Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
امر شمالی علاقہ جات کی سیر کو دوستوں کے ساتھ گیا ہوا تھا تو فواد نے کہا شبنم چلو آج پہلے میں تمہیں ڈھیروں شاپنگ کراوں گا اور آج میں تمھاری ایک نہ سنوں گا اس کے بعد کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھا کر واپس آہیں گے۔
فواد اسے شہر کے بڑے مالز سے شاپنگ کرواتا رہا۔ ایک جگہ ٹریفک جام ہو گئ تو فواد نے گھبرا کر گاڑی گلیوں میں لے گیا کہ شاید کوئی شارٹ کٹ مل جائے۔ شبنم مسرور سی بیٹھی ہوئی تھی اور اپنی قسمت پر رشک کر رہی تھی کہ اسے فواد جیسا چاہنے والا شوہر ملا۔ پھر اپنے ماضی کو یاد کر کے دل میں دکھ محسوس کرنے لگی۔ اور پچھتانے لگی کہ کاش اس نے فواد سے کچھ نہ چھپایا ہوتا تو آج اتنی مجبور نہ ہوتی۔
اچانک اسے یہ علاقہ کچھ جانا پہچانا لگا تو جیسے ماضی کا دریچہ کھلنے لگا اس نے حیرت، خوشی اور غم و خوشی کے ملے جلے تاثرات سے حیران ہو کر غور سے دیکھنے لگی گاڑی آہستہ رفتار سے جا رہی تھی پھر ایک جگہ روک کر فواد نے گزرتے شخص سے پوچھا کہ کیا یہ گلی باہر نکلتی ہے تو اس نے راستہ بتانا شروع کر دیا۔ دور سے اس نے اس گھ کو پہچان لیا دل شدت جزبات سے پھٹنے لگا اس کا جی چاہا کہ وہ فوراً گاڑی سے اترے اور اس گھر میں گھس جاے اور اس گھر کی دہلیز پر سر رکھ کر خدا کاشکر بجا لاے جس نے آج اسے اس گھر سے ملایا اور چیخ چیخ کر دھاڑیں مار مار کر روے۔ اس نے جلدی سے دروازہ کھولا اور آدھی باہر اتری تو فواد نے حیرت سے اسے ٹوکا کہ دروازہ بند کرو کیا کر رہی ہو تو اس نے جان بوجھ کر دروازہ اپنا ہاتھ اندر رکھ کر زور سے بند کیا پھر زور زور سے رونے لگی۔وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی اپنا درد کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی اس نے اب اس جگہ کو اچھی طرح پہچان لیا۔
ہاتھ کا بہانہ بنا کر اس نے خوب رو لیا۔
امر اپنے دوستوں کے ساتھ گھوم پھر کر واپس آیا تو اس نے باپ سے کہا اپنی بیوی سے بولیں جلدی سے کھانا تیار کرے مجھے سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔
فواد نے اسے اس کے ہاتھ کا سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ وہ میڈیسن کھا کر سو رہی ہے۔ تو غصے سے بڑبڑانے لگا۔
باپ نے کہا کہ اب تم جوان ہو اور تعلیم بھی ختم ہے۔ اتفاق سے اچھی نوکری بھی لگ چکی ہے۔ اب میری بیوی تمھاری خدمتیں نہیں کرے گی اب شادی کر کے اپنی بیوی لے آو۔
امر نے کہا کہ ٹھیک ہے مجھے بھی کوئی شوق نہیں آپ کی بیوی کے ہاتھ کے کھانے کھانے کا۔ بس آپ میری جلد شادی کر دیں۔ میں نے لڑکی پسند کر لی ہے۔
فواد نے حیرت سے اسے دیکھا اور پوچھا کون لوگ ہیں کس خاندان سے تعلق رکھتی ہے وغیرہ وغیرہ۔
امر غصے سے بولا میں نے لڑکی سے شادی کرنی ہے اس کے خاندان سے نہیں۔ پرسوں سنڈے ہے اور آپ میرے ساتھ اس کے گھر رشتہ لے کر جا رہے ہیں۔ ورنہ میں پھر اس کے ساتھ کورٹ میرج کر لوں گا۔
فواد نے کہا کہ شبنم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ابھی میں نے ابھی ڈاکٹر صاحب سے کہہ کر ان لوگوں کے بارے میں معلومات لینی ہیں اتنی جلدی کیسے ممکن ہے۔ کون ہے وہ لڑکی کیا کرتی ہے۔ ابھی تمھاری ماں بھی ٹھیک نہیں ہے۔
امر نے پھر غصے سے کہا کہ شبنم کو تو لے کر جانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ میرے ساتھ کالج میں پڑھتی تھی۔ مجھے کمپنی کی طرف سے گھر، گاڑی وغیرہ مل رہے ہیں پرسوں اگر آپ ساتھ نہ گئے تو میں اس کے ساتھ کورٹ میرج کر کے الگ لے کر چلا جاوں گا۔یہ کہہ کر وہ کمرے میں چلا گیا۔
فواد نے اپنے دوست ڈاکٹر صاحب کو فون کر کے ساری بات بتائی اور مشورہ مانگا۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تمھارا بیٹا سرکش اور ضدی ہے وہ صرف کہتا نہیں بلکہ کر گزرتا ہے۔ اب اللہُ تعالیٰ کو ضامن بنا کر اس کے ساتھ چلے جاو بیوی کا بہانہ کر دینا کہ طبیعت خراب تھی ایسے موقع پر عورت کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ میں بعد میں امر کو منانے کی کوشش کروں گا تم فکر نہ کرو۔ شبنم بھابی اب کیسی ہے۔
فواد جو امر کی وجہ سے بہت رنجیدہ ہو رہا تھا اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ اب بہتر ہے سو رہی ہے۔ پھر وہ اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا یار تمھارا مجھ پر بہت احسان ہے کہ اپنی اتنی نیک سیرت کزن سے میری شادی کروا کر مجھے زہنی اور قلبی سکون پہنچایا۔ میں اپنے رب کی زات کا ہر وقت شکر ادا کرتا ہوں جس نے شبنم جیسی صبر والی شریک حیات عطاء کی۔ جو میرے اس سرکش بیٹے کو سہتی آ رہے ہے اتنے لمبے عرصے سے اور اللہ تعالیٰ سے پرامید رہتی ہے کہ ایک دن وہ اسے ماں کا درجہ دے گا مگر اتنا وقت گزرنے کے باوجود اتنی اس کی خدمت اور توجہ کے باوجود میرا بیٹا ایک لمحے کے لیے بھی اس کے ساتھ نرم نہیں ہوا۔ اب اس کا حال پوچھنے کی بجائے دھمکی دے کر چلا گیا ہے۔ میں تو اب اس کے رویے سے عاجز آ چکا ہوں اور شبنم ہے کہ اف تک نہیں کرتی۔ میں بیٹے کی وجہ سے اس کے آگے شرمندہ ہوتا ہوں اور وہ مجھے تسلیاں دیتی رہتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب جنہوں نے شبنم کی شادی فواد سے کرواتے وقت اپنی کزن بتایا تھا کہ جس کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور چھوٹی عمر میں اس کی شادی ہو گئی تھی سسرال میں اس نے ظلم سہے بیٹے کے مرنے پر اسے منہوس کہہ کر گھر سے نکال دیا تھا اس کا اب کوئی سہارا نہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے گھر والے ڈاکٹر صاحب کی شادی طے کر چکے تھے اور انہیں شبنم کی کوئی فکر نہیں تھی تو ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ انہوں نے اسے چھوٹا سا گھر لے دیا۔ سکول کی جاب لگوائی اور گاہے بگاہے اس کی خیریت دریافت کرنے آتے رہتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی بیوی شبنم اور گھر والے بہت اونچی سوسائٹی کے لوگ تھے وہ شبنم کو لفٹ نہ کرواتے اسی لئے شبنم نے ادھر جانا بلکل چھوڑ دیا تھا۔ اب فواد سے اس کی دوستی ہو چکی تھی۔ فواد ہر معاملے میں اس سے مشورہ کرتا تھا۔
شبنم نے جب سنا کہ امر اسے لے کر نہیں جانا چاہتا تو اس کی آنکھوں میں آئی نمی کو فواد نے محسوس کیا تو غصے سے بولا میں اس کے ساتھ نہیں جاوں گا کرے کورٹ میرج اور رہے اپنے کمپنی کے گھر میں اکیلا۔
شبنم نے سمجھایا کہ وہ تو جزباتی لڑکا ہے جوان خون ہے وہ تو جھٹ ایسا کر گزرے گا اور اسے آپ کے نہ جانے سے کوئی فرق بھی نہیں پڑے گا۔ فرق ہمیں پڑے گا ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔ ہمارے دل کا اور زندگی کا سہارا ہے اب ہم اس کی خوشیاں دیکھنے کے لیے جی رہے ہیں اس کے بچوں کو گود میں کھلانا ہے۔آپ اللہُ تعالیٰ کا نام لے کر اس کے ساتھ جاہیں اب اس کے بغیر اور کوئی آپشن بھی نہیں ہے۔ اور اللہُ تعالیٰ کی زات پر مکمل بھروسہ اور یقین رکھیں اسی سے مدد مانگیں میں بھی دعا کروں گی۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
فواد نے دل میں دکھ سے سوچا یہ بےچاری کتنے عرصے سے اسے ماں بن کر پال رہی ہے اور کتنے دور کے خواب دیکھ رہی ہے مگر امر تو اسے ماں کا مقام دینا ہی نہیں چاہتا۔ پھر بھی یہ آس لگا کر بیٹھی ہے کہ اس کے بچوں کو گود میں کھلاے گی۔ حالانکہ وہ کتنی بار اس بات کا اظہار کر چکا ہے کہ وہ شادی کر کے اس گھر سے چلا جاے گا اب اس کے بعد وہ آپ کی بیوی کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ اور شبنم سنی ان سنی کر دیتی ہے اور برا بھی نہیں مناتی اسی طرح اس پر واری صدقے جاتی ہے اور اسے اپنی اولاد بتاتی ہے۔
سنڈے کو فواد رنجیدہ سا شبنم کے سمجھانے پر تیار ہونے لگا۔ امر بہت جوش اور خوشی سے صبح سے تیاریاں کر رہا تھا اور لڑکی کو منٹ منٹ کی فون پر خبر دے رہا تھا۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.