Meri Masom Kali
Episodes
ہما کی نند کو ڈر تھا کہ گھر والے اس کی شادی خاندان میں کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کو ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی جس کے ساتھ وہ زہنی طور پر مطمئن رہتی تھی اور خوش بھی۔ وہ گھر والوں کے آگے رو پیٹ چکی تھی مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا تھا۔ اب وہ کوئی انتہائی قدم اٹھا کر اس مسئلے کا حل چاہتی تھی۔
اس کا بوائے فرینڈ مالدار اور خاندانی تھا وہ شاپنگ مال میں چیزیں دیکھ رہی تھی جب دونوں کا سامنا ہوا۔ اسے یہ لڑکا اپنے سپنوں کے مطابق لگا۔ وہ اس کے بارے میں جاننا چاہتی تھی اس نے اس کے سامنے اپنا شاپر بھولنے کی اداکاری کرتے ہوئے اپنا شاپر ادھر ہی چھوڑ دیا اور آگے بڑھ گئی۔ اسے امید تھی کہ وہ پیچھے آئے گا کیونکہ وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی کی چمک دیکھ چکی تھی۔ وہ اس کی امید کے مطابق پیچھے اسے مس مس کہتا آ رہا تھا اور وہ آگے بڑھتی جا رہی تھی وہ اس رش والی جگہ سے نکل کر کیفے کی طرف بڑھتی گی ایک ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئی۔ وہ بھی ہانپتا ہوا اس کی سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ کر بولا آپ نے بہت دوڑ لگوائی ہے وہ مسکرائی تو لڑکے کو بھی حوصلہ افزائی ملی۔ وہ بھی جواب میں مسکرا دیا۔ اس طرح دونوں کی دوستی کی ابتداء ہوئی۔ اس لڑکے نے بتایا کہ اس کے گھر والے بھی اس کی شادی خاندان میں کروانا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی نسل میں کسی غیر خاندان کا خون شامل نہیں کریں گے۔ اب وہ دونوں پریشان تھے تو لڑکے نے گھر والوں کو کہا کہ وہ اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا ہے تو باپ نے اس کی توقع کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر اس نے ان کی بات نہ مانی تو وہ خود کو بھی گولی مار دیں گے اور تمھیں بھی گولی مار کر اپنی نسل ختم کر دیں گے۔ اور اس نے بھی شرط رکھ دی کہ وہ خاندان میں جس سے بھی کہے گا وہ اس سے کرواہیں گے باپ نے شرط مان لی۔ اس نے بھی غصے اور انتقام میں ان کے رشتے داروں میں جو سب سے پینڈو لوگ تھے اور ان کی بیٹی مڈل پاس تھی اس سے شادی کرنے کی شرط رکھ لی ورنہ کھبی شادی نہ کرنے کی دھمکی دے دی۔ وہ مجبور ہو گئے اور اس کی شرط مان لی۔ اور لڑکی والوں سے رشتہ پکا کر دیا۔ اور اس کی شادی کی تیاریاں زور وشور سے شروع کر دیں۔
ادھر ہما کی نند کو اس بارے میں اس نے کچھ نہ بتایا وہ اس سے پیار کرتا تھا پیسے والا تھا اسے الگ رکھ کر اس سے بھی خفیہ شادی قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ہما کی نند کے کہنے پر اس کے بھائی کو فون کیا اور سب سچ بتا دیا اور اپنی مجبوری ظاہر کر دی۔ جواب میں اس کے بھائی نے اس کی خوب بےعزتی کی کہ تم امیرزادہ ساری زندگی میری بہن کو رکھیل بنا کر رکھنا چاہتے ہو۔ ایسا تم نے سوچا بھی کیسے ہم خاندانی لوگ اس بات کے لیے مان جائیں گے۔ اور آہندہ میری بہن سے ملنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔ اس نے بہن کو بھی سختی سے ڈانٹ کر منع کر دیا۔
بہن اس دن ماں کو یاد کر کے بہت روئی۔ ہما اسے تسلیاں دیتی رہی۔ وہ روتے ہوئے بولی آج میری ماما زندہ ہوتی تو وہ ضرور میری خواہش اور خوشی کا خیال رکھتی۔ آج ان کی لاڈلی کی کوئی بات نہیں مان رہا۔ وہ روتے ہوئے بولی ماما پلیز مجھے اپنے پاس بلا لیں۔ میں اب آپ کے بغیر نہیں رہنا چاہتی۔ آپ کے سوا اب مجھ سے پیار کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ رو رو کر اللہ تعالیٰ سے اپنی موت کی دعائیں مانگنے لگی۔ ہما اسے منع کرتی ایسے موت کی دعا کھبی نہیں مانگتے کھبی منظوری کا ٹائم بھی ہو سکتا ہے ہو سکتا ہے یہ وقت عارضی ہو اور کوئی بڑی خوشی تمہیں ملے اور اسے پانے کے لئے وقت نہ ہو۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں۔
پلیز اسے like share اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.