Loading...
Logo
Back to Novel
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
قسط 1: محبت دل کا زہر یا سرور 1 قسط 2: محبت دل کا زہر یا سرور 2 قسط 3: محبت دل کا زہر یا سرور 3 قسط 4: محبت دل کا زہر یا سرور 4 قسط 5: محبت دل کا زہر یا سرور 5 قسط 6: محبت دل کا زہر یا سرور 6 قسط 7: محبت دل کا زہر یا سرور 7 قسط 8: محبت دل کا زہر یا سرور 8 قسط 9: محبت دل کا زہر یا سرور 9 قسط 10: محبت دل کا زہر یا سرور 10 قسط 11: محبت دل کا زہر یا سرور 11 قسط 12: محبت دل کا زہر یا سرور 12 قسط 13: محبت دل کا زہر یا سرور 13 قسط 14: محبت دل کا زہر یا سرور 14 قسط 15: محبت دل کا زہر یا سرور 15 قسط 16: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 17: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 18: محبت دل کا زہر یا سرور 18 قسط 19: محبت دل کا زہر یا سرور 19 قسط 20: محبت دل کا زہر یا سرور 20 قسط 21: محبت دل کا زہر یا سرور 21 قسط 22: محبت دل کا زہر یا سرور 22 قسط 23: محبت دل کا زہر یا سرور 23 قسط 24: محبت دل کا زہر یا سرور 24 قسط 25: محبت دل کا زہر یا سرور 25 قسط 26: محبت دل کا زہر یا سرور 26 قسط 27: محبت دل کا زہر یا سرور 27 قسط 28: محبت دل کا زہر یا سرور 28 قسط 29: محبت دل کا زہر یا سرور 29 قسط 30: محبت دل کا زہر یا سرور 30
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor

محبت دل کا زہر یا سرور 1

From Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor - Episode 1

فواد کی طبیعت سخت خراب تھی ڈاکٹر صاحب آے ہوئے تھے اور اسے انجکشن لگا رہے تھے۔ ان کا سوتیلا بھائی حویلی میں کھڑا بندوق کندھے سے لٹکائے مونچھوں کو تاو دیتا ڈاکٹر صاحب کی ہدایات کا منتظر کھڑا تھا۔ فواد کا چودہ سالہ بیٹا باپ کے سرہانے پریشان حال بیٹھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ چند دن ان کی زندگی کے بچے ہیں۔ ان کے کھانے کے لیے کوئی ٹھوس غزا نہیں دے سکتے ورنہ ان کو نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے۔ قیوم ان کا سوتیلا بھائی روتے ہوئے بولا ڈاکٹر صاحب کوئی تو علاج ہو گا میں اپنے بھائی کو بڑے شہر لے کر جاوں گا اپنی ساری جاہیداد بیچ دوں گا۔ ڈاکٹر صاحب نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں اللہ تعالیٰ بہتر فرمائے گا۔ اس کا بیٹا رونے لگا۔ ڈاکٹر تیزی سے باہر نکل گیا فواد شاید انجکشن کی وجہ سے نیند میں چلا گیا تھا


قیوم نے اس کے چودہ سالہ بیٹے کو گلے سے لگاتے ہوئے کہا کہ وہ فکر نہ کرے۔ میں تیرے باپ کا علاج ا چھے سے اچھے ڈاکٹر سے کراوں گا کل میں اس سلسلے میں شہر جاوں گا اور میرے ہوتے ہوئے تجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تیرا تایا ہے نا۔ بچہ روتے ہوئے باہر چلا گیا۔


چند روز ڈاکٹر آتا اور ڈرپ میں انجکشن لگا کر چلا جاتا۔ فواد نے اپنے سوتیلے بھائی قیوم سے کہا کہ میرا بچہ ابھی بہت چھوٹا ہے اس سے پہلے کہ مجھے کچھ ہو جائے تو میرے بیٹے کی جاہیداد کا نگران بن جا جب وہ جوان ہو کر اس قابل ہو جائے تو پھر اسے دینا۔ میں کسی اور پر بھروسہ نہیں کر سکتا تم میرے بھائی ہو۔ ایکدم سے قیوم کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی جسے فواد نے واضح طور پر محسوس کیا اور حیران ہوا۔


قیوم پہلو بدل کر بولا تم بلکل فکر نہ کرو میں اس کی پوری حفاظت کروں گا۔ اور ملازم کو زور زور سے آوازیں دیں کہ پانی دے جائے۔ ایسے لگا جیسے یہ خبر سن کر اس کی دیرینہ مراد بھر آئی ہو۔


اس نے اپنے پرانے ملازم جس پر اسے بھروسہ تھا موقع پا کر کان میں کچھ کہا۔


ملازم دین نے فواد کے بیٹے امر کو موقع پا کر باپ کا پیغام دیا وہ حیران ہوا تو دین نے مدد کی حامی بھری۔


امر باپ کے پاس گیا تو باپ نے کچھ ہدایات دیں اور دین کی مدد سے اس پر عمل کرنے کا حکم دیا۔


امر نے بیگ بنا کر دین کو دیا اس نے موقع لگا کر اس بیگ کو میلے کپڑوں کی گٹھڑی میں باندھا اور باہر جا رہا تھا کہ قیوم آگے سے آ رہا تھا اس سے پوچھا کدھر جا رہے ہو اس نے کہا صاحب میلے کپڑے دھلائی کے لیے دینے جا رہا ہوں دھوبی کے پاس۔ وہ بولا اچھا۔


دین نے سانس لیا اور جلدی سے راستے میں بیگ امر کو دیا وہ لے کر جیپ میں رکھ کر تیزی سے چل پڑا پھر دین جلدی سے دھوبی کے پاس کپڑے لے گیا تاکی ثبوت ہو جائے۔


قیوم گھر گیا کھانا کھایا۔ پھر سو گیا دین نے فواد کو بتا یا کہ امر بابو اب پہنچ گئے ہوں گے گاوں۔


شام کو وہ فواد کے کمرے میں آیا اور پوچھا میرے بھائی کیسے ہو اس نے آہستہ آواز میں کہا کہ ٹھیک ہوں تم وکیل کو تیار رکھنا آج بدھ ہے جمعہ کے مبارک دن پر میں جاہیداد کی اٹارنی تمھارے نام کر دوں گا۔ اتنے میں اس کا بڑا بیٹا اندر آیا اور بولا چچا اب طبیعت کیسی ہے۔ وہ بولا میں دن گزار رہا ہوں۔ اس نے باپ سے پوچھا ابا امر جیپ لے کر کدھر گیا ہے۔ دین بولا امر بابو کہہ رہے تھے شکار پر جا رہا ہوں وہ بولا باپ کی یہ حالت ہے اور اسے شکار کی سوجی ہے قیوم بولا پتر حیوان عمر ہے نا اسی لیے تیرا چاچا پرسوں جاہیداد کی اٹارنی میرے نام کروا رہا ہے۔ وہ اسے چمکتی آنکھوں سے دیکھنے لگا باپ نے کہا پتر وکیل کا بندوبست کر لینا۔ وہ بولا ابا فکر نہ کر سب ہو جائے گا۔ وہ بولا میں کل شہر جا رہا ہوں کسی اچھے ڈاکٹر صاحب کو لانے جو بتا سکے کہ کیسے اچھا علاج ہو سکتا ہے۔


جاری ہے۔ راہٹر عابدہ زی شیریں


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books