Nirala Saajan
Episodes
کرن بازار میں کھڑی تھی کے اچانک اسے شور سنائی دیا اس نے مڑ کر دیکھا تو دکان کے اندر چند منچلے ایک کھسرے کو لیڈیز شاپنگ کرتے ہوئے دیکھ کر چھیڑ رہے تھے کرن تیزی سے گئ اور ان کو غصے سے ڈانٹنے ہوئے بولی۔ شرم نہیں آتی تم لوگوں کو یہ بھی انسان ہیں اور ان کو بھی جینے کا حق حاصل ہے۔ تم لوگوں کی تھوڑی دیر کی دل لگی سے دوسرے کے دل کو کتنی ٹھیس لگتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بھی ناراض کر کے جہنم خریدتے ہو۔ جاو بھاگو ادھر سے ورنہ میں پولیس کو فون کر دوں گی۔ وہ سر جھکا کر چلے گئے۔ کرن نے اسے کہا کہ آپ میرے ساتھ آہیں آپ نے جو کچھ خریدنا ہے میں آپ کی ہیلپ کروں گی۔ وہ آنکھوں میں آے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کی طرف مشکور نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیا۔ اس نے والدین کے کپڑے خریدے۔ کچھ اپنے لیڈیز شاپنگ کی۔ کرن نے بھی کافی شاپنگ کی۔ وہ اس کے وزنی شاپرز اٹھاے پھرتا رہا۔ امپوریم مال میں ہمیشہ کی طرح رش تھا۔ کرن کو بھوک بھی لگ رہی تھی۔ اس نے اسے کہا چلو کچھ کھا لیتے ہیں۔ وہ بولا کیا کھانا چاہتی ہیں آپ وہ کافی تھک چکی تھی۔ وہ بولا میں لے آتا ہوں۔ کیا لاوں وہ بولی برگر لے آو۔ وہ برگر چپس اور کولڈ ڈرنک لے آیا۔ اپنے لئے چاٹ کی پلیٹ لے آیا۔ وہ پوچھنے لگی اپنے لیے صرف چاٹ۔ وہ چاٹ کھانے لگا اور وہ برگر انجوائے کر کے کھانے لگی۔ اتنے میں اس کے پاپا کا فون آ گیا اس نے اٹھ کر زرا فاصلے پر جا کر کھسرے کی تفصیل بتائی تو وہ پریشانی سے بولے بیٹا زرا احتیاط کرنا۔ وہ بولی پاپا وہ ایسا نہیں ہے بہت غیرت والا ہے اس نے ساری شاپنگ اپنے پیسوں سے کی۔ ایک روپیہ بھی مجھ سے نہیں لیا۔ الٹا میرا سامان اٹھا کر ہیلپ کر رہا ہے۔ پاپا نے پوچھا۔ بیٹا ایسا کرو راستے میں سے میری دوائی لے آنا۔ اوکے۔ اور جلدی آو شادی والا گھر ہے۔ کرن نے کافی ہیل پہنی ہوئی تھی ایک دم مڑی اور کرسی سے ٹکرائی اور پاوں ایسا مڑا کہ وہ درد سے چلا اٹھی۔ کھسرے نے سہارا دے کر اسے کرسی پر بٹھایا۔ کرن نے پاپا کو بتایا وہ پریشان ہو گئے۔ اور بولے میں کیا کروں ڈرائیور بھی چھٹی پر تھا آج اس نے بھی بتا دیا کہ وہ اب نہیں آے گا اب نیا ڈرائیور اتنی جلدی ملے گا نہیں۔ اور کھسرے کو بھی ڈرائیونگ نہیں آتی ہو گی۔ وہ بولی میں پوچھ کر دیکھتی ہوں اس نے جب اس سے پوچھا تو وہ بولا جی مجھے آتی ہے بلکہ میں نے کوچنگ سینٹر سے سیکھی تھی اور لائسنس بھی ہے پر گھر پر ہے۔ اس نے پاپا کو بتایا وہ بولے۔ اس کے ساتھ ہاسپٹل جا کر پاوں بھی دکھا لاو۔ ماں نے فکر مندی سے کہا اس کے ساتھ آنا رسک ہے۔ پاپا نے اسے کہا کہ لایو کال آن کر دو۔ پہلے اسے چابی دو وہ سامان رکھ آے گاڑی میں۔ ماں پھر پریشان ہو کر بولی۔ اگر وہ گاڑی اور سامان لے کر چلا گیا تو۔ باپ غصے سے بولا پھر کیا کروں تمھارا بیٹا جا نہیں رہا کہ معمولی چوٹ ہے گاڑی اس کے پاس ہے۔ میں اتنی دور کیسے جاوں۔ کرن کے سسرال والے آنے والے ہیں۔ ان کی خاطر مدارت کی تیاری کرنی ہے۔ ماں غصے سے بڑبڑائی اگر سسرال والے اس کی بیوی کے رشتے دار نہ ہوتے تو کبھی اتنی بھاگ دوڑ نہ کرتا بیوی کا چمچہ۔
کرن نے اس کا نام پوچھا تو اس نے بتایا کہ باپ نے علینا رکھا مگر میں چونکہ مردانہ کھسرا ہوں تو میری ماں شوق سے مجھے علی بلاتی ہے۔ آپ جو مرضی بلا لیں۔ اس نے کہا کہ تمھاری آواز مردوں جیسی ہے۔ تم مردوں کی طرح اونچے لمبے توانا ہو۔ میں تو تمہیں علی بلاوں گی۔ وہ اس کا سامان گاڑی میں رکھ آیا۔ پھر اسے سہارا دے کر لفٹ تک لایا۔ کچھ
منچلے گزر رہے تھے دیکھ کر آواز کسنے لگے۔ ایک بولا کاش میں بھی کھسرا ہوتا۔ دوسرا بولا کھسرے کی موجیں۔ تیسرا بولا۔ کھسرے اور لڑکی میں پیار۔ کرن بولی میں زرا ان کو ٹھیک کر لوں۔ پولیس کو فون کروں۔ مگر کھسرے نے منع کر دیا کہ آپ چھوڑیں ان کو۔ میں بچپن سے عادی ہوں۔ آپ کا پاوں سوج رہا ہے جلدی سے ڈاکٹر کے پاس چلیں۔
ڈاکٹر نے ایکسرے کیا کافی ٹائم لگ گیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ شکر ہے ہڈی بچ گئی ہے۔ آرام کریں اور دوا لگاتے رہیں۔ اور یہ پین کلر لیتی رہیں۔کرن نے کھسرے کا بہت شکریہ ادا کیا اور گھر آ کر اس کی بہت تعریف کی۔
کرن کے پاپا نے کہا کہ تم ایک ماہ کے لیے ہمارے ڈرائیور بن جاو ہماری بیٹی کی شادی ہے۔ جب تک نیا ڈرائیور نہیں ملتا۔ کرن کی ماں بولی پکا ہی رکھ لیں نا۔ ان کی بہو بولی پرمننٹ یہ لوگ ناچ گانے والے ایسا کام نہیں کر سکتے۔ عزت کی نوکری نہیں کر سکتے۔ کھسرا آبدیدہ ہو گیا۔ کرن نے بھابی کو سرزنش کی۔ تو وہ تڑخ کر بولی دیکھو بی بی یہ زبان درازی کی عادت اب چھوڑ دو۔ شادی ہونے والی ہے۔ شکر کرو میرا کزن ہے جو میں نے منا منو کر راضی کر لیا ہے ورنہ کون اتنی لمبی زبان والی سے کرتا۔ پہلے ہی دو منگنیاں ٹوٹ چکی ہیں۔ پھر وہ کرن کے بھائی کو بلا لائ اور بولی اس دو ٹکے کے کھسرے کے لئے مجھ سے لڑ رہی ہے۔ وہ کرن کو ڈانٹنے لگا کہ بھابھی کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ کھسرے کا دل چاہا کہ فوراً ادھر سے چلا جاے۔ مگر سامنے کرن کی روتی صورت آ گئ۔ بھابھی نے کھسرے کو نہ ڈانٹنے دیا کہ آجکل اس نے بازار جانا ہوتا تھا خود ڈرائیونگ نہیں جانتی تھی۔ شوہر دن کو آفس ہوتا۔
اس نے نوکری کی آفر قبول کر لی۔ لیکن بھابھی نے کہا کہ تم مردانہ کپڑے پہنو گے۔ اور یہ ناخن بھی کاٹو گے۔ میک اپ بھی نہیں کرو گے۔ اور بال بھی کاٹو گے۔ وہ بولا بال نہیں میں کاٹ سکتا۔ میرے والد صاحب اجازت نہیں دیں گے۔ بھابھی نےتمسخر سے کہا وہ صاحب ہیں کیا۔ وہ بولا جی میرے لیے۔ بھابھی بولی بڑی زبان چلانی آتی ہے۔ وہ بولا جی اللہ تعالیٰ نے چلانے کے لیے دی ہے۔ اگر آپ کو پسند نہیں تو میں چلا جاتا ہوں۔ وہ گھبرا کر بولی ارے آو میں تمہیں کھانا دیتی ہوں۔ پھر وہ سب کو کھانے پر بلانے لگی۔ اسے بھی ٹرے میں رکھ کر کھانا دیا۔
کرن کی ماں نے کرن کو کمرے میں لٹا کر دوا وغیرہ کھلا دی۔ بھابھی نے اسے سرونٹ کوارٹر میں ایک کمرہ دے دیا۔ گھر والوں نے گھر کا پرانا سامان ضرورت کا اسے ڈال دیا۔ کھسرے نے باپ کو فون کر کے رہنے کی وجہ بتا دی۔ بال مت کاٹنا باپ نے سختی سے کہا۔ تنخواہ چارمنگ تھی تو باپ مان گیا مگر شرط رکھی کہ مہندی کے فنکشن کے لئے ہمارے ناچ گانے کو بک کرنا ہو گا۔ کرن کے باپ نے منظور کر لیا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.