Loading...
Logo
Back to Novel
Meri Masom Kali
Episodes
Meri Masom Kali

میری معصوم کلی 3

From Meri Masom Kali - Episode 3

عروبہ جو نرگس کو بچپن میں نجو جی بلاتی تھی بڑے ہو کر آنی بلانے لگی۔ جبکہ نتاشا خالہ جی پکارتی۔


عروبہ ہاتھ میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگ اٹھاے خوشی سے چلاتی ا کر نرگس کے گلے لگ کر مائی آنی کہتی پیار کیا۔ جواب میں اس نے بھی وارفتگی کا مظاہرہ کیا۔ اور عروبہ کا باپ جو چابی اٹھاے اندر داخل ہو رہا تھا دونوں خالہ بھانجی کو وارفتگی سے ملتے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ سعد اٹھ کر عروبہ کے باپ سے ملا۔ اس نے گرمجوشی سے اس کی پیٹھ پر تھپکی دی۔


نرگس اپنے گاؤں سسرال اگر زیادہ دن کے لئے جاتی تو ہما سے اجازت لے کر نتاشا کو ادھر ہیلپ کے لیے ساتھ لے جاتی۔ ہما اس نظریے سے بھیج دیتی کہ چلو اس کا بھی چینج ہو جائے گا۔ اس نے دیکھا وہ گاوں جانے کے نام سے خوش ہوتی ہے۔ ہما کو یہ بھی خیال آتا کہ اس کی زندگی ویسے بھی اس کا شوہر اور بیٹی اجیرن رکھتے ہیں تو پھر بھیجنے میں کیا حرج ہے۔


نرگس گاوں لے جانے کے لیے اس کے چند نیو سوٹ سلوانے کا بولتی۔ اس طرح ہما کو اسے چند اچھے جوڑے سلوا کر دینے کا موقع ملتا۔ کیونکہ نرگس کا آرڈر ہوتا کہ میرے سسرال کا معاملہ ہے۔ وہ بچپن سے اسے وہاں لے کر جا رہی تھی۔ اور ادھر اس کے ساس سسر اس پر ترس کھاتے کیونکہ ہما نے اسے بچپن سے ہی ہر کام میں تاک کر دیا تھا۔ وہ وہاں جاتی تو اس کی ساس کو آرام ملتا خود نرگس کی بھی ہیلپ ہو جاتی۔


نرگس اور ہما دو بہنیں تھیں۔ نرگس دو سال بڑی تھی۔ وہ شروع سے ہی پتلی دبلی تھی۔ جبکہ اس کی بہن ہما ہما زرا اس سے موٹی تھی۔


نرگس کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق نہ تھا وہ گھر رہنا اور گھر کے کاموں میں دلچسپی لینا اسے پسند تھا۔ جبکہ ہما کو پڑھنے کا شوق تھا۔ وہ کالج جانے لگی جبکہ نرگس میٹرک بھی نہ کر سکی۔ تو والدین نے سوچا وقت پر اس کی شادی کر دی جائے جبکہ ہما نے صاف کہہ دیا کہ جب تک وہ تعلیم حاصل کر رہی ہے وہ شادی نہیں کرے گی۔


ہما کی ماں نے آس پڑوس میں کہنا شروع کر دیا کہ بیٹی کا رشتہ درکار ہے۔ یہ لوگ سفید پوش تھے۔ ہما کا والد سرکاری ملازم تھا۔ محلے میں رہتے تھے پانچ مرلے کا گھر تھا۔ ہما کے باپ کے آفس میں ہی سعد کا باپ ملازم تھا۔ اور کنوارہ تھا۔ ہما کے باپ کو سعد کے باپ میں گھن نظر آئے تو اس نے اس کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ اسے پتا چلا کہ وہ قریبی گاؤں میں رہتا ہے۔ دو بہن بھائی ہیں۔ گاوں میں اپنا گھر زمینوں، جاہیدادوں کے مالک ہیں۔ نرگس کا باپ جو نرگس کی غصے والی عادت سے واقف تھا اور نرگس نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ لڑکے کو دیکھے بغیر شادی نہیں کرے گی۔ اور جو رشتے آ رہے تھے وہ مناسب نہ لگ رہے تھے۔


نرگس کے باپ نے سعد کے باپ سے راہ و رسم بڑھا لیے۔ وہ کسی دوست کے ساتھ رہتا تھا۔ اکثر اسے گھر سے کھانا لا لا کر دینے لگے عزر یہ پیش کیا کہ میرا کوئی بیٹا نہیں تم مجھے اپنے بیٹے جیسے دکھتے ہو۔ ہوٹل کا کھا کھا کر صہت خراب ہو گی اس لیے گھر کا لاتا ہوں۔ ایک دن بہانے سے گھر لے گئے۔ رضیہ کے کان میں ماں نے ڈال دیا تھا کہ تیرا باپ تیری اس سے شادی کروانا چاہتا ہے۔ رضیہ جو کچن کی کھڑکی سے اسے آتا دیکھ چکی تھی اور اسے پسند بھی ا گیا تھا۔ماں جو اسے دیکھتے دیکھ چکی تھی اس سے راے پوچھی تو اس نے شرما کر کہا ٹھیک ہے۔ماں ایکدم خوش ہو گئی اور فوراً شوہر کو خوش خبری سنائی۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ جب تک رشتہ پکا نہ ہو جائے ہما کو سامنے نہ کیا جائے۔ ہما کو بھی اعتراض نہ ہوا۔


جب ٹرے اٹھاے سر پر دوپٹہ لیے سادہ لباس میں ملبوس ماں کے پیچھے شرماتی ہوئی نرگس آئی تو سعد کے باپ کو پسند ا گئ۔


سعد کے باپ کو رضیہ کے گھر بہت پروٹوکول ملا۔ اس نے َسوچا والدین شادی جلد کروانا چاہتے ہیں اور اس کے سامنے نرگس کے باپ نے اپنی بیٹی کے لئے کوئی اچھا رشتہ بتانے کا کہا تھا۔ تو وہ گاوں گیا اور بتایا کہ اس کے آفس کے سینئر ہیں اور ساری بات بتائی کہ لڑکی سمپل سی ہے۔ گاوں کے ماحول میں امید ہے رچ بس جائے گی۔ گھر والے جا کر دیکھنے پر راضی ہو گئے۔ گھر سے والدین اور چھوٹی بہن آئی۔ رضیہ بہت خوش مزاجی سے انہیں ڈیل کرتی رہی۔ آج وہ انگوری ریشمی سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ہما امتحان کی تیاری کے بہانے اندر بٹھا دیا گیا۔ ان کو ڈر تھا کہ وہ زیادہ پڑھی اور خوبصورت ہے تو رضیہ کو ریجیکٹ نہ کر دیں۔


رضیہ نے نند اور ساس کو متاثر کیا۔ ان لوگوں نے شرط رکھی کہ لڑکی شادی کے بعد گاوں میں رہے گی۔ والدین پریشان ہو گئے۔ جب رضیہ سے پوچھا گیا تو اس نے گاوں میں رہنا قبول کر لیا۔ والد نے کہا کہ پھر سوچ لو تو اس نے کہا سوچ لیا ہے رہ لوں گی۔ اس کی بہن کو رضیہ پسند آئی۔ وہ پہلے ہی انگوٹھی اور لے کر آئے تھے۔ کہ اگر بات بن گئ تو رشتہ پکا کر کے شادی کی ڈیٹ لے لیں گے۔


جب نرگس کے ساس سسر نے سنا کہ گاؤں میں رہنے کے لیے لڑکی تیار ہے تو وہ بہت خوش ہوے۔ اور واری صدقے جانے لگے۔ اور انگوٹھی پہنانے کی اجازت مانگی۔ پھر ہما کو بھی بلا لیا گیا۔ جو پہلے فقط سلام کر کے پڑھائی کا بہانہ بنا کر چلی گئی تھی۔ اس کو تیار ہونے سے منع کیا گیا تھا۔ ہما نے سنا کہ آپا کا رشتہ پکا ہو گیا ہے اور اب انگوٹھی پہنانے کی رسم ہونے لگی ہے تو وہ خوشی سے مسکراتی ہوئی بھاگی آئی۔


رضیہ کو سرخ دوپٹہ اوڑھا کر ساس نے انگوٹھی پہنا دی۔ ہما اور رضیہ کی نند نے موبائل پر مووی وغیرہ بنائی۔ سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ سعد کا باپ سامنے بیٹھا مسکراتے ہوئے خوشی سے شرماتا ہوا وارفتگی سے اسے دیکھتا رہا۔ بہن اسے چھیڑ رہی تھی۔


نرگس بیاہ کر گاوں چلی گئی اور وہاں جا کر اسے احساس ہوا کہ ایک تو اس کے ساس سسر گاوں کے تھے۔ صرف ایک پکا گزارے لاہق کمرہ آگے تھوڑا سا برامدہ تھا۔ واش روم کافی دور صحن کے کونے میں تھا۔


گاوں میں جانور وغیرہ موجود تھے اور مرغیاں، بکرے،گاے بھینسیں سب موجود تھے۔ وہ سلیقے والی تھی۔ شوہر ہر ویک اینڈ پر ا جاتا۔ وہ شکایتوں کا پلندہ کھول دیتی۔ وہ اس معاملے میں بےبسی ظاہر کرتا۔ تو وہ چڑ جاتی لڑتی۔ وہ لکڑیاں جلاتے تو اسے یہ سب کام نہیں کرنے آتے۔ جلد ہی نند کی شادی بھی ہو چکی تھی اور وہ بیاہ کر امریکہ چلی گئی۔ اس کے سسرال والے دور کے رشتے دار تھے پاکستان آے لڑکے نے کسی شادی پر دیکھا پسند کیا۔ رضیہ اس پر رشک کرتی کہ وہ گاوں کی میرے جتنی پڑھی اور اس کی قسمت میں امریکہ لکھی ہوئی تھی۔ وہ بھی اتنی پڑھی لکھی فیملی شوہر بھی پڑھا لکھا اور دولت مند بھی۔ وہ ٹھاٹھ سے پاکستان آتی۔ سارے رشتے دار اس سے ملنے پر فخر محسوس کرتے۔


رضیہ گھر کے کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی۔ اپنے پورشن کو صاف رکھتی۔ گاوں میں رشتے داروں کے گھر قریب قریب ہوتے ہیں۔ ان کے بچے اگر کمرے میں آ کر چیزیں خراب کرتے تو وہ تنگ پڑتی۔ ساس سسر َسے بھی الجھتی۔ شروع شروع میں انہوں نے اس کو پروٹوکول دیا مگر جب اس نے شہر رہنے کی ضد کی تو وہ بھی کوشش میں لگ گئے کہ بیٹا چلا نہ جائے۔ انہوں نے اسے بیوی کے خلاف کرنا شروع کر دیا۔


جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ


جزاک اللہ



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books