Meri Masom Kali
Episodes
عروبہ آج بہت ایکٹو ہو رہی تھی۔ نرگس نے کہا کہ کہ اماں جی کے لئے کچھ کھانے کو لےآو انہیں دوا دینی ہے کوئی بریڈ پیس ہی لے آو۔ عروبہ نے کہا روٹی پکا دوں وہ بولی تم نہیں پکا سکو گی۔ عروبہ نے ماہنڈ کرتے ہوئے بولا آنی مجھے آتی ہے پکانی وہ بھی گول والی۔ سب ہنسنے لگے۔ نرگس بولی ان کی اسپیشل ہوتی ہے۔ پیڑے کے پیچ میں آہل یا گھی تھوڑا بہت ڈالتی ہوں تاکہ نرم رہے اور اوپر سے سوکھی ہوتی ہے۔
عروبہ اچھا کہہ کر چل دی۔ تھوڑی دیر بعد وہ ٹرے میں سلاد اور دہی اور کریلے کا سالن ڈونگے میں ڈال کر ساتھ پلیٹ، جگ اور گلاس لے کر آئی۔
عروبہ کے سسر نے کہا واہ بای واہ کیا بات ہے۔ عروبہ خوش ہو گئی بولی دادا جی آپ کے لیے بھی لاوں وہ بولے ہمارا پسندیدہ سالن سامنے ہو تو کون کافر انکار کرے گا وہ خوشی سے پوچھنے لگی کیا آپ کو بھی پسند ہیں کریلے گوشت۔ وہ بولا بہت۔
اماں کو نرگس نوالے کھلا رہی تھی اماں بولی مزےدار بنے ہیں۔ عروبہ خوش ہو گئی۔ نرگس نے بھی خوش ہو کر عروبہ کو دیکھا۔
عروبہ نے کہا میں ابھی سب کے لیے پکا کر لاتی ہوں آج دادی اماں جیسی اسپیشل روٹیاں سب کے لیے پکا کر لاتی ہوں۔ عروبہ کا سسر بولا ہاں جلدی سے لے آؤ۔
وہ تیزی سے پکانے لگی سعد کچن میں آ گیا اور بولا کچھ ہیلپ کرو وہ جو تھکی ہوئی تھی بولی تم کھڑے ہو کر تماشا دیکھو وہ مسکرا کر ہاتھ کے اشارے سے دھیما بولنے کا کہنے لگا۔ عروبہ نے غصے سے بیلن دیکھایا تو وہ مسکرانے لگا۔
ساجد لوگ جب واپس آئے تو دیکھا سب کھانا کھا رہے تھے اور ان سے ملے تو وہ لوگ کھانے کی بہت تعریف کر رہے تھے۔ اماں جی نے بھی تعریف کی تو ہما اور ساجد کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔ وہ بہت خوش ہوے۔ نرگس کے شوہر نے معزرت کرتے ہوئے کہا کہ اتنا لزیز سالن دیکھ کر رہا نہ گیا اور آپ کا انتظار نہ کیا۔
وہ بولا مجھ سے بھی صبر نہیں ہو رہا میں بھی ہاتھ دھو کر آ جاتا ہوں۔
عروبہ نے خوشی سے کہا ڈیڈ میں نے آپ کے لئے اسپیشل پکاے تھے اور کھیر بھی بنائی ہے۔ وہ سن کر خوش ہو گیا۔ نرگس کا سسر بولا واہ بای ہمیں بھی ملے گی کھیر۔
عروبہ بولی جی جی کافی ساری پکائی ہے میں نے سوچا تھا پڑوس میں بھی بھیج دوں گی۔
نرگس کا شوہر مسکراتے ہوئے بولا بیٹا پہلے ان پڑوسیوں کو دو اگر بچی تو ان کو دینا۔
سعد نے شرارت میں کہا ہو سکتا ہے ساری ہی پڑوسیوں کو بھیجنی پڑے۔ عروبہ نے گھورا سب مسکرانے لگے۔
سب کھیر کی بھی تعریف کر رہے تھے۔ ہما اور ساجد سن کر دل میں خوش ہو کر پھولے نہیں سما رہا تھا۔ نتاشا برتن سمیٹنے لگی۔
سعد کے والد نے کہا شاباش بیٹا کھانے کا لطف آ گیا اتنا زیادہ کھا لیا ہے کہ اس کو ہضم کرنے کے لیے گرین ٹی کی ضرورت ہے۔ وہ کچن کی طرف چل دی۔
گرین ٹی پیتے ہوئے سعد کے دادا نے کہا شاباش چاے بھی مزے کی ہے عروبہ نے آہستہ سے کہا کہ میں نے نہیں بنائی میں تھک گئی تھی نتاشا سے کہا تھا اس نے بنائی ہے۔
نرگس کے سسر نے کہا شاباش بڑی صاف گو بچی ہے۔
عروبہ اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی کھانا بھی کھانے کا اس کا موڈ نہ تھا پریشان تھی کہ دادی کیا فیصلہ دیتی ہے۔
تھوڑی دیر بعد ہما خوشی سے اندر آئی اور عروبہ کو مبارک باد دیتے ہوئے گلے لگایا کہ وہ لوگ مان گئے ہیں اور رسم کے لیے بلا رہے ہیں۔ نتاشا نے بھی بھرپور انداز میں مبارک باد دی تو ہما نے کہا کہ وہ سب اسے تمھاری بہن مانتے ہیں اور ساجد کو دوسری بیٹی۔ اب کم از کم دو سال اسے بہن مانو اور اب پلیز شادی تک کوئی غلطی نہ کرنا اور اسے بہن سمجھنا چلو نتاشا سے گلے مل کر ابتدا کرو وہ ہلکی سی اگے ہوئی تو نتاشا نے بھرپور گرمجوشی سے اسے گلے لگا کر پیار کیا اور دعائیں دیں۔ عروبہ اس کے پرخلوص رویے پر حیران ہوئی اور اندر سے خوش ہو گئی وہ سمجھتی تھی کہ وہ تو اس کے اتنے شاندار پڑھے لکھے ہینڈسم لڑکے کے رشتے سے جیلس ہوتی ہو گی مگر وہاں تو ان چیزوں کا شاہبہ تک نہ تھا۔ اس نے سوچا یہ اپنے اس معمولی پڑھے لکھے اور ان متوسط طبقے کے لوگوں کے رشتے سے ہی بہت خوش ہے۔ اس کی سوچ ہی محدود ہے اس بونگے سے لڑکے سے یہ بہت خوش ہے۔ پر اسے جلانے کا مزہ تھا ڈیڈ نے اگر اس کا رشتہ پہلے نہ طے کیا ہوتا تو آج وہ اس کو خوب جلاتی مگر گھر داماد والا آہیڈیا اس نے ہی تو ڈیڈ کو دیا تھا تاکہ جب وہ شان سے میکے شوہر کے ساتھ آے تو اسے خدمت کے لیے نتاشا موجودہ ہو۔
ساجد جو بلانے آیا تھا اس نے نتاشا کا خلوص دیکھا اور اس کے دعائیں دینے پر کافی حیران ہوا۔ نرگس کے سسرال والے اسے دو بیٹیاں بتا کر شرمندہ کرتے تھے کہ اس کی دو بیٹیاں ہیں۔ وہ دل میں سوچتا تھا کہ اس نے تو اسے کھبی بیٹی مانا ہی نہ تھا جبکہ نتاشا نے اب ثابت کیا تھا کہ وہ اسے باپ سمجھتی ہے۔ عروبہ کے مستقبل کا اس نے ہمیشہ اچھا سوچا اس کو اعلیٰ تعلیم دلائی اس کے لیے پڑھا لکھا اچھے عہدے دار سعد کا رشتہ پانے کی سر توڑ کوشش کی۔ جبکہ نتاشا کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں روڑے اٹکائے اس کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرنا ضروری نہ سمجھا اور اس کا رشتہ بھی اپنے مفاد کو دیکھتے ہوئے ڈھونڈا نہ کہ اس کی خوشی اور بہتر مستقبل کے لئے۔ اس کے ظمیر نے ملامت کی۔ کھبی انسان کا ظمیر ضرور جاگتا ہے جو اسکو ملامت کرتا ہے اور خوش قسمت لوگ سدھر جاتے ہیں اور اپنی سابقہ غلطیوں کی تلافی کرتے ہیں اور بدقسمت لوگ اس آواز کو دبا کر اپنی پرانی ڈگر پر چلتے رہتے ہیں۔ ساجد کے دل میں احساس شرمندگی جاگنے لگا اس نے سوچا اس کی نانی اور ماں نے اس کے ساتھ برا کیا مگر اس نے تو کچھ نہیں کیا تھا پھر وہ ان کی زیادتیوں کی سزا اسے کیوں دیتا رہا اس کو ہما نے بارہا احساس دلانے کی کوشش کی کہ اس میں اس بچی کا کوئی قصور نہیں ہے۔ حالانکہ بچی اس کی بہن کی تھی اس نے تو سسر کی التجا کی لاج رکھی اور اس میں اور بیٹی میں فرق نہ رکھا۔ اور وہ جوش انتقام میں اپنے باپ کے اس سے رشتے کو بھی بھول گیا۔ دراصل ہمارے معاشرے میں زیادہ تر مرد حاکمانہ مزاج رکھتے ہیں اور ان کو حاکم بنانے میں زیادہ تر ان وفاشعار اور نیک عورتوں کا زیادہ ہاتھ ہوتا ہے جو بچپن سے دیکھتی سنتی آتی ہیں کہ مرد گھر کا سربراہ ہے اور یہ حقیقت بھی ہے مگر وہ ہر وقت اس کی خدمت میں لگی رہتی ہیں اور اپنی بہو بیٹیوں کو بھی باور کراتی رہتی ہیں کہ باہر سے مرد کے آتے ہی اس کو کھانا پانی ملے ملنا بھی چاہیے مگر مرد بھی اتنے قصور وار نہیں کہ ان کو بھی بچپن سے یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ انکے باپ دادا وغیرہ ہی ہر فیصلے کرتے ہیں اور عورتوں پر حکم چلاتے ہیں ان کو اہمیت نہیں دیتے نہ ان سے کسی معاملے میں راے لیتے ہیں اور بعض اوقات ان سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں دل شکنی ہوتی ہے مگر چونکہ معاشرہ ایسا بنا ہے کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا۔ جیسے اگر وہ دیر سے گھر آئے بیوی بچوں کو سلاتے خود بھی سو گئ تو وہ خود سے کھانا نہیں ڈالتے ماں بہو کو آواز دیتی ہے یا بیٹی کو کہ بھائی آ گیا ہے کھانا ڈال کر دو تو وہ کھٹکے سے اٹھتی ہے نیند بھری آنکھوں سے دیکھتی ہے اور گرتی پڑتی کھانا ڈالنے چل پڑتی ہے۔ کچھ مرد جو سمجھتے ہیں کہ ہم عورتوں کو برابر سمجھتے ہیں وہ ان کو مردوں جیسی ناجائز آزادی دے دیتے ہیں تو پھر وہ ماڈرن بن کر پھرتی ہیں اور مردوں کو خاطر میں نہیں لاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ آگے سہہ نہیں پاتیں مرد کی حاکمیت کو اور زندگی برباد کر لیتی ہیں۔ بس عورت کو صرف بچوں اور دنیا کے سامنے صرف عزت سے رکھا جائے جو کام حکم دے کر کرایا جاتا ہے اسے پیار وعزت سے بھی پکار کر لیا جا سکتا ہے اور اہم معاملے میں عورت سے بھی راے لے کر اگر اختلاف رائے ہو تو اس پر غور کر کے سوچا بھی جاسکتا ہے اور ہو سکتا ہے عورت کی راے بہتر ہو اگر بہتر نہ لگے تو اسے پیار ودلیل سے سمجھایا جائے تو پیار کی زبان ہر کوئی سمجھتا ہے تو بچے بھی باغی نہیں ہوتے۔ جہاں عورت کی عزت ہو۔ کیونکہ بچے زیادہ تر ماں کے انڈر رہتے ہیں اور اس کا ڈر دل میں موجود ہو گا تو وہ غلط کاموں سے بچے رہیں گے اور ان کا مستقبل سنور جائے گا۔ ہر چیز میں میانہ روی ہونی چاہیے اگر مرد نے آزادی دی تو عورت اس کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاے اور بلا ضرورت گھر سے نہ نکلے اور اس کا احترام کرے اور بچوں کو بھی سکھاے۔ اور بےپردہ نہ نکلے۔ ورنہ ایسی عورتوں پر شرفا کی نظر بھی اٹھ جاتی ہے۔ ساجد نے سوچا کہ اب وہ نتاشا پر کوئی زیادتی نہیں کرے گا۔ وہ بلانے آیا تو عروبہ خوشی سے باپ سے لپیٹ گئ۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.