Loading...
Logo
Back to Novel
Nirala Saajan
Episodes
Nirala Saajan

نرالہ ساجن 11

From Nirala Saajan - Episode 11

صبا جب علی کے گھر شفٹ ہوئی تو علی کے چھوٹے بھائی کو ہر وقت پڑھائی پر لیکچر دیتی اس نے اثر بھی لینا شروع کر دیا اس کو تھوڑا بہت شوق بھی تھا مگر وہ گھر کے حالات سے واقف تھا کہ کیسے علی نے گھر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی۔ اور فیس کیسے پوری کرتا تھا ماموں کا گھرانہ اور ان کا گھرانہ صبا اور علی کی پڑھائی کے اخراجات وہ لوگ کیسے پورے کرتے تھے۔ امام دین کو کھانا دے کر سارا گھر تعاون کرتا کہ علی پڑھ رہا ہے۔ ان لوگوں کی فیس بھرنے کے لیے کھبی بھوکے سوتے اور کھبی چنے اور دانے کھا کر گزارا کر لیتے۔


امام دین صبا کی پڑھائی کے بارے میں جانتا تھا اور کچھ نہ بول سکتا تھا کیونکہ اس کے باپ کو اسے پڑھانے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اس معاملے میں وہ کسی کی نہیں سنتا تھا۔ علی اس کی آڑ میں پیپرز دینے چلا جاتا کہ صبا اکیلی کیسے جاے گی۔ امام دین اس کو نہ روک سکتا تھا وہ جانتا تھا کہ اس کی بیوی اور علی صبا کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اس کے علاوہ امام دین کے بڑے بیٹے کی بیوی صبا کی بڑی بہن تھی جو سسرال والوں کی خدمت کرتی جس سے گھر والوں کو کافی سکھ چین ملا ہوا تھا۔


علی کا چھوٹا بھائی صبا کے آ جانے سے بہت خوش تھا اس کی کمپنی سب کو پسند تھی۔ اس کی سب مانتے تھے اب تو امام دین کو جب سے تعلیم کی اہمیت کا شعور آیا تھا وہ صبا کو بہت اہمیت دینے لگا تھا۔وہ صبا سے خوش تھا کہ وہ اس کے چھوٹے بیٹے کو پڑھاتی ہے اور وہ بھی شوق رکھنے لگا ہے۔ حتکہ اس نے کالج میں داخلہ بھی لے لیا ہے۔ کیونکہ علی نے جاتے ہی مالک کی فیملی کو امپریس کر دیا مالک نے اس کی شرافت، محنت اور ایمانداری کی وجہ سے اسے گھر کے ایک کمرے میں رہائش دے دی۔ اس کی ایک ہی بیٹی تھی۔ علی کے آنے سے اس کے کاروبار میں بہت فائدہ حاصل ہو رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے اسے گھر کا فیملی ممبر نبا لیا تھا۔ اس نے اسے اپنا پارٹنر بنا لیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ امام دین کی ایک بار طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ ایک بار وہ اچانک بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو گیا چھوٹے بھائی نے گھبرا کر علی کو فون کر دیا تو وہ پریشان ہو کر اسی وقت آنے لگا تو مالک بہت پریشان ہوا اسے لگا جیسے کوئی اپنا سگا بیٹا اس سے دور جا رہا ہے۔


علی نے سارا کام خود سنبھال لیا تھا اور وہ اب ریلیکس ہو گیا تھا وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا وہ اسے بیوی کے مشورے اور بیٹی کی رضامندی ظاہر ہونے سے اسے داماد بنانے کا سوچ رہا تھا۔ علی نے اس سے اپنی زات پیشہ کچھ نہ چھپایا تھا اس کے باوجود وہ اسے طبقاتی فرق کی فرسودہ رسم کے عوض گوانا نہ چاہتا تھا وہ اسے گدڑی میں لال سمجھتا تھا وہ سوچتا کہ اگر امیر خاندانی لڑکا بھی اس کی خوبیوں کے برابر نہیں پہنچ سکتا ہے۔ ایسے لڑکے کے محض اس لیے ٹھکرانا کہ وہ ایک میراثی کا بیٹا ہے کفر نعمت خداوندی ہے۔ اس نے جب بیوی سے جب اس بارے میں رائے لی تو وہ وہ تیزی سے بولی توبہ کریں جی میں بھلا اس ہیرے جیسے لڑکے کو اس معمولی سی وجہ سے کھبی نہیں گنوا سکتی۔ وہ اس کو بہت پسند کرتی تھی۔


مالک نے ایک بار شادی کے بارے میں رائے پوچھی تو وہ بولا ابھی تو میں اس بارے میں نہیں سوچنا چاہتا۔ ابھی میں اپنی فیملی کو سکھ بھری زندگی گزارنے کے لیے خوب محنت کرنا چاہتا ہوں۔ اور اگر کھبی شادی کرنی بھی پڑی تو اس بات کا فیصلہ میرے والدین کریں گے۔


تب سے مالک نے اس پر مہربانیوں کی بارش کر دی۔ نہ صرف اسے بزنس پارٹنر کی آفر کر دی بلکہ اسے جانے سے روکنے کے لیے اس کے باپ کے بہترین علاج کے لیے بھاری رقم بھی آفر کردی۔ علی نے وہ رقم بطور قرض لی اور رقم گھر بھجوا دی۔ صبا کے کہنے پر اس نے جانے کا پروگرام کینسل کر دیا۔ کیونکہ صبا ڈاکٹر بن کر ہاوس جاب کر رہی تھی۔ صبا نے بتایا کہ گھر والے ایسے ہی پریشان ہو گئے ہیں ان کا بلڈ پریشر لو ہو گیا تھا ڈرپ لگی ہے علاج اچھا ہو رہا ہے اب فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔


علی کے مالک کی ایک ہی بیٹی تھی۔ جو والدین کی بہت لاڈلی اور بچگانہ زہن کی مالک تھی۔ والدین نے اس سے علی کے بارے میں رائے جاننے کے علاوہ اس کو علی کے بارے میں اونچ نیچ بھی سمجھائی کہ ایک تو وہ خوبصورت ہے شریف ہے۔ پڑھا لکھا ہے زمہ داریوں کو نبھانے کی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے اور ان کو احسن طریقے سے نبھاتا بھی ہے۔ اس نے پارٹنر شپ دینے کے بعد بیٹی کے رشتے کی آفر کر دی۔ اس نے گھر ٹالنے کی کوشش کی۔ اس کی بیوی کو جلدی تھی کہ یہ اپنی کزن صبا کو بہت اہمیت دیتا ہے اس سے شادی نہ کر لے۔


مالک نے اس کے باپ کی طبیعت پوچھنے کے لیے اس کے باپ کو علی سے نمبر لے کر فون کیا۔ علی اس کے باپ کو اہمیت دینے پر خوش ہو گیا۔ اس نے نہ صرف علی کے والد سے بات کی بلکہ اس کی ماں سے بھی بھابی جی کہہ کر تسلیاں دیں اور بیوی کی بھی بات کروائی۔ بیوی نے بھی علی کے والد سے بھائی صاحب کہہ کر بات کی اور علی کی ماں کو بھی بھابی جی کہہ کر مخاطب کرتی رہی۔ پھر اس نے صبا سے بھی ایسے انداز میں بات کی جیسے اسے جتلا دیا ہو کہہ تم علی کی بہن ہی ہو اس نے کہا کہ بائ علی تو تمھارا بہت زکر کرتا رہتا ہے۔ لگتا ہے تم دونوں بہن بھائی میں خوب دوستی ہے۔ صبا جو سپیکر آن کر کے گھر والوں کی بات کروا رہی تھی بولی جی آنٹی جی۔ مالک کی بیوی نے مکھن لگاتے ہوئے کہا کہ ویسے تو مجھے سب سے بات کر کے اچھا لگا مگر تم سے بھی بات کر کے اچھا لگا۔ ارے میری ایک معصوم سی مزاج کی بیٹی ہے اس سے دوستی کر لو تاکہ وہ تمھاری دوستی سے کچھ سمجھداری سیکھ لے۔ پھر اس نے بیٹی سے بات کی اور اسے اپنا دوست بنالیا۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books