Loading...
Logo
Back to Novel
Meri Masom Kali
Episodes
Meri Masom Kali

میری معصوم کلی 22

From Meri Masom Kali - Episode 22

سعد نے دادی سے کہا کہ اس کی خوشی عروبہ سے ہے۔ باقی اب آپ کی مرضی۔ بیٹے کی خوشی کا سوچ کر باپ پگھل گیا اور دادا نے بھی ہاں میں ہاں ملائ کہ ہمیں بچے کی خوشی دیکھنی ہے۔


اب ہما سخت پریشان تھی عروبہ رو رہی تھی ساجد اس کے رونے سے تڑپ رہا تھا اچانک اس کی طبیعت خراب ہو گئی نتاشا پاس تھی اس کی حالت دیکھ کر تڑپ کر اسے تھاما اور چلا چلا کر پاپا کرنے لگی ساجد اسے اپنے لیے اتنا مضطرب اور تڑپتا دیکھ کر حیران رہ گیا سب جمع ہو گئے۔ عروبہ بھی پریشانی سے ڈیڈ ڈیڈ کرتی آگے بڑھی۔ سعد جلدی سے ہاسپٹل لے گیا۔ سب ساتھ چلے گئے صرف نرگس اور اس کی ساس گھر پر رہی۔


ڈاکٹر نے چیک کیا اور کہا کہ minor سا دل کا اٹیک ہوا ہے انہوں نے کوئی stress سے دور رکھیں ورنہ ان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔


ساجد ہوش میں آ چکا تھا باہر سے اسے سب کی آوازیں آ رہی تھیں۔ سب سے زیادہ نتاشا کی آواز میں تڑپ تھی جو سعد سے بار بار پوچھ رہی تھی سعد میرے پاپا کیسے ہیں ڈاکٹر نے کیا کہا ہے۔


ڈاکٹر نے جب ملنے کی اجازت دی تو سب سے پہلے تیزی سے نتاشا بھاگتی اندر پہنچی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر روتے ہوئے بولی پاپا کیسے ہیں آپ۔ اس نے گردن ہلا دی پھر وہ ڈاکٹر کے گرد ہو گئ ڈاکٹر صاحب میرے پاپا ٹھیک ہو جائیں گے نا۔ اس نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور ساجد سے بولا بای آپ کی بیٹی تو بہت پریشان ہے آپ خود انہیں تسلی دیں کہ آپ ٹھیک ہیں اور باہر نکل گیا۔ ہما جو بے آواز رو رہی تھی اٹھی اور نتاشا کو گلے لگا کر تسلی دیتے ہوئے بولی فکر نہ کرو صبر کرو ڈاکٹر نے انہیں سٹریس سے منع کیا ہے تمہارے اس طرح پریشان ہونے سے انہیں سٹریس ملے گا تو وہ فوراً چپ ہو گئ۔


نتاشا اتنے پراعتماد طریقے سے رو رو کر ساجد سے بات کر رہی تھی کہ عروبہ بھی حیران تھی کہ وہ اس کے ڈیڈ سے اتنا پیار کرتی ہے۔


نرگس کا سسر بھی نتاشا کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ کر تسلی دے رہا تھا اور ساجد حیرانگی کے ساتھ دل میں شرمندگی محسوس کر رہا تھا کہ وہ اسے باپ کا درجہ دیتی ہے اور اس نے اسے کھبی بیٹی کا درجہ نہیں دیا۔


عروبہ بھی باپ کے پاس آئی اور ہاتھ پکڑ کر پیار جتانے لگی مگر ساجد کو اس کے پیار میں وہ گرم جوشی اور تڑپ نہ نظر آئی جو نتاشا میں تھی۔ وہ سوچنے لگا جس بیٹی کی محبت میں اتنا سٹریس لیا کہ ہاسپٹل پہنچ گیا وہ نارمل انداز میں سب کو کہہ رہی ہے فکر کی کوئی بات نہیں۔ ابھی تھوڑی دیر تک ہم ڈیڈ کو گھر لے جاہیں گے۔ اور نتاشا انتہائی پریشان لگ رہی ہے۔


ساجد کو گھر لے آے تو نتاشا کھبی سوپ بنا کر زبردستی پلا رہی ہے اور کھبی دلیا بنا کر لا رہی ہے۔


ساجد کے گھر آنے کے کچھ دیر بعد نرگس لوگ بغیر ہاں یا نہ کیے چلے گئے۔


ساجد چند دن تک ٹھیک ہو گیا اب اس کا رویہ نتاشا سے بہتر ہونے لگا جب وہ زبردستی اسے کچھ کھلاتی تو پیار سے احتجاج کرتے ہوئے کہتا بس بیٹا۔ اب وہ اسے کبھی کبھار بیٹا پکارنے لگا۔ عروبہ اگر اسے کچھ سناتی تو وہ عروبہ کو ٹوک دیتا عزر یہ دیتا کہ اب یہ عادت تمہیں چھوڑنی پڑے گی سعد کے گاؤں والے سنیں گے تو نہ جانے کیا ہو۔ تو اس نے کافی حد تک اسے تنگ کرنا چھوڑ دیا تھا اسے تو اب بس ایک ہی ٹاپک ملا تھا ہاے کیا ہو گا سعد کی دادی مانے گی یا نہیں۔ باپ نے صاف کہہ دیا کہ اب کوئی غلطی کی گنجائش نہیں ہے تمہیں عروبہ کو فالو کرنا پڑے گا تب ہی تم منزل کو پا سکو گی۔ تو اس نے اب نتاشا سے روٹی پکانا سیکھنا شروع کر دیا۔


ساجد سعد سے اکثر فون پر پوچھتا کہ دادی مانی تو وہ کہتا ابھی نہیں لیکن آپ فکر نہ کریں میں کوشش کر رہا ہوں امید ہے کہ انشاء اللہ مان جاہیں گی۔


نتاشا جو پہلے عروبہ سے دبی دبی رہتی تھی اب اس میں کمی آ چکی تھی عروبہ حیران تھی کہ نتاشا کو اب ڈیڈ کچھ اہمیت بھی دینے لگے ہیں مجھے بھی اسے اب کچھ نہیں کہنے دیتے نہ خود کچھ کہتے ہیں اس کے باوجود نتاشا نہ تو غرور میں آئی ہے نہ ہی اس نے اسے سکھانے میں کوئی احسان جتایا ہے۔ نہ ہی اسے کھبی پرانے برے روپے کے باعث کھبی کچھ جتلانا ہے۔ بلکہ اسے ہر چیز دل سے سکھاتی ہے۔ اور اسے لگتا اب وہ پہلے سے زیادہ اس سے پیار کرتی ہے۔


ہما نے ساجد سے کہا کہ گراسری لانی ہے تو ہمیشہ ہما، نتاشا اور ساجد جاتے۔ عروبہ کو اس طرح کی شاپنگ کرنے کے لیے جانے کا کوئی شوق نہ تھا وہ گھر پر رہی اور آجکل وہ گھر کے کاموں میں دلچسپی لے رہی تھی۔ باپ نے کہا تھا کہ جلد از جلد سارے کام سیکھ لو تاکہ کھبی تمھارے اوپر ایسا موقع آئے تو کامیابی ملے ادھر سے نرگس نے بھی اس کی جان کھائی ہوئی تھی کہ جلد سارے کاموں میں پرفیکٹ ہو جاو تاکہ اگر ایسا کوئی موقع آئے تو کوئی شرمندگی نہ ہو صرف دو سال کے لیے محنت کر لو پھر سعد تمہیں باہر ساتھ لے جاے گا اسے فیملی ویزہ مل جائے گا۔


عروبہ مستقبل کے خواب بننے لگی کہ وہ سعد کے ساتھ ملک سے باہر جاے گی ابھی تک وہ جہاز میں بھی نہ بیٹھی تھی اسے ملک سے باہر جانے کا اور جہاز میں سفر کرنے کا بہت شوق تھا اس کا اظہار وہ ساجد سے کئی بار کر چکی تھی اور اس نے پرامس کیا تھا کہ وہ اسے ملک کے کسی شہر کے سفر میں جہاز پر لے کر جاے گا مگر اسے ابھی تک دفتری معاملات سے فرصت نہ ملی تھی۔ نتاشا اسے دل سے کام سکھاتی تھی اور کافی کام وہ سیکھ چکی تھی زہین تھی بہت جلدی سیکھ لیتی تھی پھر نئ نئ ڈشز نٹ سے بھی سیکھ رہی تھی اپنے مطلب کے لیے اب نتاشا سے فالتو بات تو نہ کرتی تھی مگر طنز کرنے کافی کم کر دیے تھے اب اگر اپنی عادت کے مطابق اگر کر بھی جاتی تو نتاشا کاچہرہ اب پرسکون ہی رہتا اور وہ پہلے کی طرح دکھی صورت نہ بناتی۔ عروبہ اس کے confidence پر حیران تھی۔


آج وہ اپنے ڈیڈ کو خوش کرنے کے لیے کریلے گوشت پکا کر چولہا بند کر کے جلدی جلدی آٹا گوندھ رہی تھی کہ وہ لوگ آنے والے تھے اور ساجد کو گھر کی روٹی پسند تھی۔ ہاتھ آٹے سے بھرے ہوئے تھے کہ باہر ڈور بیل بجی وہ بمشکل دوپٹہ کر کے غصے سے گئ کہ آج ان بچوں کو سیدھا کرتی ہوں جو بال کے لیے ٹاہم بے ٹاہم بیل کرتے رہتے ہیں دروازہ کھولا تو سامنے نرگس اپنی ساس کو تھامے کھڑی تھی اور باقی سب پیچھے تھے وہ گھبرا سی گئی جلدی سے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور بولی دراصل میں آٹا گوندھ رہی تھی۔ وہ لوگ اندر آ گئے اور اس نے سعد سے کہا پلیز تم انہیں بٹھاو میں آتی ہوں۔ جلدی سے آٹا فاہنل کیا اس کے کام کرنے کی سپیڈ بھی کافی تیز تھی۔ آج اس نے ڈیڈ کے لیے کھیر بھی بنائی تھی۔ جلدی سے ڈیڈ کو فون پر بتایا اس نے جوس پلانے کا کہا وہ ان کے لیے جوس ڈال کر سلیقے سے دوپٹہ لیے اندر گئی۔ اور سب کو جوس پیش کیے۔ دادی نے اسے بڑے غور سے دیکھا وہ دل میں سوچنے لگی کہ کسی کو جیتنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس پینڈو سی بڑھیا کو کتنا پروٹوکول دینا پڑ رہا ہے۔ اس نے سوچا بس زرا شادی ہو جانے دو پھر گاوں میں میں کیسے ان پیڈووں کو پوچھوں گی اپنی مرضی کروں گی۔


جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books