Meri Masom Kali
Episodes
ہما کو ایک دن نند کا میسج آیا کہ پلیز فری ہو کر کال کرنا تمہیں اپنی دوستی کا واسطہ۔ ہما نے اسے میسج کیا میں خود تمہارے لیے پریشان تھی۔ میں نیو سم نیو چھوٹا Nokia موبائل لوں گی اور چھپا کر جب بھی موقع ملے تم سے بات کیا کروں گی۔
اس نے جب اس سے بات چیت کی تو کافی پریشان رہی۔ میاں اس کا باہر جانے والا تھا اس لیے وہ اس سے زیادہ بات نہ کر سکتی تھی۔ جب میاں پردیس چلا گیا تو اسے گھر کے باہر کے کام بھی خود ہی انجام دینے پڑتے۔ اب وہ نند سے بات کرتی۔ اس کے لیے پریشان رہتی۔ شکر کرتی کہ اس ایریا کے پڑوسی اچھے اور ساتھ دینے والے تھے۔ ساتھ جڑا گھر اس کے لیے نعمت سے کم نہ تھا بوڑھے میاں بیوی اور ان کی بہو بیٹا رہتے تھے۔ ان کے تھوڑے بڑے دو بچے تھے ایک بیٹا ایک بیٹی۔ بیٹا بارہ سال کا اور بیٹی دس سال کی۔ شروع میں ہما نے ان کا بہت ساتھ دیا جب بہو باپ کے مرنے پر چالیس دن ادھر ہی رہی۔ اتفاق سے بچوں کی گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔ ہما نے اس کے ساس سسر کی پوری زمہ داری سنبھال لی۔ ناشتے سے لیکر رات کے کھانے تک۔ اپنی نگرانی میں ان کی ماسی سے صفائی کرواتی کپڑے ان کے اپنی آٹومیٹک مشین میں دھوتی۔ غرض جی جان سے خدمت کرتی۔ ان سے کھانے پینے کا خرچہ بھی نہ لیا۔ تب سے اس فیملی نے ہما کا جی جان سے ساتھ دیا۔
ہما کی نند نے اپنے بوائے فرینڈ سے بات کرنے کے لیے ایک سمارٹ فون میں اس کا نمبر save کیا اور ایک Nokia چھوٹے موبائل میں جسے وہ چھپا کر رکھتی۔ اسے ڈر تھا کہ باپ اور بھائی اس کا خاندان میں رشتہ کرنا چاہتے ہیں وہ لوگ اسے سخت ناپسند تھے لڑکے کی ماں اسے لالچی اور چڑیل لگتی۔ اور لڑکا اس کے آہیڈیل کے بلکل برعکس اسے بونگا لگتا جو جاہلانہ طریقے سے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہتا۔ خاندان کے ہر فنکشن میں اس کے گرد منڈلاتا رہتا۔ رشتے دار لڑکیاں طنزیہ مسکراتیں۔ اسے اس کا مجنون قرار دیتیں۔ اسے سخت الجھن ہوتی۔ اس کی ماں بھی اس پر واری صدقے جاتی۔ کئی بار تو اس نے مشہور کر دیا تھا کہ اس نے اس کا رشتہ کر لیا ہے۔ وہ یہ سن کر کھول کر رہ جاتی۔ اس نے ان لوگوں کو کھبی لفٹ نہ کرائی۔ وہ لڑکا ایف ایس سی تھا اور کسی پرائیویٹ فرم میں ملازم تھا۔ جبکہ وہ انجینئر تھی۔ اسے حیرت ہوتی کہ گھر والے بھی ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتے۔ وہ اس رشتے سے مسلسل انکار کرتی مگر وہ دھیان ہی نہ دیتے۔ اس نے کئی بار انتہائی قدم اٹھانے کی بھی دھمکی دی مگر وہ لوگ ٹس سے مس نہ ہوے۔ اس کی پڑھائی ختم ہونے کے بعد کا بہانہ بنا کر ٹالتے رہے۔ ان لوگوں نے بھی پیچھا نہ چھوڑا مسلسل اصرار کرتے رہے۔
ہما کی نند بہت خوب صورت اور اکڑوں تھی۔ فیشن کی دلدادہ بھی تھی۔ پہلے تو والدین نے کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ بھائی اس وقت کسی گنتی میں ہی نہ تھا۔ جب تک سوتیلی ماں زندہ تھی۔ حالانکہ ساجد برسرروزگار تھا باپ بھی ریٹائرڈ ہو چکا تھا۔ بہن تو اسے لفٹ ہی نہ کراتی تھی۔
ماں کی وفات کے بعد بھائی سربراہ بن گیا تو بہن بھی اس کے آگے اب زیادہ نہ بول سکتی تھی کیونکہ ماں کے مرنے کے بعد باپ کی توجہ کا مرکز اب بیٹا بن گیا تھا اور باپ اب اسے بھائی کی فرمانبرداری کرنے اور فضول خرچی پر باز پرس کرنے لگا تھا۔ بھائی بھی اب اس پر روک ٹوک کرنے لگا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ چڑچڑی ہو گئ تھی۔ وہ لاہف کو ہر لمحہ انجوائے کر کے گزارنا چاہتی تھی۔ اس لیے وہ ہر وقت انجوائے کرنے کے لیے کبھی شاپنگ کے لیے نکل جاتی کھبی قریبی پارک چلی جاتی۔ اسے اس بات کی قطعی فکر نہ ہوتی کہ کوئی کیا کر رہا ہے اور کوئی کیا کہے گا۔ گھر ہوتی تو اونچی آواز میں میوزک سنتی۔ کھبی ڈانس کرتی۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں
پلیز like, share اور کمنٹ کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.