Meri Masom Kali
Episodes
ہما اور اس کا شوہر عروبہ کے کمرے کی طرف دوڑے جہاں سے اس کے چلانے کی آوازیں ا رہی تھی۔ وہ باتھ روم میں تھی اور spider کی رٹ لگا کر چلا رہی تھی۔ نتاشا بھاگ کر چابی لے آی اور اندر جا کر اسے مارا اور تیزی سے باہر نکل آئی۔ ماں نے ڈانٹ کر کہا کہ تم بچی ہو کیا۔ اس کے تو دانت بھی نہیں ہوتے کاغذ جیسا تو وہ معصوم ہوتا ہے۔ شوہر اسے ڈانٹنے لگا کہ خبردار جو میری بیٹی کو کچھ کہا تو۔ میں دیکھ رہا ہوں آجکل تم اس پر کچھ زیادہ ہی سختی کرنے لگی ہو۔ اپنی لاڈلی نتاشا کو تو موم کچھ کہتی نہیں ہیں مجھے ہی ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں عروبہ نے باپ کی شہہ ملتے ہی فوراً باپ سے شکایت لگائی۔ باپ نے بیوی کو گھورا۔
ہما شوہر کو چاے دینے گئی تو شوہر نے پھر سے اسے کہا کہ تم آجکل میری بیٹی کو زیادہ ڈانٹنے لگی ہو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تم جانتی ہو کہ میں اس کے معاملے میں کتنا sensitive ہوں۔ بیوی تپ کر بولی ساری زندگی آپ نے اسے بے جا لاڈ دیکر بگاڑا ہے۔ اسے گھر داری نہیں آتی۔ بس سارا فارغ وقت وہ کانوں میں ہیڈ-فون لگا کر لیب ٹاپ پر لگی رہتی ہے۔ آپ اسے بگاڑ رہے ہیں۔ تو باپ نے بڑے وثوق سے کہا تم فکر نہ کرو اس کا کوئی بوائے فرینڈ نہیں ہے میں نے بہانے سے اس سے کئی بار اس سے پوچھا اس کا لیب ٹاپ چیک کیا موبائل چیک کیا۔ مگر شکر ہے کچھ نہیں ملا۔ تو وہ طنزیہ مسکراتے ہوئے بولی ہو سکتا ہے جوانی میں جب آپ نے بھی اپنی گرل فرینڈ نہیں سب شادی شدہ تھیں زیادہ ان کے نام پلمبر، نائ، مستری، قاضی وغیرہ کے نام سے save کیے ہوں۔ وہ اپنی شرمندگی چھپاتے مسکراتے ہوئے بولا نہیں میں نے سب چیک کر لیے ہیں۔
ہما بولی ایک بار واش روم کا نل خراب ہو گیا اس دن آپ موبائل گھر بھول گئے تھے میں نے پلمبر کے نمبر پر فون کیا تو آگے سے عورت بولی میں چونک گئی۔ پھر میں نے اسے میسج کیا کہ میں بات نہیں کر سکتا ہم میسج پر بات کریں گے۔ میں اسے جانو لکھتی وہ اور جوش میں میری جان، ہنی اور کیا کچھ لکھتی رہی۔ پھر میں نے اس کے شوہر کا نمبر بہانے سے پوچھا کہ اس کا کونسا نیٹ ورک ہے وہ بولی u میں نے کہا اس کے آخر میں 236 آتا ہے کیا وہ بے دھیانی میں بولی نہیں یہ نہیں یہ آتا ہے اور پورا نمبر بول گئ۔ پھر میں نے اسے بتایا کہ میں کون ہوں اور اب میں یہ ساری میسجیز تمھارے شوہر کو فارورڈ کروں گی۔ وہ منتیں کرنے لگی۔ میں نے اسے دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے شوہر کا پیچھا نہ چھوڑا تو اس نے بات بھی نہ پوری کی اور وعدہ کیا کہ وہ نہ تمھارے شوہر کو اس بارے میں بتاے گی اور نہ اب کھبی اس سے تعلق رکھے گی۔ میں نے اسے ڈانٹا کہ تم جیسی گھریلو آوارہ عورتوں کی وجہ سے کچھ مرد پہلے تو ایسی عورتوں سے دوستی رکھتے ہیں پھر شادی کے بعد اپنی شریف بیوی پر شک کرتے عمر گزار دیتے ہیں۔ اور اس معصوم عورت کی زندگی جہنم بنی رہتی ہے۔ تب سے میں سمجھ گئی کہ تم دل پھینک ہو۔ شوہر شرمندہ ہوتے ہوئے بولا تم نے مجھ سے بہت لڑائی بھی کی تھی۔ میں بھی ڈھیٹ بن گیا تھا اور تمھیں مرد کے پاس جو ہتھیار ہوتا ہے طلاق کی دھمکی دی اور اس کے بعد تم گھر سے نہ گی اور مجھے بھی عقل آ گی میں اندر سے ڈرتا تھا کہ تم مجھے چھوڑ نہ جاو۔ دراصل مرد کو باہر لفٹ ملے تو وہ پھر بیوی کو نہیں گردانتا۔ بظاہر مرد بیوی پر حاوی ہو ظاہر کرے کہ وہ اس سے ڈرتا نہیں ہے مگر بیوی آخر بیوی ہوتی ہے۔ وہ آخر میں واپس اسی کی طرف ہی آتا ہے۔ بیوی بھی گھر چھوڑ کر نہ جائے صبر سے کام لے اور پیار سے دبے لفظوں میں سمجھاتی رہے تو وہ اثر لیتا ہے۔ غصے اور زور زبردستی سے تو وہ ضدی ہو جاتا ہے۔
وہ بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولا تمھارا شکریہ کہ تم نے مجھے سمجھا اور میری خامیوں کے باوجود میرا ساتھ نہ چھوڑا۔ مجھے پیاری سی پری جیسی بیٹی دی۔
نتاشا جو ہما سے چاے کا پوچھنے آ رہی تھی۔ کمرے میں سے باتوں کی آواز ا رہی تھی تو اس نے سن لیں۔ ہما کو شبہ ہوا وہ اسے چاے کا کہہ کر آی تھی وہ اٹھ کر کچن میں آئ تو وہ چاے بنا رہی تھی ہما نے کہا چاے بناتے دیکھا تو سمجھ گئی کہ پرانی چاے ٹھنڈی ہو چکی تھی ہما نے پوچھا کیا تم نے سب سن لیا تو اس نے سر جھکا لیا۔ ہما نے کہا ہوں۔ دیکھو بیٹا کچھ مرد ایسے ہوتے ہیں کچھ عورتیں بھی ایسی ہوتی ہیں۔ مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ سب کو عقل آ جاتی ہے۔ ان لوگوں کو زیادہ تر توجہ اور پیار کی کمی ہوتی ہے جو وہ دوسروں میں ڈھونڈتے ہیں۔ وقت کے ساتھ میچورٹی اے یا کوئی ٹھوکر لگے تو ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں انسان ہیں۔ غلطی ہو جاتی ہے۔ شوہر تو بلکل برداشت نہیں کرتا اور گھر اجاڑ دیتا ہے کچھ عورتیں بھی برداشت نہیں کرتی اور گھر اجاڑ کر مرد کو سزا دینے کی بجائے خود سزا میں پڑ جاتی ہیں۔ میں بھی غلطی کرتی چھوڑ کر جاتی تو آج اس گھر کی مالکہ نہ ہوتی۔ اور اپنی بچیوں کو کہاں چھوڑتی۔ نتاشا اس کے گلے لگ کر بولی آپ نے مجھے سگی ماں سے بڑھ کر پیار کیا ہے۔ اتنے میں عروبہ کچن میں آئی اور بولی یہ کیا تم میری موم کو اموشنل کرتی رہتی ہو۔ یہ صرف میری موم ہیں کہنے سے یا پیار کرنے سے تمھاری موم نہیں بن جاہیں گی۔ ماں نے کہا عروبہ ایسی باتیں نہیں کرتے۔ اسے نتاشا نے چاے پکڑائی۔ تو اس نے زور سے زمین پر پٹخ دی۔ اور اونچی آواز میں روتی ہوئی کمرے میں ناراض ہو کر چل دی۔ باپ شور سن کر بھاگ کر آیا کچن میں چاے گری اور ٹوٹا کپ دیکھا تو سمجھ گیا اور تیزی سے بیٹی کے کمرے کی طرف گیا تو وہ منہ ادھر کیے لیٹی رو رہی تھی۔ باپ نے جا کر اس کے کندھے کو ہلایا اور پکارا کیا ہوا میری معصوم کلی کو۔ وہ زاروقطار روتے ہوئے بولی۔ میں اس گھر میں فالتو ہوں صرف یہی موم کی سگی ہے ہر وقت اس پر پیار لٹاتی ہیں اور مجھے ڈانٹتی ہیں۔ شوہر نے بیوی پر غراتے ہوئے کہا کہ تم جانتی ہو کہ میں اس کے معاملے میں کتنا sensitive ہوں۔ اگر اس کی آنکھوں میں آنسو اہے تو جی چاہتا ہے ساری دنیا کو آگ لگا دوں۔ اور رلانے والے کو بھی۔ عروبہ اٹھ کر بیٹھی ٹکر ٹکر باپ کو زبان سے شعلہ برساتے دیکھ رہی تھی جبکہ نتاشا دروازے کی چوکھٹ سے سمٹی کھڑی سہم رہی تھی۔ ماں پریشان حال کھڑی تھی۔ شوہر بولا اے نادان عورت اپنی سگی اولاد کو کمپلیکس کا شکار کر کے پرائ اولاد کو پیار جتاتی ہو۔ تم اپنی دوستی نبھانے کے لئے ہم باپ بیٹی کو زہنی کرب میں مبتلا کرتی ہو۔ بیوی صفائی دیتے ہوئے بولی۔ بچپن میں میں نے بولا تھا کہ اگر آپ کو مسئلہ ہے تو اسے یتیم خانے چھوڑ آتے ہیں آپ ہی نہیں مانے تھے کہ نہیں میری بہن کی بیٹی ہے بےشک سوتیلی ہی سہی۔ وہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولا مگر اب تو اس سے جان چھڑا لو اس کی شادی کر دو۔ عروبہ بولی کسی چوکیدار۔،ڈرائیور کا رشتہ جلدی سے ڈھونڈ کر ڈیڈ اسے اس گھر سے نکالیں۔ باپ نے بیٹی کو لاڈ پیار کیا اور اسے گاڑی نکال کر شاپنگ پر لے گیا۔
نرگس اور اس کا بیٹا سعد آے۔ سعد نے آہستہ سے نتاشا کے کان کے قریب جاکر پوچھا وہ گوری چڑیل کدھر ہے تو وہ جو اداس تھی ایک سعد ہی تھا جو اس سے ہنس بول لیتا تھا۔ اسے اداس دیکھ کر بولا آج پھر اس چڑیل نے کچھ ڈرامہ کیا ہے۔ سنڈے کو اس نے انکل کی شہ میں کچھ نہ کچھ create ضرور کرنا ہوتا ہے اس بہانے پروٹو کول بھی ملتا ہے اور شاپنگ بھی ہو جاتی ہے۔ چلو چھوڑو تم دل پے مت لیا کرو۔ جب تم دونوں اس گھر سے شادی ہو کر چلی جاو گی تو جان چھوٹ جائے گی اور ہاں چاے پلاو اور ہمیشہ کی طرح مزے دار پکوڑے بھی بنانا۔ وہ مسکراتی ہوئی کچن میں چل پڑی۔
ماں نے فون کر دیا کہ تمھارے خالہ آی ہیں۔ سب چاے پکوڑے کھا رہے تھے کہ عروبہ ڈھیر سارے شاپرز ہاتھ میں اٹھاے چہکتی مسکراتی داخل ہوئی۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں۔
پلیز لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.