Loading...
Logo
Back to Novel
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
قسط 1: محبت دل کا زہر یا سرور 1 قسط 2: محبت دل کا زہر یا سرور 2 قسط 3: محبت دل کا زہر یا سرور 3 قسط 4: محبت دل کا زہر یا سرور 4 قسط 5: محبت دل کا زہر یا سرور 5 قسط 6: محبت دل کا زہر یا سرور 6 قسط 7: محبت دل کا زہر یا سرور 7 قسط 8: محبت دل کا زہر یا سرور 8 قسط 9: محبت دل کا زہر یا سرور 9 قسط 10: محبت دل کا زہر یا سرور 10 قسط 11: محبت دل کا زہر یا سرور 11 قسط 12: محبت دل کا زہر یا سرور 12 قسط 13: محبت دل کا زہر یا سرور 13 قسط 14: محبت دل کا زہر یا سرور 14 قسط 15: محبت دل کا زہر یا سرور 15 قسط 16: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 17: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 18: محبت دل کا زہر یا سرور 18 قسط 19: محبت دل کا زہر یا سرور 19 قسط 20: محبت دل کا زہر یا سرور 20 قسط 21: محبت دل کا زہر یا سرور 21 قسط 22: محبت دل کا زہر یا سرور 22 قسط 23: محبت دل کا زہر یا سرور 23 قسط 24: محبت دل کا زہر یا سرور 24 قسط 25: محبت دل کا زہر یا سرور 25 قسط 26: محبت دل کا زہر یا سرور 26 قسط 27: محبت دل کا زہر یا سرور 27 قسط 28: محبت دل کا زہر یا سرور 28 قسط 29: محبت دل کا زہر یا سرور 29 قسط 30: محبت دل کا زہر یا سرور 30
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor

محبت دل کا زہر یا سرور 27

From Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor - Episode 27

شبنم ساری رات جاگتی رہی تھی اور صبح اس کی آنکھ لگ گئی۔ امر نے ناشتہ کرنا تھا تو دیکھا وہ سو رہی ہیں وہ جگانے لگا تو باپ نے جگانے نہ دیا کہ اب وہ پہلے جیسی جوان نہیں ہے کہ اتنی ڈیوٹی دے۔ تم باہر سے کچھ منگوا لو۔ اب تم جوان ہو ماشاء اللہ گھر بسانے والے ہو۔ ادھر تمہیں اب ماں کو لے کر جانے کی ضرورت ہو گی ورنہ وہ لوگ اعتراض کریں گے۔


وہ غصے سے بولا آپ نے اپنی بیوی کو بہت سر چڑھا رکھا ہے۔


شوہر نے مسکرا کر کہا تم بھی تو ہر وقت فون سے چپکے رہتے ہو۔ بیوی دکھ سکھ کا ساتھی ہے۔ اس کے بغیر زندگی ویران ہے۔ تم بھی ابھی اس تجربے سے گزرنے والے ہو۔


امر غصے سے بولا میں آپ کو صاف بتا دوں کہ میں شادی کے بعد اس گھر سے چلا جاوں گا۔ میں اب اور آپ کی بیوی کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔


باپ نے غصے سے کہا کہ اس نے تمہیں پالا ہے۔


وہ تمسخر سے ہنسا اور بولا میں چودہ سال کا جوان لڑکا تھا پلا پلایا مجھے کسی نے نہیں پالا۔


باپ نے کہا وہ ابھی تک تمھیں پال رہی ہے۔ ایک ناشتہ بھی تم خود سے اپنا بنا نہیں سکتے اس کے لیے بھی تمہیں اسی کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ کپڑے دھونے استری تک وہ کر کے دیتی ہے۔ سگی ماں کی طرح پیار کرتی ہے۔ سوتیلی ماں کی طرح سلوک کرتی پھر تمہیں عقل آتی۔


شور سن کر شبنم اٹھ گئی امر غصے سے اسے دیکھ کر باہر نکل گیا۔


شبنم نے شوہر سے گلہ کیا کہ آپ اسے میری طرفدار ی کر کے کیوں اسے میرے ساتھ پرسنیلٹی کلیش ڈالتے ہیں۔ اس کے دل میں آتا ہے کہ میرا باپ اس سے زیادہ مجھ سے پیار کرتا ہے تو وہ احساس محرومی کا شکار ہو جاتا ہے۔ آپ اس کے سامنے مجھے برا بھلا بول دیا کریں ڈانٹ دیا کریں۔


فواد نے اسے محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ اسے برا بھلا کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بھلا اتنی خوبیوں کی مالک کو کوئی کچھ کہہ سکتا ہے بھلا جو موقع ہی نہیں دیتی کچھ کہنے کا۔ سچ میں میں اور میرا بیٹا ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ اسے سگی ماں جیسا پیار کرنے والی ملی اور مجھے جیون کی بہترین ساتھی۔ شکر ہے اللہ تعالیٰ کا اور ڈاکٹر صاحب کا مشکور ہوں جو وسیلہ بنے۔ واقعی وہ بہت گریٹ ہیں۔ وہ ہمارے گاؤں میں تین دن ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں وہ بھی بلا معاوضہ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ڈاکٹر بننے کا کیا فائدہ جب ہم س پیشے سے اپنے ہم وطنوں کو فیض یاب نہ کریں۔ اور اس مقدس پیشے کو صرف آمدنی ک زریعہ بنا کر دولت جمع کرتے رہیں۔ ہم کیوں نہ اپنی آخرت کی تجوری بھریں جو اس ہمیشہ کی زندگی میں کام آئے۔ اس عارضی دنیا کے لئے دھن دولت جمع کرتے ہوئے خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔


شبنم نے فکرمندی سے کہا کہ میرا بیٹا بھوکا چلا گیا ہے۔


فواد نے ڈانٹ کر کہا کہ اب وہ بچہ نہیں ہے بھوک لگی تو ضرور کچھ کھا لے گا۔ آپ فکر نہ کریں۔ چلیں ناشتہ بنائیں دونوں کرتے ہیں۔


شبنم نے ناشتے کے دوران کہا کہ وہ آج مارکیٹ جائے گی زرا دیر ہو سکتی ہے۔


فواد نے فوراً کہا ضرور جائیں اچھا ہے نکلا کریں کسی پارک بھی چلی جایا کریں۔


شبنم نے خوش ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے آہیڈیا اچھا دیا ہے عمل کروں گی۔


فواد خوش ہوتے ہوئے بولا ضرور میں شرمندہ ہوں کہ میں آپ کو وقت نہیں دے پاتا۔


شبنم نے تشکر سے کہا آخر آپ ہمارے لیے ہی اتنی محنت کرتے ہیں ناں۔ میں تو بہت لکی ہوں کہ آپ جیسا شوہر ملا۔


فواد نے کہا کہ ساتھ میں کانٹا بھی تو ملا ہے امر نامعقول لڑکا نہ جانے کب سدھرے گا۔


شبنم برا مانتے ہوئے بولی پلیز میرے بیٹے کو کچھ مت کہا کریں۔ ہمارا اس کے سوا ہے ہی کون۔


فواد بولا وہ ہمیں دھمکیاں دیتا ہے کہ ہمیں چھوڑ کر چلا جاے گا۔ میں نے آج اس کو وارننگ دینی ہے کہ وہ شادی سے پہلے اپنے گھر کا انتظام کر لے اور اس کی بارات بھی اس کے گھر جاے گی پلیز مجھے مت روکنا اب میں مزید اس کا آپ کے ساتھ ایسا رویہ برداشت نہیں کر سکتا اسے آپ کی قدر آنی چاہیے۔وہ فیصلہ سنا کر چل پڑا۔


شبنم شام چار بجے پارک پہنچ چکی تھی اور بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے بھائی کے نمبر پر فون کیا تو بھابی بولی۔ بار بار فون نہ کرنا ہم سب پانچ بجے پہنچ جائیں گے وہاں آ کر باتیں ہوں گی۔ ابھی میں بزی ہوں۔ تمہیں پارک کا ایڈریس وٹس ایپ کر دیا تھا آسانی سے مل گیا۔ وہ بولی جی میں ادھر ہی بیٹھی ہوں۔


بھابی نے فون بند کر دیا۔


شبنم کا فون بند کیا تھا جب تو اس کا بھائی والدین کے کمرے سے واپس آیا اور بیوی سے پوچھا کس کا فون تھا۔


وہ فون ہاتھ میں پکڑے کچھ سوچ رہی تھی۔ اس نے شوہر کو پاس بٹھا کر ساری باتیں بتا دیں کہ وہ کدھر رہی وغیرہ وغیرہ۔


شبنم کے بھائی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بیوی نے تسلی دی اور وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا ہماری بیٹی کی شادی ہونے والی ہے۔ میں نے شبنم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ کل پارک میں اسے سب سے ملواے گی مگر اس شرط پر کہ وہ اپنا رشتہ ہم سے کسی پر کھبی ظاہر نہ کرے گی اس نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کرے گی۔ آپ بتائیں کیا میں نے کچھ غلط کیا۔


شوہر اس کی باتوں کا قائل ہو گیا اور بولا ہمیں اپنی بیٹی کا مستقبل بھی عزیز ہے۔ میں سب کو سمجھا لوں گا۔


شبنم کے بڑے بھائی نے سب کو بلا کر والدین کو آرام سے ساری حقیقت بتائی۔ والدین تڑپ گئے اس کے ساتھ بیٹے اور بہو کی خوشنودی کے لئے اس بات پر بھی راضی ہو گئے کہ وہ اس سے ملتے رہیں گے مگر اس سے اپنا رشتہ چھپاے رکھیں گے۔


شبنم کے بڑے بھائی کی بڑی بیٹی اور ایک اس سے چھوٹا جوان بیٹا تھا جبکہ چھوٹے بھائی کے دو بچے تھے جو ابھی چھوٹے تھے۔


چھوٹا بھائی نمبر مانگ رہا تھا تو بھابی نے کہا کہ وہ اب شادی شدہ ہے اور اس کے شوہر کو اس کی پچھلی زندگی کا کچھ علم نہیں ہے اور تم کچھ گڑبڑ نہ کر دینا۔ پہلے اس سے مل لو پھر نمبر دوں گی۔


بڑے بھائی کی بیٹی اپنی پھوپھو سے ملنا چاہتی تھی مگر فیصلہ یہ ہوا کہ ابھی ان سے کوئی بچہ نہیں ملے گا والدین اور بھائی اور بڑی بھابی ملنے جاہیں گے۔ باقی چھوٹی بھابی کے پاس گھر میں رہیں گے۔


شبنم شدت سے پارک میں بیٹھی اپنے پیاروں کا انتظار کر رہی تھی۔ بار بار گیٹ کی طرف دیکھ رہی تھی۔


پارک اس کے والدین کے گھر کے بلکل قریب ترین تھا۔اس کا چھوٹا بھائی بیوی کو بتا کر اکیلا چار بجے ہی پارک کی طرف چل پڑا وہ بہن سے ملنے کو بے چین تھا۔ جب وہ پارک پہنچا تو ایک عورت نقاب اوڑھے برقعے میں ملبوس ادھر اُدھر چہل قدمی کر رہی تھی پارک میں چند بچے جھولا لے رہے تھے۔


وہ اس عورت کے قریب گیا اسے شک تھا یہ شبنم ہی ہو گی۔ اس نے پیچھے سے شبنم کہہ کر پکارا تو اس نے جھٹ پیچھے مڑ کر دیکھا۔


بھائی تیزی سے اسے میری بہن کہہ کر لپٹ گیا شبنم نے بھی اسے پہچان لیا اور کافی دیر دونوں لپٹ کر روتے رہے۔ پھر بھائی نے اسے چپ کرایا اور کہا کہ اب کھبی مت رونا تمھارا بھائی تمہیں اب تنہا نہیں چھوڑے گا۔ وہ قریبی شاپ سے اس کے لیے کھانے پینے کی چیزیں لے آیا۔۔


دونوں نے ڈھیروں باتیں کیں شبنم نے شوہر کی تعریف کی اور بیٹے کا بھی بتایا۔


پانچھ بجے باقی لوگ بھی آ گئے اور وہ دوڑ کر ماں سے لپٹ گئ۔ بڑا بھائی اور باپ بھی ساتھ ہی لپٹ گئے۔ آخر میں بھابی بڑے جوش و خروش سے ملی۔ گھنٹہ بھر باتیں کیں تو شبنم کے شوہر کا فون آ گیا اس نے سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور سپیکر کھول کر ہیلو کہا۔


فواد نے بڑے محبت سے شبنم جی کہاں ہیں آپ میں آج گھر جلدی ا گیا ہوں اگر آپ شاپنگ میں بزی ہیں تو کوئی بات نہیں۔


شبنم نے کہا کہ وہ آج پارک کو انجوائے کر رہی ہے۔ اس نے ابھی شاپنگ نہیں کی۔


فواد بولا گڈ ویری گڈ۔مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے میری بات پر عمل کیا اب روز پارک جایا کریں۔


شبنم بولی میں زرا گھر سے دور والے پارک میں ہوں یہ مجھے بھا گیا ہے اب میں وقت نکال کر ادھر آیا کروں گی اتنا دور بھی نہیں ہے۔


فواد بولا جی بیگم صاحبہ ضرور ضرور ہم تو آپ کے غلام ہیں۔ شبنم نے ہوں کہہ کر مسکراتے ہوئے فون بند کر دیا تو سب خوش ہو کر اسے دیکھ رہے تھے اور ساتھ تعریف بھی کر رہے تھے کہ اتنا اچھا اسے شوہر ملا ہے۔


شبنم نے سب سے کہا کہ اب وہ چلتی ہے۔ ماں نے کہا کہ تھوڑی دیر اور رک جاتی بیٹی۔


چھوٹا بھائی بولا آپی گھر چلو ناں چاے پیو۔ ابھی کون سا بیٹی کے سسرال والے آے ہوئے ہیں سب نے ہاں میں ہاں ملائی۔ اس نے بھابی کو دیکھا وہ اپنی نظروں میں وارننگ والے انداز میں دیکھ رہی تھی شبنم کو غیرت آئی اس نے ماں کو ہاتھ پکڑ کر دلاسا دیتے ہوئے کہا کہ اماں جب کوئی نہیں ہو گا تو میں خود آپ کو روز فون کر دیا کروں گی۔ خیر سے میری بھتیجی کی شادی انجام پا جائے پھر آوں گی۔ بڑی مشکل سے اٹھ کر چلی۔


چھوٹے بھائی نے کہا کہ جو میں نے نمبر دیا ہے اس پر کال کرنا میں امی ابو سے بات کروا دیا کروں گا انشاء اللہ۔ ب


بھابی نے دیور کو خشمگیی نگاہوں سے دیکھا۔


شبنم اپنے دل کو بمشکل سنبھالتی گاڑی اسٹارٹ کر کے چل پڑی۔ سارے راستے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔


جاری ہے


ناول نگار عابدہ زی شیریں۔


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books