Loading...
Logo
Back to Novel
Meri Masom Kali
Episodes
Meri Masom Kali

میری معصوم کلی 6

From Meri Masom Kali - Episode 6

ساجد چاے پی چکا تو باپ نے کہا کہ ہما جاگی ہےکیا۔ وہ بولا کچن سے آوازیں تو آ رہی ہیں اس نے کچن میں جاکر ہما سے پوچھا ایسا ہے کہ تم گھر میں کچھ نہ بنانا میں باہر سے لے آوں گا۔ وہ بولی سونے سے طبیعت بہتر ہو گئی ہے۔ ویسے بھی وقت کم ہے اور وہ لوگ ا نہ جائیں۔


وہ بولا اس ملکہ عالیہ کو بھی جگاو اور ڈھنگ کا ڈریس پہنے اور ان لوگوں سے ڈھنگ سے بات چیت کرے اسے سمجھا دینا۔


جی اچھا آپ فکر نہ کریں دیکھا نہیں کتنی بدل گئی ہے۔


وہ جواب میں خاموش رہا۔


اتنے میں باہر ڈور بیل ہوئی۔ ساجد بولا کون ہو گا۔ ہما بولی کوئی مانگنے والا ہو گا کام والی ملازمہ بھی ہو سکتی ہے گاوں گئ تھی بول رہی تھی کہ چند دن تک آ جاے گی۔ دودھ والا بھی دودھ دے گیا ہے۔ پھر زور سے بیل بجی۔


ہما بولی یہ بچے ہوں گے چھت پر بال آئی ہو گی۔


ساجد بولا میں تیار ہونے جا رہا ہوں تم دروازہ کھولو۔


ہما بولی آپ کی چھٹی کا مجھے کیا فائدہ۔ دودھ چولہے پر چڑھا رکھا ہے میں نہیں جا سکتی پلیز۔


وہ دروازے کی طرف چل پڑا ڈور بیل پھر زور سے بجی۔


ساجد زرا تیز آواز میں بولا آ رہا ہوں زرا صبر۔دروازہ کھولا تو سامنے اس کی بہن کے رشتے والے کھڑے ہوئے تھے وہ انہیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولے بای ہم سے صبر نہ ہوا ہم نے سوچا گھر کی بات ہے پہلے ہی چلے جاتے ہیں۔ وہ خوشی سے مسکراتے ہوئے لڈو اور مٹھائی کے ٹھوکروں سمیت اندر آ گئے۔


ساجد اپنے ناہٹ سوٹ پہنے شرمندہ سا ہو رہا تھا وہ بولے لگتا ہے۔ بہن کے شگن کے لیے آج چھٹی منا رہے ہو۔ وہ سر جھکا کر شرمیلی سے مسکرا کر انہیں اندر لے آیا۔


ہما کچن سے باہر نکلی اور حیرت سے انہیں مٹھائی، فروٹ کے ٹھوکروں سے لدھے پھندے دیکھ کر حیرت سے بڑے تپاک سے ملی۔ مہمان عورت نے پوچھا ہماری شہزادی کدھر ہے۔ ہما نے جلدی سے کہا جی وہ باتھ روم میں ہے آپ لوگ بیٹھیں میں اسے بلاتی ہوں۔ انہوں نے ڈرائنگ روم کی بجائے الاونج میں بیٹھنا پسند کیا۔ اور بےتکلف ہو کر ساجد سے باتیں کرنے لگے۔ ہما سسر کو بھی لے آئ۔


ساجد نے کھڑے ہو کر معزرت چاہی کہ میں زرا تیار ہو آوں تو مہمان عورت نے کہا کہ بیٹا گھر میں ہو ایزی رہو۔ ہم کون سا پراے ہیں۔ بیٹھو۔ ہم نے تو صبح ہونے کا انتظار بھی۔ مشکل سے کیا تمھارے انکل کہہ رہے تھے کہ میں نے انہیں شام کا بولا ہے مگر میں نے کہا کہ ہم کون سا پراے ہیں اپنا گھر ہے۔


ہما کے سسر نے کہا کہ جی بہت ا چھا کیا۔ آپ لوگوں کا اپنا گھر ہے۔ مگر آپ لوگوں نے اتنا تکلف کیوں کیا۔


عورت بولی تکلف کیسا یہ تو ہماری خوشی ہے۔ ہما معزرت کرتی جانے لگی تو مہمان مرد بولا کچھ بھی تکلف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ناشتہ کر کے آے ہیں اب ایک بار ہم شگن کی مٹھائی کھاہیں گے۔


مہمان عورت بولی بس جلدی سے ہماری بیٹی کو بلا لاو۔


ہما جلدی سے نند کے کمرے میں بھاگی۔


مہمان عورت بھی اٹھی اور بولی میں زرا واش روم سے ہو آوں۔ ساجد اٹھنے لگا تو وہ جلدی سے بولی بیٹھو بیٹھو میں ہما سے پوچھ لوں گی۔


ساجد کھویا کھویا مہمان مرد کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا ایک تو اسے اپنے ناہٹ ڈریس سے شرم آ رہی تھی۔ اوپر سے بہن کے رویے کی بھی فکر تھی۔


ہما کمرے میں پہنچی تو نند کے بیڈ کے پاس جا کر کھڑی ہوئی تو دیکھا پیچھے مہمان عورت بھی مسکراتی کھڑی تھی بولی واش روم جانا تھا۔ ہما بولی لگتا ہے تھک کر پھر سو گئ ہے صبح سے میرے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ عورت بولی اچھا جگاو ہم نے شگن بھی کرنا ہے۔ پھر آج ہی شادی کی تاریخ بھی فکس کرنی ہے۔


ہما نے اس کے منہ سے چادر ہٹائی تو نیچے تکیے پڑے تھے ہما کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ عورت بھی حیرت سے بولی یہ کیا ماجرا ہے۔ ہما جواب نہ دے سکی۔


ساجد کے باپ کا فون بجا اور اس نے جیب کمزور ہاتھوں سے نکالا۔ اور بیٹے سے بولا سپیکر آن کر دے۔ دیکھوں کس کا ہے۔ بیٹے نے باپ کے حکم کی تعمیل کی اور سپیکر آن کیا تو ہما کی نند بولی ڈیڈ میں نے آپ کو بھائی کو کتنا سمجھایا کہ جہاں میں چاہتی ہوں وہاں میری شادی کر دیں مگر آپ لوگوں نے میرے ساتھ پکی ضد لگائی مجھے سارا دن کمرے میں بند رکھا۔ اب میں گھر سے جا رہی ہوں اپنی پسند سے شادی کرنے۔ بھائی کے ہاتھ سے فون گر گیا۔ وہ عورت کمرے میں غصے سے آئی۔ ہما بھی پیچھے پیچھے آ گئ آگے فون پر سپیکر سے آواز آ رہی تھی۔


وہ عورت غصے سے چلائی توبہ توبہ کیسے دھوکے باز لوگ ہیں اپنی آوارہ لڑکی کو ہمارے سر منڈھ رہے تھے۔ یہ اپنے ہو کر ہمیں دھوکہ دے رہے تھے تو بندہ غیروں پر کیا بھروسہ کرے۔ یہ تو ہمارا بیٹا اس کی خوبصورتی پر فدا ہوا تھا پھر شوہر اور بیٹے کو سامان اٹھا کر چلنے کا بولا مرد بھی برا بھلا کہنے میں بیوی کا ساتھ دینے لگا۔ اور وہ طعنے دیتے بکتے جھکتے چلے گئے۔


ساجد کا شرمندگی اور غصے اور دکھ سے دماغ پھٹنے لگا تھا بیوی نے کندھے پر ہاتھ رکھ تسلی دی تو اس نے بےبسی سے اسے دیکھا۔ ہما کی نظر سسر پر پڑی تو وہ صوفے پر گرے ہوئے تھے۔


ہما نے چلا کر ساجد سے کہا ساجد ابا جی۔ اس نے باپ کو دیکھا تو تیزی سے اٹھا اور انہیں گود میں اٹھا کر بولا گاڑی کی چابی لاو۔


وہ بھاگ کر چابی لائ پچھلا دروازہ کھولا انہیں لٹایا۔ اتنے میں ہما اس کا پرس لے آئ۔


وہ دونوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھے باہر نکلے تو چند محلے دار کھڑے ہوئے تھے اور پوچھنے لگے ابھی وہ لوگ بتا رہے تھے کہ آپ کی بہن کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ اور آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں ہما نے چلا کر کہا پلیز تنگ نہ کریں انکل کی طبیعت خراب ہو گئی ہے انہوں ہاسپٹل لے کر جارے ہیں۔ ایک بولا ظاہر ہے بیٹی جو ایسے کرتوت کرے تو باپ کی طبیعت تو خراب ہونی ہی تھی۔ وہ لوگ گیٹ بند کرنا بھی بھول گئے ہما نے دیکھا ایک محلے دار گیٹ بند کر رہا تھا۔


ساجد کے دوست کا کلینک تھا وہ اسی سے باپ کا علاج کرواتا تھا۔


ساجد تیز اور رف گاڑی چلا رہا تھا اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ گاڑی کو کسی گاڑی سے ٹکرا دے۔ ہما چلا رہی تھی۔ اس کا دماغ ماوءف ہو رہا تھا۔ ہما نے احساس دلایا کہ ابا جی بھی ساتھ ہیں۔ تو اسے ان کا احساس ہوا اور وہ محتاط ہو گیا۔ بڑی مشکل سے ہاسپٹل پہنچا تو ہما نے بھاگ کر اس کے دوست کے روم میں جا کر جلدی سے اسے ساری سسر کی طبیعت کا بتایا وہ چاے پی رہا تھا نرس پاس کھڑی تھی۔ اس نے کہا کہ بھابی آپ پریشان نہ ہوں چاے کا کپ رکھا اور نرس کو سٹریچر لانے کی ہدایت کرنے لگا۔


ہما باہر آئ تو ساجد بھی صوفے پر اوندھا گرا بےہوش پڑا تھا۔ ہما رونے لگی ڈاکٹر صاحب نے تسلی دی اور عملے کو بلایا۔


ایک طرف ساجد اور دوسری طرف سسر کا علاج جاری تھا۔ ہما نے چلتے وقت موبائل تو اٹھایا تھا مگر اب اس کے ہاتھ میں نہ تھا وہ تیزی سے گاڑی کی طرف بھاگی۔ گاڑی کا ایک دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اور گاڑی کی چابی لگی ہوئی تھی گارڈ ا گیا وہ جانتا تھا اس نے کہا کہ دروازہ کافی دیر سے کھلا ہوا تھا میں دیکھ رہا تھا بی بی جی آپ پریشان نہ ہوں۔ اس نے اگلی سیٹ پر دیکھا موبائل نیچے گرا ہوا تھا اس نے گارڈ کو نظرانداز کیا تو وہ چل پڑا پھر اس نے گاڑی کے پاس کھڑے ہو کر نرگس کو رو رو کر فون ملایا اور ساری کہانی جلدی سے سنا ڈالی۔ وہ اس وقت گاوں سے ابھی شفٹ نہ ہوئی تھی وہ اسے پیار سے تسلیاں دینے لگی۔ وہ بولی میری جان میں آ تو نہیں سکتی۔ مگر تمھارے بہنوئی کو ابھی فون کرتی ہوں وہ آ جاہیں گے۔ پھر وہ اس سے مسلسل فون پر رابطے میں رہی اور تسلیاں دیتی رہی


۔ اس کا شوہر بھی پہنچ چکا تھا۔ اور ہما کو کچھ آسرا مل گیا تھا۔


ڈاکٹر صاحب نے ہما سے پوچھا بھابی کیا بات ہے آخر کیا ہوا ہے۔ وہ نظریں جھکائے بولی بھائی شوہر کی اجازت کے بغیر آپ کو نہیں بتا سکتی۔ کچھ گھریلو معاملہ ہے مگر اتنا بتا دوں کہ دونوں کو گہرا صدمہ پہنچا ہے جو ان دونوں کے لئے برداشت کرنا مشکل ہے۔ اور وہ جلدی اس شاک سے نہیں نکل سکتے۔ بحرحال میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گی۔ کہ جلد ان کو شاک سے نکال سکوں۔


ڈاکٹر صاحب نے ایک لمبا سانس کھینچا اور بولا مجھے بھی شک تھا کہ ان لوگوں کو کوئی گہرا صدمہ لگا ہے۔ بہرحال زندگی میں یہ باتیں لگی ہوئی ہیں۔ دکھ سکھ ملتے رہتے ہیں۔ آپ کو ان دونوں کو یہاں ایڈمٹ کرنا پڑے گا۔ میں ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتا رہوں گا۔ پر آپ بھی تو حوصلے سے کام لیں ورنہ مجھے لگتا ہے آپ کو بھی ایڈمٹ ہونے کا شوق ہے۔ پلیز بھابی آپ ہمت سے کام لیں۔ اللہُ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔


اسے ڈاکٹر صاحب کی ہمت بندھانے سے قدرے ہمت ملی۔ نرگس بھی بار بار اسے سمجھا رہی تھی کہ خدانخواستہ کوئی مر تو نہیں گیا نا جو تم اتنی پریشان ہو کر اپنا سکون اپنی صحت خراب کر رہی ہو۔ خود بھی نارمل رہو اور ان کو بھی تسلی دو۔ پاگل لڑکی گھر بھی کھلا چھوڑ آئی ہو۔ کسی اعتبار والی پڑوسن کا فون نمبر ہے تو اسے فون کر دو تاکہ وہ خیال رکھے۔ سارے محلے کو پتا ہے کہ گھر کھلا ہوا ہے۔ ایک کسی کو زمہ داری دے دو۔ وہ بولی اچھا آپا ہے نمبر میں کرتی ہوں۔ مجھے تو فکر ہو رہی ے کہ میں محلے والوں کا فیس کیسے کروں گی۔ بہت بدنامی ہوئی ہے سارے محلے کو پتا چل چکا ہے۔کمبخت جاتے جاتے سارے محلے کو بتا گئ۔ اسے ادھر سے بہت جہیز ملنے کا لالچ تھا۔ وہ باتوں باتوں میں کہہ رہی تھی کہ لوگ بیٹی کے جہیز میں چھوٹی موٹی اور فضول چیزوں پر اتنا روپیہ برباد کرتے ہیں۔ فرنیچر، برتن کپڑا لتا۔ یہ سب چیزیں ہر گھر میں پہلے ہی موجود ہوتی ہیں۔ پھر اور گھر بھر دیتے ہیں بہتر ہے کہ کوئی ایک ہی بڑی چیز دے دیں جیسے، پلاٹ، گاڑی وغیرہ۔


نرگس بولی میں نے تو ساس سسر کو سب سچ بتا دیا ہے ویسے بھی ان کو بیٹا بتا دے گا۔ اور ان کو ایک دن پتا تو چل جائے گا۔ تم بھی فکر نہ کرو محلے والے باتیں بنائیں گے پھر خود ہی بھول جاہیں گے۔ میں ساس کو منانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ سسر کے ساتھ آ جاوں۔ کچھ نیم رضامند ہو گئ ہیں اور ان کو بھی منا رہی ہوں۔ تم فکر نہ کرو۔ میں خود تمہارے پاس آنے کے لئے تڑپ رہی ہوں میری جان۔


جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں


پلیز اسے like, share اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books