Loading...
Logo
Back to Novel
Meri Masom Kali
Episodes
Meri Masom Kali

میری معصوم کلی 24

From Meri Masom Kali - Episode 24

عروبہ کو سرخ دوپٹہ نرگس نے اوڑھایا۔ سعد کی پھوپھو بھی ان لاہن ان ہو گئ سعد نے ایل سی ڈی پر لاہیو کر دیا۔ نتاشا نے جا کر پڑوسی خالہ اور ان کی فیملی کو بھی انواہیٹ کر دیا۔ خوب رونق لگ گئی۔ نتاشا نے ڈیک بھی آن کر دیا۔ سعد کی پھوپھو کی ساری فیملی بہت غور سے اور دلچسپی سے سارا منظر دیکھ رہی تھی۔


نتاشا کو خالہ پڑوسن کی بہو نے زبردستی کوئی براہیٹ سوٹ پہننے پر مجبور کیا اور زبردستی اس کا میک اپ بھی کروایا عروبہ خود ہی تیار ہوئی تھی اور اپنا میک اپ بھی خود ہی کیا تھا اور کافی خوبصورت لگ رہی تھی سعد اسے پرشوق نظروں سے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کا باپ اور دادا بیٹے کو خوش دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔


نتاشا تیار ہو کر آئی تو بہت پرکشش لگ رہی تھی سب نے تعریف کی۔ ہما نے نظروں سے بلائیں لیں۔


نتاشا اور پڑوسن خالہ کی بہو مووی بنا رہی تھی۔ نرگس نے انگوٹھی نکالی تو نتاشا نے کہا خالہ جانی سعد کو دیں وہ پہناے نرگس کے شوہر نے کہا کہ ہاں بیٹا کیوں نہیں اور سعد جلدی سے اٹھا اور جاکر عروبہ کے پاس بیٹھ گیا۔ سعد کے تینوں کزنز اسے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔ اور دونوں کی تعریف کر رہے تھے۔ دونوں بہت پیارے لگ رہے تھے سعد آج کریم کلر کے شلوار قمیض ڈریس میں آیا تھا۔ نرگس عروبہ پر واری جا رہی تھی جبکہ داری سپاٹ چہرے لیے بیٹھی تھی۔ سعد کی پھوپھی عروبہ کی بہت تعریف کر رہی تھی۔ انگوٹھی کی رسم ادا کی گئی سعد نے عروبہ کو انگوٹھی پہنائی۔ تالیوں میں رسم ادا کی گئی۔ سعد کے کزنز امریکہ سے لاہیو دیکھ کر شوروغل مچا رہے تھے۔ وہ بھابھی بولنے لگے تو ماں نے ٹوک دیا کہ ابھی شادی نہیں ہوئی اس لیے اسے آپی بلاو۔وہ تالیاں بجا بجا کر آپی اپی کرنے لگے۔


سعد نے انگوٹھی پہنائی تو سب نے تالیاں بجاہیں اور زور و شور سے مبارک باد دی۔ دادی خاموشی سے بیٹھی تماشا دیکھتی رہی۔ پھر سب نے ان دونوں کو اور آپس میں ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔


سعد کی پھوپھو نے ہما اور نرگس کو مبارکباد دی تو ہما نے بہت اخلاق سے اسے بات چیت کی اور پاکستان آنے اور اپنے گھر آنے کی دعوت دی وہ بہت خوش ہوئی اور آنے کا وعدہ کیا۔ پھر سب بچوں نے بڑے خلوص سے بات کی اس کے بعد اس نے کہا آپ دونوں کی میں اپنے شوہر سے بات کرواتی ہوں بچوں نے بتایا کہ ڈیڈ کال پر بات کر رہے ہیں۔ سب بچوں نے نتاشا سے بھی بات کی۔ اور نتاشا ان سے خلوص سے بات چیت کرتی رہی۔ ان کو اپنے گھر پر آنے کی دعوت دیتی رہی ان لوگوں نے وعدہ کر لیا۔ سب سے چھوٹا نتاشا سے گاؤں میں جب آتا تو کھانے کی تعریف بھی کرتا اور بات چیت بھی کرتا تھا اس نے گلہ کیا کہ آپی پہلے کبھی آپ نے ہمیں اپنے گھر پر انواہیٹ نہیں کیا تھا وہ جواب میں مسکرا کر چپ ہو گئ کیا بتاتی اس وقت وہ دبی دبی سی رہتی تھی اب بڑے اعتماد اور مان سے سب کو بلا رہی تھی۔ ساجد یہ سن کر شرمندہ ہو رہا تھا کہ اس نے تو اسے کھبی یہ گھر اپنا سمجھنے ہی نہ دیا تھا اس نے دیکھا آج وہ بہت پرکشش لگ رہی تھی اس نے سوچا اگر وہ اسے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے دیتا تو وہ بھی کسی اچھے خاندان میں جا سکتی تھی اس کو کوئی بھی خاندان پسند کر لیتا وہ اتنی بھی بری نہ تھی۔ اس میں جو اعتماد اسے نظر آیا اس نے سوچا شاید اس کے رشتہ ہونے کی وجہ سے ہے۔


ہما اور ساجد بہت خوش تھے۔ ساجد نے نرگس کی نند اور بچوں سے بات چیت کی انہیں گھر آنے کی دعوت دی وہ بہت خوش ہوے۔ چھوٹے نے گلہ کیا انکل نتاشا آپی نے پہلے کھبی اپنے گھر انواہیٹ نہیں کیا تھا اب بڑے زور وشور سے کر رہی ہیں تو ساجد سن کر دل میں شرمندہ سا ہو گیا۔ اس کے شوہر سے بات چیت کی تو ان کی بزنس پر باتیں ہونے لگیں اور ان کا بزنس پر کسی ڈیل پر اتفاق رائے ہوگیا اور اسے مشترکہ طور پر کرنے پر ڈیل ہو گئ۔ اس نے ہما سے بات کرانا چاہی تو وہ بار بار مصروفیت کا بہانہ کر دیتی مگر ساجد زبردستی اسے بلا لایا اور ڈانٹ کر بولا کام بعد میں کر لینا پہلے بات کرو تو وہ مجبوراً سامنے بیٹھ گئی تو سامنے اس کی عروبہ کا باپ بیٹھا تھا اور مسکرا رہا تھا وہ مسکرایا اور بڑے ادب سے سلام کر کے بولا کیسی ہیں باجی آپ؟ اس نے اپنے اوپر قابو پایا اور بڑے اعتماد سے بات کی پاس اس کی بیوی مسکرا کر دیکھ رہی تھی ہما کو ساجد نے گھر انواہیٹ کرنے کا اشارہ کیا تو اس نے اسے کہا بھائی صاحب آپ اپنی فیملی سمیت ادھر بھی آہیے گا تو وہ خوشی سے بولا کیوں نہیں ہماری امانت بیٹی جو آپ کے گھر میں ہے اسے لینے تو آنا ہی ہے۔ اس نے مختصر بات کی اور معزرت کرتی مصروفیت کا بہانہ بنا کر اٹھ گئی اور کمرے میں چلی گئی ماتھے پر پسینہ آ گیا تھا نتاشا اس کو پریشان دیکھ کر قریب آئی تو نتاشا نے پوچھا ماما کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی۔ اس نے قابو پاتے ہوئے کہا کچھ نہیں بس عروبہ کی جدائی کا سوچ کر دل بھر آیا تھا تو وہ تسلیاں دینے لگی نرگس بھی آ گئ اور وہ بھی اسے تسلی دینے لگی کہ اپنی خالہ کے گھر جا رہی ہے فکر نہ کرو میں تو پہلے ہی بھانجی پر فدا تھی اب تو اکلوتے بیٹے کی بیوی بننے والی ہے۔ ہما نے جزباتی ہو کر پوچھا کہ اسے پیار سے رکھو گی نا چاہے کچھ بھی ہو۔ نرگس حیران ہوتے ہوئے اسے گلے لگا کر بولی پاگل کیسی باتیں کرتی ہو میری بھانجی ہے وہ۔ ہما رونے لگی تو نرگس اسے گلے لگا کر تسلی دیتے ہوئے بولی پاگل ہے تو وہ اتنی خوش ہے دیکھو کیسے سب سے گھل مل کر باتیں کر رہی ہے سعد کے کزنوں سے۔ وہ بھی اس کے دوست بن گئے ہیں۔ میں گاوں میں اس کے ساتھ ہوں گی نا۔ نتاشا بھی اسے تسلی دینے لگی کہ جب نرگس خالہ ہیں تو پھر کیا فکر۔


جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books