Meri Masom Kali
Episodes
ساجد آفس میں لڑکے سے ملا اور مطمئن ہو گیا اسے لڑکا دبا دبا سا اور بی اے پڑھا ہوا مناسب لگا۔ اس کا چچا بھی ٹھیک تھا آفس میں اس سے کھبی کوئی شکایت نہیں ملی تھی۔ اس نے بتایا کہ بچپن میں اس کے بھتیجے کی ماں اس کی پیدائش کے دوران فوت ہو گئی تھی اس نے بیٹے کی طرح اسے پالا اپنا نام دیا کیونکہ باپ اس کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے فوت ہو چکا تھا۔ بڑا ہونے پر کسی رشتے دار نے اسے بتا دیا تو مجبوراً اسے بھی بتانا پڑا۔ اب اس نے اسے گھر داماد رہنے کا پوچھا تو وہ راضی ہے۔ ہم لوگ صرف شادی تک اس کا ساتھ دیں گے پھر اس کی زندگی میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔ بیٹے کو ملنے کے لیے کھبی کبھار اسے گھر بلا لیا کریں گے خود نہیں آہیں گے۔
ساجد چاہتا بھی یہی تھا کہ لڑکے کے گھر والے اس کی زندگی میں دخل اندازی نہ کریں اور اس سے دور رہیں انہوں نے خود ہی اس بات کا تزکرہ کر کے اسے مطمئن کر دیا۔ اسی لمحے اس کو بہن کی یاد ا گئ جس نے اسے پسند سے شادی کر کے زمانے بھر میں رسوا کروایا تھا جس کی وجہ سے اسے وہ گھر سیل کر کے شہر بھی چھوڑنا پڑا تھا تو اس کے دل میں بھانجی کے لیے بھی نفرت عود کر آئی اس نے سوچا کہ جلد از جلد اس کی شادی کر دے کہیں ماں کی طرح یہ بھی نہ باغی ہو جائے۔
وہ لڑکا اپنے چچا اور چچی کے ساتھ آیا اور چچی نے رسم ادا کی بولی انگوٹھی کا ساہز پتا نہیں تھا اس لیے نہیں لاے اور مٹھائی کھلا کر اور سرخ دوپٹہ اوڑھا کر رسم ادا کر دی اس سارے معاملے میں ہما بت بنی ربوٹ کی طرح رہی کیونکہ نتاشا نے ماں کو سمجھا دیا تھا کہ وہ ان کو منع نہ کرے آخر وہ بھی سوچ سمجھ کر فیصلہ کر رہے ہوں گے اور وہ ان کے ہر فیصلے پر راضی ہے۔
عروبہ بہت خوش تھی وہ سامنے نہیں لائی گئی تھی کہ کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے وہ زیادہ خوبصورت ہے تو اس کو سامنے نہ لایا جائے۔
ہما ساجد سے کھنچی کھنچی رہنے لگی فالتو بات نہ کرتی۔ جبکہ عروبہ بہت خوش تھی۔ ساجد نے عروبہ کی شادی پہلے کرنے کا فیصلہ کیا پھر اس نے عروبہ پر زرا سختی شروع کر دی اس کو گھرداری سیکھنے کا حکم دے دیا عزر یہ پیش کیا کہ اگر اس نے سستی دکھائی اور سسرال کی ڈیمانڈ پر پوری نہ اتری تو وہ نتاشا جیسی ان کو بہت مل جائیں گی تم سیریس ہو جاو اور ماں اور نتاشا کی مدد سے ہر کام میں اس قدر مہارت حاصل کر لو کہ وہ لوگ نتاشا کو بھول کر تمھارے گن گانے لگیں ہر کام کو شوق اور لگن سے دل لگا کر سیکھو۔
عروبہ نے جوش دیکھانا شروع کر دیا اب وہ نٹ پر سے نیو ڈشز دیکھ کر بنانے لگی کھبی ٹھیک بنتی کھبی خراب ہو جاتی اب وہ ہما سے سیکھنے لگی کھبی نتاشا کی مجبوراً مدد لے لیتی سیکھنے میں۔
نرگس آتی اور اس کا حوصلہ بڑھاتی۔ سعد اس کے کام کی تعریف کرتا۔ باپ مزید کوشش کرنے کی ہدایت کرتا۔ کھبی وہ تنگ پڑ جاتی تو باپ اسے ڈرا دیتا کہ ابھی بھی تم سب کچھ کھو سکتی ہو تو وہ ڈر جاتی اسے نتاشا کو سعد کے ساتھ سوچ کر جھرجھری آ جاتی۔ اب سعد نتاشا سے بات نہ کرتا کیونکہ عروبہ نے دونوں کو سختی سے منع کر دیا تھا۔ البتہ سعد نے نتاشا کے رشتے پر اچھا خاصہ احتجاج کیا تھا مگر ساجد ٹس سے مس نہ ہوا اس رشتے کو لے کر وہ سینسٹیو ہو گیا تھا کہتا وہ اس کا بھلا سوچ کر اسے گھر داماد بنا رہا ہے۔
نرگس نے ہما کو سمجھایا کہ نتاشا کے لیے یہ رشتہ بہت مناسب ہے تمہیں بھی تسلی رہے گی جب وہ ساتھ رہے گی اور گھر کے کاموں میں بھی مدد ملتی رہے گی اور تنہائی کا احساس بھی نہیں ہو گا تو وہ خاموش ہو گئ۔
نتاشا اب خوش رہنے لگی تھی وہ خوش تھی کہ شادی کے بعد بھی وہ والدین کے ساتھ رہے گی۔
ہما نے دیکھا نتاشا خوش ہے تو وہ بھی قدرے مطمئن ہو گئی۔نتاشا کے سسرال والے اکثر آنے لگے وہ ان کی بہت او بھگت کرتی۔ اس کی ایک جوان کزن ماں کے ساتھ آتی اسے بھابی بلا کر چھیڑتی نتاشا اسے پیار سے ٹوکتی ابھی بھابی بنی نہیں ہوں ابھی ایسے نہ کہا کرو۔وہ تو بھائی کا فون نمبر بھی دینے پر مجبور کرتی مگر نتاشا نے کہا مجھے شادی سے پہلے ایسی باتیں پسند نہیں۔ وہ بتاتی بھائی اس کے لیے پاگل ہے مگر نتاشا اس کی باتوں میں دلچسپی نہ لیتی۔
عروبہ تنگ پڑنے لگی۔ اس نے باپ سے شکوہ کیا کہ یہ کیا صرف لڑکا چاہیے تھا ہمیں ادھر اس کا سارا خاندان ا جاتا ہے۔ میری پرائیویسی ڈسٹرب ہوتی ہے۔ وہ بھی اندر سے پریشان ہو گیا۔
جب نرگس کو یقین ہو گیا کہ عروبہ کافی حد تک گھر کا کام کاج بھی سیکھ چکی ہے اور اسے اب شلوار قمیض کی بھی پہننے کی عادت ہو گئی ہے تو اس نے ساس سسر کو لانے اور رشتہ پکا کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اس کی نند نے جان کھائی ہوئی تھی کہ جلدی کرو۔ وہ شکر کر رہی تھی کہ نتاشا کی جگہ اس کی نند کو عروبہ کی تصویر پسند آئی تھی مگر ساس ابھی تک نتاشا کے حق میں بول رہی تھی۔ جس بات کی فکر نرگس کو بہت تھی اسی ڈر سے عروبہ ہر طرح سے نتاشا کی طرح بننا چاہتی تھی باپ کا بھی حکم تھا کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اس کی ساس بمشکل مانی ہے۔ تم نتاشا کو observe کیا کرو اور اسے کاپی کیا کرو۔ یہ نہ ہو کہ نرگس کی ساس پھر مکر جائے تو میں کچھ بھی نہیں کر سکوں گا اور تمہاری آنی بھی مجبور ہیں۔ بس دو سال کسی طرح ان کی مرضی سے گزار لو پھر مجھے سعد نے پرامس کیا ہے کہ وہ تمہیں اپنے ساتھ باہر لے جائے گا۔
عروبہ کے لیے یہ سب مشکل امر تھا مگر جب نتاشا کو سعد کے ساتھ سوچتی تو رونگھٹے کھڑے ہو جاتے اور وہ جوش میں لگ جاتی اور چوری چوری نتاشا کو نوٹ کرتی۔ وہ سوچتی دوسروں کو خوش کرنا کتنا کٹھن کام ہے اور نتاشا ہر وقت لگی رہتی تھی پھر بھی وہ اس سے خوش نہیں ہوتی تھی اس کے دل میں نتاشا کے لیے ہمدردی کے جزبات ابھرنے لگے مگر اپنی اناء میں وہ ظاہر نہ کرتی۔
دروازے پر بیل بجی نتاشا واش روم میں تھی ہما کچن میں۔ عروبہ دروازہ کھولنے گئی تو سامنے نتاشا کے ہونے والے ساس سسر، نند اور لڑکا دروازے پر کھڑے تھے۔
عروبہ کا پارہ ہائی ہو گیا نند بڑی شوخی سے بولی سلام باجی۔ عروبہ نے کہا باجی کسے بولا خود کو چھوٹی سمجھتی ہو۔ وہ ہکلا کر بولی وہ ہم آج شادی کی ڈیٹ لینے آئے تھے۔ عروبہ نے کہا کہ اس وقت گھر میں کوئی نہیں ہے۔ نند شوخی سے بولی نتاشا بھابی ہیں۔ عروبہ نے کہا کہ کیوں اس سے ڈیٹ لینی ہے۔ ڈیٹ کے لیے میرے ڈید کو فون کیا تھا۔ ہم نے صرف لڑکے سے رشتہ رکھنا ہے گھر والوں سے نہیں۔ پہلے تو آپ لوگوں نے بڑے وعدے کیے تھے کہ ہم صرف شادی تک ساتھ آہیں گے ڈسٹرب نہیں کریں گے ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تو آپ لوگ وعدہ بھول گئے روز ڈسٹرب کرنے آ جاتے ہیں اب آپ لوگ جب ہم بلائیں تب ہی تشریف لاہیے گا۔
نند بولی آپ ہمارے توہین کر رہی ہیں تو وہ تڑخ کر بولی میں نے گالیاں دی ہیں کیا تو رشتہ توڑ دو اور چلے جاو۔ ویسے بھی مجھے تم لوگوں سے الجھن ہوتی ہے۔ ماں نے ایکدم بیٹی کو ڈانٹا اور میاں بیوی دونوں معزرت کرنے لگے بیٹی کو ڈانٹ کر بولی معافی مانگو بہن سے۔ عروبہ اکتا کر بولی پلز میں اکلوتی ہوں میری کوئی بہن وین نہیں ہے۔ اور معافی مت مانگیں بس چلے جاہیں۔
دونوں میاں بیوی خوشامدی لہجے میں بولے اب ہم اپ لوگوں کے بلانے پر ہی تشریف لاہیں گے بس آپ ہم سے ناراض مت ہونا۔ اچھا ہم چلتے ہیں عروبہ نے سر ہلا دیا اور دروازہ بند کر کے مڑی تو ہما خوش کھڑی تھی۔ نتاشا نے پوچھا کون تھا عروبہ جوش سے بولی تمھارے سسرالیے۔ میں نے ان کی طبیعت صاف کر کے بھیج دیا ہے۔ نتاشا حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ پھر ماں کو دیکھا جو بہت خوش نظر آ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ ماں اس رشتے سے خوش نہیں ہے۔ مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ وہ خوبصورت نہیں ہے اور ماں اس کے رشتے کے لیے پریشان رہتی ہے پہلے بھی عروبہ کو پسند کر جاتے اور اسے ٹھکرا جاتے۔ اب یہ واحد ایسا رشتہ تھا جن لوگوں نے نہ صرف عروبہ کی موجودگی کے باوجود اسے پسند کیا لڑکے کو بھی اعتراض نہ تھا اور سب سے بڑی خوشی کی بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ والدین کے ساتھ رہے گی ان کی خدمت کرے گی۔
اس نے فکرمندی سے کہا کہ وہ لوگ ناراض تو نہیں ہو گئے تو عروبہ بولی فکر نہ کرو ناراض نہیں ہوں گے کافی خوشامدی لوگ ہیں۔ ساجد جو الاونج میں کھڑا سب سن رہا تھا۔ وہ بھی ان لوگوں کے روز آنے سے تنگ پڑا تھا پھر دفتر میں بھی ان لوگوں نے نشر کر دیا تھا تو ساجد شرمندہ ہوتا تھا۔ وہ ان لوگوں کو مروت میں کچھ کہہ بھی نہیں پا رہا تھا مگر آج عروبہ نے ہمت دیکھای تھی۔
نرگس نے فون کیا کہ کل سنڈے ہے اور اس کے ساس سسر رشتہ پکا کرنے آ رہے ہیں تو عروبہ سے کہنا سر سے دوپٹہ نہ اتارے ان سے ادب سے پیش آے۔ اور بہت سی ہدایات اس نے عروبہ کو بھی دیں۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے لاہک شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.