بھی سکتے تھے کہ خوبصورت اور بدصورت ہونا اپنے بس میں نہیں۔ یہ اوپر والے کی مرضی ہے۔ اس وقت تو وہ باپ کی سنتا بھی تھا مگر اس معاملے میں نہ ہی انہوں نے بیٹے کو سمجھانا ضروری سمجھا بلکہ میں نے جزبات میں آ کر یہ بول دیا کہ ساجد بھانجی سے نفرت کرے گا تو کیوں نا بچی بدل دیں تاکہ اسے اس سے ییار ہو جائے تو بعد میں بتا دیں گے تو انہیں یہ آہیڈیا بہت پسند آیا اور اس پر قاہم رہنے کے لئے مجبور کرتے رہے۔ جب نتاشا کے ساتھ ساجد نے زیادتی کی تو تب بھی انہوں نے بتانے نہ دیا بلکہ وعدہ لیا کہ جب تک عروبہ جوان نہ ہو جائے تم نے چاہے کچھ بھی ہو نہیں بتانا دیکھنا تمھاری اس نیکیوں کے سلسلے میں تمہیں اوپر والا کتنا اجر دے گا اب بس اپنی بیٹی کے لئے اپنے رب سے ہی امید ہے اسی پر بھروسہ ہے۔
اتنے میں نتاشا روتی ہوئی آئی اور ہما کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی بس روتی جا رہی تھی منہ سے کچھ نہ بول رہی تھی۔
پڑوسن خالہ کچن سے جا کر پانی لے آئی۔ بڑی مشکل سے دونوں نے اسے دلاسے دیے اور پانی پلایا تو وہ کچھ بولنے کے قابل ہوئی۔ اس نے بتایا کہ اس نے سب سن لیا ہے تو دونوں حیران اس کو پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔ہما نے روتے ہوئے جھٹکے سے اسے گلے لگایا اور معافیاں مانگنے لگی وہ اسے ایسے چمٹا چمٹا کر چوم رہی تھی جیسے پہلی بار مل رہی ہو۔ کافی دیر ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے کے بعد ہما نے ہاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگی تو نتاشا نے اس کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا کہ ماما آپ بہت نیک اور بھولی عورت ہیں جو دوسروں کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرتی ہیں۔ اور دنیا کے دکھ سہتی ہیں میں آپ سے گلہ نہیں کرتی۔ اس وقت آپ کو جو ٹھیک لگا وہ کیا اب مجھے والدین مل گئے ہیں وہ بھی اصلی۔ مجھے دنیا بھر کی دولت مل گئی ہے۔ بےشک پاپا عروبہ کے نام ساری جاہیداد لگا دیں مجھے کچھ نہیں چاہیے اور نہ ہی آپ کو ساری زندگی اس راز سے پردہ ہٹانے کی ضرورت ہے۔ عروبہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے گی۔ اور آپ نے اسے ایک دن کا پالا ہے اور مجھ میں اور اس میں آپ نے کھبی فرق نہیں رکھا۔ میں پہلے اسے اپنے محسنوں کی بیٹی سمجھ کر پیار کرتی تھی اور اس کی باتوں کا زیادہ برا نہیں مناتی تھی بس وقتی ہرٹ ہر کر جلد بھول جاتی تھی اب مجھے اس پر ترس آ رہا ہے اور پاپا بھی اس سے بہت پیار کرتے ہیں وہ بھی زہنی ازیت میں مبتلا ہو جاہیں گے سب ڈسٹرب ہو جائیں گے سب کا زہنی سکون تباہ ہو جائے گا اب مجھے تو سہنے کی عادت تھی مگر اب تو میں بالکل بھی برا نہیں مناوں گی اب ہم دونوں تنہائی میں ماں بیٹی کے رشتے کو انجوائے کریں گے۔ میں صرف اپنی خوشی کے لیے سب کی خوشیوں کو گہن نہیں لگا سکتی۔ مجھے جاہیداد نہیں چاہیے۔ اسی طرح چلنے دیں جس طرح سے پہلے چل رہا تھا۔ مجھے اب بس دلی سکون مل گیا ہے کہ میں لاوارث نہیں ہوں والدین کا سایہ میرے سر پر موجود ہے۔ جو کچھ بھی ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔ اگر میں ان حالات سے نہ گزرتی تو شاید کندن نہ بنتی۔ مجھے آپ کی تربیت پر فخر ہے۔ عروبہ میری بہن ہے میں اس کی خوشیاں برباد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ آپ اب پرسکون زندگی گزاریں۔ چلیں میں اچھی سی چائے بناتی ہوں اور مل کر پیتے ہیں رونے سے آپ کا سر بھی دکھ رہا ہو گا۔
پڑوسی خالہ نے اسے گلے لگا کر مبارک باد دی اور اپنے آنچل سے آنسو صاف کیے۔ وہ اجازت لے کر چل دی کہ بہت دیر ہو گئی ہے۔
نتاشا چاے بنانے چلی گئی تو ہما اپنے آپ کو ہلکا پھلکہ محسوس کر رہی تھی۔ اسے اپنی بیٹی پر فخر محسوس ہونے لگا۔ اتنے میں سعد کا فون آگیا اس نے کہا کہ خالہ جانی میں نے نتاشا سے معافی مانگنی ہے آپ فون ریکارڈنگ پر لگا کر اسے سنا دیجئے گا میرا اس سے بات کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔
ہما نے کہا اچھا۔ پھر اس نے سب سے پہلے نتاشا سے معافی مانگی۔ اس نے بتایا کہ وہ عروبہ کو بچپن سے پیار کرتا آیا ہے وہ اس سے گریزاں رہتی تو اسکے پیار کو اور ہوا ملتی۔ اس نے نتاشا کو ہمیشہ دل سے بہن تصور کیا تھا مگر والد صاحب اور دادا دادی نے صاف حکم دے دیا کہ وہ نتاشا کو بہو بنانا چاہتے ہیں تو ماں نے عروبہ کا بولا مگر دادا دادی نہ مانے تو پاپا نے ماں کو بلیک میل کیا کہ اگر ان کی بات نہ مانی تو مجھے نہ صرف جاہیداد سے عاق کر دیں گے بلکہ ماما کو بھی گاوں نہیں آنے دیں گے اور خود اکیلے گاوں میں چلے جائیں گے۔ ماں نے مجبور ہو کر مجھے منانا شروع کیا تو میں نے وقتی طور پر جان چھڑوانے کے لیے ہاں بول دی کہ خالہ کے گھر جا کر سب مل کر پاپا کو سمجھائیں گے اور بات بن جائے گی۔ مجھے نتاشا کو آنے سے پہلے سچائی بتا دینی چاہیے تھی مگر یہ میری غلطی ہے۔ نہ جانے نتاشا میرے بارے میں کیا سوچتی ہو گی میں اس سے معافی مانگتا ہوں۔ مجھے اندازہ نہ تھا کہ میرے والدین دادا دادی کے اس فیصلے پر اتنے سیریس ہو جائیں گے وہ تو عروبہ نے ہمت دکھائی۔ مجھے عروبہ کے لباس رہن سہن اور اس کی عادات سے کوئی مسئلہ نہیں۔ مگر دو سال کے لئے اسے تھوڑا سمجھا دیں کہ میں بعد میں اسے یا تو ساتھ باہر لے جاوں گا یا شہر لے آوں گا پھر اس پر کوئی پابندی نہیں ہو گی جیسے مرضی کرے۔
میں نتاشا کے لیے بھی اچھے رشتے کے لے کوشاں رہوں گا مجھے اللہُ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ آپ کی نیکیوں کے بدلے اس کے نصیب اچھے کرے گا انشاءاللہ۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.